myanmar

میانمار میں عوام فوجی حکومت کو مان ہی نہیں رہے

EjazNews

میانمار کی فوجی حکومت کا میڈیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن ،حکومت نے ملک میں جاری مظاہروں اور پرتشدد واقعات کی کوریج کرنے والے پانچ میڈیا ہاؤسز کے لائسنس منسوخ کر دیئے۔دوسری جانب فورسز کا مظاہرین کیخلاف کریک ڈائون بھی جاری ہے اور احتجاج کرنے والے مزید دو افراد فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، مظاہرین کی گرفتاریوں کیلئے سیکورٹی فورسز نے گھروں پر چھاپوں اور تلاشی کی کارروائیاں شروع کردیں۔

سرکاری چینل کے مطابق ان میڈیا ہاؤسز پر کسی بھی ٹیکنالوجی یا میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے نشریات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ میانمار میں فوج کے زبردستی اقتدار پر قبضے کے خلاف جوں جوں مظاہرے بڑھ رہے ہیں، حکام کی طرف سے احتجاج کچلنے میں بظاہر تیزی آ رہی ہے۔ ان میڈیا ہاؤسز نے ملک کے بگڑتے حالات کی مسلسل کوریج کی تھی اور بعض نے اپنے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر عوامی مظاہرے لائیو دکھائے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  افغانستان میں امن کی امید ایک مرتبہ پھر نظر آنے لگی

پولیس اہلکار ان کے دفتر کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہوئے اور ان کے کمپیوٹر،پرنٹر اور دیگر مواد اٹھا کر لے گئے۔ ادارے کے مطابق اس نے یہ دفتر پانچ ہفتے پہلے ہی بند کر دیا تھا۔دریں اثنا میانمار میں فوج نے میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔ ملک بھر میں درجنوں صحافی پہلے ہی زیر حراست ہیں۔ ینگون شہر کے ایک علاقے میں مقامی باشندوں نے اس وقت جگہ جگہ رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی، جب سکیورٹی فورسز نے فوجی بغاوت کے مخالف مظاہرین کے گھروں میں گھس کر ایک ایک کمرے کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ یہ کارروائی خاص طور پر ان گھروں میں کی گئی جہاں زیر حراست سیاسی رہنما آنگ سان سوچی کی پارٹی کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔
میانمار ناؤ‘‘ نیوز سروس کے ایڈیٹر ان چیف سُوے وِن کے مطابق اس وقت ملک میں صحافتی کام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ جیل بھی جا سکتے ہیں اور جان سے بھی جا سکتے ہیں، لیکن یہ بھی واضح ہے کہ یہ حکومت ملک بھر میں جن جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے، ہم اس کی کوریج بند نہیں کریں گے۔‘‘پابندی کا نشانہ بننے والے ایک اور نجی میڈیا گروپ مِزیما‘‘ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ اپنے آن لائن اور ملٹی میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے فوجی اقتدار کے خلاف اور جمہوریت اور انسانی حقوق کے حق میں لڑتے رہیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:  انتہا پسند امریکی پابندیو ں کے خاتمے کی راہ میں رکاوٹ ہیں:ایرانی صدر