شیر مال

شیر مال۔۔۔کیا ہوتا ہے؟

EjazNews

کچھ لوگوں کو شادیوں میں دولہا دلہن کے لباس، ہال یا ہوٹل کی سجاوٹ، شرکاءکے لباس، خواتین کے میک اپ اسٹائل اور زیورات سے بھی ہوتی ہے۔ اس موقع پر بہت سی آنکھوں میں جگنوں دمکتے دیکھے جاسکتے ہیں۔ خواتین اسٹیج پر جا کر قریب سے دلہن کے لباس اور زیور کو دیکھتی ہیں۔ لباس ڈیزائنر کا ہے تو کس کا؟ میکے کی طرف کا ہے یا سسرال کی جانب سے ملا ہے؟ جیولری آرٹی فیشل ہے تو کہاں سے بنوائی اور بہت سے لوگوں کو ان تقریبات میں پیش کئے جانے والے کھانوں کے Menu سے دلچسپی ہوتی ہے۔ وہ انتظار کرتے ہیں کہ کب رسمیں ختم ہوں اور کھانے کا اعلان کیا جائے۔ بیشتر ہالوں میں اب بوفوں کے ڈھکن کی مدھر آواز آتے ہی شائقین کی میز کی جانب لپک جاتے ہیں۔
یہاں ہمیں قورمہ، بریانی سلاد، رائتہ، کھیر، کیک، آئسکریم، کسٹرڈ، کباب اور ہزاروں اقسام کے کھانے نظر آتے ہیں۔ تندوری نان، روٹیاں تافتان اپنی جگہ لیکن اگر شیرمال نہ ہوں تو شادی کا Menu کچھ ادھورا سا لگتا ہے۔
گرما گرم شیر مال قورمے یانہاری کے ساتھ کھانے کا لطف تو کھانوں کا اچھاذوق رکھنے والے ہی جانتے ہیں مگر یہ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ اول اول انہیں ایرانی تاجروں نے جنوبی ہندوستان میں متعارف کرایا تھا۔انہوں نے اودھ کے نوابوں کو شیر مال کی لتٰ ہی لگا دی پھر ہندوستانی شہنشاہوں نے اس روغنی روٹی کو اختراعات کے ساتھ بنایا۔
شروع شروع میں یہ سادی سی روغنی روٹی تھی جسے توے پر پکایا جاتا تھا بعد ازاں اسے تندوریا بھٹی میں تیار کیا جانے لگا۔
ان دونوں طریقوںسے اس لچھے دار شیر مال کو تیار کرنے سے ذائقے کا معیار مختلف تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  شمالی کوریا سے متعلق چونکا دینے والے حقائق

شیرمال کسے کہتے ہیں؟
فارسی زبان میں شیر کا مطلب دودھ ہے۔ شیرمال بنانے کے لئے بنیادی اہم اجزاءمیں گھی اور شکر ہیں۔ ان تمام اجزاءجس میں مرکزی کردار سفید آٹے کا بھی ہے جسے گوندھتے وقت شکر اور دودھ کے علاوہ اچھی کوالٹی کا گھی شامل کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیرمال نرم و ملائم اور مٹھاس بھرے ہوتے ہیں۔ روٹی سالنوں، خاص کر قورے،نہاری اور بہاری کبابوں کے ساتھ انہیں ذوق و شوق سے کھانے کی ثقافت آج بھی کئی سو برس سے جوں کی توں چلی آرہی ہے۔
شیرمال گھر پر تیارنہیں ہوسکتا جبکہ ہر قسم کی روغنی روٹیاں اور پراٹھے سادہ انداز میں بخوبی تیار کئے جا سکتے ہیں۔ پاکستان کے ہر بڑے چھوٹے شہر میں شیرمال بنانے والے برسہا برس سے یہ کاروبار کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ہمارے متوسط طبقے میں بھی خصوصی دعوتوں میں شیرمال بطور تواضع استعمال ہوتے ہیں اور پرتکلف ضیافتوں میں دسترخوانوں کی شان بڑھادیتے ہیں۔ بچے اور بڑے دونوں ہی اس نرم و ملائم شیرمال کے متوالے نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مگلیو ٹرین،اگر پاکستان میں چلے تو لاہور سے کراچی کا فاصلہ صرف دو گھنٹے کا ہوگا

یہ سہولت آمیز جزو ہیں
یوں تو یہ نازک اور شیریں تر شیرمال تازہ بہ تازہ ہی کھانے میں پرلطف معلوم ہوتے ہیں تا ہم چھوٹے بچوں والے گھروں میں سگھڑ مائیں انہیں فریج میں محفوظ کر لیتی ہیں اور پھر بوقت ضرورت انہیں توے پر گرم کر کے ازسرنو تازہ کر کے استعمال کیا کرتی ہیں۔ یاد رہے کہ دودھ سے بنی روٹی کمرے کے درجہ حرارت پرمحفوظ نہیں کی جاسکتی لیکن دوسری بار گرم کرنے میں درجہ حرارت کا خاص خیال رکھنا ضروری ہے۔ شیر مال کی نرمی وخستگی بہرحال اسے تازہ حالت ہی میں استعمال کرنے سے محسوس ہوتی ہے۔