maryam nawaz sharief

یہ پیپلز پارٹی کا فیصلہ ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے ساتھ رہے گی یا نہیں:مریم نواز

EjazNews

لاہور میں جاتی امرا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ میں ملک کو درپیش صورتحال پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے، بعض ایسے اقدامات جو حکومت کے سامنے آ رہے ہیں اور جو ملک کی بقا کے لیے رسک بن رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں بجلی کو تقریباً 6 روپے مہنگا کیا گیا ہے اور مہنگائی کے حوالے سے انہوں نے چھوڑا کیا ہے؟ غریب آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، آخر یہ قوم اور اس ملک کو کہاں تک پہنچانا چاہتے ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بینک کو خودمختار بنانے کا قانون بھی اسی میں شامل ہے جس کے تحت وہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو جوابدہ ہو سکتا ہے لیکن پاکستان کے کسی ادارے حتیٰ کہ وزیر اعظم نہ وزیر خزانہ کو جوابدہ ہو گا اور اس طریقے سے اسے آئی ایم ایف کا ذیلی ادارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ملک کی خودمختاری کے منافی اقدام ہے اور پاکستان کو معاشی لحاظ سے غلام بنانے کی ایک انتہائی بھونڈی حرکت ہے، اس قسم کے اقدامات کو ہم تسلیم نہیں کر سکتے، ہم عوام کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ہم پاکستان کی خودمختاری اور آزادی کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ وزیر خارجہ کا یہ کہنا کہ سقوط کشمیر کے باوجود وہ ہندوستان سے بات کرنے پر تیار ہیں حالانکہ اس غیرجمہوری اقدام کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر بھارت دباؤ کا شکار ہے لیکن اگر ہم نے ان سے مذاکرات کی حامی بھر لی تو ہم ہندوستان کو دباؤ سے نکالنے کا باعث بنیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  جج کو کرسی مارنے کے جرم میں وکیل 18سال کیلئے پابند سلاسل

ان کا کہنا تھا کہ 26 مارچ کو مریم نواز کو نیب میں طلب کیا گیا ہے، ان کی پیشی کی جو وجوہات بتائی گئی ہیں اس نے نیب کو بے نقاب کردیا ہے، ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ نیب ایک کٹھ پتلی ادارہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے آج بھی ضمانت کی منسوخی کے لیے عدالت سے رجوع کیا ہے، وہ بھی اس بنیاد پر رجوع کیا ہے کہ آپ اداروں کے خلاف بولتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ادارہ کرپشن کو ختم کرنے کے لیے نہیں بنا بلکہ اداروں کی خدمت اور ان کی ترجمانی کے لیے بنا ہے۔

پی ڈی ایم کے سربراہ نے کہا کہ 26 مارچ کو جب مریم نواز نیب میں پیش ہوں گی تو پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کے کارکن موجود ہوں گے ہماری پارٹی کے کارکن موجود ہوں گے، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کارکن آئیں گے۔

پیپلز پارٹی کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم متحد ہے اور ہم باہمی رابطوں کے ذریعے کچھ معاملات پر مکمل قابو پا لیں گے، ہم نے مل کر سفر کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کی نو جماعتیں ایک سوچ رکھتی ہیں اور ہم پیپلز پارٹی سے یہی کہیں گے کہ وہ 9 جماعتوں کی رائے کا احترام کرے تاہم پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے فیصلوں کا انتظار بھی کیا جائے گا، ہم ان کے دلائل پر مزید غور کرنے کے لیے بھی تیار ہیں اور ان کے ساتھ خوشگوار ماحول میں اپنے معاملات کو ٹھیک کریں گے، پی ڈی ایم صرف متحد ہی نہیں مؤثر بھی رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آپ اس بچے کو کیسے ڈرا سکتے ہیں ،جس کا والد11سال جیل میں رہا،والدہ شہید ہوئیں:بلاول بھٹو زرداری

اس موقع پر مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ ہماری کوشش یہ ہے کہ تمام جماعتیں متحد رہیں لیکن عمران خان کا مستقبل پی ڈی ایم سے نہیں جڑا، عمران خان اور ان کی جعلی حکومت کا مستقبل کارکردگی سے جڑا ہے، جس نااہلی اور نالائقی نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس کا جواب پی ڈی ایم نے نہیں بلکہ عمران خان نے ہی دینا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم حکومت کو کوئی رعایت یا پتلی گلی سے نکلنے کی اجازت نہیں دے گی اور عوام کی بھرپور نمائندگی کرے گی۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ تمام جماعتوں نے شاہد خاقان عباسی کے گھر پر متفقہ فیصلہ کیا تھا کہ جس پر پی ڈی ایم کی مہر لگی ہوئی ہے اور اس میں مکمل اتفاق تھا کہ سینیٹ چیئرمین کے لیے پی ڈی ایم کی تمام جماعتیں یوسف رضا گیلانی کو سپورٹ کریں گی اور ڈپٹی چیئرمین کے لیے کے یو آئی (ف) کے عبدالغفور حیدری کو سپورٹ کریں گی اور قائد حزب اختلاف مسلم لیگ (ن) کا ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں:  بارش نے ورلڈ کپ کے بعد پاکستانی کرکٹ کی رونق کوبھی ماند کر دیا

ان کا کہنا تھا کہ اب چونکہ یہ اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور کسی کی ہار جیت کے بعد اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ بات نہیں ہوئی تھی کہ کوئی ہار جائے گا تو یہ فیصلہ تبدیل ہو جائے گا، یہ ایک اصولی فیصلہ ہو چکا ہے اور میں امید کرتی ہوں کہ اصول کے تحت اسی فیصلے پر سب جماعتیں کھڑی رہیں گی۔

پیپلز پارٹی کے پی ڈی ایم کے ساتھ مستقبل کے حوالے سے سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ یہ پیپلز پارٹی کا فیصلہ ہے کہ وہ پی ڈی ایم کے ساتھ رہے گی یا نہیں، میں اس پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتی لیکن جمعیت علمائے اسلام اور مسلم لیگ (ن) اپنے بل پر احتجاج اور بڑے جلسے کر سکتی ہے اور اس کے لیے ہمیں کسی اور کی ضرورت نہیں ہے لیکن بہتر ہو گا کہ عوامی مطالبات پر ساری اپوزیشن متحد ہو اور عوام کے اندر اس حکومت کو مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔

ایک اور سوال کے جواب میں مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر نے کہا کہ حمزہ شہباز کے ان سے اختلافات کی جو خبریں چل رہی ہیں وہ بہت شرمناک ہیں، مولانا صاحب کی کھانے کی دعوت میں حمزہ شہباز ہر ایک چیز میں ہمارے ساتھ شامل تھے۔