Election commission of pakistan

جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہوا:چیف الیکشن کمیشن

EjazNews

چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت اجلاس کے بعد جاری بین میں ای سی پی نے کہا کہ سینیٹ کے الیکشن آئین اور قانون کے مطابق کروانے پر ہم خداوند تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ وہ خوش اسلوبی سے اختتام پذیر ہوئے۔

بیان میں کہا گیا کہ الیکشن کے رزلٹ کے بعد میڈیا کی وساطت سے جو خیالات ہمارے مشاہدے میں آئے ان کو سن کر دکھ ہوا، خصوصی طورر پر وفاقی کابینہ کے چند ارکان اور بالخصوص جناب وزیر اعظم پاکستان نے جو کل اپنے خطاب میں فرمایا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے۔

وزیراعظم نے ای سی پی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ سپریم کورٹ میں آپ نے اوپن بیلٹ کی مخالفت کیوں کی، کیا ا?ئین چوری کی اجازت دیتا ہے، پھر آپ نے قابل شناخت بیلٹ پیپزر کی مخالفت کی اگر ایسا ہو جاتا تو آج جو ہمارے 15، 16 لوگ بکے ہیں ہم ان کا پتا لگا لیتے، یہ پیسے دے کر اوپر آنا کیا جمہوریت ہے، الیکشن کمیشن نے ہمارے ملک میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا ہے، آپ کو سپریم کورٹ نے موقع دیا تو کیا 1500 بیلٹ پیپرز پر بار کوڈ نہیں لگایا جاسکتا تھا، آج آپ نے ملک کی جمہوریت کا وقار مجروح کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میاں نواز شریف کی وطن واپسی کیلئے حکومت کا برطانوی حکومت کو خط

ای سی پی نے کہا کہ اس ضمن میں وضاحت کی جاتی ہے کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی اور آزاد ادارہ ہے، اس کو ہی دیکھنا ہے کہ آئین اور قانون اس کو کیا اجازت دیتا ہے اور وہی اس کا معیا ر ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین اور قانون کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور نہ ہی ترمیم کر سکتے ہیں، اگر کسی کو الیکشن کمیشن کے احکامات یا فیصلوں پر عتراض ہے تو وہ آئینی راستہ اختیار کریں اور ہمیں آزادانہ طور پر کام کرنے دیں، ہم کسی بھی دباو میں نہ آئے ہیں اور نہ ہی ان شااللہ آئیں گے۔

ای سی پی نے کہا کہ الیکشن کمیشن ہر کسی کا موقف سنا، ان کی تجاویز کا تفصیلی جائزہ لیا، الیکشن کمیشن سب کی سنتا ہے مگر وہ صرف اور صرف آئین وقانون کی روشنی میں ہی اپنے فرائض سرانجام دیتا ہے اور آزادانہ طور پر بغیر کسی دباو کے فیصلے کرتا ہے تاکہ پاکستان کے عوام میں جمہوریت کو فروغ ملے۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی میں سکیورٹی فورسز نےتین افراد کو جاسوسی کے الزام میںگرفتار کرلیا

انہوں نے کہا کہ یہ حیران کن بات ہے کہ ایک ہی روز ایک ہی چھت کے نیچے ایک ہی الیکٹورل میں ایک ہی عملے کی موجودگی میں جو ہار گئے وہ نامنظور اور جو جیت گئے وہ منظور، کیا یہ کھلا تضاد نہیں جبکہ باقی تمام صوبوں کے نتائج قبول، جس نتیجے پر تبصرہ اور ناراضی کا اظہار کیا گیا ہے الیکشن کمیشن اس کو مسترد کرتا ہے۔