corona virus

برطانوی طرز کا کورونا وائرس پنجاب میں پھیلنے لگا

EjazNews

سرکاری پورٹل کے اعداد وشمار کے مطابق پنجاب میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ایک ہزار 653 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور مسلسل پانچویں روز کیسز کی تعداد ایک ہزار سے زائد ریکارڈ کی گئی ہے۔

پنجاب میں ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز کی تعداد ملک میں کورونا کی پہلی لہر کے دوران 24 جون 2020 کو ایک ہزار 566 تھی اور اب صوبے میں کیسز کی مجموعی تعداد ایک لاکھ 85 ہزار 468 ہوچکی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 973 کیسز رپورٹ ہوئے، گجرانوالا میں 81، سیالکوٹ میں 76 اور راولپنڈی میں 73 کیسز رپورٹ ہوئے۔
صوبائی حکومت نے کورونا کیسز کے پیش نظر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے اہم شہروں میں لاک ڈاون نافذ کردیا ہے اور شہریوں کی نقل و حرکت گھروں تک محدود کردی ہے۔

صوبے کے مذکورہ شہروں میں ‘تمام تجارت سرگرمیاں، مراکز، مارکیٹس اور پنجاب بھر کے دیگر مقامات شام کو 6 بجے بند کر دیے جائیں گے’۔
پنجاب کے 7 بڑے شہروں میں ایک سال کے وقفے کے بعد پیر سے دو ہفتوں کے لیے بڑا لاک ڈاو¿ن شروع ہوگا، اس سے قبل مارچ 2020 میں حکام نے صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاون نافذ کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سانحہ کرائسٹ چر چ کے شہداء کو خراج تحسین

شہروں میں لاک ڈاون کے ساتھ بندشیں
• سماجی، مذہبی یا دیگر مقاصد کے لیے ہر قسم کی مجالس پر سرکاری یا نجی کسی بھی جگہ پر مکمل پابندی ہوگی۔
• شادی ہالوں اور بینکوئٹ ہالز، کمیونٹی سینٹرز اور دیگر تمام ہالز بدستور بند رہیں گے۔
• گھروں یا دفاتر کے اندر اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ باہر زیادہ سے زیادہ 50 افراد کو جمع ہونے کی اجازت ہوگی۔
• ہوٹلوں کے اندر اور باہر کھانوں پر مکمل پابند ہوگی۔
• صرف ہوم ڈلیوری اور خرید کر لے جانے کی اجازت ہوگی۔
حکومت نے کہا کہ تمام ساتوں شہروں میں ان پابندیوں پر سختی سے عمل درآمد کروایا جائے گا۔
صوبے بھر میں عائد پابندیاں
• تمام تجارتی سرگرمیاں، مراکز، مارکیٹس اور پنجاب بھر میں یہ مقامات شام کو 6 بجے بند ہوں گے۔
• تمام سرکاری اورنجی دفاتر میں 50 فیصد عملے کوآنے کی اجازت ہوگی اور دیگر 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرے گا۔
• صوبے میں کھلے مقامات میں 2 گھنٹوں کے لیے زیادہ سے زیادہ 300 افراد کے اجتماع کی اجازت ہوگی۔
• تمام کھیلوں، ثقافتی اور دیگر سرگرمیوں پر پابندی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ڈی ایم کا دوسرا پاور شو

کیسز میں اضافے کی وجہ برطانوی وائرس
کورونا وائرس کے کیسز میں اچانک اضافے کی ایک بڑی وجہ برطانوی وائرس ویریئنٹ ہے اورمتاثرین میں جس کی نشان دہی ہو چکی ہے۔
چین سے درآمد سسٹم نیکسٹ جنریشن سیکوئنسنگ (این جی ایس) کے دستاویزات کے مطابق برطانیہ سے آنے والا خطرناک وائرس لاہور، جہلم، اوکاڑہ اورگجرات میں موجود ہے۔

محکمہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ 4 شہروں سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں سے نمونے حاصل کیے گئے، جس کے مطابق 70 فیصد اضافہ ہوا ہے جو پہلے ہی برطانوی ویریئنٹ سےمتعلق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے محکمہ صحت کی ایک ٹیکنیکل ٹیم اعداد وشمار ترتیب دینے میں مصروف ہے۔
عہدیدار نے کہا کہ پنجاب میں اپریل سے اب تک رپورٹ ہونے والے 70 فیصد کیسز چین کے شہر ووہان میں رپورٹ ہونے والے وائرس سے متاثرہ تھے۔