world-wars-crop

پہلی جنگ عظیم اور ہندوستان(1914ءسے 1918ءتک)

EjazNews

یہ جنگِ عظیم تاریخ دنیا میں اپنی نظیر نہیں رکھتی۔ اس میں تین کروڑ سے زیادہ آدمی شامل تھے۔ دنیا کی قریباً ہر ایک قوم شامل تھی۔ ایک طرف جرمنی، آسٹریا، ترکی اور بلغاریہ تھے۔ انہیں اقوام وسطی کہا جاتا تھا۔ دوسری جانب انگلستان، فرانس، اٹلی، بیلجیئم، یونان، اضلاع متحدہ امریکہ اور کئی چھوٹی قومیں تھیں۔ یہ متحدہ طاقتوں کے نام سے پکارے جاتے تھے۔

جرمن ایک عرصہ دراز سے انگریزوں اور فرانسیسیوں سے نفرت کرتے چلے آئے ہیں۔ جن سے کہ وہ حسد کرتے ہیں۔ اس لیے وہ چالیس سال سے جنگ کے متعلق تیاریوں میں مصروف تھے۔ ان کے پاس لاکھوںسپاہیوں کی ایک فوج عظیم، ایک زبردست بحری بیڑہ، ہزاروں بڑی بڑی توپیں، جن میں سے بعض دنیا بھر میں سب سے بڑی تھیں اور ہر قسم کا لاتعداد سامان موجود تھا۔ انہوں نے اپنی جنگی تیاریوں کو ایسا پوشیدہ رکھا کہ کسی کو کانوں کان بھی اس کی خبر نہ ہوئی اور بظاہر انہوں نے اپنی روش ایسی دوستانہ رکھی کہ انگریزوں اور فرانسیسیوں نے کبھی ایک منٹ کے لیے بھی انہیں اپنے خون کا پیاسا اور جانی دشمن نہ سمجھا۔

ان کا منشا یہ تھا کہ پہلے فرانس پر حملہ کر کے پیرس پر قبضہ کر لیں اور پھر انگلستان پر چڑھ آئیں ہر ملک میں ان کے جاسوس جوق در جوق موجود تھے۔ حتیٰ کہ ہندوستان بھی خالی نہ تھا۔ انہیں معلوم تھا کہ انگریزوں کی فوج کچھ بہت زیادہ نہیں، سامان جنگ بھی ان کے پاس کچھ بہت مقدار میں تیار نہیں، کیونکہ وہ ایک امن پسند قوم ہے اور دوسروں کو تکلیف پہنچانا نہیں چاہتی۔ جرمنوں نے سوچا تھا کہ وہ انگلستان کو بہ آسانی فتح کر لیں گے اس کے بعد ان کا ارادہ تمام یورپ کو فتح کرنے کا تھا۔ پھر تمام دنیا کو، جس میں ہندوستان بھی شامل تھا۔ ”جرمنی سب کا سرتاج ہے“ یہ ان کا مقولہ تھا۔ چنانچہ لڑائی چھڑتے ہی قیصر جرمن، یعنی شہنشاہ جرمنی نے کھلم کھلا یہ لاف زنی شروع کر دی تھی کہ وہ ہندوستان کے باشندوں پر بھاری بھاری ٹیکس لگائے گا اور ہندوستان کے شہزادوں سے خراج کے طور پر بڑی بڑی رقمیں وصول کرے گا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ”ہندوستان کی لوٹ سے جرمنی مالا مال ہو جائے گا۔“

جب سب تیاریاں مکمل ہو چکیں تو آسٹریوں نے چھوٹے سے ملک سرویا پر چڑھائی کر دی۔ جرمنوں نے ایک اور چھوٹے سے ملک بیلجیئم میں گھس کر فرانس پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی اور جرمن جرنیلوں نے کہا کہ ہم دس دن میں پیرس پہنچ جائیں گے۔

لیکن شاہ بیلجیئم نے انگلستان کے بادشاہ جارج سے امداد طلب کی اور اپنی مختصر سی لیکن بہادر فوج کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے کر نہایت مردانگی اور جرات سے جرمنوں کی بیشمار فوج کا مقابلہ کیا اور دو ماہ تک اسے اپنی سرحد پر ہی روکے رکھا۔ حتیٰ کہ انگریزوں کو فرانس کی مدد کے لیے پہنچنے کا موقع مل گیا۔ اس اثناءمیں بیلجیئم تہ و بالا کر دیا گیا لیکن بہادر بلجموں نے داد مردانگی دے کر اتحادیوں کو بچا لیا۔ ان کے پاس اپنے چھوٹے سے ملک کا صرف ایک گوشہ باقی رہ گیا تھا جو کہ آخری وقت تک ان کے بہادر بادشاہ اور اس کی باقی ماندہ جانباز فوج کے قبضہ میں رہا۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں مسلمانوں کی حکومت اور اس کے اثرات

انگریز فوج نہایت محدود تھی۔ اس میں صرف دو لاکھ کے قریب جوان تھے۔ قیصر اسے ”قابل حقیر چھوٹی سی فوج“ کے نام سے یاد کیا کرتا تھا لیکن پھر بھی عظیم جرمن لشکر جو اس سے دس گنا تھا۔ اپنی حسب توقع اس میں سے گزر کر پیرس تک نہ پہنچ سکا۔ گو ان میں سے بہت کم انگریز سپاہی زندہ بچے لیکن پھر بھی وہ فرانسیسیوں کے پہلو بہ پہلو میدان جنگ میں ڈٹے ہی رہے۔ حتی کہ کمک پہنچ گئی۔

لارڈ کچز جو کہ ہندوستانی فوجوں کے بھی کمانڈر انچیف (سپہ سالار) رہ چکے تھے۔ اب تمام انگریز فوج کے کمانڈر انچیف تھے۔ انہوں نے فوجیں، توپیں، گولے اور دیگر سامان جنگ سب چیزیں جس قدر وہ تیار کرا سکے تیار کرائیں اور انہیں فرانس بھیجا۔ اس جنگ کا اعلان ہوتے ہی تمام برطانوی قوم نے ہتھیار سنبھال لیے۔ ایک سال کے اندر ہی اندر لاکھوں تربیت یافتہ سپاہی میدان جنگ میں پہنچ گئے۔ اس کے بعد دس ہزار سوار بھیجے گئے پھر ایک اور فوج بھیجی گئی جو کہ بہت عظیم الشان تھی اور جس سے بڑی فوج اس سے پہلے برطانیہ میں کبھی بھرتی نہ کی گئی تھی۔ کسانوں نے اپنے کھیتوں کو، گڈریوں نے اپنے ریوڑوں کو، کلرکوں نے اپنی دکانوں، دفتروں اور بینکوں کو اور مزدوروں نے اپنے ورک شاپوں اور کارخانوں کو اور طالب علموں نے اپنے کالجوں اور سکولوں کو چھوڑ دیا۔ لاکھوں آدمی سترہ سال کے لڑکوں سے لے کر پچاس سالہ بوڑھوں تک اپنا اپنا معمولی کام کاج چھوڑ کر تعلیمی کیمپوں میں پہنچ گئے اور وہاں قواعد اور دیگر فنون حرب سیکھ کر فرانس کے میدان جنگ میں جا ڈٹے۔ امیر و غریب غرضیکہ ہر طبقہ کے لوگوں نے اس میں حصہ لیا۔ معزز رﺅسا، ڈیوکوں، ارلوں اور لارڈوں کے لڑکوں حتیٰ کہ شہزادہ ویلز تک اوسط اور ادنیٰ درجے کے جوانوں کے پہلو بہ پہلو فوجوں میں داخل ہو گئے۔ ان کی جگہ ان کی بیویوں، ماﺅں، بہنوں اور بیٹیوں نے گھروں پر اور ملک میں ہر حیثیت سے کام کیا۔ انگلستان کی عورتوں نے اپنے نرم و نازک ہاتھوں سے کھیتوں میں ہل چلائے، فصلیں کاٹیں، دکانوں اور دفتروں میں کام کیے، کارخانوں اور ورک شاپوں میں جا کے بندوقیں ڈھالیں، بارود بنائی، گولے اور گولیاں تیار کیں اور ہر چیز جس کی کہ میدان جنگ میں ضرورت پڑی مہیا کی۔ ہزاروں عورتیں زخمی سپاہیوں کی خدمت اور مرہم پٹی کرنے کے لیے انگلستان کے ہسپتالوں اور فرانس کے فوجی ہسپتالوں میں داخل ہو گئیں جو کہ میدان جنگ کے اندر ڈیروں میں عارضی طور پر بنائے گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور شہر ہندو، مسلمان اور انگریز ادوار میں

جنگ کا اعلان ہوتے ہی سلطنت برطانیہ کی تمام نو آبادیوں، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک نے جو سلطنت میں شامل ہیں سپاہی، روپے اور سامان جنگ انگلستان بھیج کر مادر وطن کی مدد کی۔

ہندوستان بھی سلطنت برطانیہ کے دیگر ممالک کی طرح مدد دینے کے لیے ہر وقت مستعد اور کمر بستہ رہا۔ ہندوستان کے سات سو شہزادوں اور والیانِ ریاست میں سے ہر ایک نے اپنی ذاتی خدمات، اپنی تلوار، اپنی اپنی فوج اور اپنا خزانہ، غرضیکہ جو کچھ بھی ان کے پاس تھا شہنشاہ معظم کی امداد کے لیے پیش کیا۔ تمام برٹش ہند میں جلسے منعقد ہوئے جن میں تقریریں کرنے والوں نے بہ آواز بلند یہ اعلان کیا کہ اس موقع پر وہ سلطنت کی امداد اور حفاظت کے لیے دل و جان سے تیار ہیں اور حتی الوسع کوشش کریںگے۔

شہزادوں اور رﺅسا کی ایک کثیر تعداد میں سے جنہوں نے میدان جنگ کے لیے اپنی ذاتی خدمات پیش کیں وائسرائے صاحب نے دس بڑے والیانِ ریاست کو اور بہت سے چھوٹے چھوٹے رﺅسا کو منتخب کیا۔ ان میں جودھپور، بیکانیر، پٹیالہ، رتلام اور کشن گڑھ کے فرمانروا بھی شامل تھے۔ ان سب کے پیش رو، قابل تعظیم، سن رسیدہ راجپوت، جنگ آزما مہاراجہ سرپرتاب سنگھ جی تھے جو راجپوتوں کے راٹھور بنس سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت ان کی عمر ستر سال سے زیادہ تھی۔ پہلے تو وائسرائے آپکی پیرانہ سالی کے باعث آپ کو میدان جنگ میں بھیجنے کے لیے رضا مند نہ تھے لیکن جب آپ نے چلا کر کہا کہ ”کیا جنگ ہونے والی ہے اور میں اس میں شامل نہ ہوں گا۔ میں اپنے شہنشاہ کے لیے خون بہانے کی غرض سے اپنا حق پیش کرتا ہوں مجھے بھیجو مائی لارڈ!مجھے میدان جنگ میں بھیجو، میں اس بارے میں کسی طرح کا انکار منظور نہ کروں گا“۔ تو مہاراجہ پرتاب سنگھ کا یہ اصرار دیکھ کر لارڈ ہارڈنگ نے آپ کو میدان جنگ میں جانے کی اجازت دے دی۔ آپ ریاست جودھپور کے ولی ہیں اور پہلی لڑائیوں میں بھی جو کہ چترال و دیگر مقامات میں سرحدی فرقوں سے ہوئی تھیں۔ گورنمنٹ کے ہمیشہ ساتھ رہے ہیں۔ چین میں بھی آپ اپنی فوج ”جودھپور لانسرز“ کے سپہ سالار بن کر تشریف لے گئے تھے۔ آپ میدان جنگ میں اتحادی فوج کے ایک جرنیل بنائے گئے۔ آپ کے ہمراہ آپ کے بھتیجے مہاراجہ جودھپور بھی تھے جو ایک سولہ سالہ شاندار بہادر نوجوان تھے۔

دیگر والیانِ ریاست فرمانروا ایانِ حیدر آباد، میسور، گوالیار، اندور، بڑودہ، کشمیر اور خان قلات نے فوجوں کے لیے سپاہی، گھوڑے، اونٹ، بندوقیں اور روپیہ نذر کیا۔ راجہ نیپال نے اور دلائی لامہ تک نے بھی جو کہ ہندوستان سے باہر ہیں۔ اپنے معتمد مددگار شہنشاہِ ہند کو آدمیوں اور روپے سے مدد دی۔

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں - زمین اور مالیہ

چار اگست 1914ءکو اعلان جنگ ہوا تھا اور ستمبر و اکتوبر میں برطانیہ کی ہندوستانی فوج کے پہلے دو ڈویژن اپنے کمانڈر انچیف سرجیمس ونکوکس کی زیر کمان فرانس پہنچ گئے۔ اس میں انگریزی اور ہندوستانی دونوں پلٹنوں کے جوان شامل تھے۔ یہ چوبیس ہزار جوانوں کی ایک نہایت شاندار مگر مختصر سی فوج تھی۔ اس کا ہر جوان ایک سورما سپاہی تھا۔ ہندوستانی فوج میں شمالی و مغربی ہندوستان کی جنگجو قوموں کے چیدہ چیدہ جوان موجود تھے۔ بہادر راجپوت، سورما سکھ، بلند قد خوبصورت پنجابی مسلمان، خندہ پیشانی و پست قد گورکھے اور گڈھوالی تنومند ڈوگرے اور جفاکش جاٹ سب اس فوج کی شان بڑھاتے تھے۔ انگریز سپاہی اور ہندوستانی سورما سب ایک دوسرے کے ساتھی اور ہتھیار بند بھائی تھے۔ سب پہلو بہ پہلو داد شجاعت دینے کے لیے اور اگر ضرورت ہو تو اپنے ملک اور شہنشاہ کے لیے جان پر کھیل جانے کے لیے بے قرار تھے۔ اگرچہ ان کا ایک خوفناک دشمن سے مقابلہ تھا لیکن اس کی ان میں سے کسی کو بھی فکر نہ تھی۔

اس سے پہلی جنگوں میں جن لوگوں نے حصہ لیا تھا وہ اس خوفناک جنگ کے مقابلہ میں لڑکوں کے کھیل سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی تھیں۔ اس سے پہلے لڑائیوں میں وہ لوگ خشکی یا سمندر میں لڑتے تھے مگر یہ جنگ صرف سمندر کی سطح پر ہی نہیں بلکہ سطح سمندر سے نیچے اور اوپر بھی یعنی ایسے جہازوں میں جو پانی کے اندر جا کر مچھلیوں کی مانند چلتے پھرتے تھے اور سطح سمندر کے اوپر ہوا میں ایسے اڑتے تھے جیسے کہ پرندے اڑا کرتے ہیں۔ سطح زمین سے نیچے بھی خندقوں، کانوں اور سرنگوں میں بھی ہوتی تھی۔ زمین سے ہزاروں فٹ اوپر کرہ ہوائی میں بھی ہوتی تھی۔ یہ جنگیں ہوائی جہازوں کے ذریعے ہوتی تھیں جو ریل سے بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ اڑتے تھے۔ اکثر دشمن سامنے نظر بھی نہ آتا تھا کیونکہ وہ میلوں دور سے مار کرتا تھا یا کسی ایسی جگہ چھپ کر گولہ باری کرتا تھا جو نظر نہ آ سکتی تھی۔ کبھی اوپر آسمان پر چڑھ کر بلند ترین بادلوں کے پردے میں چھپا ہوا نیچے پڑی ہوئی فوجوں پر بم کے گولے برساتا تھا۔ اس جنگ میں ہندوستانی فوجوں کو جیسی جیسی سختیاں جھیلنی پڑیں ویسی کبھی نہیں پڑی تھیں۔ وہ ایک غیر ملک (فرانس) میں مقیم تھے جہاں کا موسم، باشندے اور ان کے عادات و خصلات ہندوستانیوں کے لیے بالکل عجیب و غریب تھے۔ شمالی ممالک کی موسم سرما کی سردی، برف باری، بارش یا دلدل یہ سب چیزیں ان کے لیے نہایت خوفناک تھیں۔ وہ اس ملک کے باشندوں کی زبان تک سے بھی ناواقف تھے لیکن پھر بھی ان کے دل ہر طرح کے خوف و خطر سے خالی تھے۔