asiapakifik

ایشیا پیسیفک کی 15معیشتوں کے درمیان آزادتجارتی معاہدے ہو گیا

EjazNews

عالمی میڈیا کے مطابق ورچول خطاب میں چینی وزیراعظم لی کی چیانگ نے کہا کہ آٹھ سال کے مذاکرات کے بعد آر سی ای پی پر دستخط ہوئے ہیں۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کثیرالجہتی صحیح راستہ ہے۔ اور یہ عالمی معیشت اور انسانیت کی صحیح سمت کی نمائندگی کرتا ہے۔

آر سی ای پی 2012 میں تجویز کیا گیا تھا۔ اس معاہدے پر دستخط جنوب مشرقی ایشیا کے سمٹ (آسیان سمٹ) کے موقع پر ہوئے۔اس معاہدے پر دستخط کرنے والے متعدد ممالک کرونا وائرس کی وبا سے لڑ رہے ہیں اور ان ممالک کو امید ہے کہ آر سی ای پی ان کی معیشت کو بہتر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔
ایشیا پیسیفک کی 15 معیشتوں نے دنیا کے سب سے بڑے آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کر دئیے ہیں۔ یہ چینی حمایت یافتہ معاہدہ ہے جس میں امریکہ شامل نہیں ہے جبکہ انڈیا پہلے ہی اس سے دستبردار ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا میں 24گھنٹے کا کرفیو جبکہ جرمنی نے سماجی فاصلے کے تحت سکولوں کو دوبارہ کھول دیا ہے

ویت نام کے دارالحکومت ہنوئی میں ریجنل کمپریہنسو اکنامک پارٹنرشپ (آر سی ای پی) پر دستخط اُس گروپ کے لیے ایک اور دھچکا ہے جس کو سابق صدر باراک اوباما نے شروع کیا تھا تاہم موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چھوڑ دیا تھا۔

ایشیا میں امریکی مصروفیات سے متعلق سوالات اٹھنے کے بعد ریجنل کمپریہنسو اکنامک پارٹنرشپ جنوب مشرقی ایشیا میں چین کی پوزیشن مضبوط کر سکتا ہے۔یہ دنیا کی دوسری بڑی اکانومی کو خطے کے تجارتی قوانین کو بنانے کے لیے بہتر پوزیشن فراہم کر سکتا ہے۔
امریکہ آر سی ای پی اور اوباما انتظامیہ کی ٹرانس پیسیفک پارٹنر شپ سے غیر حاضر رہا۔آر سی ای پی بیجنگ کی بین الاقوامی مارکیٹ اور ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔

انڈیا نے گذشتہ سال نومبر میں آر سی ای پی کے مذاکرات سے دستبردار ہوا تھا تاہم آسیان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس میں شامل ہونے کے لیے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا چین امریکیوں سے دنیا کی تجارت چھین لے گا؟

ویت نام کی وزارت تجارت اور انڈسٹری کی ملٹی لیٹرل ٹریڈ پالیسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ آر سی ای پی انڈسٹریل اور زراعت کے پروڈکٹس پر ٹیرف کو کم کرنے یا ختم کرنے میں مدد کرے گا اور ڈیٹا کی منتقلی کے قواعدوضوابط بھی وضع کیے جائیں گے۔