Ahmad-Shah-Abdali

احمد شاہ ابدالی (1761)

EjazNews

نادر شاہ کی وفات پر افغانوں نے فارس کا جوا اپنے کندھوں سے اتار پھینکا۔ احمد شاہ ابدالی ایک افغان سردار تھا۔ دیگر افغان سرداروں نے اس کو اپنا بادشاہ بنایا۔ اس نے دیکھا کہ سلطنت مغلیہ ضعف و زوال کی حالت میں ہے اور اس صورت میں تمام ہندوستان کو افغانستان کے تحت میں لانا اور دہلی کے تخت پر حکمرانی کرنا جیسا کہ مغلوں سے پہلے پٹھان بادشاہ کرتے تھے کچھ مشکل نہیں ہے۔

میر منو، احمد شاہ ابدالی اور چینیانوالی مسجد کے امام مولانا شہریار

جس سال کلائیو نے ارکاٹ کے محاصرین کا مقابلہ کر کے ان کا منہ پھیرا تھا۔ اسی سال یعنی 1752ءمیں احمد شاہ نے پنجاب لے لیا اور محمود غزنوی اور محمد غوری کی طرح فوج لے کر لوٹ مار کرنے ہندوستان میں بڑھا۔ چھ بار افغان سوار درہ خیبر سے شمالی ہند میں آئے اور قتل، لوٹ مار اور آتشزدگی کا بازار گرم کیا۔ جہاں جاتے تھے ایک آفت برپا کر دیتے تھے اور مرد عورت اور بچوں کو قید کر کے لے جاتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  صدیقوں پر محیط بلتستان کی تاریخ

مرہٹوں کے تیسرے پیشوا بالا جی راﺅ نے دیکھا کہ احمد شاہ تمام ہند کو فتح کرتا چلا آ رہا ہے اور افغانوں کے سبب سے مفتوحہ علاقوں سے اب ہمیں چوتھ بھی نہیں ملتی۔ اس لیے اس نے ارادہ کیا کہ پورا پورا زور لگا کر افغانوں کو ملک سے نکال دے۔ احمد شاہ توچند روز کے لیے دارالخلافہ کابل کو چلا گیا تھا اور پیشوا نے اپنے بھائی رگھوناتھ عرف رگھوبا کو مرہٹوں کی ایک بڑی فوج دے کر دہلی بھیجا۔ رگھوبا مغرب کی طرف روانہ ہوا اور لاہور پر قابض ہو گیا۔
احمد شاہ اس خبر کے سنتے ہی افغانوں کی دل بادل فوج ساتھ لے کر واپس آیا اور جلد ہی رگھوبا کو پسپا کر کے دہلی پہنچا۔ ہلکر اور سندھیا جو اس کے مقابلے کو آئے تھے شکست کھا کر مالوے میں اپنے اپنے علاقے کو چلے گئے۔ اب پیشوا نے اپنے سرداروں کے نام ہر طرف فرمان جاری کیے کہ وہ اپنی اپنی فوج جمع کریں۔ راجپوتوں کو بھی لکھا کہ آﺅ سب مل کر کوشش کریں اور افغانوں کو ملک سے نکال دیں۔ بہت سے راجپوت اس کے حامی ہوئے اور ہندو مرہٹوں اور راجپوتوں کا ایک عظیم الشان لشکر ہندوستان کی سلطنت حاصل کرنے کے لیے افغانوں سے لڑنے کے ارادے سے بڑھا۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ پرعربوں کے حملوں کی وجوہات

1761ءمیں پانی پت کے میدان میں دونوں لشکروں کی مڈبھیڑ لڑائی ہوئی۔ یہ وہ مقام تھا جہاں 1526ءمیں بابر اور اس کی افغان اور ترک سپاہ نے ابراہیم لودھی کے لشکر کو تتر بتر کیا تھا۔ مرہٹوں کے ہلکے پھلکے سوار افغانوں کے زرہ پوش سواروں کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور بھاگ گئے۔ مرہٹوں کو شکست فاش ہوئی اور ان کے دو لاکھ سپاہی میدان جنگ میں افغانوں کے ہاتھ سے قتل ہوئے۔

پیشوا نے جب یہ خوفناک خبر سنی تو اس کی جان نکل گئی۔ احمد شاہ چاہتا تو دہلی کے تخت پر بیٹھ جاتا مگر اس نے یہ مناسب سمجھا کہ فی الحال چند عرصے کے لیے اپنے ملک کو واپس چلا جائے۔

1748ءکی طرح 1761ءبھی ہند کی تاریخ میں بڑا مشہور سال ہے۔ اس سال جنوبی ہند میں فرانسیسی طاقت کا زوال ہوا اور پانڈے چری فتح ہوا۔ اسی سال دکن میں صلابت جنگ جو فرانسیسی جرنیل بُسی کی مدد سے نظام بنا تھا نظام علی کے ہاتھ سے قتل ہوا اور نظام علی اس کی جگہ گدی پر بیٹھا۔ اسی سال احمد شاہ ابدالی اور اسکی افغانوں کی فوج نے پانی پت کے میدان میں مرہٹوں کا کچومر نکال ڈالا۔ تیسرا پیشوا تو اس جہان ہی سے رخصت ہو گیا اور چوتھے کو اس شکست کے سبب سے کوئی وقار اور اقتدار نصیب نہ ہوا۔ اسی سال حیدر علی میسور کا سلطان ہوا۔ شمالی ہند میں اس سال میر جعفر نوابی سے برطرف کیا گیا۔ میر قاسم بنگال کا نواب ہوا اور اس نے بردوان، چاٹگام، مدنی پور کے ضلعے گویاکل بنگال کا ایک ثلث کمپنی کے حوالہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد ریاستیں،سندھ(۱)