پہلی جنگ

دوسری جنگ عظیم اور ہندوستانی سپاہی

EjazNews

جب سر پرتاب سنگھ کے متبنیٰ ایدر کے راجپوت راجہ سے فرانس میں ایک انگریز نے پوچھا کہ ” کیا تم جانتے ہو یہ جنگ کس لیے ہو رہی ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا۔ ” ہاں یہ دھرم یدھ (جنگ ایمان) ہے ہندوستان اپنا فرض ادا کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے فرض سے اچھی طرح واقف ہے۔ اس کا فرض انگریز سپاہیوں کے پہلو بہ پہلو شہنشاہ کی خاطر لڑنا ہے۔ اس کام کے لیے ہندوستان کی تعریف کرنے کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ ادائیگی فرض کی عزت ہی اس کے لیے سب سے بڑی عزت ہے۔ ہمیں اس امر کا فخر ہے کہ شہنشاہ نے ہمیں اس جنگ میں اپنے لیے لڑنے کو یاد فرمایا ہے۔ ہم جو یہاں آئے ہیں اپنی خوش قسمتی پر نہایت نازاں ہیں۔ وہ جو نہیں آ سکے اور ہندوستان میں پیچھے رہ گئے ہیں اپنی کم نصیبی پر رنجیدہ اور مایوس ہیں۔ ان کے دل ٹوٹ گئے ہیں۔ اس لیے کہ انہیں بھی یہ موقع کیوں نصیب نہیں ہوا۔ ہمارے آدمی ہماری تلواریں ہمارے خزانے غرضیکہ سب کچھ جو ہمارا ہے شہنشاہ کا ہے۔ ہمارے مرنے کے لیے اس سے زیادہ شاندار موقع اور کیا ہو سکتا ہے کیونکہ انصاف اور ایک پاکیزہ اصول کی حمایت میں لڑتے ہوئے کام آنا نہایت شاندار ہے۔ جنگ میں لڑتے ہوئے مرنا موت نہیں بلکہ حیات ابدی ہے کیونکہ اس موت سے ہی ہمارا نام ہمیشہ کے لیے زندہ رہ سکتا ہے۔

مختصر تحریر میں فرانس کی جنگ عظیم کا مفصل حال تحریر کرنے کی گنجائش نہیں جس میں ہندوستانی فوجوں نے حصہ لے کر اپنی ہمت، جرات، بہادری اور دلاوری کے ایسے شاندار کارنامے دکھائے جو صفحہ ہستی پر ہمیشہ یادگار رہیں گے۔ میدان جنگ میں بہادری کے لیے سب سے بڑا اعزازی انعام تمغہ وکٹوریہ کراس ہے جو کہ اب تک صرف انگریز سپاہیوں کو دیا جاتا تھا مگر اس جنگ میں کئی ہندوستانی بہادروں کو بھی عطا ہوا۔ اس جنگ میں (اکتوبر 1918ءتک) دس ہندوستانیوں نے یہ اعلیٰ ترین اعزاز حاصل کیا۔
پہلا ہندوستانی جس نے وکٹوریہ کراس حاصل کیا ایک پنجابی مسلمان سپاہی تھا۔ اس کا نام خداداد ہے اپنی کمپنی بھر میں وہی ایک اکیلا آدمی تھا جو 31 اکتوبر 1914ءکی ایک زبردست لڑائی میں زندہ بچا۔ اس کے تمام ساتھی میدان میں کام آ چکے تھے۔ وہ بھی سخت زخمی ہوا تھا اور دشمن اسے مردہ خیال کر کے میدان جنگ میں چھوڑ گئے تھے مگر اسے جلد ہی ہوش آ گیا اور وہ رات کو آہستہ آہستہ اپنے کیمپ میں آگیا۔

یہ بھی پڑھیں:  عہد فیروزی

دوسرا جوان جس نے ”وکٹوریہ کراس“ کا اعزاز حاصل کیا۔ ایک ہندوستانی گڑھوالی تھا جو کوہ ہمایہ کا رہنے والا ہے۔ اس کا نام نایک دربان سنگھ نیگی ہے۔ 27 نومبر 1914ءکی ایک جنگ میں 21 روز کی مسلسل لڑائی کے بعد جب اس کے تمام انگریز افسر یکے بعد دیگرے کمپنی کی کمان کرتے ہوئے کام آئے تو اس نے خود کمان ہاتھ میں لی اور اگرچہ وہ سخت زخمی ہو رہا تھا مگر اسی حالت میں اس نے دشمن پر حملہ کر کے اس کو شکست دے کر اس کی بہت سی توپیں چھین لیں اور اپنے آدمیوں کو جو اس ہنگامہ محشر میں شہید ہونے سے بچ گئے تھے بحفاظت واپس لے آیا۔

1915ءمیں یعنی جنگ کے دوسرے سال ہندوستانی فوجیں جو فرانس میں نہایت شاندار طریقے پر اپنی خدمات سرانجام دے چکی تھیں۔ دوسرے ممالک میں بھیج دی گئیں۔ جہاں ترکوں کے ساتھ جنگ و جدل جاری تھی۔ اس وقت ترکوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس چار سالہ جنگ میں پانچ لاکھ جوان انگریز و ہندوستانی دونوں گیلی پولی (ترکی) مصر، عرب، میسوپوٹیمیا (عراق عرب) مشرقی افریقہ میں داد شجاعت دینے کے لیے ہندوستان سے بھیجے گئے اور وہ ہر ملک میں اپنے انگریز ہمراہیوں کے پہلو بہ پہلو جانبازی دکھا کر شہرت و عزت حاصل کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں:  خالق دینا ہال، ایک صدی کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے

لارڈ چمیسفورڈ 1916ءمیں وائسرائے ہو کر ہندوستان میں تشریف لائے۔ ان کا سب سے بڑا کام دیگر ممالک میں گئی ہوئی فوجوں کے لیے آدمی اور سامان جنگ بھیجنا تھا لیکن اس خوفناک عالمگیر جنگ کے دوران میں بھی وہ ملکی اصلاحوں کو نہیں بھولے۔ 1918ءمیں وزیر ہند مسٹر مانٹیگو ہندوستان تشریف لا کر چھ مہینہ تک اس ملک میں قیام پذیر رہے۔ آپ نے تقریباً تمام بڑے بڑے شہروں کا دورہ کیا اور سینکڑوں سربرآوردہ ہندوستانیوں اور بہت سے والیانِ ریاست سے ملاقات اور گفتگو کی۔ آپ یہ دریافت کرنے کے لیے تشریف لائے تھے کہ ہندوستانیوں کو اپنے ملک کی حکومت میں زیادہ حصہ دینے اور ڈسٹرکٹ بورڈوں اور میونسپل بوروڈوں میں منتخب ممبروں کی تعداد بڑھانے اور ان کونسلوں کو اس وقت کی نسبت زیادہ اختیارات عطا کرنے کے متعلق کیا مزید ذرائع اختیار کیے جانے مناسب ہیں۔ اس سے پہلے کبھی کوئی وزیر ہندوستان تشریف نہیں لائے۔ مانٹیگو اور لارڈ چیمسفورڈ نے اس بارے میں اپنی رپورٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کی غرض سے داخل کر دی۔

1917ءمیں دوران جنگ میں سلطنت برطانیہ کے انتظام کے لیے ایک شاہی جنگی کونسل لندن میں قائم کی گئی جس میں دو ہندوستانی ممبر بھی شامل کیے گئے۔ ان میں سے ایک مہاراجہ بیکانیر راجگانِ ہند کے قائم مقام تھے اور دوسرے سر ایس پی سنہا رعایائے ہند کے قائم مقام تھے جو لارڈ منٹو کے عہد حکومت میں وائسرائے کی انتظامیہ کونسل کے پہلے ہندوستانی ممبر تھے۔ یہ اصحاب وزیراعظم سلطنت برطانیہ اور بڑی بڑی نو آبادیوں یعنی کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور نیو فاﺅنڈلینڈ کے دیگر آٹھ وزیروں اور قائم مقاموں کے پہلو بہ پہلو کونسل میں بیٹھتے تھے اور برٹش ہند کے نئے نظام کے بموجب لارڈ سنہا صوبہ بہار و اڑیسہ کے گورنر مقرر ہوئے۔ یہ انگریزی سلطنت میں پہلے ہندوستانی حکمران تھے۔

بالآخر ماہ نومبر 1918ءمیں یہ جنگ عظیم ختم ہوئی۔ اہل جرمن اور ان کے ہمراہیوں نے شکست فاش کھائی اور صلح کے ملتجی ہوئے۔ ان کا قیصر اپنے تاج و تخت سے دستبردار ہو کر ایک غیر جانبدار ملک ہالینڈ میں پناہ گزیں ہوا۔ جہاں کہ وہ ہر طرح محفوظ تھا۔ 11 نومبر 1918ءکو فریقین عارضی صلح پر رضامند ہو گئے یعنی صلح کا آخری اعلان ہونے تک لڑائی بند کر دی گئی۔ اہل جرمنی کو مجبوراً اپنی فوجیں برخاست کرنی پڑیں اور اپنے جنگی جہاز، توپیں اور تمام ملک جو انہوں نے پائمال کیے تھے فاتحوں کے حوالے کرنے پڑے۔ تمام متحدہ طاقتوں کی ایک کانفرنس اپریل 1919ءمیں پیرس دارالخلافہ فرانس میں منعقد ہوئی تاکہ آخری صلح کی شرائط طے کی جائیں اور اس امر کا فیصلہ کیا جائے کہ جرمنی کو اس کے جرائم کی پاداش میں کیا سزا ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  خلجی خاندان کا خاتمہ

1919ءکے آغاز میں سر ایس پی سہنا کو انگلستان کے لارڈ ہونے کا اعزاز عطا کیا گیا اور صاحب موصوف دیوان الامرا (ہاﺅس آف لارڈ) میں بطور لارڈ سہنا آف رائے پور اور سلطنت کے پہلے ہندوستانی لارڈ کی حیثیت سے رونق افروز ہوئے۔ نیز انہیں شاہی وکیل اور نائب وزیر ہند مقرر کیا گیا۔ کسی ہندوستانی کو اس سے پیشتر یہ اعزاز نصیب نہیں ہوا تھا۔ یہ تقرر ظاہر کرتے ہیں کہ سرکار برطانیہ کی کیسی زبردست خواہش ہے کہ قابل ہندوستانیوں کی عزت افزائی کی جائے اور اپنے ملک کی حکومت میں حصہ دیا جائے۔ لارڈ سہنا اور مہاراجہ بیکانیر دونوں صلح کی کانفرنس میں بطور قائم مقامانِ ہند شامل تھے جو مقام پیرس پر تمام قوموں کے درمیان صلح قائم کرنے کی تجاویز پر غور کر رہی تھی۔

اپریل 1921ءمیں لارڈ چیمسفورڈ اپنے عہد کے اختتام پر انگلستان واپس چلے گئے اور ان کی جگہ لارڈ ریڈنگ وائسرائے مقرر ہوئے۔ آپ انگلستان کے لارڈ چیف جسٹس تھے اور ہندوستان کے نئے نظام کے مطابق حکومت کرنے کے نہایت موزوں تھے۔ آپ کی جگہ پر 1927ءمیں لارڈ ارون وائسرائے مقرر ہوئے۔