socialogy

مسلم سماج اور عمرانی مسائل

EjazNews

علامہ محمد اقبال کا خیال ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد،صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اُس وقت ہوئی جب قافلہ انسانیت ذہنی لحاظ سے سائنسی دور میں داخل ہونے کے لیے تیار تھا ۔ اُن سے پیشتر انسان اپنے ارتقا کے اُس دور میں تھا جہاں وہ استدلال سے زیادہ جذبات اور جبلتوں سے کام لیتا تھا ۔ اُس کے ایقان اور عمل کی بنیاد انبیاءکی تعلیمات تھیں یا اساطیر تھے۔ لیکن اب انسان ذہنی طور پر بلوغ کے اُس مقام تک پہنچ چکا تھا کہ اُس پر نبوت کا دروازہ بند کر دیا جاتا اور استقرائی عقل کا در کھول دیا جاتا تاکہ وہ نبوت کی حتمی اور آخری رہنمائی کی روشنی میں اپنے اجتہاد سے سماجی زندگی کے نئے تقاضوں سے عہدہ بر آ ہو کر استقرائی دانش سے تسخیر فطرت کے ذریعے طاقت و توانائی حاصل کرکے نیابتِ الٰہیہ کی ذمہ داریاں نبھاتا ۔ گویا پیغمبر اسلام قدیم اور جدید دنیا کے سنگم پر کھڑے نظر آتے ہیں ۔ اِس لیے قرآن حکیم ایک طرف ماضی کی روایات کا تسلسل اور دوسری طرف جدید سائنسی حقائق کا داعی ہے۔ علامہ اقبال کا فصیح اظہار ان الفاظ میں ڈھلتا ہے :
The Prophet of Islam seems to stand between an ancient and the Modern World. In so far as the source of his revelation is concerned he belongs to the ancient world; In so far as the spirit of his revelation is concerned he belongs to the Modern World. In him life discovers other sources of knowledge suitable to its new direction.
قرآن حکیم نے کسی نئے دین کی دعوت نہیں دی بلکہ انبیاے سابقین کی تعلیم کو آگے بڑھایا۔ قرآن حکیم نے وضاحت کی کہ تمام انبیاءتوحید کی دعوت دیتے تھے ۔ قرآن حکیم نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے اطاعت گزار تھے ۔ اور انھوں نے اپنی اولاد کو بھی اللہ کا اطاعت گزار یعنی مسلم رہنے کی تلقین کی ۔ تمام انبیاءنے ایک ہی تعلیم دی ۔ جس کی اساس توحید و رسالت اور آخرت پر یقین اور دیانت و صداقت اور عدل اجتماعی کے اعلیٰ اخلاقی اُصولوں پر تھی ۔ حضرت محمدا نے ماضی کی اطاعت گزاری کی روایت کو آگے بڑھایا اور پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ قرآن حکیم نے حضرت محمدا کے منصب رسالت کو ماضی کی روایت کا تسلسل قرار دیا ۔ ارشاد فرمایا گیا:
ترجمہ:اور نہیں محمد ا مگر رسول اُن سے پہلے بھی کئی رسول ہو گزرے ہیں ۔
ایک اور جگہ پر قرآنی تعلیمات کو ماضی کی تعلیمات سے منسلک کرنے کے انداز میں فرمایا گیا :
ترجمہ:یہی بات پہلے صحیفوں میں لکھی ہوئی ہے ، ابراہیم اور موسیٰ کے صحائف میں۔
اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام ، انبیا سابقین کے تصور ِ توحید ،تصورِ آخرت اور آفاقی اخلاقی اقدار کو جدید تناظر میں پیش کرتا ہے ۔ یہ کتاب انسانی اقدار کی کتاب ہے ۔ قرآن حکیم میں نیکی کے لیے عربی کا لفظ ”معروف“ استعمال کیا گیا ہے اور بُرائی کے لیے ”منکر“۔ ”معروف“ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرے میں اچھی اقدار جانی پہچانی یعنی معروف ہوتی ہیں اور انسانوں کا اجتماعی شعور اُن کی صداقت سے واقف ہوتا ہے ۔ معاشرے میں جن باتوں سے نفرت کی جاتی ہے، جن اعمال کو ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے ، اُن کو قرآن حکیم ”منکر“ سے تعبیر کرتا ہے ۔ ”منکر“ کا لفظ استعمال کرکے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ برائیوں سے انسان کی فطرت انکار کرتی ہے اور انسان کی فطرت سلیمہ ہمیشہ صراط مستقیم پر چلنا چاہتی ہے۔ کوئی انسان یا معاشرہ کبھی نہیں چاہتا کہ ظلم و ستم ، نا انصافی ، جھوٹ، لوٹ کھسوٹ اور بد دیانتی کو آفاقی اُصول مان کر اس پر عمل کیا جائے ۔ یہ الگ بات ہے کہ فرد کسی لالچ یا دباو میں آکر اپنے ضمیر کے خلاف عمل کرتا ہے یا معاشرے میں جاہلی افکار اور بدکردار لوگوں کے غالب آجانے سے اچھی اقدار مغلوب اور متروک ہوجاتی ہیں۔ اس اندازِ نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اسلام انسانی فطرت سلیمہ کے مطابق سماج میں تبدیلی لانا چاہتا ہے ، ایسے سماج کی تعمیر کرنا چاہتا ہے جس کا اپنا ایک تشخص ہو اور جس میں معروف غالب ہو۔
اسلام محض چند ما بعد الطبیعیاتی معتقدات کا نام نہیں بلکہ وہ انفرادی اور اجتماعی سطح پر انسانی سیرت و کردار کا ایک اُسلوب تجویز کرتا ہے ۔ اسلام نے جہاں فرد کو اختیار عمل دیا اور انفرادی جواب دہی کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے وہاں فرد کو معاشرے اور جماعت کے ساتھ مربوط رہنے اور معاشرتی نظم و ضبط کا پابند بھی کیا ہے ۔ اسلامی سماج کی اساس چند اُصولوں پر ہے:
پہلا اُصول یہ ہے کہ تمام بنی نوع انسان کی اصل ایک ہے ۔ کسی فرد کو دوسرے فرد پر رنگ و نسل ، علاقہ و زبان کی وجہ سے کوئی برتری حاصل نہیں ہے ، تمام انسان برابر ہیں ۔ ہر ایک کے حقوق و فرائض یکساں ہیں ہر ایک قابلِ احترام ہے ۔ پیدائشی طور پر نہ کوئی فرد اور نہ ہی کوئی خاص سماجی طبقہ حاکم ہے اور نہ ہی کوئی محکوم ہے ، سماج میں ہر ایک کا مقام برابر ہے ۔ انسان کی فضیلت اور تکریم کا اصل معیار اُس کا حسن عمل ہے۔ جو فرد معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے، اپنے ابنائے جنس کے حقوق کا پاس کرتا ہے اورخدمت خلق کے عمل میں سرگرم رہتا ہے ، وہی فرد اللہ کے نزدیک مکرم ہے اور سماج میں عزت و احترام کا حق دار ہے ۔ اسلام نے بنی نوع انسان کی وحدت اور سالمیت کا تصور عطا دیا ہے ۔ یہ تصور مستقل اور دائمی ہے ۔کسی زمانے میں بھی اس میں کسی بھی ترمیم یا تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے ۔
دوسرا اُصول یہ ہے کہ تمام مسلمان ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ وہ آپس میں مل جل کر رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ہمیشہ ایک دوسرے کی خیر خواہی کرتے ہیں ۔ اپنے اختلافات بھائی چارے کی فضا میں باہمی افہام و تفہیم سے طے کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔اپنے بھائیوں پر ایثار کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے دکھ ، درد اور خوشی کی تقریبات میں شامل ہوتے ہیں ۔ اہل اسلام میں سب سے بڑا اور توانا رشتہ اسلام کا ہی رشتہ ہے ۔ قرآن حکیم نے اس رشتے کی بنیاد پر مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق کو نعمت خداوندی کہا ہے ۔ اس اخوت کو اللہ کی رسی سے تعبیر کیا گیا ہے اور اس کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔
ترجمہ: اے ایمان والو ۱ اللہ سے ڈرتے رہو جیسا کہ اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا مگر کہ تم مسلمان ہو اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑے رہو اور الگ الگ نہ ہو اور اپنے اوپر اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اُس نے تمھارے دلوں میں الفت ڈال دی اور تم اُس کے فضل سے بھائی بھائی ہوگئے ۔ تم آگ کے ایک گڑھے کے کنارے پر تھے تو اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا ۔ اس طرح اللہ تمھارے لیے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت پا۔
اگر مسلمانوں میں اختلافات پیدا ہو جائیں اور اُن کے باہمی تعلقات بگڑ جائیں تو قرآن حکیم اُن کو صلح کرنے کا حکم دیتا ہے تاکہ اُن پر اللہ کی رحمت ہو ۔ ارشاد ہوتا ہے :
ترجمہ: بے شک مومنین ایک دوسرے کے بھائی ہیں پس اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
اسلامی اخوت کی بنیاد پر مسلمانوں کی عالمی برادری قائم ہوتی ہے ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمدا نے اسلامی اخوت کی تفصیلات اور اس کے تقاضوں کو بکثرت بیان فرمایا ہے :
حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ا نے فرمایا: ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کی جان ، مال اور عزت حرام ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ اورحضرت ابو ہریرہ ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے ۔ وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، اُس کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور اُس کی تذلیل نہیں کرتا ، ایک آدمی کے لیے یہی بہت ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی تحقیر کرے ۔
اہلِ اسلام ایک دوسرے کا سہارا ہوتے ہیں اُن کا اتحاد ناقابلِ شکست ہے ۔
رسول اللہا نے ارشاد فرمایا کہ مومن ایک دوسرے کے لیے ایک دیوار کی اینٹوں کی طرح ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے سے تقویت پاتے ہیں۔
مومنین کے درمیان بھائی چارے کا تعلق اسلامی سماج کے استحکام کی ضمانت ہے ۔ صحیح اسلامی معاشرہ مہذب معاشرہ ہوتا ہے جس میں تمام افراد ایک دوسرے کا احترام اور ایک دوسرے کے جذبات و احساسات کا لحاظ کرتے ہیں ۔ ایک دوسرے کے خیر خواہ ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے بارے میں حسن ظن رکھتے ہیں اور کسی کی غیبت نہیں کرتے ۔ قرآن حکیم میں ارشاد ہوتا ہے :
ترجمہ: اے ایمان والو ! کوئی قوم کسی قوم سے ٹھٹھا نہ کرے ۔ شاید وہ لوگ اُن سے بہتر ہوں۔ اور نہ عورتیں دوسری عورتوں سے شاید وہ اُن سے اچھی ہوں اور ایک دوسرے کو عیب نہ لگاو اور نہ ایک دوسرے کا بُرا نام ڈالو۔ ایمان لانے کے بعد بُرا نام ڈالنا گناہ ہے اور جو توبہ نہ کرے تو یہی لوگ ظالم ہیں ۔ اے ایمان والو! بہت زیادہ گمان کرنے سے بچتے رہو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور کسی کا بھید مت ٹٹولو اور کسی کو پیٹھ پیچھے بُرا مت کہو۔ کیا تم میں سے کسی کو یہ اچھا لگتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے اس سے تو تم کو ضرور نفرت ہوگی۔ پس اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے ۔ اے لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھارے کنبے اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کی پہچان کرو اور اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے ۔ بے شک اللہ سب کچھ جاننے والا اور خبردار ہے ۔
قرآن نے وحدت انسانیت اور احترامِ آدمیت پر مبنی جس سماجی دستور العمل کی طرف رہنمائی کی ہے وہ آفاقی نوعیت کا ہے۔ یہ نہ صرف مسلم معاشرے کے لیے اہم ہے بلکہ تمام انسانی معاشروں کے لیے مشعلِ راہ ہے ۔ جس معاشرے میں یہ اوصاف پیدا ہوجائیں وہ معاشرہ مثالی بن جاتا ہے ۔ اس سماجی منشور کا یہ تقاضا ہے کہ کوئی قوم دوسری قوم کے تمدن کو نشانہ استہزا نہ بنائے کیونکہ اس طرح باہمی نفرت پیدا ہوتی ہے جو محاذ آرائی کو جنم دیتی ہے ۔ اس سے دوسروں کی تحقیر کا پہلو بھی نکلتا ہے ۔ اسلام نے اختلاف ِتمدن کو حقیقت کے طور پر تسلیم کیا ہے ۔ یہ قرآنی نص اِس طرف اشارہ کرتی ہے کہ اسلام کھُلا دین ہے اس میں مختلف تمدن سما سکتے ہیں ۔ ہر خطے، ہر ملک اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے مسلمان اپنے اپنے کھانے پینے اور رہنے سہنے کے طریقے ، لباس کے انداز ، غم کے مواقع پر رسوم اور خوشی کی تقریبات کے مختلف انداز کو قائم رکھ سکتے ہیں بشرطیکہ وہ روحِ اسلام کے منافی نہ ہوں۔
اسلامی سماج کے تصورِ مساوات نے عالمی تاریخ پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں ۔ اسلام نے سماجی اونچ نیچ اور ذات پات کے جاہلانہ تصورات کا خاتمہ کر دیا جبکہ اُس دور میں دنیا کی تمام اقوام میں رنگ و نسل کے امتیازات موجود تھے ، زر و سیم معیارِ عزت تھے ، رنگ و نسل کا تفاخر موجود تھا، کئی علاقوں اور کئی اقوام میں غلاموں اور کنیزوں کا رواج تھا ۔ اسلام نے غلاموں اور کنیزوں کو آزاد کرنے کی ترغیب دی جبکہ اُس دور میں کئی تمدنوں میں اس ادارے کو ختم کرنے کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔ یونانیوں نے اس ادارے کے قیام کو عین انصاف قرار دیا اور اس کو برقرار رکھنا قانوناً لازم قرار دیا تھا ۔ ہندو تہذیب میں ذات پات کی تقسیم کو فطری تقسیم قرار دیا گیا تھا اور شودروں کے لیے الگ قوانین اور الگ سماجی معیار تھے۔ اسلام نے اس کے برعکس انسانی مساوات کا تصور دیا اور غلامی کے ادارے کی حوصلہ شکنی کی اور غلام آزاد کرنے کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ۔ دوسری طرف تاریخِ عالم پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اور امریکہ میں سترھویں صدی اور اٹھارویں صدی تک غلاموں کی خریدو فروخت اور اُن کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھنے کا عام دستور تھا۔ اسلام نے اگرچہ یک قلم اس ادارے کو ختم نہیں کیا تھا لیکن آہستہ آہستہ اسلامی معاشرہ اس کے خاتمے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ مسلم سماج میںغلامی کے ادارے کی موجودگی کے دور میں بھی غلاموں کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھنے کا حکم تھا۔ اولاً : غلاموںکو آزاد کرنے کی ترغیب دی گئی۔ اگر غلاموں کو آزاد نہ کیا جائے تو اس صورت میں واشگاف طور پر ارشاد کیا گیا کہ جو کچھ تم خود کھاتے اور پہنتے ہو اپنے غلاموں کو بھی وہی کھلاو اور پہناو ۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو اسلامی معاشرے میں غلاموں کو جو مقام و مرتبہ حاصل تھا وہ کسی طرح بھی عام مسلمانوں سے کم نہ تھا ۔ وہ محافل میں عام مسلمانوں کے ساتھ جگہ پاتے تھے ، نماز کی صفوں میں آزاد مسلمانوں کے برابر کھڑے ہوتے تھے ، کھانے پینے کی تقریبات میں کوئی امتیاز نہیں برتا جاتا تھا ۔ خلیفہ وقت حضرت عمر ؓ ، بلال حبشیؓ کو ”یا سیّدی“ کہہ کر پکارتے تھے ۔ محفلِ رسول کریم امیں سلمان فارسیؓ ، زید بن ثابت ؓ اور مصعب ؓبن عمیرکو کسی دوسرے صحابی سے کم مرتبہ حاصل نہ تھا۔ تمام مومنین سماجی لحاظ سے برابر تھے ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ کئی غلام ، مسلم سوسائٹی میں اہم مناصب پر فائز رہے ہیں ۔ اُن کی آراءکو قدر و منزلت سے دیکھا جاتا تھا ۔ کوئی شخص اُن کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک نہیں کر سکتا تھا ۔ کوئی شخص اور کوئی قبیلہ امتیازی سلوک روا نہیں رکھ سکتا تھا ۔ مسلمانوں کی تاریخ میں کئی با صلاحیت غلاموں نے یہاں تک ترقی کی کہ وہ منصب سلطانی پر فائز ہوئے ۔ اس سلسلے میں مصر کے مملوکوں اور ہندوستان کے سلاطین کی مثالیں موجود ہیں ۔
عہد رسالت اور خلفائے راشدین کے عہد میں اسلامی معاشرہ کامل سماجی مساوات کا نمونہ تھا اور اُصول مساوات کے نفاذ میں کسی قسم کا تسامح برداشت نہیں کیا جاتا تھا ۔ اس سلسلے میں جاہلیت کا اگر کوئی اثر اُبھرتا ہوا محسوس ہوتا تو اُس کو سختی سے کچل دیا جاتا ۔ دورِ فاروقیؓ کا ایک واقعہ اس سماجی حالت کی عکاسی کرتا ہے جس کو ایک غیر مسلم اسکالر نے بھی نقل کیا ہے :
”ایامِ حج میں غسان کا شہزادہ جبالہ جب طواف کعبہ کررہا تھا تو اُس کے چغہ کا نچلا حصّہ ایک بدوی کے پاوں کے نیچے آگیا۔ جبالہ نے اُس بدوی کے چہرے پر ایک مُکا رسید کیا۔ بدوی نے خلیفہ وقت حضرت عمرؓ سے شکایت کی ۔ اُنھوں نے جبالہ کو طلب کیا اور حکم دیا کہ وہ بدوی کو اپنے چہرے پر مُکا رسید کرنے دے ۔ جبالہ اس پر حیرت زدہ ہوگیا اور کہنے لگا : ”یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ جبکہ میں شہزادہ ہوں اور وہ ایک عام آدمی ہے۔“ حضرت عمرؓ نے کہا : ”کہ اسلام نے تم دونوں کو برابر کر دیا ہے اور تمھیں اس پر کوئی برتری حاصل نہیں ہوسکتی۔ سوائے تقویٰ اور اچھے اعمال کے ۔ جبالہ نے کہا کہ میں نے سوچا تھا کہ اسلام نے میرا مقام اور درجہ دورِ جاہلیت کے میرے مرتبے سے بھی بڑھا دیا ہوگا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایاکہ تم اس خیال موہوم سے چھٹکارا حاصل کرو۔
اسلامی معاشرے میں سماجی طبقات (The grades of society) کا کوئی تصور نہیں ہے اس لیے اوائل اسلام میں تمام مسلمان بلا تفریق و امتیاز اکٹھے زندگی بسر کرتے تھے ۔ نہ صرف مسجدوں میں بلکہ بازاروں اور سماجی محفلوں میں بھی وہ بھائیوں کی طرح ایک دوسرے سے برابری کی بنیاد پر ملتے تھے ، بے تکلفانہ گفتگو کرتے تھے ، مل کر کھانا کھاتے تھے اور اولی الامر اور عام لوگ ایک دوسرے سے برابری کی بنیاد پر تبادلہ خیال کرتے تھے ۔
اسلام کے سماجی تصورات میں مرد و زن کا مساوی مقام ہے اور ان کے برابر حقوق ہیں ۔ مرد اور عورت دونوں کے لیے فضیلت کا معیار اُن کے عمل کو قرار دیا گیا ہے ۔ جاہلیت کی شاعری میں ایسے اشعار ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ اہلِ عرب میں سے کچھ لوگ اپنی بیٹیوں کو اس لیے زندہ درگور کر دیتے تھے کہ وہ کہیں جنگ میں دشمنوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں ۔ مزید برآں قرآن اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ کچھ لوگ بھوک اور فاقے کے ڈر کی وجہ سے بھی لڑکیوں کو زندہ در گور کر دیتے تھے ۔ بہرحال عربی معاشرے میں لڑکی کے پیدا ہونے پر کوئی خوشی نہیں منائی جاتی تھی بلکہ خفت محسوس کی جاتی تھی ۔ قرآن حکیم اُن کی جذباتی کیفیت کو اس طرح بیان کرتا ہے:
اور جب اُن میں سے کسی کو بیٹی کی خبر ملتی تو اُس کا منہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غم ناک ہو جاتا ہے اور وہ اس خبر کی برائی کے مارے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے کہ آیا ذلت قبول کرکے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا اُسے مٹی میں گاڑ دے ۔ دیکھو جو فیصلہ یہ کرتے ہیں بہت بُرا ہے۔
اسلام نے لڑکیوں کو زندہ در گور کرنے کی برائی کو ختم کیا ۔ قرآن نے تنبیہ کی کہ:
اور جب اُس لڑکی سے جو زندہ دفن کر دی گئی تھی پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی ۔
اسلام نے اِس شرمناک برائی کو ختم کیا اور لڑکی کو گھر کے لیے باعثِ رحمت قرار دیا ۔ لڑکے اور لڑکی میں بحیثیتِ انسان کوئی فرق اور امتیاز روا نہیں رکھا ۔ اسلام نے نہ صرف عورت کو بحیثیت بیٹی ، ماں اور بیوی عزت و تعظیم دی ہے بلکہ بحیثیت انسان بھی اُس کی عزت و توقیر کرنے کی تلقین کی ہے ۔ اسلام نے شادی کے لیے مرد اور عورت دونوں کی رضا مندی کو لازمی قرار دیا ہے ۔ حضرت محمدا فرمایا کرتے تھے کہ نکاح سے پہلے فریقین کو چاہیے کہ ایک دوسرے کو دیکھ لیں اور ایک دوسرے کو اپنی پسند و رضا کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ شادی کے سلسلے میں فریقین کی باہمی رضا مندی اُس دور میں آزادی رائے ، احترامِ انسانیت اور روشن خیالی کی طرف ایک اہم قدم تھا ۔
اسلام مرد اور عورت کے دائرہ ہائے کار کے لیے کسی خاص تقسیم کا پابند نہیں کرتا ۔ اسلام اس سلسلے میں رائج سماجی رواج کو برقرار رکھتا ہے ۔ اِس بارے میں نہ کوئی قرآنی نص یا اشارة النص ہے اور نہ ہی کوئی حدیث ہے جس کی رو سے عورت پر یہ لازم ہو کہ وہ امور خانہ داری کو سر انجام دے اور مرد گھر سے باہر کے شعبوں میں کام کرے ۔ وقت اور سماج کی ضروریات اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ کن شعبوں میں مرد کو کام کرنا چاہیے اور کن شعبوں میں عورت کو کام کرنا چاہیے ۔ سوسائٹی میں دونوں کے کام کی تقسیم کے بارے میں کوئی اسلامی قدغن نہیں ہے ۔ ماضی میں عورت زیادہ تر گھریلو کام ، امور خانہ داری سرانجام دیتی تھی ، مرد کھیتوں اور منڈیوں میں کام کرتا تھا لیکن دورِ حاضر میں عورت بھی مرد کے دوش بدوش گھر کی چار دیواری سے باہر کئی اہم فرائض سرانجام دیتی ہے ۔ اسلامی نقطہ نظر سے کسی پیشے سے منسلک ہونے اور گھر سے باہر کوئی بھی اہم ذمہ داری سرانجام دینے میں عورت آزاد ہے ۔
معاشی شعبے میں اسلام نے کسب حلال اور انفاق فی سبیل اللہ کے اُصولوں پر عمل کرنا لازم قرار دیا ہے ۔ ان دو اُصولوں کی وجہ سے ایک ایسا معاشی سماج معرض وجود میں آتا ہے جہاں افراد کے معیارِ زندگی میں زیادہ تفاوت نہیں ہوتا ۔ منصفانہ معاشی نظا م کی وجہ سے معاشرے میں امیر ترین اور غریب ترین طبقات پیدا نہیں ہوتے بلکہ درمیانہ طبقے کی اکثریت ہوتی ہے اور ایسا سماج معرض وجود میں آتا ہے جہاں افراد ایک دوسرے کی معاشی ضروریات کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ مندرجہ ذیل قرآنی آیت کی جیتی جاگتی تفسیر بن جاتے ہیں:
لوگ آپ(رسول اللہ ) سے پوچھتے ہیں کہ وہ کیا خرچ کریں ۔اُن سے کہہ دیجیے کہ جو بھی ضرورت سے زائد ہو (اُسے خرچ کرو)
اسلام اپنے پیروکاروں سے کہتا ہے کہ وہ شخص مومن نہیں ہوسکتا جو خود پیٹ بھر کر کھا لے اور اُس کا پڑوسی بھوکا رہے ، قرآن حکیم مومنین کی یہ شان بیان کرتا ہے :
……. اور وہ دوسروں کے لیے ایثار کرتے ہیں چاہے اُ ن کو خود فاقہ ہی کرنا پڑے……..
عہد رسالت کا مسلم سماج مثالی تھا وہ سماج کھانے پینے ، لباس اور طرزِ معاشرت میں ایک سادہ عربی معاشرے کے مشابہ تھا لیکن اسلام کے ارکان (توحید و رسالت ، نماز ، روزہ ، زکوٰة اور حج) اور سماجی مساوات ، معاشی انصاف اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی وجہ سے اس معاشرے کا ایک الگ تشخص تھا۔ یہ بڑا مستحکم ، مطمئن اور پُر امن معاشرہ تھا ۔ اس کے افراد خوف و غم سے آزاد تھے ۔ اُن میں باہمی محبت و رواداری بدرجہ اتم موجود تھی ۔ اُن میں اعلیٰ درجے کا ڈسپلن اور جماعتی وفاداری تھی ۔ وہ اپنے معاملات ، باہمی مشاورت، افہام و تفہیم اور مفاہمت سے طے کرتے تھے ۔ اگرچہ معاشرہ معاشی لحاظ سے اتنا خوشحال نہیں تھا لیکن معاشرے کے افراد میں باہمی تعاون اور ایک دوسرے کے لیے ایثار کے جذبات موجزن تھے ۔ معاشرے کے تمام افراد ایک دوسرے سے منسلک تھے۔ وہ سماجی بقا اور استحکام کے لیے مستعد رہتے تھے ۔ اُن میں زندگی کی امنگیں اور آرزوئیں مچل رہی تھی اور وہ آگے بڑھنے کے جذبے سے سرشار تھے۔ اسلامی مقاصد کے لیے معاشرے کے افراد اتحاد و عمل ، تنظیم اور مشارکت کے احساسات اور عمل سے سرشار تھے ۔ کوئی شخص بھی محض اپنی ذات کے لیے زندگی بسر نہیں کرتا تھا ۔ افراد میں باہمی مفاہمت اور یگانگت و ہم آہنگی پائی جاتی تھی ۔ ابتدائی اسلامی معاشرے میں کئی معاشی مسائل تھے لیکن وہ سب کے مشترکہ مسائل تھے ۔ اُس معاشرے میں معاشی ناہمواری نہیں تھی ۔ لوگوں کا مجموعی لحاظ سے معاشی زندگی کا معیار پست تھا لیکن وہ معاشرہ عمرانی نقطہ نظر سے ایک مستحکم اور مثالی معاشرہ تھا ۔ غربت معاشی مسئلہ ہے جبکہ معاشی ناہمواری عمرانی مسئلہ ہے ۔ عمرانیات ، انسان اور انسان کے درمیان مفاہمت اور انسان کی معاشرے سے مطابقت کے موضوع سے بحث کرتی ہے ۔ تاریخ کا بنظرِ غائر مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کئی ایسے معاشرے گزرے ہیں جہاں اگرچہ افلاس تھا لیکن اُن معاشروں کے لوگوں میں باہمی محبت و ارتباط ، ایثار و رواداری اور سماجی قواعد و قوانین پر عمل درآمد کی خصوصیات موجود تھیں۔ معاشی ناہمواری عمرانی مسائل میں سے ایک اہم ترین مسئلہ ہے ۔ معاشی ناہمواری والے سماج میں احساس محرومی ، حسد و منافرت اور کئی اخلاقی خرابیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ جس معاشرے میں عمرانی مسائل پر توجہ نہ دی جائے وہ معاشرہ کمزور ، کھوکھلا اور مضمحل ہو جاتا ہے اور آخرکار اپنے اندر اسباب تحلیل پیدا کر لیتا ہے ۔
اسلامی معاشرے کو سب سے پہلا عمرانی مسئلہ اُس وقت درپیش ہوا جب جناب رسالت مآب حضرت محمدا کے وصال کے بعد کچھ مسلم قبائل نے ادائیگی زکوٰة سے انکار کر دیا اور تین افراد نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا تھا ۔ اسلامی معاشرے کے تشخص اور اتحاد کے لیے یہ دو بڑے خطرے تھے ۔ اسلام جس سرعت سے پھیلا تھا اور مسلمانوں کی حکومت کی حدود جس تیزی سے عہدِ رسالت میں ہی وسیع ہو گئی تھیں ، تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ نبی کریم ا کے بعد ان دو خطرات سے بچاو کے لیے اگر مسلم معاشرے کو دانش مندی اور عزم صمیم سے نہ سنبھالا جاتا تو اندیشہ تھا کہ دورِ جاہلیت واپس آجاتا لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم اکابرین کی حکمت و ہمت اور مسلم معاشرے کی اندرونی پختگی کی وجہ سے ان خطروں پر قابو پا لیا گیا اور توحید و رسالت اور ارکانِ اسلام کی اساس پر نہ صرف مسلم معاشرہ محفوظ و مستحکم رہا بلکہ اس کے پھیلا میں مزید اضافہ ہوتا گیا ۔ حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور اکابرین اسلام کے اقدامات سے امتِ مسلمہ کا تشخص محفوظ ہوگیا اور یہ امر مسلمہ ہوگیا کہ مسلم سماج میں دراڑیں پیدا نہیں کی جا سکتیں۔ افراد اُمت کے اتحاد ، تنظیم اور مضبوط و توانا قیادت کی بدولت مسلم فتوحات میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ قیصرو کسریٰ کی پرانی اور با اثر تہذیبیں بھی مسلم سماج کے زیرِ اثر آگئیں ۔ ایران اور شام کے معاشروں میں اسلام کا پھیل جانا تاریخ کا حیرت ناک اور عظیم واقعہ ہے ۔ ان دو عظیم سلطنتوں کے گرجانے سے ان علاقوں کے لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوگئے اور یوں تکثیری مسلم سماج معرضِ وجود میں آیا ۔ ان لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے کے مختلف اسباب تھے ۔ کچھ لوگ تو نیک نیتی اور سچائی کے ساتھ اسلام میں داخل ہوئے تھے کیونکہ اسلامی عقائد کی سادگی اور مسلمانوں کے کردار کی پختگی اُن کے دلوں کو اپیل کرتی تھی۔ کچھ لوگ محض جزیہ سے بچنے کے لیے اسلام لے آئے تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ جو لوگ اپنے پرانے مذہب پر قائم رہیں گے اُن پر جزیہ لگا دیا جائے گا ۔ جزیہ سے بچنے کی خاطر جو لوگ مسلمان ہو رہے تھے اُن کی ہولناک کثرت نے بعض گورنروں کو تشویش میں ڈال دیا تھا ۔ چنانچہ حجاج بن یوسف کے عاملوں نے اُسے لکھا:
خراج کا نظام ٹوٹ گیا ہے ۔ ذمی لوگ مسلمان ہوتے جا رہے ہیں اور شہروں میں بستے جا رہے ہیں ۔ اس پر حجاج نے ایسے لوگوں سے مسلمان ہو جانے کے باوجود جزیہ وصول کیا ۔ اس (زیادتی) کو دیکھ کر بصرہ کے قاری صاحبان روتے تھے۔
یہ تاریخی حقیقت ہے کہ مفتوح اقوام میں سے اکثر لوگ اسلام میں داخل ہوگئے تھے ۔ مفتوح اقوام علمی لٹریچر میں باثروت تھیں۔ اُن کے پاس علوم مدون شکل میں موجود تھے ۔ یہ قومیں مدنیت اور حضارت کے لحاظ سے زیادہ ترقی یافتہ تھیں ۔ عرب مسلمان فاتح ہونے کی حیثیت سے غالب عنصر کی حیثیت رکھتے تھے لیکن عرب مسلمانوں اور غیر عرب مسلمانوں کے اختلاط سے تکثیری مسلم معاشرے کی تشکیل ہو رہی تھی ۔
چنانچہ ایرانی اور رومی محاورات کا عربی محاورات کے ساتھ امتزاج ہوا ۔ ایرانی اور رومی قانون کا اُن احکام کے ساتھ امتزاج ہوا جوقرآ ن و سنت نے بیان کیے تھے ۔ حکمتِ فارس اور فلسفہ روم کا عربی حکمت کے ساتھ امتزاج ہوا ۔ ایرانی اور رومی اطرازِ حکومت کاعربی اُسلوب حکومت سے امتزاج ہوا ۔ مختصر یہ کہ زندگی اور نظم سیاسی و اجتماعی کے تمام گوشے حتّٰی کہ طبائع عقلیہ بھی اِس امتزاج سے بہت متاثر ہوئیں۔
عرب مسلمانوں کا ایک سادہ سماج تھا جو معاشی لحاظ سے زیادہ خوش حال نہیں تھا ۔ وہ آزاد منش لوگ صحراوں اور نخلستانوں میں کئی صدیوں سے زندگی گزار رہے تھے ۔ موسمی اور جغرافیائی حالات نے اُن کو زرعی پیداوار کی فراوانی اور زندگی کی آسانیوں سے دور رکھا تھا ۔ جب عراق و ایران اور شام کے سر سبز و شاداب علاقے اُن کے قبضے میں آگئے تو دولت و ثروت کے دفعتاً حصول نے کئی عمرانی مسائل پیدا کر دیے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب بیت المال کے خزانے میں بے پناہ اضافہ ہو رہا تھا تو حضرت عمرؓ رو رہے تھے ۔ وہ عربوں کی نفسیات اور اُن کی طبائع سے خوب واقف تھے ۔ وہ سمجھ رہے تھے کہ جن عربوں نے کھجوریں کھا کر ، ستّو پی کر اور گوشت کے چند ٹکڑے کھا کر زندگیاں بسر کی ہیں ۔ وہ دولت کی ریل پیل دیکھ کر ڈگمگا سکتے ہیں۔ آرام دہ زندگی کی سہولیات میسر ہونے سے بتدریج اُن کی سخت کوشی اُن سے رخصت ہوجائے گی اور عیش و عشرت کی زندگی اختیار کرنے سے اُن کی حمیت و شجاعت بھی مردہ پڑ جا ئے گی ۔ ابو حنیفہ دینوری نے الاخبار الطوال میں لکھا ہے کہ
جنگ جلولاءمیں مسلمانوں کو اتنا مالِ غنیمت اور اسیرانِ جنگ ہاتھ آئے کہ اِس سے پہلے کبھی ہاتھ نہیں آئے تھے ۔ اس جنگ میں شرفائے ایران کی بھی بہت سی لڑکیاں گرفتار ہوکر آئی تھیں۔ لوگوں نے بیان کیا کہ حضرت عمرؓ کہا کرتے تھے کہ خدایا میں اسیرانِ جلولاء(عورتوں) کی اولاد سے پناہ مانگتا ہوں۔
حضرت عمر ؓ نے اپنے عہدِ حکومت میں سخت معاشی پالیسی اختیار کی ۔ مفتوحہ علاقوں کی زرعی زمین اُن کے اصل مالکوں کے پاس برقرار رکھنے کا قانون بنایا اور اکابر صحابہ کرام کو مکہ و مدینہ اور دیارِ عرب تک محدود رکھا۔ لیکن حضرت عثمانؓ کے عہد میں وہ عراق ، ایران اور شام کے علاقوں میں سکونت پذیر ہوگئے۔ اُن کے اردگرد لوگوں کا ہجوم ہو نے لگا ۔ وہ عوام کی عقیدتوں کا مرکز بن گئے اور اُن کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ حکومت کے لیے مسائل کا سبب بن گیا ۔ ان اکابر کو بڑے بڑے قطعات زمین عطا کرنے سے مسلم سماج میں جاگیرداری نظام کا آغاز ہوا ۔ اِس نظام نے مسلم سماج پر گہرے اور دور رس اثرات ڈالے۔ دوسری طرف مدینہ کے دار الخلافہ ہونے کی وجہ سے ضرورت مند لوگ اِس شہر میں آتے رہتے تھے اور اُن میں سے کئی وہاں مستقل طور پر آباد بھی ہو جاتے تھے ۔ حضرت عمرؓ کی یہ بھی ہدایت تھی کہ مالِ غنیمت اور اسیرانِ جنگ کو مدینہ میں ہی لایا جائے ۔ چنانچہ مدینہ منورہ اور اُس کے آس پاس کے علاقوں میں کافی تعداد میں غیر عربی مسلمان مستقل طور پر آبادہوگئے تھے ۔ یہ لوگ سماجی اور معاشی لحاظ سے اپنے آپ کو عرب مسلمانوں سے کمتر محسوس کرتے تھے۔ انتقالِ آبادی کی وجہ سے مدینہ کے معاشرے میں بھی کئی عمرانی مسائل پیدا ہو رہے تھے ۔ اسلامی سلطنت کے وسیع و عریض اقالیم میں عربی اور غیر عربی مسلمانوں کی روایات و رجحانات اور آرزووں کا اختلاف فطری امر تھا۔ حضرت عثمانؓ کے عہدِ خلافت میں عرب اشراف کے سیاسی غلبے نے اس اختلاف کو نمایاں کر دیا اور غیر عرب مسلمانوں میں احساس محرومی پیدا کر دیا۔ امتِ مسلمہ میں سماجی اختلافات نے حریفانہ کشمکش کی صورت اختیار کر لی۔ خلیفہ وقت نے فوری تدابیر اختیار کرنے اور عملی اقدامات اُٹھانے سے گریز کیا ۔ حالات تیزی سے بگڑتے چلے گئے ۔ مدینہ منورہ بھی اب امن کا گہوارہ نہ رہا تھا اور خلیفہ وقت حضرت عثمان غنیؓ کو اُن کے گھر میں شہید کر دیا گیا۔ اُمت مسلمہ کی ہیئت اجتماعیہ کے لیے یہ بڑا سنگین مسئلہ تھا ۔ اس کے نتیجہ میں جنگ جمل اور جنگ صفین میں دونوں طرف لڑنے والے مسلمان تھے جو اکابر صحابہ کی زیرِ کمان لڑ رہے تھے ، ان جنگوں کی وجہ سے امت مسلمہ کے اتحاد کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا امت میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر گروہ بندی ہوگئی ۔ شیعانِ علیؓ اور شیعان معاویہؓ کی دو سیاسی جمعیتیں معرض وجود میں آگئیں لیکن شروع میں اُن دونوں میں دینی اختلافات نہیں تھے ۔ اسلام کے بنیادی عقائد اور ارکان کے بارے میں تمام مسلمان متفق تھے اِسی لیے بحیثیت مجموعی امت کا شیرازہ نہیں بکھرا تھا ۔
مسلم تاریخ میں خلافت کا ملوکیت میں بدل جانا نہ صرف سیاسی بلکہ ثقافتی لحاظ سے بھی بہت بڑا واقعہ ہے ۔ حضرت عمرؓ نے پیش گوئی کی تھی کہ اگر حضرت عثمان ؓ کو خلیفة المسلمین بنا دیا گیا تو لوگوں کی گردنوں پر آل ابی معیط (بنو امیہ) مسلط ہوجائے گی ۔ خلافت عثمانؓ کے عہد میں اصحاب بنو اُمیّہ کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا تھا ۔ وہ حکومتی فیصلوں میں حد سے زیادہ دخیل ہوگئے تھے یہاں تک کہ جب خلافت امیر معاویہؓ کے ہاتھ میں آئی تو اُنھوں نے اس کو ملوکیت میں بدل دیا ۔ اس طرح شخصی حکومت کی تمام خصوصیات پیدا ہوتی چلی گئیں ۔ خلافتِ راشدہ میں عوام کو حکومت پر تنقید کرنے کی پوری آزادی تھی بلکہ کبھی کبھی ایک عام آدمی بر سرِ منبر خلیفہ وقت کو ٹوک دیتا تھا۔ حکومت کے اہلکاروں میں سادگی اور شفافیت تھی ۔ قرآن و سنت کے احکامات عملی زندگیوں میں نافذ تھے ۔ حکمران طبقہ کے کردار کے اثرات مسلم سماج میں دیکھے جا سکتے تھے ۔ عہدِ شیخین کے بارے میں احمد امین لکھتے ہیں :
بہت سے لوگ ایسے بھی نظر آتے ہیں جنھیں اسلام نے ایک بالکل ہی نئے رنگ میں رنگ دیا تھی حتّٰی کہ اُن کی جاہلی زندگی اور اسلامی زندگی کے درمیان رشتہ گم ہوگیا تھا ۔ مثال کے طور پر حضرت ابوبکرؓ ، حضرت عمرؓ اور بہت سے صحابہ کی سیرت کو دیکھتے جاو ……….. اُن کی زندگیوں میں ورع، زہد ، تواضع ، اوامر و نواہی کا شدید التزام ہی تمھیں نظر آئے گا ۔ اُن کی زندگی کا کوئی شعبہ بھی تمھیں ایسا نظر نہیں آسکے گا جس کے متعلق یہ کہا جا سکے کہ اِس کا ماخذ اسلام کے بجائے جاہلیت تھا ۔ ان کے خطبوں ، خطوط اور ان کی باتوں میں ہر جگہ اسلام کے اثرات بہت ہی نمایاں نظر آتے تھے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ لوگ اسلام میں از سرِ نو پیدا ہوئے تھے اور پچھلی زندگی سے ان کا کوئی تعلق ہی نہیں تھا۔
جب خلافت ، ملوکیت میں بدل گئی تو اُس میں شخصی حکومت کی تمام خرابیاں داخل ہوگئیں ۔ چند مستثنیات کے علاوہ خلفا بنو اُمیہ کا شخصی کردار بھی قابلِ ستائش نہ تھا ۔ وہ عیش و طرب کے دلدادہ تھے ۔ وہ اپنے مخالفین کا کچل دینے کے قائل تھے ۔ عوام الناس میں خوف و ہراس پایا جاتا تھا ۔ اُنھوں نے عرب عصبیت کی خوب پرورش کی اور حدود سلطنت میں بھی بہت توسیع کی۔ اُس دور کے معاشرے میں جاہلی رجحانات و نفسیات اور اسلامی رجحانات پہلو بہ پہلو چل رہے تھے۔
واقعہ کربلا کے سیاسی سے زیادہ علمی و فکری اور سماجی سطح پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوئے ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام اور اُن کے ساتھیوں کی شہادت نے مسلم سماج میں اسلام کو نئی توانا زندگی عطا کر دی ۔ وہ سچائی ، عزیمت اور اسلام کی سچی روایت کے پاسبان کی حیثیت سے ہمیشہ زندہ رہیں گے ۔ واقعہ کربلا نے آزادی و حریت اور احترامِ آدمیت کی ہر تحریک کو ہر دور میں ولولہ تازہ اور نئی حرارت بخشی ہے ۔علامہ اقبال کہا کرتے تھے کہ وہ واقعہ کربلا پر ایک طویل نظم لکھیں گے لیکن افسوس کہ وہ اپنے اس ارادے کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔
جس فرقے نے سب سے پہلے دین میں واضح اختلاف کی راہ اختیار کی اور اُمت کی مقتدرہ کے خلاف خروج کیا وہ خوارج کا فرقہ تھا ۔ اس فرقے نے پہلی بار اُمت مسلمہ کی علمی و فکری ہیئت اجتماعیہ میں رخنہ ڈالا ۔ ابتدا میں یہ وہ لوگ تھے جو حضرت علیؓ کے لشکر میں شامل تھے لیکن جب حضرت علی علیہ السلام نے تحکیم قبول کی تو وہ اُن کی فوج سے الگ ہوگئے۔ اُن کا موقف یہ تھا کہ حضرت علیؓ برسرِ حق تھے اور وہ امیر معاویہؓ کے خلاف اعلا کلمة اللہ کے لیے لڑ رہے تھے اس لیے اُن کو تحکیم کی تجویز قبول نہیں کرنی چاہیے تھی ۔ تحکیم کا جواز اُس وقت پیدا ہوتا جب حضرت علیؓ کو اپنے بر سرِ حق ہونے میں شک ہوتا۔ چنانچہ یہ اصحاب حضرت علیؓ کا ساتھ چھوڑ گئے بلکہ اُنھوں نے حضرت علیؓ کے خلاف بھی خروج کیا ۔ بعد میں یہ طائفہ اموی اور عباسی ادوار میں مقتدرہ وقت کے خلاف مسلسل بر سرِ پیکار رہا ۔ اس طائفے نے اکابر امت کو کافر کہنا شروع کیا ۔ خوارج کا کہنا تھا کہ :
”عمل، اوامر دین میں سے ہے ۔ نماز ، روزہ ، صدق و عدل ایمان کا حصہ ہے ۔ ایمان صرف اعتقاد کا نام نہیں ہے پس جس نے یہ عقیدہ رکھاکہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ا اللہ کے رسول ہیں اُس کے بعد اُس نے دین کے فرائض پر عمل نہ کیا اور کبائر کا مرتکب ہوا پس وہ کافر ہے۔
خوارج کی طبیعت میں بدویت غالب تھی ۔ وہ پہلا طائفہ ہے جو دین میں انتہا پسند اور عبادت میں متشدد تھا ۔ یہ لوگ بڑی جوانمردی سے لڑتے تھے ۔ ان کی عورتیں بھی جنگ میں حصہ لیتی تھیں ۔ مورخین نے کئی عورتوں کا ذکر کیا ہے جنھوں نے جنگ میں مردوں کے چھکے چھڑا دیے تھے۔ ابو الفرج نے آغانیمیں روایت کیا ہے :
خوارج میں ایک عورت ام حکیم نامی تھی ۔ یہ عورت نہایت بہادر لوگوں میں سے تھی اور بڑی وجیہہ اور جمیل تھی اور دین داری میں بھی خوب تھی ۔ بہت سے خارجیوں نے اُسے شادی کا پیغام دیا لیکن اُس نے ہر ایک کا پیغام ردّ کر دیا اور جنھوں نے اُسے میدانِ جنگ میں دیکھا ہے وہ بتاتے ہیں کہ وہ حملہ آور ہوتی تھی اور یہ رجز پڑھا کرتی تھی :
احمل رسا قد سئمتُ حملہ
و قد مللت دھنہ و غسلہ
لا فتًی یُحمل عنی ثقلہ
میرا سر ایک ایسا بوجھ ہے جسے اُٹھاتے، میں اُکتا گئی ہوں ۔ میں اِس سر میں تیل لگاتے اور دھوتے دھوتے تھک چکی ہوں۔ کیا کوئی بھی ایسا نوجوان نہیں جو مجھے اِس بوجھ سے نجات دلا سکے۔
خوارج کے برعکس ایک مرجیئہ فرقہ پیدا ہوگیا جو مسلمانوں کی باہمی لڑائی میں عدم مداخلت کی پالیسی پر گامزن تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ کون بر سرِ حق ہے اور کون غلطی پر ہے اِس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ یومِ قیامت کرے گا ۔ ہمیں اللہ کی رحمت سے پُر اُمید ہونا چاہیے ۔ رجا (اُمید)کے اِس عقیدے کی وجہ سے وہ مرجیہ کہلائے ۔ مرجیہ کے نزدیک ”ایمان معرفتِ خدا اور معرفتِ رسول اللہ ا کا نام ہے اور جس نے یہ معرفت حاصل کر لی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ا اللہ کے رسول ہیں ، پس وہ مومن ہے ۔“ اس مکتبِ فکر کے لوگ کسی مسلمان کو کافر کہنے کی حمایت نہیں کرتے چاہے وہ کتنا ہی گناہگار ہو۔ اُن کا خیال ہے کہ گناہ کتنا ہی بڑا ہو اس سے ایمان زائل نہیں ہوتا۔ اُن کا یہ نظریہ ہے کہ کسی مسلمان کا خون نہیں بہانا چاہیے سوائے اپنے دفاع میں اور اگر کچھ اُمور مشتبہ ہو جائیں اور مختلفگروہ ایک دوسرے کو کافر کہیں اِس صورت میں اُن کے معاملات کو اللہ پر چھوڑ دیا جائے جو اُس بارے میں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں ، روزِ حساب فیصلہ کرے گا۔
فکر و فلسفے کی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر سماج اور ہر نسل انسانی میں یہ امر زیرِ بحث رہا ہے کہ انسان مجبور محض ہے یا وہ اپنے اعمال پر قادر ہے ۔ جبر و قدر یا جبر و اختیار کے معاملے میں مسلم اہلِ فکر میں بھی دو باقاعدہ مکاتب فکر بن گئے۔ جو مکتب فکر نظریہ¿ جبر پر یقین رکھتا تھا اِس کا آغاز جہم بن صفوان خراسانی سے ہوا اس لیے اس فرقے کو جہمیہ کہتے ہیں ۔ جہم موالی میں سے تھا اور کوفہ میں رہتا تھا ، فصیح و بلیغ خطیب تھا اس مکتب فکر کا یہ عقیدہ ہے کہ :
انسان مجبور محض ہے اُسے کوئی اختیار حاصل ہے نہ قدرت اور وہ بذات خود کسی کام کے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا اور بے شک اللہ تعالیٰ نے اُس کے اعمال اُس کے لیے مقدر کر دیے ہیں جن کا اُس سے صدور ہوتا رہتا ہے ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے افعال خلق کر دیے ہیں جس طرح اُس نے جمادات کے لیے پیدا کر دیے ہیں ۔ انسان سے افعال اِس طرح صادر ہوتے ہیں جس طرح پانی سے بہنا ، ہوا سے حرکت اور پتھر سے گرنا صادر ہوتا ہے ۔ تمام افعال اللہ تعالیٰ صادر کرتا ہے اور مجازی طور پر اسے انسان سے منسوب کر دیا جاتا ہے ……… اسی طرح ثواب و عقاب بھی مقدر کر دیا گیا ہے ۔
جہمیہ کے برعکس ایک مکتب فکر قدریہ کا تھا جن کا خیال تھا کہ انسان اپنے اعمال میں آزاد ہے ۔ اس لیے وہ مسﺅل ہے اور اُس کے اعمال کے مطابق اُسے جنت یا دوزخ میں بھیجا جائے گا اور یہی عدل کا اقتضا ہے ۔ بعض مورخین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ معتزلہ کے خیالات کافی حد تک قدریہ فرقے سے ملتے جلتے تھے ۔ معتزلہ مکتب فکر کی بنیاد حسن بصری کے دو شاگردوں واصل بن عطا اور عمرو بن عُبید نے ڈالی تھی ۔ اِس تحریک کا آغاز بنی اُمیہ کے دور میں ہوا اور یہ تحریک عباسیوں کے دور میں خوب پھلی پھولی ۔ معتزلہ کا مسئلہ جبر و قدر میں قدریہ کی طرف میلان تھا کیونکہ وہ انسان کو عاقل ہونے کی وجہ سے خود اپنے اعمال کا ذمہ دار سمجھتے تھے۔ دوسری طرف معتزلہ صفاتِ الٰہیہ کی نفی کرتے تھے اور قرآن مجید کو مخلوق کہتے تھے ۔ معتزلہ مکتبِ فکر دراصل ایک عقلی تحریک تھی جس کا بنیادی نکتہ یہ تھا کہ عقل انسانی حسن و قبح کی معرفت پر کلی قدرت رکھتی ہے ۔ حسن و قبح یا اچھائی اور برائی فی نفسہ اچھائی یا برائی ہے ۔ صدق فی نفسہ صدق ہے ۔ اسی طرح کذب فی نفسہ کذب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عُقلاءصدق و عدل کو اچھائی اور جھوٹ و فریب کو برائی کہنے پر متفق ہیں۔ اِس آفاقی اتفاق کی وجہ سے صدق و عدل کو نیکی اور کذب و مکر کو برائی قرار دیا ہے ۔ گویا شریعت کے اوامر و نواہی کی بنیاد بھی عقل سلیم پر ہے ۔ معتزلہ نے خلیفہ المامون عباسی اور خلیفہ المعتصم عباسی کے عہد میں اُمورِ سیاسیہ اور معاشرتی معاملات میں تعقل پسندی (Rationality) کو رواج دیا ۔ اس لیے محدثین نے ان کو اہل الرائے کہہ کر اُن کی شدید مخالفت کی ۔
معتزلہ کا خلقِ قرآن کا نظریہ عرصہ دراز تک اہلِ علم میں موضوع بحث رہا ہے۔ معتزلہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ صفات سے منزہ ہے۔جب خدا سے بولنا ہی منسوب نہیں کیا جا سکتا تو قرآن کلام اللہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ ہاں تاویل کے طور پر قرآن حکیم کو کلام اللہ کہا جا سکتا ہے یعنی وہ خدا کا پیدا کیا ہوا کلام ہے ۔ اُن کے اس نظریے کی اُمتِ مسلمہ کی اکثریت نے تائید نہیں کی ۔ معتزلہ نے یونانی فلسفے سے بھی استفادہ کیا ۔ اُن میں ابو الہذیل العلاف ، نظام اور جاحظ معروف فلسفی گزرے ہیں ۔ یہ بھی کہا ںجاتا ہے کہ معتزلہ نے اسلام میں علم الکلام کی طرح ڈالی اور عقل و خرد کو زندگی کے معاملات میں بہت اہمیت دی ۔ اُن کی فکر ی روش ، معقولیت اور آزاد روی (Liberalism) کی راہیں کھول رہی تھی لیکن اُن کی عقلی تحریک کو خلیفہ المعتصم اور خلیفہ المامون کے جابرانہ انداز (Intrusiveness) سے نقصان پہنچا۔ امام احمد بن حنبل اور دیگر علماءکو نشانہ تضحیک بنایا گیا اور اُن کو جسمانی ایذائیں دی گئیں۔ دوسری طرف ابو الحسن اشعری کی فصاحت و بلاغت نے کام کیا اور اُنھوں نے علم الکلام کے ذریعے معتزلہ کے عقائد و نظریات کی تردید کی اور معتزلہ کی تحریک تقریباً دم توڑ گئی اور مسلمانوں کے فکری حلقوں میں راسخ العقیدگی کی روش زور پکڑتی چلی گئی ۔ اشعری طرزِ فکر کی امام جوینی اور ابن عساکر اور ابو حامد الغزالی کے علم و دانش اور زورِ قلم سے خوب اشاعت ہوئی ۔ مسلمانوں کی فکری تاریخ میں اشاعرہ نے ایک طرف معتزلہ اور دوسری طرف باطنیہ فرقہ کی شدید مخالفت کی اور جمہور مسلمانوں میں اشاعرہ عقائد مروّج ہوگئے ۔
جہمیہ، قدریہ اور معتزلہ تینوں مذاہب مسلمانوں کے دیگر مذاہب مشہورہ میں گھل مل گئے اور وقت کے ساتھ یہ الگ مستقل فرقے نہ رہے تاہم ان جیسے نظریات رکھنے والے اہلِ علم ، مسلمانوں کے ہر دور میں موجود رہے کیونکہ مسئلہ جبر و قدر اور اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ۔ قرآن حکیم میں ایسی آیات بھی ملتی ہیں جو عقیدہ جبر کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور ایسی بھی آیات ہیں جو انسان کو با اختیار اور اپنے اعمال کا ذمہ دار ٹھہراتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے مختلف فقہی مکاتب فکر اور مذاہب معروفہ میں ان مسائل سے متعلق ملے جلے خیالات رکھنے والے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں ۔
یونانی فلسفہ اور منطق سے کئی مسلم علماءو صوفیہ متاثر ہوئے۔ عہدِ قدیم میں یونانی فلسفے کو بالخصوص افلاطونیت جدیدہ کو سریانیوں نے عراق اور اُس کے نواح میں پھیلایا ۔ اِس فلسفے اور منطق کے انداز میں مسلم اہلِ علم نے کشش محسوس کی کیونکہ ان علوم کے ذریعے اُن کے سامنے فکر و نظر کے کئی نئے گوشے وا ہوئے اور اُن کو طرزِ استدلال میں بھی نئے اسالیب ملے ۔ یونانی فلسفہ سے فکرِ اسلامی پر کئی منفی اثرات بھی پڑے جن کی وجہ سے اسلام کی تحریکی روح اور استقرائی دانش کو نقصان پہنچالیکن مسلمانوں نے یونانی طب ، ریاضی اور فلکیات سے بہت استفادہ کیا ۔ یہ علوم سریانی کتابوں سے عربی میں منتقل ہوکر مسلمانوں تک پہنچے۔ سریانی ادبیات کو بھی مسلم اہل علم نے پڑھا۔ یہ ادبیات تاریخی قصوں، دینی دعاوں اور نصرانی الٰہیات پر مشتمل تھا اور اس کے مصنفین راہب تھے ۔ اموی دورِ حکومت میں یعقوب رہاوی (640ءتا708ء) نے الٰہیات کی بہت سی یونانی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا ۔ عباسی عہد میں کئی سریانی علماءنے جن میں حسنین بن اسحاق اور جبیش بہت مشہور ہوئے ، یونانی علوم پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ عراق ، شام اور اسکندریہ میں سریانی علماءکے کئی مدارس موجود تھے ۔ اموی و عباسی خلفاءمیں دیگر مذاہب کے بارے میں رواداری پائی جاتی تھی اور علم کے شعبوں میں مسلم اور غیر مسلم میں تفریق نہیں کی جاتی تھی۔
مسلمانوں کی فکری تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم علماءاور غیر مسلموں کے مابین کبھی تصادم نہیں ہوا ۔ مسلمانوں کا غیر مسلموں کے ساتھ ہمیشہ رواداری کا برتاو رہا ہے ۔ اہلِ اسلام کے علمی حلقوں میں تعقل پسندوں اور راسخ العقیدہ علماءمیں نزاع نے کبھی شدت اختیار نہیں کی لیکن قرونِ وسطیٰ میں فقہی مذاہب کے مابین تصادم نے امتِ مسلمہ کو بہت نقصان پہنچایا ۔ فقہ کے میدان میں ابتداً کئی مکاتب معرض وجود میں آئے ۔ عقائد کے اعتبار سے یہ کوئی الگ فرقے نہیں تھے صرف تعبیر شریعت اور قانون سازی میں ان کے علمی اختلافات تھے ۔ ابتدا میں مکتب سفیان ثوری ، مکتب ابو حنیفہ ، مکتب شافعی، مکتب مالکی اور مکتب احمد بن حنبل کے علماءمیں باہمی محبت و رواداری کے مراسم تھے اور ان میں سے کئی کے درمیان اُستاد اور شاگرد کا رشتہ تھا جیسا کہ امام ابو حنیفہ ، امام جعفر صادق کے شاگرد تھے۔ امام شافعی اور امام احمد بن حنبل میں باہمی احترام پایا جاتا تھا ۔ امام احمد بن حنبل اُس گھوڑے کی رکاب تھام لیتے تھے جس پر امام شافعی سوار ہوتے تھے۔ حُب جاہ و مال کی وجہ سے ان مکاتب فکر کے مابین مناظرے شدت اختیار کر گئے ۔ حنابلہ اور شافعیہ دو متحارب گروہوں کی صورت اختیار کر گئے ۔ حنابلہ اور شافعیہ گروہوں میں خونی تصادم کے واقعات بھی رونما ہوئے ۔ ابنِ کثیر نے ایک ایسے واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان کی ہے :
۹۶۴ہجری میں جب مدرسہ نظامیہ میں ابو نصر بن قشیری کی آمد ہوئی اور اُنھوں نے حنابلہ کی مذمت شروع کی اور انھیں تجسیم سے منسوب کیا۔ اُن کی تائید مدرسہ کے چند دوسرے ہم مذہب شیوخ شیخ ابو اسحاق شیرازی اور ابو سعید صوفی نے کی ۔ ایسا فتنہ پیدا ہوا جو مدرسہ سے باہر بھی پھیل گیا حتّٰی کہ شافعیہ کی ہم نوا ایک جماعت نے حنابلہ کے شیخ ابو جعفر بن موسیٰ پر حملہ کر دیا جب وہ مسجد میں موجود تھے۔ حنابلہ کے ساتھیوں نے دفاع کیا اور اس بات پر لڑا ئی شروع ہوگئی ۔ ابو بکر شاشی نے اس واقعہ پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر نظام الملک کو لکھا کہ یہ بہت بری بات ہے کہ اُس مدرسے میں ایسا واقعہ پیش آیا جس کی آپ نے بنیاد رکھی تھی ۔ جب لوگوں میں ایسے واقعات زیادہ ہونے لگے تو ابو اسحاق شیرازی نے اس شر پر اظہار غصہ کے طور پر بغداد چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا ۔ طویل جدل کے بعد حکومت نے مداخلت کی اور دونوں مذاہب کے شیوخ کے مابین معاملات ٹھیک کیے ……………… تاہم اگلے سال ۰۷۴ہجری میں فتنہ بھڑک اٹھا اور نظامیہ کے طلبہ ، حنابلہ اور شافعیہ میں باقاعدہ لڑائی پیدا ہوگئی ۔ ہر فریق کو عوام سے مدد ملی تقریباً بیس قتل ہوئے اور کئی دوسرے زخمی ہوئے۔
بغداد کے علاوہ دیگر شہروں کے حالات بھی تقریباً ایسے ہی تھے ۔ حکومت وقت کی مداخلت سے وقتی طور پر فتنے دب جاتے تھے ، جیسا کہ پہلے ذکر کیا ہے۔ ابتدا میں حنابلہ اور شافعیہ کے مابین اختلافات عمومی نوعیت کے تھے جن کی بنیاد خلوص پر تھی اور فریقین میں رواداری اور برداشت کے اوصاف بھی موجود تھے لیکن دنیاوی ترغیبات کی وجہ سے فقہی اختلافات میں شدت اور فرقہ بندی کا عنصر شامل ہوگیا تھا ۔ اُس زمانے میں بیورو کریسی مذہبی علماءاور فقہا پر مشتمل تھی بالخصوص عدلیہ کے مناصب پر فقہی علماءکو مقرر کیا جاتا تھا اس لیے ذاتی منفعت کا جذبہ غالب حیثیت اختیار کر گیا تھا ۔
مذہب کی تشکیل مکمل طور پر اُن مکاتب فکر سے مختلف ہوگئی جن سے اُن کی ابتدا ہوئی تھی ۔ جبکہ یہ مکاتب فکر صرف اُن اہلِ فکر، ائمہ فقہ اور طالبان علم سے میل جول رکھتے تھے جو علماءکے اخلاق اور دین کے فضائل سے متصف تھے۔ اب مذہب صرف ان مشائخ، طلباءتجار اور عوام کا ترجمان بن گیاجو مذہب کو اپنے لیے منافع کا ذریعہ بنانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔ ان میں کوئی جاہ کا طلبگار تھا جو مذہب کو اعلیٰ مناصب کے حصول کے لیے اختیار کرتا، کوئی بلندی کا خواہاں ہوتا جو مذہب کو اپنا مستقبل سنوارنے میں مددگار بنانا چاہتا اور کوئی تاجر اتباع مذہب کے ذریعے اپنے کاروبار کے گاہک بنانا چاہتا ………….. یہ رقابت اور انتشار مختلف مذاہب کے باہمی مقابلہ تک محدود نہ رہا بلکہ یہ ایک ہی مذہب کی صفوں میں بھی آگیا۔ ایک ہی مذہب کے قائدین کے درمیان اپنے اپنے پیروکاروں میں اضافہ اور حکومت کے مناصب میں نمائندگی کے معاملہ میں مقابلہ شروع ہوگیا۔ اُن کے باہمی تعلقات کا انحصار اس بات پر تھا کہ عہدوں اور مالی فوائد میں اُن کے گروہ کا حصہ کتنا ہے ۔ یہ رجحانات اُن کے پیروکاروں میں بھی آگئے اور وہ گروہوں میں بٹ گئے۔ ہر گروہ کسی ایک قائد کا پیرو تھا اور اس کی سیاست کی تشہیر کرتا تھا۔
مذہبی فرقوں کی رقابت حکومت وقت کے لیے بھی بعض اوقات پریشانی کا موجب بن جاتی کیونکہ ہر مذہب کے لوگ یہ توقع رکھتے تھے کہ اُن کے مذہب کے عالم کو قاضی مقرر کیا جائے گا ۔ اگر حکومت کسی اور مذہب کے شخص کو قاضی مقرر کرتی تو اُس کے خلاف عوام کو اُکسایا جاتا ۔ اگر حکومت کسی مذہب کی مالی مدد کرتی تو اُس کے مخالف مذہب والے اُس کو جانبداری سے محمول کرتے ۔
جب وزیر نظام الملک مسعود بن علی نے مرو کے شہر میں شافعیہ کے لیے جامع مسجد تعمیر کرائی ۔ یہ مسجد قریبی جامعہ حنفیہ سے زیادہ بلند تھی ۔ حنفیوں کو یہ بات بہت بری لگی اُنھوں نے اسے اپنے لیے ایک چیلنج خیال کیا ۔ وہ نئی مسجد پر حملہ آور ہوئے اور اُسے آگ لگا دی اس پر طرفین کے مابین فتنہ اٹھ کھڑا ہوا ۔ السبکی کے الفاظ میں ”وہ ایسا ہولناک فتنہ تھا کہ قریب تھا کہ کھوپڑیاں گردنوں پر اڑنے لگیں۔
فقہی اختلافات میں بعض قاضی بھی انتہا پسند ہوجاتے ۔ مثلاً محمد بن موسیٰ بن عبد اللہ البلاساعونی(506ہجری) جسے دمشقی کہا جاتا تھا ، بیت المقدس اور پھر دمشق کا قاضی مقرر ہوا ۔ وہ مذہب ابو حنیفہ میں غلو کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ”اگر میرے ہاتھ میں حکومت ہوتی تو میں شافعیوں سے جزیہ وصول کرتا۔“ وہ مالکیوں سے بھی بغض رکھتا تھا ۔ کئی علما ئ، قضاة اور فقہاءنے فرقہ پرستی کی وبا پھیلائی جبکہ امراءنے اسراف و تبذیر کی راہ اختیار کی ۔ اسلامی معاشرت کی سادگی ، سخت کوشی ، کفایت شعاری اور خلوص کی وہ خصوصیات جو عہد رسالت اور شیخینؓ کے دور میں پائی جاتی تھیں ، وہ خال خال نظر آتی تھیں۔ سماج کے بالائی طبقات یعنی حکمران طبقہ ، تجّاراور خوشحال زمیندار سے وابستہ علماءبھی تن آسان ، تنگ نظر اور دنیا دار ہوگئے تھے ۔ اشراف (Elite) عیش و طرب کے دلدادہ تھے۔ زندگی کی زینتیں اُن کی طلب و جستجو کا محور بن گئی تھیں۔ فاطمی دور کے ایک وزیر بدر الجمالی (وفات: 515ہجری) کے ترکہ کی تفصیلات پر نظر ڈالنے سے اُس عہد کے وزراءو امراءکی سماجی زندگی کی ایک تصویر سامنے آتی ہے ۔
اُس نے (بدر الجمالی) نے جو ترکہ چھوڑا اُس میں ساٹھ کروڑ دینار نقد ، دو سو پچاس بوری درہم ، پچھتر ہزار اطلس کے کپڑے ، تیس اونٹوں کا بار عراقی سونے کے صندوق ، سونے کی دوات جس میں بارہ ہزار دینار کی مالیت کے جواہر تھے۔ دس نشست گاہوں میں سونے کی سو کنڈیاں اور ہر کنڈی کا وزن سو مثقال ………. نفیس کپڑوں کے پانچ سو صندوق ……….. گائیں ، بھینسیںاور بکریاں اتنی کہ انسان اُن کی تعداد کے ذکر سے شرم محسوس کرتا ہے ۔ جس سال اُس نے وفات پائی اُس کے دودھ کا ٹھیکہ تیس ہزار دینار تھا ۔ اُس کے ترکے میں دو بڑے صندوق بھی پائے گئے جن میں عورتوں اور لڑکیوں کے سونے کے مجسمے تھے۔
ابو نصر احمد بن مروان الکروی (453ہجری) جو کہ بلاد بکر کا والی تھا، کے بارے میں لکھا ہے:
اُس کے پانچ سو مستقل دستے ، پانچ سو خدام اور گویّوں کی بڑی تعداد جن میں سے ایک ایک پانچ ہزار دینار یا زیادہ میں خریدا گیا تھا ۔ اس کی مجلس میں لہو و لعب کے جو آلات آئے تھے وہ قیمت میں دو لاکھ دینار کے قریب تھے ۔
دنیا دارعلماءکا رہن سہن بھی مسرفانہ تھا ۔ اعلیٰ درجے کے عالم کا شاندار استقبال کیا جاتا تھا۔ بالخصوص اُس کے فقہی مذہب والے اُس کی خوب پذیرائی کرتے تھے ۔ اُس کے مخالف مذہب والوں کو مرعوب کرنے کے لیے ظاہری نمود و نمائش سے کام لیا جاتا تھا ۔ مذہب حنابلہ کے مشہور عالم دین ابن جوزی اپنے استقبال کے واقعہ کی تصویر کشی اِس طرح کرتے ہیں:
بغداد بدل کر رہ گیا اور نصف شعبان کو اُس کے اہالیان نے بڑی تعداد میں دریا عبور کیا ۔ میں نے اسے باب بصرہ کی طرف سے عبور کیا اور مغرب کے بعد اس جانب داخل ہوا ۔ اس کے باشندوں نے لاتعداد شمعوں کے ساتھ میرا استقبال کیا ۔ اُن میں سے بڑی تعداد میں لوگ میری معیت میں گامزن تھے ۔ جب میں باب بصرہ سے نکلا تو میں نے دیکھا کہ اہالیانِ حربیہ بے شمار مشعلوں کے ساتھ میرے استقبال کو آئے ہیں ۔ یہ شمعیں باب بصرہ سے آنے والوں کی شمعوں سے مل گئیں اور اُن کی تعداد ہزاروں تک پہنچ گئی ۔ میں نے ساری مخلوق کو روشنی سے معمور دیکھا ۔ مرد ، عورتیں اور بچے گھروں سے باہر نکل کر یہ منظر دیکھ رہے تھے ۔ لوگوں کا اس قدر ہجوم تھا جیسا کہ سوق ثلاثہ میں ہوتا ہے ۔ پس میں حربیہ میں داخل ہوا ۔ سڑک لوگوں سے بھر چکی تھی اور پیدل لوگ صبح سے موجود تھے ۔ اگر کہا جائے کہ وہ لوگ باب بصرہ کی طرف سے صحرا میں آئے اور مجمع میں شامل ہوگئے ، اُن کی تعداد تین لاکھ تھی تو یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔
ابن جوزی تصوف اور اہل تصوف کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتا تھا ۔ اس سلسلے میں اس کی کتاب تلبیس ابلیس تصوف کی مخالفت میں شدت کی مظہر ہے لیکن وہ ظاہری شریعت پر عمل کرنے والا متبحر عالم ، فصیح اور پر تاثیر واعظ تھا۔ اپنے عہد میں اُس کی مقبولیت محتاجِ بیان نہیں۔ وہ اپنی تحریروں کی وجہ سے اہلِ علم کے حلقوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا ۔ اِس قسم کا معروف عالمِ دین بھی حاکمِ وقت کی حاشیہ برداری پر نازاں ہے ۔ وہ خود رقم طراز ہے :
اے مخلوق کے سردار اور سرچشمہ کائنات ، عظیم سلطنت کے مالک اللہ کے خلیفہ ، اے سورج جس کے نور کی سخاوت شہروں میں ہے ۔ اے چودھویں کے چاند جس میں کمی نہیں آتی ۔ مخلوق کے لیے برہان کا ظہور ہوا ۔ اہلِ ایقان کی روحیں اس سے زندہ ہوگئیں۔ یہ میرح مدح ہے اور وہ اِس قدر ہے جتنا ممکن تھا اور میرے دل میں اِس سے دگنی مدح موجود ہے ۔ تمھارا غلام مول کرکے خریدا نہیں جا سکتا ۔ تم احسان کے ذریعے اِس کے مالک ہوگئے ہو۔ جب سے میں نے تمھاری خدمت کی ہے میں نے اپنا نام سلمان (پہاڑ) رکھ لیا ہے ۔ لیکن میری زبان پر حسن کی مدح ہے۔ میرے الفاظ کا حسن ہر چیز کو اپنی طرف مائل کرنے پر فخر کرتا ہے ۔
مسلمانوں کی فکری ، مذہبی اور سیاسی تاریخ میں نظام الملک طوسی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔اِس وزیر با تدبیر کی کوششوں سے شہروں اور دیہاتوں میں مدرسے اور جامعات قائم کیے گئے جو اُس کی نسبت سے مدارس نظامیہ کہلاتے تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ نظام الملک اشاعرہ شافعیہ مکتب فکر کا ترجمان اور حامی تھا ۔ وہ اپنے مذہب میں پکا تھا لیکن اُس کا ذہن دیگر مذاہب کے لیے بھی کھلا تھا ۔ اُس کی محفل علماءو فقہاءسے بھری رہتی تھی ۔ ”جب اُس سے کہا گیا کہ یہ لوگ تمھیں بہت سے نیک کاموں سے غافل کر دیتے ہیں تو اُس نے جواب دیا : ”یہ لوگ دنیا اور آخرت کا جمال ہیں ۔ اگر میں انھیں سر پر بٹھاتا ہوں تو اسے کیوں غیر ضروری سمجھا جائے ۔“ نظام الملک طوسی نے فاطمیوں کی باطنی تحریک کے اثرات مٹانے کے لیے باقاعدہ علمی تحریک چلائی اور سیاسی سطح پر فاطمیوں کی مخالفت کو اپنا مشن ٹھہرا لیا ۔ نظام الملک کے اقدامات سے علمی تاریخ پر گہرے اثرات پڑے۔ اُس کا تیار کیا ہوا نصاب عرصہ دراز تک بلکہ اب تک کئی دینی مدارس میں پڑھایا جاتا ہے ۔ اُس کی کتاب سیاست نامہ سیاسی حکمت عملی کا عظیم مرقع ہے ۔ یہ کتاب یورپ کے اہلِ علم میں بھی مقبول رہی ہے ۔
نظام الملک کی نیک نیتی اور اُس کے اعلیٰ اخلاق کے بارے میں اکثر مورخین متفق ہیں ۔
وہ کبھی وضو کے بغیر نہیں بیٹھتا تھا اور جب بھی وضو کرتا تو نفل ادا کرتا ۔ وہ قرآن پاک پڑھتا اور تلاوت کے دوران اُسے اُس کی عظمت کا خیال رہتا ۔ جہاں کہیں بھی جاتا ، قرآن پاک اُس کے ساتھ ہوتا ۔ جب موذن اذان دیتا تو وہ سب کام چھوڑ کر اُس کا جواب دیتا، سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتا ۔ ہر مظلوم کے لیے دروازہ کھلا رکھتا تھا اور ہر دستک دینے والے کو جواب دیتا خواہ وہ کھانے کا وقت ہی کیوں نہ ہو۔
نظام الملک طوسی کی ذہانت اور اچھی حکمرانی کے اُصولوں نے آلِ سلجوق کے کارناموں میں کلیدی کردار ادا کیا ۔ سلجوقی فرمانرواوں نے افغانستان سے لے کر بحیرہ¿ روم کے علاقوں تک تمام چھوٹی چھوٹی سلطنتوں کو ایک مرکزی حکومت کے تحت کر دیا تھا۔ اُنھوں نے مسلم سماج میں اسلامی اقدار کا احیاءکیا اور اُن میں جذبہ¿ جہاد بیدار کیا ۔ سلجوقیوںکے عہد میں یورپ کی متحدہ قوتوں کو صلیبی جنگوں میں شکست ہوئی ۔ نظام الملک کے ساتھ بیسیوں اشاعرہ تھے جنھوں نے انتظامیہ ، عدلیہ ، لشکر اور احتساب کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ دوسروں نے مدارس نظامیہ کے امور سنبھال لیے یا مسندِ تصوف سنبھال لی ۔ ان میں امام جوینی ، ابو اسحاق شیرازی ، ابو القاسم قشیری، ابو علی فارمذی ، امام غزالی اور الکیا الہراسی کے نام شامل ہیں۔ ۰۷۴ہجری میں سلجوقی سلاطین اور اشاعرہ شافعیہ کے تعلقات کشیدہ ہونے لگے ۔ نظام الملک طوسی اور سلطان ملک شاہ سلجوقی میں طویل مخاصمت ۵۸۴ہجری میں نظام الملک کے قتل پر منتج ہوئی ۔ اس کے بعد شیوخ شافعیہ میں سے صرف وہی سلاطین سلاجقہ کے ساتھ وابستہ رہے اور اپنے مناصب اور مراعات سے چمٹے رہے جو دنیا کو اپنا مطلوب بنا چکے تھے۔ وہ اصلاحی داعیوں کے بجائے فرقہ پرست بن گئے تھے۔ نظام الملک طوسی کی وفات کے ایک سال بعد486ہجری بمطابق1092ءسے سلجوقی حکومت میں زبردست انتشار کا آغاز ہوا اور پانچ سالوں کے اندر اندر اُن کی سلطنت پانچ متحارب مملکتوں میں بٹ گئی ۔ سلطنت فارس جس کا سربراہ برکیاروق تھا بغداد بھی اُس کے ماتحت تھا۔ خراسان اور ما وراءالنہر کا علاقہ سنجر شاہ کا تھا۔ مملکت حلب جس کا سربراہ رضوان بن تتش تھا ۔ مملکت دمشق جس کا بادشاہ دقاق بن تتش تھا اور سلطنت روم جس کا سربراہ قلج بن ارسلان تھا۔ ۴۰۱۱ءمیں سلطنت فارس مزید دو حصوں میں تقسیم ہوگئی ۔ بلادِ شام بھی کئی خود مختار سیاسی اکائیوں میں منقسم ہوگئے۔ ان میں اتابیکہ (سلطنت) دمشق اور اتابیکہ موصل دو بڑی سیاسی اکائیاں تھیں۔
بارھویں صدی کے ربع اوّل تک مسلمانوں کے زیرِاقتدار وسیع علاقہ تھا ۔ بیرونی دنیا میں بھی اُن کی طاقت مسلمہ تھی ۔ مسلم معاشرہ بھی بحیثیت مجموعی معاشی طور پر خوشحال تھا ۔ معاشی خوشحالی کا زیادہ تر مدار تجارت اور زراعت پر تھا لیکن شخصی حکومتوں کی خرابیوں اور خود مختار ریاستوں کے حکمرانوں کے مابین باہمی جنگوں کے مسائل کے علاوہ مسلم معاشرے میں عصبیت، قبائلیت، علاقائیت اور فرقہ بندی کی وبائیں بھی پھیل گئی تھیں ۔ مسلم امراءلہو و لعب کے دلدادہ ہوگئے تھے۔ کئی علماءو فقہا بھی شہوات دنیا کی طرف مائل ہوگئے تھے۔ عوام کی اجتماعی زندگی میں اخلاقی انحطاط نمایاں تھامسلمانوں میں امت واحدہ کا مفہوم مفقود ہوگیا تھا۔ کئی صدیوں تک اُن کا بھرم قائم رہا کیونکہ اُن کے مقابل کوئی طاقتور قوم نہ تھی ۔ وہ بحیرہ روم کے سر سبز و شاداب علاقوں کے بلا شرکت غیرے مالک تھے ۔ لیکن قانون قدرت کے مطابق اُن کی کمزوریوں نے بیرونی طاقتوں کو اس زر خیز و شاداب خطے کی طرف راغب کیا ۔اگرچہ مشرق وسطیٰ میں قبل از اسلام پہلی معرکہ آرائی یونان اور فارس میں ہوچکی تھی لیکن ابھی تک پورے یورپ نے اس علاقے کا رُخ نہیں کیا تھا ۔ وسیع پیمانے پر یورپ اور مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کے مابین تصادم کا آغاز 1095ءسے ہوا جو1291ءتک وقفوں کےساتھ جاری رہا ۔ اس تصادم کو تاریخ میں صلیبی جنگوں کا نام دیا گیا ہے ۔ تصادم کا آغاز سلجوقی سلاطین اور بازنطینی بادشاہ کے درمیان ہوا ۔ موخر الذکر کی اپیل پر یورپ کے ممالک مسلمانوں کے صف آرا ہوگئے اور ان جنگوں کو مذہب کا رنگ دے دیا گیا۔ تمام یورپ عیسائیت کی پاسبانی کے لیے متحد ہوگیا ۔ اُن کی فوجوں میں مذہبی جوش و خروش پیدا کیا گیا ۔ ابتدائی جنگوں میں عیسائیوں کو فتح حاصل ہوئی اور بیت المقدس پر عیسائیوں کا قبضہ ہوگیا ۔ اُنھوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا ۔ لیکن سلطان نور الدین زنگی کے زمانے سے مسلمانوں کا پلڑا بھاری رہا۔ آخر کار سلطان صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں مسلم فوج اور یورپی متحدہ فوج کے درمیان تیسری بڑی صلیبی جنگ ۹۸۱۱ءمیں لڑی گئی۔ یورپ کی متحدہ فوج انگریز جرنیل رچرڈ شیر دل کی کمان میں لڑ رہی تھی ۔ اس جنگ میں صلیبیوں کو شکست فاش ہوئی اور نتیجتاً سلطان صلاح الدین ایوبی اور رچرڈ شیر دل کے درمیان ایک صلح نامہ ہوا جس کی رو سے عیسائیوں کو مذہبی آزادی دی گئی اور اُن کو ہر طرح کی مراعات دی گئیں ۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے بعد بھی صلیبی جنگوں کا تیسرا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور عیسائی حکمرانوں نے شام ، مصر اور فلسطین پر کئی حملے کیے لیکن اُنھوں نے شکست کھائی ۔ آخر کار مصر کے مملوک سلاطین نے ۱۹۲۱ءمیں شام پر اپنا مکمل تسلط جماکر آنے والی صدیوں تک صلیبی قوتوں کا سد باب کر دیا ۔
ڈاکٹر ماجد عرسان الکیلانی نے ایک کتاب بعنوان ھکذا ظھرجیل صلاح الدین و ھکذا عادت القدسلکھی ہے جس کا اُردو ترجمہ صاحبزادہ محمد عبد الرسول نے کیا ہے اور اسے عہدِ ایوبی کی نسل نو اور القدس کی بازیابی کے نام سے اُردو سائنس بورڈ لاہور نے 2004ءمیں شائع کیا ہے ۔ اس کتاب میں صلیبی حملوں سے پہلے مسلم معاشرے کی فکری صورت حال اور مسلمانوں کی ہیئت اجتماعیہ کے انتشار کی بھرپور عکاسی کی گئی ہے ۔ مصنف کا اندازِ فکر تاریخی ہے اور اُنھوں نے عمرانی نقطہ نظر سے اس موضوع پر روشنی ڈالی ہے ۔ اُنھوں نے یہ نتیجہ اخد کیا ہے کہ سلطان نور الدین زنگی اور سلطان صلاح الدین ایوبی کو افرادی قوت امام غزالی اور شیخ عبد القادر جیلانی کی منظم تعلیم اور روحانی تربیت کی تحریک اصلاح و تجدید نے مہیا کی ۔
مسلم معاشرے کی نفسیات اور مسلم دنیا کے غیر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کی نوعیت پر صلیبی جنگوں کے علاوہ دو اور عوامل نے بہت گہرے اور دور رس اثرات ڈالے ہیں ۔ اولاً: بلادِ اندلس میں مسلمانوں کی حکومت کا قیام اور انخلا ۔ ثانیاً: سقوطِ بغداد ۔جب طارق بن زیاد اندلس میں داخل ہوا ۔ اُس وقت گاتھ قبیلے کی حکمرانی تھی ۔ وہ جاگیر داروں کی مدد سے حکومت کر رہے تھے۔ رعایا میں بد امنی اور بد حالی تھی ۔ یکم اپریل ۱۱۷ءکو طارق نے سر زمین اندلس میں قدم رکھا اور وہاں اسلامی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ اندلس پر مسلمانوں نے تقریباًساڑھے سات سو سال حکومت کی ۔ اگرچہ اُن کا اقتدار زیادہ تر جنوبی سپین تک محدود رہا اور درمیان میں ایسے بھی وقفے آئے جبکہ مسلم حکمران کمزور تھے اور عیسائی حکمران اُن پر غالب آجاتے تھے لیکن مجموعی لحاظ سے اندلس میں مسلمانوں نے ایک شاندار ثقافت کی بنیاد ڈالی ۔مسلمانوں کا اندلس پورے یورپ میں صنعتی لحاظ سے خوشحال ، زرعی لحاظ سے شاداب اور تمدنی لحاظ سے روشن خیال تھا ۔ مسلمانوں نے استقرائی طرزِ فکر سے اہلِ یورپ کو روشناس کیااور انھی کے دور میں سائنسی علوم اور سائنسی طرزِ فکر کی اشاعت ہوئی ۔ مسجد قرطبہ اور الحمرا محل مسلمانوں کے شاندار تعمیراتی آرٹ کے باقیات ہیں جبکہ اُن کا سائنسی و علمی ورثہ بتدریج یورپ میں منتقل ہوتا رہا ۔ مسلمانوں کے اقتدار کا ہمیشہ کے لیے اِس سرزمین سے خاتمہ ہوگیا جب 3جنوری 1492ءکو بنو نصر کے آخری فرمانروا ابو عبد اللہ نے فرڈی نینڈ سے شکست کھا کر یک طرفہ صلح نامے پر دستخط کرکے غرناطہ کی چابیاں غنیم کے حوالے کر دیں۔
اندلس میں مسلمانوں کے عروج و زوال کے بارے میں کئی قصے اور کہانیاں مشہور ہیں ۔ البتہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر تمام مورخین متفق ہیں اور وہ یہ کہ مسلمانوں کے اندلس میں رواداری ، برداشت اور روشن خیالی کا راج تھا ۔ سائنس اور آرٹ میں یورپ کے تمام ممالک اس خطہ زمین کی طرف رجوع کرتے تھے ۔ تحریک احیائے علوم اور روشن خیالی کی تحریک کا آغاز سپین سے ہوا اور اس میں مسلم سکالروں اور اسلامی دانش کدوں کا حصہ وافر تھا۔ دسمبر1911ءمیں آل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میں خواجہ کمال الدین نے اسلام اور علوم جدیدہ کے موضوع پر لیکچر دیا تھا جبکہ اقبال نے اس کانفرنس میں اپنے صدارتی خطبے میں اس پہلو کو اجاگر کیا تھا :
خواجہ صاحب نے جو تقریر اس وقت کی ہے وہ نہایت دل چسپ اور معنی خیز ہے ……….. اس زمانے میں مسلمانوں نے اس بحث پر بہت کچھ لکھا ہے کہ اسلام اور علوم کے مابین کیا تعلق ہے۔ میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ اسلام مغربی تہذیب کے تمام عمدہ اُصولوں کا سر چشمہ ہے ۔ پندرھویں صدی عیسوی میں جب سے کہ یورپ کی ترقی کا آغاز ہوا ۔ یورپ میں علم کا چرچا مسلمانوں ہی کی یونیورسٹیوں سے ہوا تھا ۔ ان یونیورسٹیوں میں مختلف ممالک یورپ کے طلباءآکر تعلیم حاصل کرتے اور پھر اپنے اپنے حلقوں میں علوم و فنون کی اشاعت کرتے تھے ۔ کسی یورپین کا یہ کہنا کہ اسلام اور علوم یکجا نہیں ہوسکتے ، سراسر نا واقفیت پر مبنی ہے اور تعجب ہے کہ علوم اسلام اور تاریخ اسلام کے موجود ہونے کے باوجود کوئی شخص کیونکر یہ کہہ سکتا ہے کہ علوم اور اسلام ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتے۔ ڈی کارٹ اور مل ، یورپ کے سب سے بڑے فلاسفر مانے جاتے ہیں جن کے فلسفہ کی بنیاد تجربے اور مشاہدے پر ہے ۔ لیکن حالت یہ ہے کہ ڈی کارٹ کا میتھڈ (اُصول) امام غزالی کی احیاءالعلوم میں موجود ہے اور ان دونوں میں اس قدر تطابق ہے کہ ایک انگریز مورخ نے لکھا ہے کہ اگر ڈی کارٹ عربی جانتا ہوتا تو ہم ضرور اعتراف کرتے کہ ڈی کارٹ سرقہ کا مرتکب ہوا ہے ۔ راجر بیکن خود ایک اسلامی یونیورسٹی کا تعلیم یافتہ تھا ۔ جان سٹورٹ مل نے منطق کی شکل اوّل پر جو اعتراض کیا ہے بعینہ وہی اعتراض امام فخر الدین رازی نے بھی کیا تھا اور مل کے فلسفے کے تمام بنیادی اُصول شیخ بو علی سینا کی مشہور کتاب شفاءمیں موجود ہیں ……….غرض یہ کہ تمام وہ اُصول جن پر علوم جدیدہ کی بنیاد ہے ۔ مسلمانوں کے فیض کا نتیجہ ہیں بلکہ میرا دعویٰ ہے کہ نہ صرف علوم جدیدہ کے لحاظ سے بلکہ انسان کی زندگی کا کوئی پہلو اور اچھا پہلو ایسا نہیں ہے کہ جس پر اسلام نے بے انتہا روح پرور اثر نہ ڈالا ہو۔
سقوطِ بغداد دوسرا اہم عامل ہے جس نے مسلم تاریخ اور نفسیات پر گہرے اثرات ڈالے ہیں ۔ اُس وقت کئی مورخین نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ مسلم تمدن ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا ہے اور مسلمان پھر کبھی تاریخ عالم میں کوئی مقام حاصل نہیں کرسکیں گے ۔ سقوطِ بغداد کے لیے حالات دو صدیوں سے پیدا ہو رہے تھے ۔ مسلمانوں میں باہمی نفاق اور دھڑے بندی نے اُمت مسلمہ کی وحدت کے تصور کو کمزور کر دیا تھا ۔ عباسی خاندان کی موثر اور طاقتور حکمرانی 132ہجری سے233ہجری تک رہی ،اُس کے بعد اُن کا دورِ انحطاط شروع ہوگیا ۔ بغداد کا خلیفہ سلاطینِ آلِ بویہ کے نرغے میں آتا جارہا تھا ۔ دوسری طرف فاطمی فوج نے969ءمیں مصر پر قبضہ کر لیا اور قاہرہ کو دار الخلافہ بنا دیا ۔ فاطمی خلیفہ معز الدولہ972ءمیں قاہرہ میں تزک و احتشام کے ساتھ داخل ہوا ۔ آہستہ آہستہ فاطمیوں کی حکومت شمالی افریقہ کے علاوہ مصر اور شام پر بھی قائم ہوگئی تھی۔ تاریخ کا یہ دور عجیب دور تھا ۔ مجموعی لحاظ سے دنیا میں مسلمان کمزور نہیں تھے لیکن اُن کا ریاست واحدہ کا نظریہ دم توڑ چکا تھا ۔ اُس دور میں تین مسلم حکومتیں تھیںاور ہر ایک حکمران خلافت کا دعویدار تھا ۔ سپین کا اموی حکمران امیر عبد الرحمن سوم نے خلیفہ کا لقب اختیار کر لیا تھا ۔ اُس نے قرطبہ کو دار الخلافہ بنا کر وہاں شاندار محل تعمیر کیا تھا ۔ بلادِ اندلس میں اُس کی مضبوط حکومت اور خوشحال رعایا تھی ۔ فاطمی خلیفہ امیر معز الدولہ قاہرہ کے دار الخلافہ میں تھا اور اُس کی بھی مضبوط حکومت تھی لیکن بغداد میں عباسی خلفاءبہت کمزور تھے ۔ وہ سلاطین آل بویہ اور سلجوقی سلاطین کے ماتحت زندگی گزار رہے تھے ۔ یہ سلاطین کبھی کمزور اور کبھی طاقتور ہوجاتے تھے ۔ مشرقِ وسطیٰ میں مسلمانوں کی مضبوط اور مرکزی حکومت قصہ پارینہ بن گئی تھی۔ امتِ مسلمہ مختلف الخیال معاشروں میں بٹی ہوئی تھی اور مجموعی لحاظ سے مسلم سماج اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔
مشرق کے تاتاری ایک طوفان بلا خیز کی طرح اُمڈے۔ اُن کا رُخ پہلے مغرب کی طرف تھا لیکن چنگیز خان کی وفات کے بعد اُس کا بیٹا ہلاکو خان بغداد پہنچ گیا اور اُس کو تہس نہس کر دیا۔ تاتاری جہاں سے بھی گزرے اُنھوں نے تہذیب و تمدن کے گہوارے اُجاڑ دیے ۔ چنگیز خان اور ہلاکو خان کی وحشت و بربریت تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے :
چنگیز خان نے فروری1220ءمیں ماوراءالنہر کا سارا علاقہ فتح کر لیا ۔ بخارا اور سمرقند کے امیر ترین شہروں کو پامال کرتا ہوا ایران سے بحیرہ کیسپئین کے جنوبی ساحل کے ساتھ آذربائیجان تک جا پہنچا۔ علاو الدین خوارزم شاہ کے پاس اتنی قوت نہ تھی کہ چنگیز خان کا مقابلہ کرتا ……. وہ ترکی کی طرف بھاگا اور بحیرہ کیسپیئن کے قریب کہیں فوت ہوگیا ۔ اُس کا بیٹا جلال الدین خوارزم شاہ ہندوستان میں خاندان غلاماں کے بادشاہ التمش سے مدد کے لیے پہنچا لیکن وہ چنگیز کی دشمنی مول لینے کو تیار نہ تھا ۔ اس کے علاوہ چنگیز کا رُخ مغرب کی طرف تھا ۔ وہ آذر بائیجان ، آرمینیا کو روندتا ہوا بازنطینی سلطنت کی سرحدوں تک جا پہنچا۔ 18اگست 1227ءمیں چنگیز خان کی موت نے یورپ کو اُس کے حملوں سے بچا لیا ورنہ مورخین بیان کرتے ہیں کہ جہاں سے چنگیز خان گزرا وہاں ہزاروں میں سے چند آدمی زندہ بچے ۔ لاشوں کے ڈھیر چھوڑ کر مفتوح لوگوں کو جانوروں کی طرح ہانکتا ہوا مزید محصور شہروں پر منجنیق کے ذریعے قلعوں کی دیواریں توڑنے کے لیے اُن لوگوں کو استعمال کرتا ۔ اس طرح فتوحات کا سلسلہ جاری رہتا۔ سات صدیوں میں مسلمانوں نے جو شہر آباد کیے تھے ،جو تعلیمی ادارے ، لائبریریاں ، درسگاہیں بنائی تھیں ، سب جلا کر راکھ کر دیں ۔ ہفتوں یہ شہرسلگتے رہے اور کئی سال تک یہ علاقے پھر آباد نہ ہوسکے ………..چنگیز خان کی وفات کے بعد اُس کا بیٹا ہلاکو خان ۸۱جنوری 1258ءکو بغداد پہنچ گیا ۔ قیدیوں کو شہر کی دیواروں کو مسمار کرنے کا حکم دیا اور30جنوری سے5فروری تک منجنیقی پتھراو کے بعد بغداد شہر کی حفاظت کا کوئی نام و نشان تک نہ رہا تھا ۔ قتل و غارت کا بازار گرم ہوا ، شہر کو آگ لگا دی گئی ۔ خلیفہ مستعصم کو ایک بوری میں سی کر منگول گھوڑوں کے پاوں تلے روندا گیا ۔ بغداد جو محلوں ، مسجدوں ، مدرسوں ، کالجوں اور لائبریریوں کا شہر تھا ، مٹی اور راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا ۔ اس سانحہ کے بعد عباسیوں کا دور ختم ہوگیا ۔ مسلمانوں میں آفاقی ریاست کی تعمیر کا تصور بھی چکنا چور ہو چکا تھا ، اسلام کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی مرکز نہ رہا اور کوئی خلیفہ نہ تھا جس کے نام کا جمعہ کے روز مساجد میں خطبہ پڑھا جا سکے ۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بغداد کی تباہی ۸۵۲۱ءمیں ہوئی اور صلیبی جنگیں ۱۹۲۱ءمیں ختم ہوئیں ۔
منگولوں کے حملے کے کیا مقاصد تھے ؟ وہ بلادِ اسلامیہ پر کیوں حملہ آور ہوئے ؟ ایک وجہ تو واضح نظر آتی ہے کہ وہ ان سر سبز و شاداب اور خوشحال علاقوں کی طرف راغب تھے ۔ لیکن اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ مسلمانوں نے شکست فاش کیوں کھائی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کا شیرازہ بکھر چکا تھا ۔ فرقہ واریت نے اُن کے مابین باہمی منافرت پیدا کر دی تھی اور سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ سہل انگار، سہل کوش ، آرام پسند اور زندگی کے تعیشات کے عادی ہوچکے تھے ۔اُن میں شجاعت و حمیت اور سخت جانی کے اوصاف ناپید ہوچکے تھے ۔ مسلم تاریخ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ مسلمانوں میں سیاسی و فقہی اختلافات شیخین کی خلافت کے بعد ہی شروع ہوگئے تھے اور یہ آہستہ آہستہ بڑھتے رہے لیکن مجموعی لحاظ سے امت مسلمہ علمی و فکری میدانوں میں باقی اقوام عالم سے آگے تھی ۔ اُن کا علمی عروج گیارھویں صدی عیسوی تک رہا اُس کے بعد سماجی عدم استحکام نے اُن کو کمزور کرنا شروع کر دیا ۔ یہاں اس امر کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کے علمی و سیاسی مراکز مدینہ اور مکہ تھے ۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے ادوار میں علمی و ثقافتی مراکز میں دمشق اور بغداد سرِ فہرست تھے ۔ ان علاقوں کی مرکزیت کی وجہ یہ تھی کہ جزیزہ نما عرب کے خطوں سے یہ علاقے زیادہ زرخیز اور شاداب تھے۔ معاشی لحاظ سے تجارتی مراکز تھے اور تہذیب و تمدن کے اعتبار سے بھی بہت آگے تھے ۔ جب منگولوں نے بغداد پر حملہ کیا ۔ اُس وقت قاہرہ ، اسکندریہ ، دمشق اور بغداد مسلم ثقافت اور معیشت کے بڑے بڑے مراکز تھے ۔ ان میں بغداد کو دار الخلافہ ہونے کی وجہ سے خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔ منگولوں کے حملہ کا نشانہ بغداد تھا ۔ سقوطِ بغداد ایک لحاظ سے مسلم ثقافت اور طاقت کا سقوط تھا ۔ منگولوں کے حملے سے مسلم تہذیب کا ایک اہم مرکز مصر محفوظ رہا ۔ منگولوں کے ہاتھوں مسلمانوں کی تباہی کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اب مسلم تہذیب ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گی اور اسلام عالمی مذہب کی حیثیت سے ختم ہو جائے گا کیونکہ منگولوں نے جس بڑے پیمانے پر تباہی کی تھی اس کی تاریخ میں پہلے مثال نہیں ملتی ۔
تاریخِ اسلام نے منگولوں کی تباہ کاریوں اور صلیبی جنگوں کے اثرات کے بعد ایک نئی کروٹ لی ۔ اقتدار سلجوقیوں سے عثمانی ترکوں کو منتقل ہو گیا ۔1288ءمیں ترکمان قبیلے کے سردار عثمان نامی نے اسلام قبول کر لیا ۔ اُس نے بازنطینی علاقے کو فتح کرکے شام اور فلسطین پر قبضہ کر لیا ۔ اس خاندان کے سلطان سلیم نے1517ءمیں مصر کو بھی سلطنت عثمانیہ میں شامل کر لیا ۔ یہ سلطنت اپنے دور کی وسیع اور عظیم سلطنت تھی جو سلیمان شاہ عثمانی کے دور میں انتہائی عروج پر تھی۔ اہل یورپ اس سلطنت کی بڑھتی ہوئی وسعت ، تنظیم اور بحری طاقت سے خائف تھے لیکن یہ سلطنت جدید تقاضوں سے غافل ہونے کی وجہ سے آہستہ آہستہ کمزور ہوتی چلی گئی ۔ دوسری طرف اہل یورپ علوم و فنون کی نئی طاقتوں سے روشناس ہوئے۔ یورپ کے ممالک نے اپنی اپنی بحری طاقت کو بہت ترقی دی جدید علوم سے لیس ہوکر آزادی کے متوالے یورپ سے باہر نکلے ۔ انھوں نے نہ صرف نئے براعظم دریافت کیے بلکہ ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں تجارت کے ذریعے اپنے اثر و رسوخ کا آغاز کر دیا ۔ صنعتی انقلاب نے اہلِ یورپ کی معیشت کی کایا پلٹ دی اور وہ پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کرنے لگے ۔
پندرھویں صدی سے اٹھارویں صدی تک تین صدیوں میں یورپ نے بے پناہ تخلیقی و تحقیقی کارنامے سر انجام دیے ۔ اُنھوں نے فطرت کے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھایا ۔ انسان کی صلاحیتوں کو اجاگر کرکے عناصر فطرت پر حکمرانی سے لطف اندوز ہونے لگے اور ناقابلِ تسخیر طاقت کی علامت بن گئے ۔ دوسری طرف مسلمان ان تین صدیوں میں روایات پارینہ سے چمٹے رہے ۔ اُن کی علمی جولان گاہیں فلسفہ و حساب اور الٰہیات تک محدود رہیں ۔ لیکن پھر بھی عظمت رفتہ کے اعتماد کی وجہ سے سترھویں صدی تک مسلمان عسکری لحاظ سے دنیا کی غالب ترین قوم تھے۔ اٹھارویں صدی کے آغاز سے اُن کا زوال شروع ہوگیا یہاں تک کہ ڈیڑھ صدی کے اندر امت مسلمہ یورپی نو آبادیاتی نظام کا حصہ بن گئی۔
برصغیر پاک و ہند کے مسلم سماج کی تاریخ کا کھوج لگانے سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام کا آغاز محمد بن قاسم کی سندھ میں آمد (712ء) سے ہوا ۔ لیکن اس سے پہلے بھی اس خطے میں مسلمانوں کی آمد اور موجودگی کاامکان ہے۔ کیونکہ بلادِ عرب اور ہند کے مابین تجارتی تعلقات قدیم دور سے تھے ۔ اہلِ حجاز ہند کے بارے میں معلومات رکھتے تھے۔ حضرت محمدا سے منسوب یہ قول بھی حدِ تواتر تک مشہور ہے کہ مجھے ہند سے (اسلام) کی خوشبو آتی ہے ۔ فتوح البلدان میں بلاذری نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں کچھ مہمات ِہند روانہ کی گئی تھیں ۔ یہ امر تو مسلمہ ہے کہ مسلم تاجروں کا سندھ میں آنا جانا محمد بن قاسم کے زمانے سے پہلے بھی تھا لیکن وسیع پیمانے پر سندھ میں اسلام کی اشاعت محمد بن قاسم کی آمد کے بعد ہی ہوئی ۔ آٹھویں اور نویں صدی کے دوران سرزمین ہند میں اسلام کی تعلیمات بتدریج پھیلتی رہیں اگرچہ اس دور میں اسلام سندھ اور بحیرہ¿ عرب کے ساحلی علاقوں تک محدود رہا ۔ اِس خطے میں وادی مہران کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ مسلم تہذیب کا قدیم گہوارہ رہی ہے ۔ ہندوستان کے شمال سے اسلام ، محمود غزنوی کے عہد میں داخل ہوا ۔ اگرچہ محمود غزنوی کے حملوں کا مقصد اشاعت اسلام نہیں تھا لیکن اُس کے لشکر کے ساتھ کئی صوفیہ اور علماءبھی آئے جن کے ذریعے اسلام پھیلا۔ اُنھوں نے اس سرزمین کو اپنا مسکن بنالیا تھاچونکہ وسط ایشیا کی اسلامی روایت پر تصوف غالب تھا اِس لیے ہندوستان کے شمال سے جو بھی مسلمان فاتح آئے اُن کے ساتھ صوفیہ بھی آئے ۔ اس خطے میں تصوف کے پیغام اسلام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی اور تمام مو¿رخین اس پر متفق ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں اسلام صوفیہ کی پرامن دعوت کا نتیجہ ہے۔ صوفیہ انسانی مساوات ، محبت ، برداشت ، کشادہ دلی اور انسان دوستی کی علامت تھے۔ اُنھوں نے تبلیغِ اسلام میں یہاں کے مقامی طور طریقوں ، رسم و رواج اور عوام کی نفسیات کو بھی پیش نظر رکھا ۔ حکمت و دانائی اور اپنے حسن عمل سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا ۔ آج بھی پاکستان اور ہندوستان میں صوفیہ کے مزارات مرجع خلائق ہیں ۔
انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ کے خطوں میں اسلام کی آمد ایک مختلف کہانی ہے ۔ ان علاقوں میں اسلام کسی مسلم سپہ سالار کا مرہونِ منت نہیں ہے ۔ گیارھویں اور تیرھویں صدی عیسوی کے درمیان گجرات اور فارس کے مسلم تاجروں کے ذریعے انڈونیشیا میں اسلام پہنچا۔ جنوبی ہند ، فارس اور انڈونیشیا کے لوگوں کے مابین تجارتی روابط صدیوں سے قائم تھے۔ مسلم تاجروں کی موثر نمائندگی کی وجہ سے کافی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا ۔ ہندو اور بدھ مت پر اعتقاد رکھنے والے حکمرانوں نے عوام الناس کی اسلام دوستی کو دیکھا اور تعلیمات اسلام سے متاثر ہوکر وہ بھی مشرف بہ اسلام ہوگئے ۔ تین صدیوں کے اندر اندر اس خطے کے تمام جزیروں میں اسلام ایک غالب قوت کی صورت اختیار کر گیا ۔ لیکن اہلِ یورپ کی مہم جوئی ، بحری طاقت اور تجارتی مفادات نے اس علاقے کو بھی اپنے زیرِ نگیں کر لیا۔لیکن یہاں ڈچ ایسٹ کمپنی قائم ہوگئی جو1602ءسے 1799ءتک برسرِ اقتدار رہی۔ بعد میں یہ ملک ڈچ کی باقاعدہ کالونی بن گیا۔1942ءسے 1945ءتک جاپانی اس ملک پر قابض ہوگئے لیکن بعد ازیں پھر ڈچ کا دعویٰ حکمرانی تسلیم کر لیا گیا۔ آخرکار 1949ءمیں انڈونیشیا غیروں کے تسلط سے آزاد ہوگیا۔
پاک و ہند کے تاجروں کے ذریعے ملائیشیا میں اسلام چودھویں صدی کے وسط میں آیا اور اشرافیہ نے شروع شروع میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا جس کی وجہ سے یہ عوام الناس میں بھی بڑی سرعت سے پھیل گیا ۔ یہاں تک کہ ملیکا کے بادشاہ نے اسلام قبول کرکے اسکندر شاہ کا لقب اختیار کیا ۔ پندرھویں صدی کے وسط میں ملیکا کی طاقت و دولت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا اور یہ خطہ تجارت کا مرکز بن گیا۔ مشرقِ وسطیٰ اور چین سے تجارتی بحری جہازوں کا تانتا بندھ گیا ۔ ۹۰۵۱ءسے اس خطے پر پرتگیزیوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا یہاں تک کہ1511ءمیں الفانسو کی قیادت میں اُنھوں نے ملیکا پر قبضہ کر لیا ۔ پرتگیزیوں کو سونا (Gold) کے حصول اور شان و شوکت (Glory) میں بہت دل چسپی تھی۔1530ءمیں پرتگیزیوں کے اقبال کا سورج غروب ہوگیا اور ان کی جگہ ڈچ ایسٹ کمپنی نے اقتدار سنبھال لیا ۔ اِس خطے میں انگریزوں نے بتدریج اپنا اقتدار مضبوط کیا۔ ۴۲۸۱ءمیں انگریزوں اور ڈچ کا ایک معاہدہ ہوا جس کے نتیجے میں اس خطے کے وارث انگریز بن گئے ۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد یہاں بھی آزادی و بیداری کی تحریکیں چلیں۔ لیکن اِس خطے کو مکمل آزادی 1963ءمیں ملی ۔ آج ملائیشیا تمام اسلامی ممالک سے زیادہ ترقی پذیر ہے ۔ اس خطے کے مسلم معاشرے کا کلچر مشرقِ وسطیٰ اور وسط ایشیا کے کلچر سے قدرے مختلف ہے اس لیے کہ تاریخی طور پر چین و جاپان کے تمدنی اثرات بھی یہاں رہے ہیں ۔
مختلف خطوں کے مسلم معاشروں کے کلچر میں کئی اقدار مشترک ہیں ۔ سب مسلم معاشروں پر قرآن حکیم کا گہرا اثر ہے ۔ اسلامی اخوت کے تصور اور جغرافیائی اتصال کی وجہ سے مختلف خطوں میںرہنے والے مسلمانوں کا ایک دوسرے کے ملکوں میں آنا جانا عام تھا ۔ بیسویں صدی کے دوسرے عشرے تک ایک مسلم مملکت سے دوسری مسلم مملکت میں جانے کے لیے کسی ویزے اور اجازت نامے کی ضرورت نہیں تھی ۔ روحانی لحاظ سے مسلم معاشرہ ہمیشہ ایک ہی معاشرہ رہا ہے لیکن جغرافیائی ، لسانی اور مقامی تمدن کے اختلافات کی وجہ سے ان معاشروں کے رسم و رواج اور تعبیرِ اسلام میں فرق رہا ہے ۔ جزیرہ نما عرب کے لوگ سخن ور ، صحرا نورد اور اہلِ سیف تھے۔ اہل فارس نفاست پسند اور فلسفے سے محبت کرنے والے شیریں شاعری والے لوگ تھے ۔ فارس ، عراق اور شام کے مسلم معاشروں پر مقامی پرانی تہذیبوں کے اثرات تھے۔ اسی طرح پاک و ہند ، ملائیشیا، انڈونیشیا وغیرہ کے معاشروں پر بھی قدیم علاقائی تہذیبوں کے اثرات تھے ۔ اہلِ عرب بیرون بین جبکہ فارس اور ہند کے لوگ زیادہ تر دروں بین تھے ۔ سامی اور آریائی تہذیبوں کے فرق کو کوئی بھی غیر جانبدار مو¿رخ اور انصاف پسند تجزیہ نگار نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ وسط ایشیا، فارس ، عراق اور ہند کے معاشروں کی پرانی ثقافت اور تمدن میں صوفیانہ تعبیرِ اسلام کی قبولیت کے میلانات موجود تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان خطوں میں تصوف کو بے پناہ مقبولیت اور شہرت ملی ۔ اس کے برعکس جزیرہ نما عرب میں تصوف کی پذیرائی نہ ہوئی ۔ مسلم معاشروں میں فروعی اختلافات کے باوجود یہ حقیقت بھی نمایاں ہے کہ امت مسلمہ مجموعی لحاظ سے ارکان اسلام پر متفق ہے ۔ توحید و رسالت ، کائنات ، انسان اور آخرت کے بارے میں یکساں اعتقاد نے تمام مسلم معاشروں کو ایک الگ تشخص عطا کیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ مسلم معاشروں کی مختلف ندیاں ایک ہی دریا بناتی ہیں ۔ بالفاظ دیگر مختلف تمدنوں کے دریا امت مسلمہ کے ایک ہی سمندر میں جا گرتے ہیں ۔ مسلم سماج کئی تاریخی تبدیلیوں سے گزرا ہے ۔ ایرانی اور شامی تہذیبوں کے اثرات سے مسلم سماج کی شکل اور مظاہر میں تبدیلیوں کا آنا فطری امر تھا کیونکہ اسلام صرف عربوں کے لیے نہیں آیا تھا کہ وہ عرب تمدن تک محدود رہتا بلکہ اسلام کا پیغام آفاقی اور عالمی تھا ۔ اس لیے جب اسلام دیارِ عرب سے آگے بڑھا تو اس کی تعبیر اور عملی انطباق میں وسعت پیدا ہوتی گئی ۔ بنو اُمیہ کے عہدِ خلافت میں عربی عصبیت کا غلبہ تھا اور بنو عباسیہ کے دور میں ایرانی تمدن کے اثرات نمایاں تھے ۔ اس طرح جب اسلام ملائیشیا، انڈونیشیا اور برصغیر پاک و ہند میں پہنچا تو ان علاقوں کی صدیوں پر محیط تہذیب کے زیرِ اثر ، شجرِ اسلام پروان چڑھا لیکن اسلام کی جڑ یعنی توحید و رسالت ، صوم و صلوٰة و حج اور تصورِ آخرت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ۔اس طرح امت مسلمہ میں سیاسی اور فقہی اختلافات کے باوجود ایک وسیع ثر ثقافت نشوونما پاتی رہی ۔ اس وسیع تر اسلامی ثقافت کی تشکیل و تعمیر میں عرب و عجم ، وسط ایشیا ، جنوب مشرقی ایشیا اور افریقہ و یورپ کے مسلمانوں کا حصہ ہے ۔
ممتاز ایرانی دانشور ڈاکٹر حسین نصر نے اسلامی دنیا کو ثقافتی منطقوں میں تقسیم کیا ہے ۔ پہلا ثقافتی خطہ ، منطقہ عرب ہے جو عراق اور خلیج فارس سے موریتانیا تک اور 1492ءسے پہلے جزیرہ ایبری کے جنوبی حصے تک کے علاقے پر مشتمل تھا ۔ دوسرا ثقافتی خطہ ، ایران، افغانستان ، تاجکستان اور (ازبکستان کے کچھ شہروں) پر مشمل ہے ۔ اسلامی ثقافت کا تیسرا منطقہ براعظم افریقہ ہے ۔ اسلام کا چوتھا ثقافتی منطقہ اُن علاقوں پر مشتمل ہے جو ترکی زبان بولتے ہیں ۔ اسلامی ثقافت کا پانچواں منطقہ برصغیر پاک و ہند ہے ۔اسلامی ثقافت کا چھٹا منطقہ جنوب مشرقی ایشیا کا علاقہ ہے ۔ یہ منطقہ انڈونیشیا ، ملائیشیا ، برونائی ، تھائی لینڈ اور فلپائن کے مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ ان بڑے ثقافتی منطقوں کے علاوہ چینی مسلمانوں پر مشتمل ایک منطقہ بھی ہے جو ساتویں صدی عیسوی میں وجود میں آیا ۔ چینی مسلمانوں کے بعد بلغاریہ ، مقدونیہ ، البانیہ ، کوسووو اور بوسنیا کے مسلمانوں پر مشتمل ایک ثقافتی منطقہ ہے ۔ حسین نصر ان منطقوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں :
اسلامی ثقافت کے یہ منطقے ………… ایک نمائش گاہ کی طرح ہیں جن میں قومیتوں کا ایک عجیب و غریب مجموعہ ، مختلف فنون اور موسیقی کا مجموعہ اور انسانی زندگی کے مختلف آداب دیکھنے کو ملتے ہیں۔ اسلام بورنیو کے جنگلوں سے لے کر کوہ ہندو کش کے پہاڑوں تک اور پھر موریتانیا کے بیابانوں تک اپنے پیروکار رکھتا ہے جن کے درمیان سفید فام ، سیاہ فام ، زرد فام اور حقیقت میں دوسری تمام نسلوں کے لوگ دیکھے جا سکتے ہیں …….. لیکن اِس واضح تنوع کے اندر ایک ایسی وحدت موجود ہے جس کا سرچشمہ اسلام ہے اور اِس کے جلووں کو ، عربی زبان میں قرآن حکیم کی تلاوت میں ، مشرق سے لے کر مغرب تک میں ہر روز مکہ کی طرف منہ کرکے نمازوں کی اقامت میں ، رسول اکرم ا کی شریعت کی پیروی میں، ایک نمونہ قرار دینے میں ، صوفیہ کے گروہوں کی معنوی خوشبو میں ، نقش و نگار میں ، اسلامی آرٹ میں، موجود جامع ہم آہنگیوں میں اور دوسرے بہت سے عوامل میں دیکھا جا سکتا ہے ۔
علامہ اقبال اس اجتماعی ثقافت کی وضاحت کرکے ہر مسلمان کو ملتِ اسلامیہ کا ایک فعال رکن بننے کے لیے اجتماعی وحدت کی تلقین کرتے ہیں ۔ وہ فرماتے ہیں :
یہ زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد ہے عرب قوم کہ جو اسلام کی اولین تخلیق ہے ، اسلام کی سیاسی نشوونما میں ایک بڑے موثر عامل کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اسلامی فکر و ادب کے بیش قیمت سرمائے کی تخلیق جو روح کی اعلیٰ تر زندگی کا عملی اظہار بھی ہے، زیادہ تر عرب اقوام کا ہی کام ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے اسلام کا ظہور عرب قوم کی تاریخ حیات میں الٰہی آگاہی کی ایک لمحاتی چمک تھی ۔ اِس کی روحانی قابلیتوں اور توانائیوں کی نشوونما کا کام تو غیر عرب لوگوں کی دماغی قابلیتوں کے ساتھ مشرو ط تھا۔ محض اسلامی اُصولوں پر یقین بھی بے حد ضروری ہے لیکن صرف یہی کافی نہیں ہے ۔ اجتماعی زندگی کی سرگرمیوں میں مثبت حصہ لینے کے لیے فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو اندر سے یعنی قلبی طور پر تبدیل کرے ۔ اس مکمل ترین قلبی تبدیلی کی حفاظت بیرونی طور پر ارکان اسلامی کی پابندی سے ہوتی ہے تو اندرونی طور پر یک رنگ تمدن ان کی حفاظت کرتا ہے ۔ یہ یک رنگ تمدن ہمارے اپنے آباءو اجداد کی پیدا کردہ عقلی قوت بھی ہے ۔ مسلمانوں کی تاریخ پر آپ جتنا بھی غور کریں گے یہ اتنی ہی حیرت انگیز نظر آئے گی ۔ اپنی ابتدا سے لے کر سویں صدی کے آغاز یعنی تقریباً ایک ہزار برس تک یہ پُرجوش اورپُر طاقت قوم سیاسی توسیع میں ہمہ تن مصروف رہی لیکن پھر بھی اپنی مسلسل سرگرمیوں کے طوفان میں مسلم دنیا نے علم و حکمت کے قدیم خزانوں کو دریافت کرنے کے لیے وقت نکال ہی لیا اور ان میں ٹھوس اضافے بھی کیے ۔ ادبیات کا بے مثل سرمایہ تخلیق کیا اور ان سب سے بڑھ کر قانون کا ایک جامع تر نظام تیار کیا جو اسلامی تمدن کا ہمارے لیے غالباً سب سے گراں قدر ورثہ ہے ۔ ملت اسلامیہ جس طرح رنگ و نسل کے اختلافات کو تسلیم نہیں کرتی اور دنیا کی تمام نسلوں کو انسانیت کے عالمگیر تصور کے تحت یکجا کرنے کو اپنا مطمح نظر بنائے ہوئے ہے ۔ اسی طرح ہمارا تمدن بھی عالمگیر ہے ۔ یہ تمدن اپنی حیات اور نشوونما کے لیے کسی خاص قوم کے لوگوں کی فطانت کا احسان مند نہیں ہے ۔ ہاں ایران شاید اس تمدن کی تشکیل کا نمایاں تر عنصر ہے ۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ تاریخ اسلام کا سب سے اہم واقعہ کون سا ہے تو میں فوراً جواب دوں گا کہ ایران کی تسخیر۔ نہاوند کی لڑائی نے عربوں کو صرف ایک خوبصورت خطے ہی کا مالک نہیں بنایا بلکہ اس کے ساتھ ہی ایسے قدیم اور تجربہ کار لوگ بھی میسر آئے جو سامی اور آریائی مواد کے حسین امتزاج سے ایک نئی تہذیب کی تشکیل کر سکتے تھے۔ ہماری اسلامی تہذیب سامی اور آریہ تصورات کے اختلاط کی پیداوار ہے ۔ اس تہذیب کو نزاکت و نفاست اپنی آریہ ماں سے اور کھرا اور سچا کردار اپنے سامی باپ سے ورثے میں ملا ہے ۔ تسخیرِ ایران نے مسلمانوں کو وہی کچھ دیا جو تسخیر یونان نے رومیوں کو، لیکن ایران کے بغیر ہمارا تمدن بالکل یک رخا ہوتا اور وہ لوگ جن کے اختلاط نے عربوں اور مغلوں کو بالکل تبدیل کرکے رکھ دیا ، عقلی اعتبار سے بے جان نہیں ہوئے ۔ ایران جس کے خود مختار سیاسی وجود کو روس کی غاصبانہ خواہشات نے خطرے میں ڈال رکھا ہے اب بھی اسلامی تمدن کا ایک حقیقی مرکز ہے اور میں صرف یہ امید ہی کر سکتا ہوں کہ وہ اپنی اس ممتاز حیثیت کو جو دنیائے اسلام میں اُسے ہمیشہ حاصل رہی ہے ، برقرار رکھے ۔ ایران کے شاہی خاندان کے لیے ایران کی سیاسی آزادی کے نقصان کا مطلب محض یہ ہوگا جیسے زمین کا کوئی چھوٹا سا ٹکڑا ہاتھ سے نکل گیا ہو ۔ لیکن اسلامی تمدن کے لیے یہ واقعہ دسویں صدی میں تاتاریوں کی جارحیت سے زیادہ پریشان کن ہوگا۔ لیکن یہاں میں شاید سیاست کی طرف نکل گیا جو اس وقت میرا موضوعِ بحث نہیں ہے ۔ ان سب باتوں سے میں صرف یہ باور کرانا چاہتا ہوں کہ ملت اسلامیہ کا ایک فعال رکن بننے کے لیے فرد کو مذہبی اُصولوں پر غیر مشروط ایمان لانے کے ساتھ ساتھ اسلامی تمدن میں بھی رچ بس جانا چاہیے ۔اس رچ بس جانے کا مقصد یہ ہے کہ یک رنگ ذہنی ہم آہنگی تخلیق کی جائے (یعنی) دنیا کو دیکھنے کا ایک مخصوص طریقہ اختیار کیا جائے ، ایک حتمی موقف اپنایا جائے جس کے ذریعے اشیاءکی قدر و قیمت کو جانچا جا سکے ۔ایک ایسا موقف جو ہماری جماعت کی وضاحت کرے ، اسے اجتماعی وحدت میں تبدیل کرے، اسے ایک حتمی مقصد اور اپنی ماہیت کا ادراک عطا کرے۔
مسلم تہذیب اقوام عالم میں ایک اہم مقام اور حیثیت کی حامل رہی ہے ۔ اس تہذیب نے عروج کے ایام بھی دیکھے اور ایک ایسا وقت بھی آیا جب یہ مکمل زوال سے ہمکنار ہوگئی اور مغربی تہذیب نے دنیا کے بیشتر علاقوں کو محکوم بنا لیا۔
ہر تہذیب میں ایک سے زیادہ ریاستیں شامل ہوتی ہیں ۔ اکثر اوقات ان ریاستوں کے مابین رقابت اور خصومت جاری رہتی ہے ۔ آٹھویں صدی سے بارھویں صدی تک یہ مخاصمت بازنطینی عیسائی تہذیب اور اسلامی تہذیب کے درمیان تھی ۔ اس دور میں اسلامی ریاستیں عیسائی ریاستوں کے مقابلے میں کامیاب رہیں ۔ اسی دور میں صلیبی جنگیں لڑی گئیں جس میں مسلمان جیت گئے اس فتح کو عیسائی تہذیب آج تک نہیں بھول سکی ۔ سولہویں صدی سے انیسویں صدی کے اختتام تک مغربی تہذیب نے دونوں امریکہ٭ ، افریقہ (ترکی کو چھوڑ کر) مشرق وسطیٰ ، برصغیر پاک و ہند ، انڈونیشیا ، جنوب مشرقی ایشا کے وسیع و عریض علاقوں پر نو آبادیاتی نظام قائم رکھا ۔ اس یورپی استحصالی نظام نے نو آبادیات کے قدرتی وسائل سے اس طرح استفادہ کیا کہ امیر شمال اور غریب جنوب کی شناخت وجود میں آئی ۔
علامہ اقبال تاریخِ عالم اور مسلم تاریخ کے مطالعہ سے اِس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں میں پچھلی کئی صدیوں سے مجتہدانہ فکر کا فقدان رہا ۔ علوم میں اُن کی پس ماندگی بالخصوص سائنسی علوم سے بے اعتنائی اُن کی اجتماعی زندگی کی پہچان بن گئی ۔ مسلم معاشروں کا جمود، بے عملی ، تقدیر پرستی اور فرقہ واریت نے اُن کو غریب ، کمزور ، بے ہمت ، مایوس اور محکوم بنا دیا تھا ۔ عہدِ اقبال میں یہی بڑے بڑے عمرانی مسائل تھے جن کی طرف اقبال مسلمانوں کو متوجہ کرنا چاہتے تھے ۔ ان کے حل کے لیے اُنھوں نے اپنی منظومات اور تحریروں سے تفکر کا نیا راستہ دکھایا ۔

یہ بھی پڑھیں:  متبادل تصوف(۲)