corona_virus

کرونا وائرس کیا کرنا چاہئے؟

EjazNews

کرونا وائرس سے انسانی جان کے ساتھ، دنیا کی معیشت پر بھی انتہائی سنگین اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ اسی لیے دنیا بھر کی حکومتیں اور معاشی ماہرین کی کوشش ہے کہ اس شعبے کو زیادہ سے زیادہ سہارا دیا جائے ۔اچھی بات یہ رہی کہ ایک دوسرے سے لڑنے کی بجائے سب مل کر اس وبا سے نبرد آزما ہیں۔
عوام، حکومت، سول اور فوجی ادارے مل کر اس ناگہانی آفت پر قابو پانے کی کوشش کررہے ہیں اور اُنھیں اس ضمن میں بہت سی کامیابیاں بھی حاصل ہوئی ہیں۔ہم اس امر پر فخر کرتے رہے ہیں، ہم اپنی ایٹمی طاقت وغیرہ کا بھی بار با رذکر کرتے ہیں۔ اِس بات پر بھی مصر رہے ہیں کہ ہم اقوامِ عالم میں ایک اعلیٰ اور نمایاں مقام پر فائز ہیں۔بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں گو کہ ان میں سے بہت سی باتیں اور دعوے درست بھی ہیں، تاہم کرونا وائرس جیسے بحران ہی کسی مُلک کی اصلی طاقت اور صلاحیت کی آزمائش ہوتے ہیں۔ یہ آزمائش ریاست، حکومت اور عوام یعنی سب کے لیے ہے۔ ایسے موقعے پر دیکھا جاتا ہے کہ کون سا مُلک کیسی حکمت عملی، اقدامات اور صلاحیت کا مظاہرہ کرتا ہے اور اُس کی کارکردگی کیا رہی؟اِس بات میں دو رائے نہیں ہوسکتی کہ کرونا جیسی وبا کا مقابلہ کسی ہتھیار نہیں، بلکہ قومی یکجہتی ہی سے کیا جاتا ہے اور ساری دنیا یہی کچھ کر رہی ہے۔ احتیاط سب سے بڑا دفاع اور عوامی شعور و عمل سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ بلاشبہ یہی طرزِ عمل کرونا وائرس جیسے چیلنجز سے نمٹنے میں کامیابی کی کلید ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ عالمی اقتصادی بحران بھی وہ افراتفری نہیں مچا سکا تھا، جو کووڈ 19 وائرس نے مچائی ہے۔ایک حوصلہ افزا بات یہ رہی کہ عالمی سطح پر’’ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن‘‘ یعنی’’ عالمی ادارۂ صحت‘‘ جیسے ادارے پوری طرح فعال ہیں اور بھرپور طریقے سے مستند معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی اس کے علاج کے لیے مختلف ممالک کے ماہرین کے درمیان تحقیق میں ہم آہنگی بھی پیدا کر رہے ہیں۔ قومی سطح پر کیے جانے والے اقدامات کے ساتھ، عام آدمی کی بھی رہنمائی کی جاری ہیں۔ متاثرہ ممالک کے عوام کو اپنے بچائو کے لیے کیسے روزمرّہ کی زندگی گزارنی چاہیے؟ یہ ساری معلومات انتہائی برق رفتاری سے دنیا کے کونے کونے تک پہنچ چُکی ہیں۔ یہاں تک کہ بچّہ بچّہ واقف ہوچکا ہے کہ یہ بیماری کیا ہے اور ہاتھ بار بار دھونا ہی اس سے بچاؤ کا مؤثر ترین ذریعہ ہے۔پھر یہ بھی کہ عوام میں شعور اجاگر کرنے کی اس مہم میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے مثبت کردار کو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، جو بُرے حالات میں بھی مسلسل عوام کا حوصلہ بڑھا رہا ہے۔ اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے، تو سوشل میڈیا پر بھی خاصی ذمہ داری کا مظاہرہ دیکھنے میں آرہا ہے، تاہم سازشی تھیوریز، من گھڑت قصے کہانیوں، ٹوٹکوں اور غیر مستند علاج کے مشوروں کی بھی بھرمار ہے، لیکن عام طور پر عوام نے ایسی باتوں پر کم ہی کان دھرے ہیں۔اب بھی سب سے بہتر بات عوامی سطح پر یہی مانی جارہی ہے کہ اِس معاملے پر تجزیوں اور تبصروں کو بعد میں اپنی تحقیق کا موضوع بنایا جائے، فی الحال تو ان چھوٹے چھوٹے عملی اقدامات ہی پر توجّہ مرکوز رکھی جائے، جن سے وائرس کے اثرات کو محدود کیا جاسکے۔یعنی قوم اِن دنوں’’ نیم حکیم، خطرۂ جاں‘‘ کے حقیقی مفہوم سے نہ صرف یہ کہ آگاہ ہوچُکی ہے، بلکہ اس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے ایسے جان کے دشمنوں سے اجتناب بھی کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فنانشن ایکشن ٹاسک فورس کیا ہے؟
corona_virus1
 یورپ میں اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یورپی ممالک کا ہم جیسے ممالک سے موازنہ درست نہیں۔ وہاں کے شہر سیاحت اور کاروبار کے عالمی مراکز ہیں۔

لاک ڈائون کا سلسلہ سب سے پہلے چین نے کیا اور اس کے نتیجے میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کامیابی سے محدود کردیا۔ ہمارے ہاں اس امر پر خوشی کا اظہار ہو رہا ہے کہ چین میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے، ہمیں اس پر خوش بھی ہونا چاہیے کہ چین ہمارا دوست ہے، لیکن خوشی منانے سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم بھی اس وبا سے جان چھڑانے کے لیے چین کے ماڈل کی پیروی کریں۔یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ہم چین کی طرح بڑی آبادی والے ممالک میں شمار ہوتے ہیں، تاہم یہ حقیقت بھی ذہن میں رہے کہ چین کے مقابلے میں ہماری صحت کی سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ہماری اور چین کی معیشت کا تو کوئی موازنہ ہی نہیں۔ شاید اسی لیے وزیر اعظم، عمران خان کے قوم سے خطاب میں بے بسی کی جھلک نمایاں تھی، بلکہ’’ بلوم برگ‘‘ کو دئیے گئے انٹرویو میں تو اُنھوں نے یہ اعتراف کیا کہ پاکستان کے پاس اس وائرس کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں۔ اُنہوں نے قرضوں کی معافی اور امداد کی بھی بات کی، جس پر طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں، تاہم اس بیان کو اس تناظر میں دیکھنا چاہیے کہ ایران جیسے خود دار اور تیل کی دولت سے مالا مال مُلک نے بھی آئی ایم ایف سے پانچ ارب ڈالرز کے قرضے کی درخواست کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  عقیدہ پرستی اور انسان دوستی

اگر ہم عالمی سطح کی بات کریں، تو کرونا وائرس سے نمٹنے کے مختلف طریقے دیکھنے میں آئے۔اس سلسلے میں تین چار ماڈلز کا خاص طور پر ذکر ہو رہا ہے۔سب سے پہلے تو چین کا ماڈل ہے، جسے جنوب مشرقی ایشیا نے بڑے پیمانے پر اپنایا۔ان ممالک میں سنگاپور، تائیوان، تھائی لینڈ، جنوبی کوریا، ملائیشیا، انڈونیشیا شامل ہیں۔ ان ممالک میں فوری لاک ڈائون اوردیگر احتیاطی تدابیر کو اپنایا گیا۔ اس کے مقابلے میں امریکی اور یورپی ماڈلز ہیں۔ امریکا نے اسے اپنی معاشی قوت اور بہترین طبّی سہولتوں کے ذریعے کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی معیشت پر پڑنے والے منفی اثرات کو امدای پیکیجز کے ذریعے کم کرنے کی کوششیں کیں۔ یورپی ماڈل میں سرحدوں کی بندش اور شہروں کا لاک ڈائون زیادہ مؤثر مانا گیا، لیکن شہروں کو محض لاک ڈائون کر کے چھوڑ نہیں دیا گیا، بلکہ اس کی قومی اور شہری سطح پر زبردست مانیٹرنگ کی گئی۔ اداروں کو غیر معمولی طور پر متحرک کیا گیا ہے، یورپ میں اٹلی سب سے زیادہ متاثر ہوا۔ یورپی ممالک کا ہم جیسے ممالک سے موازنہ درست نہیں۔ وہاں کے شہر سیاحت اور کاروبار کے عالمی مراکز ہیں۔ دنیا بھر کے لوگوں کا وہاں آنا جانا لگا رہتا ہے۔ اسی لیے وہاں زیادہ پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ ہمارے ہاں بیرونی دنیا سے آنے والوں کی تعداد کم ہے، اس لیے حالات کو زیادہ آسانی سے کنٹرول کیا جاسکتا تھا، لیکن تفتان سرحد پر جو کچھ ہوا، وہ بہت حوصلہ شکن ہے۔ کس قدر افسوس اور نااہلی کا مقام ہے کہ ہم ایک بارڈر کو بھی اچھی طرح سے کنٹرول نہیں کیا جاسکا۔ اس سے اندازہ ہو جانا چاہیے کہ خود ستائی ہر معاملے میں کام نہیں آتی۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ کے گھر کی بنیاد پر بت خانہ کی تعمیر ۔ کیا کریں؟