PDM

موجودہ حکمران تھوڑے عرصے کے مہمان ہیں، جنوری ان کا آخری مہینہ ہے:بلاول بھٹو زرداری

EjazNews

پشاور میں منعقد کیے جانے والے جلسہ عام کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ جلسے کے لیے پشاور رنگ روڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔پی ڈی ایم کی مقامی قیادت کے زیر اہتمام منعقد کیے جانے والے جلسہ عام کے لیے کنٹینرز پہنچا دئیے گئے ہیں اور 10 ہزار کے قریب جلسے کے شرکا کے لیے کرسیاں لگائی گئی ہیں۔ علاقہ پولیس نے پی ڈی ایم کی مقامی قیادت کو ہدایت کی تھی کہ وہ لائے جانے والے کنٹینرز آج نہ لگائے تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

پولیس نے پی ڈی ایم کی مقامی قیادت سے کہا تھا کہ وہ لائے جانے والے کنٹینروں کو کسی دوسری جگہ منتقل کردے تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو۔پی ڈی ایم کی مقامی قیادت نے اس سلسلے میں علاقہ پولیس سے کہا کہ لائے جانے والے تمام کنٹینرز جلسہ گاہ میں لگائے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پنجاب کے دیہی علاقوں پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں:وزیراعلیٰ پنجاب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی کے مطابق پی ڈی ایم کی جماعتوں کے حتمی فیصلے کے تحت پشاور میں 22 نومبر کو جلسہ شروع ہو گیا۔

پی ڈی ایم کے مرکزی رہنما شاہد خاقان عباسی نے واضح طور پر کہا کہ پشاور میں منعقد ہونے والے جلسہ عام میں کرونا سے بچاؤ کے لیے اعلان کردہ ایس او پیز پرعمل درآمد کیا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے اپنے مختصر خطاب میں کہا کہ میں آج آپ سے بات کرنا چاہتی تھی لیکن اب نہیں کر سکوں گی۔مجھے ابھی اطلاع ملی ہے کہ لندن میں میری دادی کا انتقال ہوگیا ہے، نواز شریف کی والدہ کا انتقال ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میری دادی اللہ تعالیٰ کے پاس چلی گئی ہیں، آپ سب سے درخواست ہے کہ ان کی مغفرت کے لیے دعا کریں۔اس موقع پر نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ کے لیے دعا بھی کرائی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت و اسرائیل انتخابات جیتنے کیلئے کس حد تک جاﺅگے:وزیراعظم پاکستان

مریم نواز کے بعد بلاول بھٹو زرداری نے اپنا خطاب دوبارہ شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں تاریخی مہنگائی اور بے روزگاری ہے، سلیکٹڈ کی نالائقی کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پشاور کا جلسہ حکومت کے خلاف ریفرنڈم ہے۔ پی ٹی آئی کے دور میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے اور اس بات کا اظہار عالمی اداروں نے بھی کیا ہے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ موجودہ حکمران تھوڑے عرصے کے مہمان ہیں، جنوری ان کا آخری مہینہ ہے۔ہم ان کٹھ پتلیوں سے حساب لیں گے، ان کٹھ پتلیوں کے پیچھے جو ہیں ان سے بھی حساب لیں گے۔ نیب سے بھی حساب لیں گے۔

انہوں نے کہا کہ نیب کو صرف اپوزیشن کی کرپشن نظر آتی ہے۔ نیب کو پاپا جونز اور مالم جبہ کیس کی کرپشن نظر نہیں آتی۔ اب پنڈی کی رائے چلے گی نہ آبپارہ کی، اب عوام کی رائے چلے گی۔ ہمارا احتجاج روکنے کے لیے حکومت کو کرونا یاد آجاتا ہے۔یہ حکمران کرپشن کے خلاف سب سے زیادہ چیختے تھے لیکن سب سے زیادہ کرپٹ نکلے۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا مریم نواز بھوک ہڑتال پر بیٹھیں گی یا حکومت گھٹنے ٹیکے گی