dollervsrupes

روپیہ مزید مستحکم ،ڈالر میں کمی کا سلسلہ جاری ہے

EjazNews

اگست کے آخری ہفتے میں ڈالر کی قیمت عروج پر ہونے کے بعد ایکسچینج ریٹ میں آہستہ آہستہ استحکام ہوا۔ہفتے کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 157 روپے 80 پیسے میں فروخت ہورہا تھا جبکہ جمعہ کو اس کی قیمت 157 روپے 50 پیسے تک بھی گئی تھی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ایکسچینج ریٹ کے استحکام کا کریڈٹ لیا گیا، گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر رضا باقر نے دعویٰ کیا کہ مرکزی بینک نے زائد ترسیلات زر کے لیے مدد فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا جبکہ اس کے فری مارکیٹ میکانزم نے ایکسچینج ریٹ کے استحکام میں مدد فراہم کی۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ روپیہ دونوں سمت میں گھوم رہا یعنی بڑھنے کے ساتھ ساتھ کم ہورہا ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ایکسچینج ریٹ اب مارکیٹ پر انحصار کرتا ہے۔

مسلسل کمی نے روپے کی قدر کو 2020 کے ابتدائی ہفتوں کے دوران رہنے والی قیمت کے قریب کردیا۔ہفتے کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر 158 روپے سے نیچے آگیا لیکن انٹربینک مارکیٹ جو جمعہ کو بند ہوئی تھی اس میں یہ 158 روپے سے معمولی سا اوپرتھا۔اس حوالے سے فاریکس ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر ملک بوستان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر امریکی ڈالر کو کمزور کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  خیبرپختونخوا کے سکولوں میں 21ہزار بچوں کے داخلے جعلی نکلے

ہفتے کے دوران ڈالر کا بہاؤ زیادہ رہا جس نے اوپن مارکیٹ میں سرپلس بنایا، مزید یہ کہ رپورٹس کے مطابق ایکسچینج کمپنیز ہر روز بینکوں میں ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر جمع کرا رہی ہیں۔

دوسری جانب کرنسی ڈیلرز اور ماہرین ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید بہتری کی پیش گوئی کرتے ہیں جبکہ کچھ بینکرز کا کہنا ہے کہ زائد ترسیلات زر اور عالمی مارکیٹس پر کرونا وائرس کے اثرات کی وجہ سے مقامی کرنسی میں اضافہ ہوا۔