protest-amrica

امریکہ میں سیاہ فام کی ہلاکت، پر تشدد احتجاجی مظاہروں میں شدت آگئی

EjazNews

25مئی کو امریکی شہر مینی پولس میں ایک سیاہ فام شہری کو پولیس اہلکاروں نے پکڑ کر ہتھکڑیاں لگانے کے بعد گھٹنے سے گردن دبا کر قتل کردیا تھا جسے پر واقع میں ملوث 4پولیس اہلکاروں کو ابتدائی طور پر نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا تھا۔
اس واقع کے بعد نسلی فسادات شروع ہو گئے۔ڈونلڈ ٹرمپ کے ٹویٹ نے سونے پر سہاگے کا کام جس میں انہوں نے مئیر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت کمزور لیڈر ہیں ۔

امریکہ میں نسلی فسادات کوئی آج کی بات نہیں ہے یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کا قانونی نظام مضبوط ہے لیکن گورے اور کالے کی تفریق ہمیشہ سے تھی۔
گزشتہ روز ایک سیاہ شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد امریکہ میں احتجاجی مظاہرے ہونے شروع ہو گئے ہیں ۔مینی پولس شہر میں سیاہ شخص کی ہلاکت سے شروع ہونے والے احتجاج کا دائرہ کار امریکہ میں پھیل چکا ہے۔ احتجاج کے دوران پولیس اسٹیشنز ، سرکاری ونجی املاکت اور گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا اور توڑ پھوڑ کی گئی جلاﺅ گھیراﺅ اور لوٹ مار الگ سے ہوا۔
امریکی میڈیا کے مطابق درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جبکہ مینیسوٹا کے میئر نے امریکی نیشنل گارڈز کو طلب کر لیا ہے کئی مقامات پر کرفیو بھی نافذ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے قتل میں پولیس اہلکار کو بھی گرفتار کر کے اس کیخلاف مقدمہ درج ہو چکا ہے

یہ بھی پڑھیں:  اس وقت ہندوستان انتہا پسندی کی قید میں ہے، دہلی فسادات کم از کم 40افراد ہلاک

جبکہ مظاہرین وائٹ ہاﺅس کے سامنے بھی دکھائی دے رہے ہیں ان مظاہرین میں صرف کالے شامل نہیں ہیں بلکہ انصاف کی سر بلندی کیلئے اس میں امریکی گورے بھی ہیں تاکہ ان کے ملک کا سسٹم انصاف کے مطابق چلے۔
احتجاج کا دائرہ اس قدر وسیع ہوا ہے کہ امریکی صدر نے ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین کو بذات خود فون کر کے انصاف کی فراہمی کی مکمل یقین دہانی کروائی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں