Tress

درخت لگانے سے متعلق دین اسلام کیا کہتا ہے؟

EjazNews

درخت، ماحولیاتی آلودگی سے تحفظ اور صاف، شفّاف ہوا فراہم کرنے کا اہم ذریعہ ہیں۔ قرآنِ مجید میں نباتات کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت قرار دیا ہے۔ ایک جگہ آسمان سے برسائے جانے والے پانی اور اس کے فوائد سے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔

ترجمہ:’’ وہی(اللہ) ہے، جو تمہارے فائدے کے لیے آسمان سے پانی برساتا ہے، جسے تم پیتے ہو اور اس سے اُگے درختوں سے اپنے جانور چَراتے ہو۔ اس سے وہ تمہارے لیے کھیتی، زیتون، کھجور، انگور اور ہر قسم کے پھل اُگاتا ہے۔ بے شک، اُن لوگوں کے لیے تو اس میں نشانی ہے، جو غوروفکر کرتے ہیں‘‘(النحل۱۰:۔ ۱۱)۔

ایک مقام پر شہد کی مکھیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ مختلف درختوں اور پودوں سے رَس چوس کر شہد جیسی نعمت کے وجود میں آنے کا ذریعہ بنتی ہیں۔ نیز، اللہ تعالیٰ نے درختوں اور دیگر اشیاء کے سائے کا تذکرہ بطور احسان کیا ہے۔ ارشاد ہے
ترجمہ:’’ اور اللہ ہی نے تمہارے لیے اپنی پیدا کردہ چیزوں میں سائے بنائے ‘‘(النحل ۸۱:)۔

ایک مقام پر زیتون کے درخت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا
ترجمہ:’’ اور (پیداکیا) وہ درخت، جو طور سینا سے نکلتا ہے۔ جو کھانے والوں کے لیے روغن اور سالن لے کر اُگتا ہے‘‘ (المؤمنون۲۰:)۔

یہ بھی پڑھیں:  پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو خوش اسلوبی سے نبھائیں

درختوں اور پودوں سے جہاں پھل حاصل ہوتے ہیں، وہیں اُن سے انسانوں اور جانوروں کے لیے اناج بھی ملتا ہے۔ شدید دھوپ میں راہ گیروں پر سایا کرتے ہیں، تو ان سے ایندھن اور فرنیچر کے لیے لکڑی حاصل ہوتی ہے۔ درخت، ماحولیاتی کثافت کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں اور صاف و شفّاف ہوا فراہم کرتے ہیں۔ ان سے جان داروں کو آکسیجن ملتی ہے، تو یہی ہواؤں کی رفتار میں اعتدال پیدا کرتے ہیں۔ نیز ان سے درجہ حرارت میں تخفیف ہوتی ہے۔ اسی لیے اسلام میں ایک طرف درختوں کی کٹائی سے منع کیا گیا، تو دوسری جانب، شجر کاری کی ترغیب بھی دی گئی۔ درختوں کی حفاظت پر اس قدر زور دیا گیا کہ جنگوں تک میں کھیتوں اور درختوں کے جلانے کو ممنوع قرار دیا گیا، چنانچہ حضرت صدیق ِاکبرؓ نے روایت کیا ہے

ترجمہ:’’ آپﷺ نے مجاہدین کو خاص طور پر درخت اور کھیت برباد کرنے سے منع فرمایا‘‘(ترمذی)۔

Tress-new
اسلام صفائی ستھرائی پر زور دیتا ہے تاکہ نجاست اور گندگی کے سبب ماحول آلودہ ہونے سے محفوظ رہے۔

اگر کوئی شخص درخت لگائے اور اُسے کوئی جانور کھا لے، تب بھی اُس پر ثواب کی بشارت دی گئی ہے۔
ارشادِ نبویﷺ ہے کہ ’’ مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگائے اور اس میں سے انسان، درندہ، پرندہ یا چوپایا کھائے، تو وہ اس کے لیے صدقہ ہو جاتا ہے‘‘(مسلم شریف285:)۔
ایک اور موقعہ پر آپ ﷺنے شجرکاری کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا’’ جو کوئی درخت لگائے، پھر اُس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے، یہاں تک کہ وہ پھل دینے لگے۔ اب اس درخت کا جو کچھ نقصان ہوگا، وہ اس کے لیے اللہ کے یہاں صدقے کا سبب ہوگا‘‘(مسند احمد4:؍61)۔
ایک موقعہ پر آپ ﷺنے بنجر اور غیرآباد زمین کو کاشت کے لیے استعمال کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا’’ جس کے پاس زمین ہو، اُسے اُس زمین میں کاشت کاری کرنی چاہیے، اگر وہ خود کاشت نہ کرسکتا ہو، تو اپنے کسی مسلمان بھائی کو دے تاکہ وہ کاشت کرے۔ (مسلم شریف، حدیث نمبر1536: )۔
رسول اللہﷺ کی انہی ترغیبات کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرامؓ شجرکاری کا خاص اہتمام فرماتے تھے۔ حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے حضرت ابودرداءؓ سے نقل کیا ہے کہ صحابہ کرامؓ صدقے کی نیت سے درخت لگانے کا خاص اہتمام فرماتے تھے (مجمع الزوائد4:؍68)۔
نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ’’ اگر قیامت برپا ہورہی ہو اور تمہیں پودا لگانے کی نیکی کا موقع مل جائے، تو فوری اس نیکی میں شامل ہوجاؤ‘‘۔
اس ارشاد کا مقصود اگرچہ نیکی کے مواقع کو غنیمت جاننے کی تاکید ہے، لیکن بے شمار نیکیوں میں سے آپ ﷺنے پودا لگانے کا انتخاب کرکے شجرکاری کی افادیت کو اجاگر فرمایا۔

یہ بھی پڑھیں:  مسئلہ کشمیر کب اور کیوں پیدا ہوا؟

اِن دنوں دنیا کو کئی طرح کی آلودگیوں کا سامنا ہے، جن سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ خود پاکستان بھی ان آلودگیوں کی لپیٹ میں ہے، بلکہ حفاظتی انتظامات نہ ہونے کے سبب ہمیں تو باقی دنیا سے کہیں بڑھ کر خطرات کا سامنا ہے۔ ایسے میں ہم پر لازم ہے کہ اپنی اسلامی اور قومی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ شجرکاری کریں تاکہ اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف و شفّاف بنا سکیں۔ بلاشبہ اسلام کی تعلیمات کامیابی کی ضامن ہیں، ان پر عمل سے انسان کو دونوں جہانوں کا سکون ملتا ہے۔ اسلام صفائی ستھرائی پر زور دیتا ہے تاکہ نجاست اور گندگی کے سبب ماحول آلودہ ہونے سے محفوظ رہے۔