Imran_khan_policy

ہم ہر اس ملک کے ساتھ شامل ہوں گے جو پیرس ماحولیاتی معاہدے کے تحت اقدامات کریں گے:وزیراعظم

EjazNews

اسلام آباد میں 2 روزہ سکیورٹی ڈائیلاگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاہے ہم اب تک قومی سلامتی کو صرف ایک پہلو سے دیکھتے رہے ہیں کہ ہم اپنی افواج کو جتنا مضبوط کریں گے اتنا محفوظ ہوں گے لیکن اصل میں قومی سلامتی میں ایسی چیزیں مثلاً موسمیاتی تبدیلیاں بھی شامل ہیں جو اس قبل کسی نے نہیں سوچیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 5 سے 6 سال پہلے کوئی موسمیاتی تبدیلیوں کی بات ہی نہیں کرتا تھا، لیکن ہماری آنے والی نسل کے لیے موسمیاتی تبدیلیاں ایک ایسی چیز ہے جو سب مسائل پر بھاری پڑ سکتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تجزیے موجود ہیں کہ خطرات کا شکار پاکستان کی موسمیاتی تبدیلیاں ہماری نسلوں کے لیے خوفناک چیز ہے اور مجھے فخر ہے کہ ہماری حکومت سے اس پر اقدامات کیے لیکن اس سے قبل اسے قومی سلامتی کے تناظر میں کبھی دیکھا نہیں گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کابینہ اجلاس کے بعد معاون خصوصی کی میڈیا بریفنگ

انہوں نے کہا کہ افواج کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک معاملہ آگیا ہے کہ ہمیں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی پوری تیاری کرنی ہے اور قومی سلامتی کے لیے یہ بھی اہم ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے بعد ہمارا ملک جس عذاب سے گزار ہے اور جس طرح کے سکیورٹی خطرات کا ہمیں سامنا تھا جس پر ہماری سکیورٹی فورسز نے قربانیاں دے کر ہمیں محفوظ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں دیگر چیلنجز بھی درپیش ہیں مثلاً موسمیاتی تبدیلیاں اور ہمیں فخر ہے کہ بین الاقوامی سطح پر ہماری حکومت کی کاوشوں جیسا کہ 10 ارب درخت سونامی کو تسلیم کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نے وہ اقدامات کیے ہیں جو دنیا میں بہت کم ممالک نے اٹھائے ہیں اور ہم ہر اس ملک کے ساتھ شامل ہوں گے جو پیرس ماحولیاتی معاہدے کے تحت اقدامات کریں گے، مجھے خوشی ہے کہ امریکی حکومت نے اپنی گزشتہ 4 سال کی پالیسی تبدیل کر کے دوبارہ ماحولیاتی معاہدے میں شمولیت اختیار کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  50لاکھ گھر بنانا آسان کام نہیں، منصوبے میں تاخیر کی وجہ پورے پیکج کی تیاری ہے:وزیراعظم عمران خان

انہوں نے کہا کہ ہمارا ایک اور بہت بڑا مسئلہ خوراک کا تحفظ ہے، جتنی تیزی سے ہماری آبادی بڑھ رہی ہے، اور اس کی وجہ سے پہلی مرتبہ ہم نے ایک سال میں 4 ملین ٹن گندم درآمد کی اور اپریل میں ہم ایک نیا اور جامع منصوبہ لے کر آرہے ہیں کہ ہمیں پاکستان میں غذائی تحفظ کس طرح یقینی بنانا ہے کیوں کہ 2 سال کے عرصے میں ہمیں یہ احساس ہوا کہ قوم، سرکاری محکموں میں اس کی سوچ ہی موجود نہیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سوچ تو دور کی بات ہے کہ ہمارے پاس گندم کی پیداوار کا جائزہ ہی موجود نہیں تھا اور جتنے پیداواری جائزے موجود تھے وہ سب غلط نکلے۔

انہوں نے کہا کہ اب ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اس معاملے پر ہمیں سب سے زیادہ زور دینا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کا غذائی تحفظ کس طرح کرنا ہے اور زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری آبادی دیگر ممالک سے زیادہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اگر آپ کو بھی اپنے ’’گاڈ فادر‘‘ افتخار چوہدری کی طرح سیاست کا شوق ہے تو مستعفی ہوکر کونسلر کا الیکشن لڑیں:وفاقی وزیر

وزیراعظم نے کہا کہ اس کے ساتھ اتنی ہی اہم چیز معیشت ہے، ہماری کمزوری یہ ہے کہ روایتی طور پر ملک میں آنے والے اور ملک سے جانے والے ڈالرز میں بہت بڑا فرق رہا ہے اور یہ خسارہ براہِ راست ہماری کرنسی پر اثر انداز ہوتا ہے اور جب کرنسی متاثر ہوتی ہے تو سب چیزیں متاثر ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سے سب سے پہلے اشیائے خور و نوش مہنگی ہوجاتی ہیں، تیل، بجلی، ٹرانسپورٹ، دالوں کی درآمد، گھی، خوردنی تیل سب چیزوں کا اثر غریبوں پر پڑتا ہے اور ملک میں غربت بڑھ جاتی ہے۔