Imran_khan_meeting

اگر عوامی مقامات پر لوگ ماسک پہن لیں تو کیسز میں نمایاں کمی آسکتی ہے:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں کرونا سے متعلق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کہا کہ ایک دن میں جہاں 6 سے 7 اموات ہورہی تھیں اب بڑھ کر 25 ہوگئیں ہیں۔خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ایس او پیز پر عمل نہیں کیا تو نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔ اگر اس موقع پر احتیاط کرلی تو وبا کے اثرات کو روک سکیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر عوامی مقامات پر لوگ ماسک پہن لیں تو کیسز میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ ہم کاروباری سرگرمیاں بند نہیں کررہے لیکن ہر جگہ ایس او پیز پر عمل کیا جائے تاکہ ایسی نوعبت نہ آئے جو چند ماہ قبل آئی جس میں ہمیں لاک ڈاؤن لگانا پڑا۔

انہوں نے ٹائیگر فورس پر زور دیا کہ وہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہونے سے متعلق اطلاعات فراہم کرتے رہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے عوام سے بھی درخواست کی کہ وہ بھی ایس او پیز پر عمل کریں کیونکہ خدانخواستہ اگر کرونا بڑھتا ہے تو اس کا نقصان کسی ایک شخصیت کو نہیں ہوگا اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا اور پورے ملک کے شہریوں کو ہوگا۔اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ ہم نے رواں ہفتے ہونے والے جلسے کو منسوخ کردیا اور دیگر سیاسی جماعتوں کو تاکید کریں گے وہ بھی جلسے کے انعقاد سے گریز کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  چاند کے مطابق پاکستان میں عید اتوار کی ہوگی، وزیر سائنس۔ عید کا فیصلہ رویت ہلال کمیٹی کرے گی: وزیر مذہبی امور

وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ موجودہ انتخابی مہم کے بعد کرونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انہوںنے کہا کہ شادی کی تقریبات کھلے مقامات پر منعقد کی جائیں لیکن اس میں 300 سے زائد افراد شریک نہ ہوں اور تمام شریک افراد کے لیے ماسک پہننا ضروری ہوگا۔اور یہ شادی کی تقریب کھلے میں منعقد کی جائے گی۔

وزیراعظم عمران خان نے سکولوں کو بند کرنے یا نہ کرنے سے متعلق کہا کہ اس ضمن میں آئندہ ہفتے تک فیصلہ کر لیں گے۔ ‘ابھی جائرہ لے رہے ہیں کہ سکولوں سے کیسز کی تعداد خطرناک حد تک تو نہیں بڑھ رہی۔ ‘اگر کیسز میں اضافہ ہوا موسم سرما کی چھٹیوں میں اضافہ کرکے موسم گرما کی چھٹیوں میں کمی کردیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ کا کرم رہا کہ ملک میں کرونا کی وجہ سے ہونے والی اموات کی شرح کم رہی۔ خدانخواستہ اس سے بھی کہیں زیادہ حالات نہ خراب ہوجائیں۔پہلے سے زیادہ کرونا کے کیسز بڑھ رہے ہیں جس کے تناظر میں کہا جا سکتا ہے کہ کرونا وائرس کی دوسری لہر آرہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  HBL-PSL5۔ہوم کرائوڈ ،ہوم گرائونڈ مقابلہ سخت ہونے والا ہے

انہوں نے کہا کہ سروس، سیاحت، ریسٹورنٹ سمیت دیگر سیکٹر کو بہت نقصان پہنچا اس کے باوجود دیگر ممالک کے مقابلے میں بہت نقصان ہوا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جو ریسٹورنٹ کھلے میں ہیں ان کو کسی طور پر بند کرنے کی ضرورت نہیں ہے البتہ جو بند ریسٹورینٹ ہیں وہاں ایس او پیز پر عملدرآمد ضرور ہونا چاہئے۔