TLP

حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان کیا معاہدہ ہوا ہے ؟

EjazNews

وزارت مذہبی امور اور بین المذاہب ہم آہنگی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کے بعد مذہبی جماعت کی قیادت نے دھرنا ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کی۔
مذہبی جماعت کے ساتھ مذاکرات میں وزیر داخلہ سید اعجاز شاہ ، کمشنر اسلام آباد عامر احمد علی، مشیر داخلہ شہزاد اکبر اور سیکرٹری داخلہ حکومتی ٹیم میں شامل تھے۔

فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے اتوار کو لیاقت باغ راولپنڈی سے فیض آباد تک ریلی نکالی جو کہ فیض آباد پہنچنے کے بعد دھرنے میں تبدیل ہو گئی تھی۔

اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے وفاقی دارلحکومت کو راولپنڈی سے ملانے اور اسلام آباد کے داخلی راستوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا تھا جبکہ اتوار سے جڑواں شہروں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل رکھی گئی تھی۔
حکومت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان کے درمیان معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا ہے۔حکومت اور تحریک لبیک پاکستان نے باہمی مشاورت سے مندرجہ ذیل چار نکات پر اتفاق رائے کیا۔
معاہدے کے اہم نکات:

یہ بھی پڑھیں:  آخر مندر کی تعمیر کا معاملہ ہے کیا؟

1) حکومت فرانس کے سفیر کو دو سے تین ماہ کے اندر پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے ذریعے ملک بدر کرے گی۔
2) حکومت پاکستان، فرانس میں اپنا سفیر تعینات نہیں کرے گی۔
3) فرانس کی مصنوعات کا سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے گا۔
4) ریلی اور دھرنے کے دوران گرفتار ہونے والے تمام افراد کو رہا کیا جائے گا اور اس حوالے سے بعد میں کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا۔

اس سے قبل حکومت کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ تحریک لبیک پاکستان نے دارالحکومت اسلام آباد اور جڑواں شہر راولپنڈی کے سنگم پر فیض آباد میں جاری دھرنا ختم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
یہ معاہدے کی تفصیلات تحریک لبیک کی جانب سے جاری ہو رہی ہیں اور تحریک لبیک کا دعویٰ ہے کہ حکومت نے ان کی تمام شرائط کو مان بھی لیا ہے۔