Depression

دو امر ڈیپریشن سے نجات دلا سکتے ہیں

EjazNews

اس وقت ذہنی و نفسیاتی عوارض میں سب سے عام مرض ڈیپریشن ہے۔مگرافسوس ناک امر یہ ہے کہ ہمارےیہاں اسے بیماری کے طور پر دیکھا ہی نہیں جاتا ہے۔ سو،اکثریت دماغی و ذہنی امراض کے ماہرین سے(چاہے وہ سائیکاٹرسٹس ہوں یا سائیکولوجسٹس)علاج کروانے کی بجائے غیر مستند علاج کوفوقیت دیتی ہیں ، نتیجتاًنہ صرف مرض بگڑ جاتا ہے، بلکہ پیچیدہ ہو کر ناقابلِ علاج بھی ہوجاتا ہے۔ ڈیپریشن لاحق ہونے کی کوئی ایک حتمی وجہ نہیں، کئی محرّکات ہیں۔جیسے بعض افراد میں ڈیپریشن کا سبب حالات بنتے ہیں، توکبھی کسی پیارے کو کھو دینے سے بھی یہ مرض لاحق ہوجاتاہے۔نیز،خواب آور ادویہ،منشّیات اور الکحل وغیرہ کا استعمال،ہارمونز میں گڑبڑ، موسمی تبدیلی،تاخیر سے شادی اور شادی شدہ زندگی کے مسئلے مسائل بھی سبب بن سکتے ہیں، جبکہ کئی خواتین دورانِ زچگی یا زچگی کے بعد ڈیپریشن کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ایک سروے کے مطابق ڈیپریشن کی شرح خواتین ،خاص طور پر شادی شد ہ خواتین میں بُلند ہے۔عموماً غیر خوش گوار ازدواجی زندگی اور سسرالی جھمیلوں کے باعث خواتین ڈپیریشن میں مبتلاہوجاتی ہیں۔نتیجتاًان کا مزاج چڑچڑا ہوجاتا ہے،وہ خود کو مظلوم تصور کرتی ہیں اور اردگرد کے لوگوں کو ظالم۔ ہر وقت غم گینی اور مایوسی کی حالت میں رہنے کے باعث اپنے بچّوں کی تعلیم وتربیت پر توجّہ نہیں دے پاتیں، جس کے مزید منفی اثرات سامنے آتے ہیں۔ڈیپریشن میں مبتلا خواتین اپنے مسائل سے فرار اور سُکون حاصل کرنے کے لیے عموماًخواب آور ادویہ استعمال کرتی ہیں یا پھر تمباکو نوشی کی لت میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ بظاہر ایک مخصوص طبقے میں تمباکو نوشی فیشن کی علامت سمجھی جاتی ہے، لیکن جب اس حوالے سے تحقیق کی گئی تو 70فی صد خواتین شوہروں کے رویّےکی وجہ سے اس علّت کا شکار ہوئیں۔ اِسی طرح کئی میڈیکل اسٹورز کی کمائی کا بڑا ذریعہ وہ ستر فی صد خواتین ہیں، جوسُکون آور انجیکشنز خریدتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  28اپریل 1977ءمیں بھٹو کا پارلیمنٹ سے خطاب

سوال یہ ہے کہ ’’آخر ڈیپریشن کا سدباب کیسے کیا جائے ؟‘‘تو ارد گرد کے لوگوں کا مثبت رویّہ ،اپنی مثبت سوچ اور سب سے بڑھ کر اللہ پر یقین ہی ڈیپریشن سے نجات کا بہترین حل ہے۔ ایک معروف یونیورسٹی کے پروفیسر نے سفید بورڈ پر سیاہ مارکر سے ایک نقطہ لگا کر طلبہ سے پوچھا،’’آپ کو کیا نظر آرہا ہے؟‘‘ سب نے کہا، ’’سر! سیاہ نقطہ۔‘‘جس پر پروفیسر نے کہا،’’آپ کو اتنا بڑا سفید بورڈ نظر نہیں آیا اور ایک چھوٹا سا سیاہ نقطہ نظر آرہا ہے؟‘‘تو یہ ہے منفی سوچ، جس کی وجہ سے ہمیں خُوبصورت دنیا ،اس میں بکھرے رنگ اور خوشیاں نظر نہیں آتیںاور ہم چھوٹی چھوٹی پریشانیوں اور عارضی مشکلات کو ذہن پر سوار کرکے خودترسی کی حالت میں ڈیپریشن کے مریض بن جاتے ہیں۔ لہٰذا اپنی سوچ مثبت رکھیں اور جس قدر ممکن ہومنفی باتوں سے دھیان ہٹانے کی کوشش کریں۔ یہ مشکل ضرور ہے، مگر ناممکن نہیں۔

ذرا سوچیے، اس دُنیا میں ایسا کون ہوگا؟ جس نے کبھی مشکلات کا سامنا نہ کیا ہو؟ ہر فرد کی زندگی میںپریشانیاں آتی ہیں، بس انہیں اپنے ذہن پر سوار نہ ہونےدیں۔ یاد رکھیں، آپ کے پریشان ہونے سے مشکلات ختم نہیں ہوں گی،بلکہ مزیدبڑھ جائیں گی۔ لہٰذا اپنے اندر اُن کا سامنا کرنے کی ہمّت پیدا کریں اور اللہ پر یقین رکھتے ہوئے خود کو ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کریں۔ خود سے محبّت کریں ، خود کو اہمیت دیں۔ اگر آپ خودکو اہمیت نہیں دیتے ، تو پھر دوسروں سے بھی اس کی توقع چھوڑ دیں۔ تمباکو نوشی، سُکون آور ادویہ یا انجیکشنز مسائل کے حل نہیں ۔ ہمارے دین میں مایوسی کفر ہے۔ دین کی طرف رغبت سے آئیں۔ اللہ کا ذکر دِل سے کریں۔ یقین جانیے، دلی اور ذہنی سُکون حاصل کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی تھراپی نہیں ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوںسے خوش رہنا سیکھیں۔ صرف اُن لوگوں سے ملیں، جو آپ کو اہمیت دینے کے ساتھ زندگی کی مشکلات سے نبرد آزما ہونے میں بھی مدد دیں۔دوستوں، سہیلیوں کی بِھیڑ جمع نہ کریں، صرف دو چار ایسے لوگوں سے قربت رکھیں، جو آپ کی مثبت سوچ کو جلا بخشیں۔ اور ہاں، دوسروں میں خوشیاں بانٹنے سے اللہ کسی اور ذریعے سے آپ کو خوشیاں دے گا۔اپنے مزاج میں نرمی، برداشت اور خوش اخلاقی پیدا کریں۔قرآن سمجھ کر، ترجمےاور تفسیر کے ساتھ پڑھنا ایک ایسا عمل ہے، جو ڈیپریشن کو آس پاس پھٹکنے بھی نہیں دے گا۔ علاوہ ازیں، متوازن غذا اور ورزش بھی سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔ ٹیلی ویژن پر ہلکے پھلکے موضوعات پر مبنی پروگرامز دیکھیں، اس طرح کے پروگرامز، ڈرامے اور مارننگ شوز دیکھنے سے اجتناب برتیں، جن سے احساسِ کم تری یا کسی قسم کی منفی سوچ پروان چڑھے۔ آپ کے ساتھ لوگوں کا رویّہ جیسا بھی ہو، آپ اپنا رویّہ مثبت رکھیں۔ اپنی اچھی، بُری باتوں اورعادتوں پرنظر ڈالیں اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ کسی ڈائری یا رجسٹر میں اپنے اور دوسروں کے بارے میں جو کچھ ذہن میں آئے، وہ لکھ ڈالیں۔ اس طرح آپ کے اندر کا غبار نکلے گا اور ااپ خود کو ہلکا پھلکا محسوس کریں گی۔ کتب بینی کی عادت ڈالیں۔ صحت مند ادب، ذہن کو جِلا بخشتا ہے۔ یہ نہ سوچیں کہ گھر والے آپ کو سمجھ نہیں رہے یا آپ کے ساتھ تعاون نہیں کررہے، بلکہ یہ سوچیں کہ آپ اُن کو کتنا سمجھتے ہیں اور ان کے ساتھ کتنا تعاون کرتے ہیں۔ دوسروں کو اپنی ضرورت نہ بنائیں، بلکہ خود کو اس قابل بنائیں کہ آپ اُن کی ضرورت بن جائیں۔ جھوٹ، حسد، نفرت اور غصّہ یہ وہ جذبے ہیں، جو پہلے آپ کو نقصان پہنچائیں گے، بعد میں دوسروں کو۔ بلکہ شاید دوسرے کو کوئی نقصان پہنچے بھی نہیں، لہٰذا اپنے دِل کو ان منفی جذبات کی آماج گاہ بننے نہ دیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی حدت میں اضافہ ایک حقیقت، انسان ہی ذمہ دار

یاد رکھیے، اللہ پر یقین اور مثبت سوچ یہ دو امر ڈیپریشن سے نجات دلا سکتے ہیں اور یہ دونوں ہی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہیں۔ سو ،آج ہی سے تہیہ کرلیں کہ آپ ایک مثبت اور خوش گوار زندگی گزاریں گے، نہ کہ یاسیت بَھری سوگوار زندگی۔ کسی سائیکاٹرسٹ یا سائیکولوجسٹ سے زیادہ یہ خود آپ کے اختیار میں ہے کہ آپ اپنی قوت ارادی مضبوط کریں اور خود کو حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے بہادری سے تیار رکھیں۔