Taliban

افغان حکومت اور طالبان کسی کو اپنی سرزمین استعمال کرنے نہیں دیں گے:روس امن معاہدہ

EjazNews

روس میں امن معاہدہ کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ۔اعلامیہ کے مطابق تمام فریق 40سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن معاہدے کوحتمی شکل دیں گے۔

افغان حکومت اور قومی مصالحتی اعلیٰ کونسل مسئلے کے حل کےلئے طالبان سے مذاکرات کریں گے۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکومت اورطالبان کسی کواپنی سرزمین کسی دوسرے کےخلا ف استعمال نہ کرنے دیں۔

ماسکو میں جاری مذاکرات کے اعلامیے کے مطابق افغان تنازع کے تمام فریق تشدد میں کمی لائیں اور طالبان مزید کسی کارروائی سے گریزکریں۔

ماسکو کانفرنس میں طالبان وفد کی قیادت ملابرادر جبکہ افغان حکومت کے وفد کی قیادت عبداللہ عبداللہ نے کی۔ امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور پاکستان اور چین کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ قطر اور ترکی نے بطور مہمان مذاکرات میں شرکت کی۔

بائیڈن انتظامیہ نے تجویز دی تھی کہ افغانستان کے لیے نئے آئین پر اتفاق اور انتخابات منعقد ہونے ایک عبوری حکومت بنائی جائے اور ایک مشترکہ کمیشن جنگ بندی کی نگرانی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  2027ءمیں انڈیا کی آبادی چین سے بھی بڑھ جائے گی: اقوام متحدہ

جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر اشرف غنی نے عبوری حکومت کے لیے اپنا عہدہ چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم کسی کانفرنس یا سیاسی معاہدے کے ذریعہ قائم کسی عبوری نظام کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

روس میں ہونےوالی امن کانفرنس میں امریکا،روس،چین اور پاکستان نے طالبان اور افغان حکومت پر زور دیا ہے کہ فوری جنگ بندی کی جائے اور طالبان پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بہار کے حملوں کا اعلان نہ کریں۔

روسی وزیرخارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ فوجی سیاسی صورتحال میں مزید تاخیر کا ہونا ناقابل قبول ہے۔طالبان کے شریک بانی اور نائب رہنما ملا عبدالغنی برادر نے ماسکو کانفرنس کو بتایا کہ افغانوں کو ان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے ان پر چھوڑ دینا چاہیے۔

ماسکو میں ہونے والے امن کانفرنس میں روس، امریکا، چین اور پاکستان نے افغان فریقین سے جنگ بندی پر فوری مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فیس بک نے 6ماہ میں 3.4کروڑ جعلی اکاﺅنٹس ختم کر دئیے