Protest

میانمار میں فوج کو بغاوت مہنگی پڑتی نظر آرہی ہے

EjazNews

میانمار میں فوجی بغاوت کیخلاف اورمعزول وزیراعظم آنگ سان سوچی کی رہائی کیلئےجمہوریت کے حامیوں کا احتجاج جاری، پولیس نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کردی،جس سے12مظاہرین ہلاک ہوگئے۔میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈالےمیں دھرنے پر بیٹھے مظاہرین پرپولیس اہلکاروں کے کریک ڈائون کے نتیجے میں 5افراد ہلاک، ایک راہب سمیت 20 سے زائد زخمی ہوئے۔برطانیہ نے بڑھتے ہوئے تشدد کے دوران اپنے شہریوں کومیانمار سے انخلاء کی ہدایت کردی۔

میانمار سکیورٹی فورسز نے پولینڈ کےایک صحافی کو حراست میں لے لیا۔امریکا اور اتحادیوں نے ملکر میانمار میں جمہوریت کی بحالی کے لئے کام کرنے کا اعلان کردیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج جاری ہے، فورسز نے ایک بار پھر مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرکے 12شہریوں کو ہلاک کردیا۔

میانمار کے سب سے بڑے شہر ینگون میں سینکڑوں مظاہرین قیدیوں کی رہائی کیلئے پولیس اسٹیشن کے باہر جمع ہوئے تو اہلکاروں نے ہجوم پر براہ راست فائرنگ کرکے2 شہریوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ وسطی قصبہ پیائے میں ایک شخص پولیس کی گولیاں لگنے کے باعث جان سے گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے دشمن ہمیں زیر نہیں کر سکتے: صدر ایردوان

میگوے ریجن میں پولیس فائرنگ سے ایک ٹرک ڈرائیور جان سے ہاتھ دھوبیٹھا۔ مظاہرین میں شامل ایک عینی شاہدسیتی تھون کے مطابق اس نے دیگر علاقوں میں پولیس کو2افراد کو گولی مارکر قتل کرتے دیکھاجن میں ایک بودھ راہب بھی شامل ہے۔ایک دیگر واقعہ میں بھی ایک شخص پولیس فائرنگ کی بھینٹ چڑھ گیا۔