myanmar protestes1

میانمار میں فوج کیخلاف مظاہرے بڑھ گئے

EjazNews

میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف شروع ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔

میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سیاسی رہنما آنگ سان سوچی اور ان کی پارٹی کے رہنماؤں کی گرفتاری سے لے کر اب تک مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور اب اس میں شدت آتی جا رہی ہے۔

ہزاروں افراد سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں ۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق میانمار کے شہر ینگون کے مختلف حصوں میں پولیس نے مظاہرین پر اس وقت فائرنگ کر دی جب وہ آنسو گیس اور سٹن گرنیڈز سے مظاہرین کو روکنے میں ناکام ہوگئی۔

میڈیا میں دکھائی جانے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ زخمی ہونے والوں کو ان کے ساتھی اٹھا کر لے جا رہے ہیں اور فٹ پاتھوں پر خون بکھرا پڑا ہے۔

مظاہروں میں ٹیچرز بھی احتجاج کر رہی تھیں اور دل کا دورہ پڑنے سے ہلاک ہونے والی ایک خاتون کی بیٹی نے بتایا کہ وہ اس وقت ہلاک ہوئیں جب پولیس نے مظاہرین پر سٹن گرنیڈز سے حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگے چار ماہ ہونے والے ہیں، کشمیری اپنے وکیل اور سفیر کی طرف دیکھ رہے ہیں