election commission of pakistan

مسلم لیگ ن نے 2018 ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست واپس لے لی

EjazNews

الیکشن کمیشن میں سینیٹ انتخابات 2018 کے ویڈیو سکینڈل کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست میں عمران خان، پرویز خٹک اور متعلقہ اراکین اسمبلی کو فریق بنایا تھا۔

الیکشن کمیشن کے ممبر پنجاب الطاف قریشی نے استفسار کیا کہ آپ کے پاس ہارس ٹریڈنگ کے کیا شواہد ہیں؟ عمران خان اور اسد قیصر کا کیا ویڈیو سے کیا تعلق ہے؟

وکیل ن لیگ جہانگیر جدون نے کہا کہ سپیکر ہاوس میں رقم کا لین دین ہوا۔

ممبر پنجاب الطاف قریشی نے استفسار کیا کہ جس ایم پی اے پر الزام لگا رہے ہیں ان کا بیان کہاں ہے؟ جن لوگوں میں رقم کا لین دین ہوا انہیں فریق ہی نہیں بنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے تو نہیں ہوتا کہ کوئی بھی ویڈیو آئے اور ہم حکم جاری کر دیں۔ وکیل ن لیگ نے کہا عمران خان کو نوٹس کریں وہ بتائیں کہ انہوں نے کیا کارروائی کی۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا کو جیت لینے والے الفاظ

الطاف قریشی کا کہنا تھا کہ صرف میڈیا بیان بازی پر کسی کو نااہل نہیں کر سکتے۔ پہلے اپنی درخواست کو ٹھیک کریں۔ آپ ویڈیو میں موجود افراد کو نہیں پہچانتے تو ہم کیسے جان سکتے؟۔

وکیل ن لیگ نے کہا وزیراعظم کہتے ہیں ایجنسیوں سے الیکشن کمیشن پوچھے۔

ممبر الیکشن کمیشن نے کہا کہ وزیراعظم کسی کا نام بھیجیں یا خود تحقیقات کرائیں۔ میڈیا بیانات پر نااہلی ہونے لگی تو کورم بھی پورا نہیں ہوگا۔

انہوں نے جہانگیر جدون کو ہدایت کی کہ بہتر ہوگا یہ درخواست واپس لیکر نئی پٹیشن دائر کریں۔
مسلم لیگ ن نے 2018 ویڈیو سکینڈل کی تحقیقات کیلئے دائر درخواست واپس لے لی۔