balochistan

کیا بلوچ قوم عربی النسل ہیں:بلوچ قوم تاریخی تناظر میں

EjazNews

بلوچ قوم، اس کے قبائل اور گروہوں کی تاریخ یونانی عہد سے جن مورخین اور مصنفین نے تحریر کی اور کتابیں تصنیف کیں، ان کی تعداد کی بھی کسی طرح کم نہیں ہے۔

ان میں سے بعض مورخین نے ان کا وطن اور تعلق ساحل مکران یا ماکیان سے بتایا ہے۔ میرے نزدیک صحیح تلفظ ماکیان ہے۔ (ماکیان دراصل وہ عرب سلطنت تھی جس کی عملداری عرب کے ساحلوں سے سیستان کے ساحلوں تک تھی۔) اس سلطنت کی ابتداءعرب سے ہوئی پھر اسے بلوچ عرب ساحلوں پربھی اثر ونفوز حاصل ہوگیا۔ یہ بلوچ عرب ساحل وہی ہیں جن پر بعد میں ساسانی حکومت نے قبضہ جمالیا اور اسے بلوچستان کا نام دیا جبکہ بعض مورخین نے ان کی نسبت جزیرة العرب کی طرف کی ہے۔ یہ رائے میرے نزدیک حقیقت کے زیادہ قریب ہے اور تاریخی شہادتوں کے عین مطابق ہے۔ کچھ مصنفین نے ان کا ذکر بلو چی فارس یعنی بلوچستان کے نام کیا ہے۔ لیکن بعض مصنفین نے تاریخ کے بنیادی اصولوں اورا مورخانہ دقت نظری کوملحوظ رکھے بغیر ان کاتعلق یمن سے ظاہر کیا ہے جسے ایرانی استعمار کے دور میں یمنستان کہا گیا اورعظیم یمنی رہنما سیف بن ذی یزن کی ابرھہ اشرم کے دور حکومت میں بھی استعمار سے یمن اور حضرموت کی آزادی کی جدوجہد میں ان کی مدد کرنے اور حمیری مملکت کے قیام میں بنیادی کردار ادا کرنے کی وجہ سے بلوچوں کا تذکرہ ضمناً کیا ہے۔ یہ ابرھہ اشرم وہی ہے جس نے عام الفیل میں خانہ کعبہ پر حملہ کا ارادہ کیا تھا اور جس کا تذکرہ قرآن میں اصحاب الفیل(ہاتھی والے) کے نام سے موجود ہے لیکن یہ بالآخر ۔ اپنے ارادے میں ناکام و نامراد ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلوچ عرب ہیں جن کا تعلق ما کیانی عرب مملکت کے ان عربی الاصل باشندوں سے ہے جو جزیرة العرب سے ہجرت کر کے مکران اور عمان کے ساحلوں پر آباد ہو گئے۔ پھر جغرافیائی اور اقتصادی ضروریات کے پیش نظر دوسری اور تیسری مرتبہ ریدان (ربدان) اور پھر ابلہ (موجودہ بصرہ) کے ساحلوں سے یمن اور حضرموت اور پھر عمان اور جزیرة العرب کے مشرقی حصے اور جزائر بحرین کی طرف ہجرت کی۔

پھر ایرانی ھخامنشی، مقدونی اور ساسانی سلطنتوں کا زمانہ آیا۔ ان سلطنوں نے عسکری قوت کے بل بوتے پر عرب کے ساحلی علاقوں پر قبضہ جمالیا اور وسیع پیمانے پرلشکرکشی اور اسلحے کے زور پر ان استبدادی قوتوں نے عظیم ما کیانی عرب سلطنت کو سمٹنے پر مجبور کر دیا۔ یہاں تک کہ اس کی وسعتوں کو فارس (بلوچستان)، عمان اوربحرین کے ساحلوں سے مل کر کے جزیرة العرب کے ان دور دراز علاقوں تک محدودکر دیا گیا جہاں سے عربوں نے مارب بند(ڈیم ) ٹوٹنے کے بعد عرب کے دوسرے علاقوں کی طرف اپنی ہجرت کا آغاز کیا تھا۔

اسی وجہ سے مکران اور سیتان کے ساحل بلوچ قوم اور قبائل کا گہوارہ سمجھے جاتے ہیں۔ اگر چہ ایرانی اوریونانی مورخین نے بلوچوں کو ایرانی سلطنت سے منسوب کیا ہے اور ان کا تذکرہ اپنی قدیم تاریخ میں بھی کیا ہے۔ مگر ان تمام باتوں کے باوجود، ایران کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بلوچ قبائل،ماکیانی عرب سلطنت کے بعد بھی عرب رسوم اور عادات کو اپنائے رہے اور یہ عادات و رسوم ان میں نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ بلوچوں نے ساسانی سلطنت سے آزادی کی جوتحر یکیں شروع کیں اور انقلاب برپا کرنے کی کوشش کی اس کی بھی ان کا اپنے اصل سے تعلق اور اپنے ان بھائیوں سے وفاداری، بھائی چارے اور صلہ رحمی کا جذبہ تھا جنہیں ظلم و جبر کی وجہ سے جزیرة العرب عمان اور یمن کے علاقوں میں دوبارہ ہجرت کرنا پڑی۔خلیج کی ریاستوں اور ایران کے ساحلی علاقوں میں رہنے والی بلوچ قوم اور اس کے قبائل میں ظلم و جبر کے خلاف اور اس کے خاتمہ کے لئے پیدا ہونے والی غیرت، دراصل وہ عربی خصوصیت ہے جوان میں موروثی طور پر پائی جاتی ہے۔ اگر چہ بلوچوں کی زبان بلوچی ہے مگر عرب روایات اور رسم ورواج سال سے ان میں باقی رہتی ہیں۔ اس وجہ سے بلوچوں کی دو قسمیں ہیں:

ایک وہ بلوچ جن کی زبان بھی عربی ہے اور وہ عربی تہذیب وتمدن بھی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ دوسرے وہ بلوچ جن کے رسم و رواج اور روایات تو عربی الاصل ہیں لیکن ان کی زبان بلوچی ہے جو کہ فارسی سے متاثر ہے کیونکہ ایران کے سیاسی اورسماجی اثرات کی وجہ سے فارسی زبان ان کے لئے لازمی قرار پاگئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ کا شہر شکارپور، درانئیوں کے عہد میں

بلوچوں میں عربی اور سامی خصوصیات کا امتزاج ہے۔ سامی اقوام حضرت نوح علیہ السلام کے فرزند کی اولاد ہیں، اس طرح سے ان کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم ہے۔ اسی سلسلے سے بلوچ عرب قوم وجود میں آئی۔ رشتہ ازدواج اور ایک دوسرے کے ساتھ جسمانی اور روحانی تعلقات سے ان کی روایات پروان چڑھیں۔ اسی وجہ سے بلوچ قوم نے ہمیشہ برادرانہ تعلقات اور اعلیٰ انسانی روایات کا خیال رکھا۔

بلوچوں کے متعلق مورخین اس وجہ سے مغالطے کا شکار ہو گئے کہ انہوں نے ان عرب قبائل کو ان کی وسیع پیمانے پر ہجرت کے بعد جن علاقوں میں پایا یا رزق کی تلاش میں سرگرداں دیکھا ان کی نسبت بھی ان علاقوں کی طرف کر دی۔ اس وجہ سے وہ ان قبائل کی اصل بنیادوں تک نہیں پہنچ سکے۔ بلوچ عرب قبائل کو پہلے ایرانی اور یونانی سلطنتوں اور پھر دوبارہ دوسری ایرانی حکومت کے زمانے میں ہجرت کرنا پڑی۔ دوسری ایرانی حکومت (ساسانی حکومت نے تو تمام ایرانی ساحلون سے عربوں کا وجود ختم کر دیا تھا۔ (۱) سوئے اس تھوڑی کی باقی ماندہ آبادی کے جو معاشی اسباب کی بناءپر ان علاقوں میں اپنے وجود کو باقی رکھ سکی تھی۔ لیکن باوجودقلیل تعداد کے وہ ایرانی مظالم اور زیادتیوں کے خلاف انقلابی تحریکیں برپا کرنے سے باز نہ آ ئے۔ اس وجہ سے ان کی ایک بڑی تعداد کو قید و بند کی صعوبتیں جھیلنا پڑی۔ بالآخر انہیں یمنی رہنما سیف بن ذی یزن کے ذریعے آزادی نصیب ہوئی، جن کے ساتھ انہوں نے یمن کی طرف ہجرت کی اور یمن کے قدیم باشندوں کے ساتھ گھل مل گئے اور ان میں شادیاں کر کے آپس میں رشتہ داریاں قائم کرلیں۔ کیونکہ اس زمانے میں یمن کے سرسبزوشاداب اور جنت نظیر خطے کو ، معاشی وسائل اور خوراک کے معاملے میں خودکفیل ہونے کے باوجود، ظالم حبشی استعمار کے حملوں سے اپنے دفاع کے لئے اسے ایک ایسی بہادر اور طاقتور فوج کی ضرورت تھی جو اس کی آزادی اورملکی مفادات کا تحفظ کر سکے۔ لہٰذا یمن کے عظیم جنگجو رہنما کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ ایرانی سلطنت سے مددطلب کریں اور اپنے بلوچ بھائیوں کی قید خانوں سے رہائی کی درخواست کریں۔ ایرانی سلطنت خودبھی اس بلوچ قوت سے چھٹکارا حاصل کرنے کا راستہ ڈھونڈھ رہی تھی جومکر ان کے ساحلی علاقوں میں ایرانی ظلم وستم اور جبرو استبداد کے خلاف نہایت موثر انداز میں جدوجہد کر رہی تھی اور عرب کے مشرقی حصے میں قائم آزاد وخودمختارعرب حکومت کے ایران کے مقابلے میں حمایت کر رہی تھی۔

مکران کے سامی النسل عرب بلوچوں میں (زمانہ جاہلیت میں) آزاد خیال ستارہ پرست مذاہب بھی پیدا ہوئے۔ ان میں سے بعض نے زرتشتی (پارسی) اور دیگر بت پرستانہ مذاہب بھی اختیار کئے اور مکرانی زبان کو بھی اپنا لیا مگر اس کے باوجود اپنے اصل ونسب کی نسبت ایرانیوں کی طرف نہ کی حالانکہ ایرانی اپنی نسبت ان کی طرف کرنا اپنے لئے باعث فخر سمجھتے تھے۔

ھخامنشی اور ساسانی سلطنتوں نے بلوچوں کو دبانے کے لئے قوت کا بے دریغ استعمال کیا اور جہاں مناسب سمجھا مکر وفریب اور ترغیب و تحریص سے کام لیا اور بلوچ سرداروں میں تفرقے کے بیج بوئے۔ ان سلطنتوں کی ان ہی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے اکثر مکرانی بلوچ قبائل نے دوبارہ عمان اور وہاں سے یمن میں ظفار سے بھی آگے کے خطوں میں ہجرت کو ترجیح دی۔ پھر جب ساسانی عہد حکومت میں نوشیروان نے معین ،حمیر، حضرموت (یمن) سے حبشہ کی استعماری فوجوں کو نکالنے کے لئے امیر یمن سیف بن ذی یزن کی مدد کا ارادہ کیا تو بلوچوں کے لئے ایک اور ہجرت کا آغاز ہو گیا مگر یہ ہجرت عسکری اور فرجی ہجرت تھی کیونکہ یمنیوں کے لئے بھی جانے والی فوج، ان بلوچ قیدیوں پر مشتمل تھی جنہیں ایرانی سلطنت سے آزادی کے لئے انقلابی جدوجہد کرنے کی پاداش میں پابند سلاسل کردیا گیا تھا۔

پھر یمن میں آنے والے بلوچوں کو حوادث زمانہ، معاشی ضروریات، آزادی کی فضا، پانی، زرخیزی، تانبے اور چاندی کے معدنی وسائل اور قیمتی پتھروں کے پہاڑوں نے وہاں کام کرنے اور ٹھہر نے پر مجبور کردیا۔ بلوچستان سے آنے والے بلوچ یمنی عرب قبائل سے رشتہ ازدواج کے ذریعے گھل مل گئے۔ بالآخر رسم ورواج ، عادات و اطوار اور فطری انسانی رشتوں کا امتزاج عمل میں آیا اور اس طرح مختلف قبائل وجود میں آئے۔ پھر وہ عربی زبان ان قحطانی عرب قبائل کا طرہ امتیاز بنی جو احقاف میں مقیم قوم عاد کے باقی ماندہ قبائل کی زبان سے وجود میں آئی تھی۔ ان متحدہ قبائل کی مشترکہ زبان بننے والی ابتدائی عربی کے الفاظ بہت واضح اور ادائیگی میں بہت آسان تھے۔ ان متحدہ قبائل کے ذریعے ما کیانی سامی سلطنت وجود میں آئی۔ یہ پہلی عربی تہذیب ہے جو یمن سے جنوبی جزیرة العرب تک اور جزائر بحرین اور بابلی ابلہ (بصرہ) سے عمان کے مختلف علاقوں اور ساحلوں تک پھیل گئی تھی۔ ما کیانی سلطنت نے اپنے دور عروج میں ایرانی استعمار کے بڑھتے ہوئے سیلاب کو روکا اور مختلف عرب علاقوں کی ایرانی استعمار سے آزادی مین ازدی اور لخمی قبائل کی مدد کی۔
جہاں تک ان بلوچ قبائل کا تعلق ہے جنہوں نے ساحل مکران پر رہنے کوتر جیح دی تو ان کی دو قسمیں ہیں:

یہ بھی پڑھیں:  سلطان جلال الدین برنی

پہلی قسم ان لوگوں پرمشتمل ہے جو مشہد، کرمان، ہمدان اور فارسی میں مقیم تھے اور ایرانیوں میں زبان اور مذہب ہر دولحاظ سے ضم ہو گئے۔ جبکہ دوسرا گروہ وہ ہے جس نے مکرانی زبان اور عرب قومیت سے اپنے تعلق کو ہرممکن طریقے سے برقرار رکھا۔ حتیٰ کہ اس دور میں بھی ان بلوچوں نے اپنی روایات اور عربی عادات و اطوار کی عملی آزادی سے حفاظت کی جب یونانیوں نے ایرانی سلطنت کو شکست دے کر ایران اور اس کے ملحقہ ساحلی علاقوں پر ایک طویل عرصے تک حکومت کی۔ اسی وجہ سے جب انہوں نے یمن کی طرف ہجرت ثانی کی تو بدترین حوادث زمانہ سے دوچار ہونے کے باوجود اپنی آزاد حیثیت کو برقرار رکھا ہوا تھا۔

اس طرح سے دوسری مرتبہ ہجرت کرنے والے بلوچ اور یعربی النسل قحطانی عرب مکمل آزادی اور اختیار کے ساتھ آپس میں بڑی آسانی سے گھل مل گئے۔ کیونکہ وہ اپنی پاکیزہ فطرت، پسندیدہ عادات و اطوار اور عمدہ اخلاق کی بدولت امتیازی خصوصیات کے مالک ہیں۔ اس کے علاوہ یمن، حضرموت اورعمان میں پائی جانے والی تمام رسم ورواج، عادات و اطوار اور اعلیٰ عربی روایات بھی ان میں بدرجہ اتم پائی جاتی ہیں۔ اس وجہ سے اس کتاب (بلوچ۔۔۔ تاریخ اور عرب تہذیب) کی تالیف از حد ضروری اور وقت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ جس میں حقیقت کو آشکارا کرنے کے لئے حقیقی علمی ، فکری اور تنقیدی انداز اختیار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب کی غرض و غایت اعلیٰ انسانی روایات کی حامل بلوچ قوم کی اصل بنیادوں سے تعلق گمشدہ تاریخی حقیقت کی وضاحت کرنا ہے۔

میں نے جب تک اصل ماخذوں اور اس موضوع سے متعلق کتابوں کا مطالعہ نہ کرلیا، اس تاریخی مسئلے کو چھیڑ نا مناسب نہ سمجھا۔ اس کے علاوہ میں نے تاریخ کے بحر ذخار میں چھپی ہوئی حقیقتوں کی تلاش میں بڑی دقت نظری اور غور وخوض سے کام لیا ہے۔

تاریخ ایک ایسا میدان ہے جس میں ایسے محقق ادیب اور با ہمت مورخ کی ضرورت ہوتی ہے جو انتہائی جرات سے کام لیتے ہوئے تاریخی حقائق کو واشگاف الفاظ میں بیان کرے اگر چہ وہ کتنے ہی کڑوے کیوں نہ ہوں۔ اسی طرح سے اس کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ حقائق کو معلوم کرنے کے لئے زمینی حقائق کا خیال رکھے، نور بصیرت سے کام لے اور علم کو بطور ہتھیار استعمال کرے ۔ تاریخ یہ نہیں ہے کہ کتابیں تصنیف کرنے کے لئے مختلف تاریخی ماخذوں اور مصادر میں سے نقل اور اقتباس سے کام لے کر واقعات کو ترتیب دے دیا جائے۔ یہ طریقہ کار تو تحقیق کی غرض سے پڑھنے والوں کو راستہ دکھانے کے بجائے اس سے مزید بھڑکا دیتا ہے اور انہیں سیدھی راہ سے ہٹا کر گمراہی کے صحرا میں سراب کی تلاش میں سرگرداں چھوڑ دیتا ہے۔ اس طرح ایسے مصنف نہ صرف اپنے نفس اور معاشرے پر ظلم کرتے ہیں بلکہ پڑھنے والوں کو بھی گمراہ کر دیتے ہیں۔ تاریخی حقائق تو عملی ، فکری علمی اور منطقیانہ استدلال پر مبنی ہوتے ہیں جن میں ریاضی کی مشقوں اور سائنسی تجربات کی طرح ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے۔ تاریخی حقائق سے یہ نتیجہ جب ہی ممکن ہے جب ان تاریخوں ماخذوں اور مصادر، جومختلف حالات اور متعدد خواہشات کی تکمیل کے لئے لکھے گئے، کے مطالعے وقت جو نظر یہ زبان میں آئے اسے صدق و امانت کوملحوظ ر کھ کرمنطقی استدلال کی مدد سے ثابت کیا جائے۔ تاریخی حقائق کی دوقسمیں ہیں:

یہ بھی پڑھیں:  1883-84میں لاہور کے باشندوں کے حالات

ایک قسم وہ جن کا تعلق ثابت شدہ تاریخی حقائق سے ہے جن میں تنقید یا بحث مباحث کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جو قابل اعتماد ماخذوں سے ثابت شدہ ہیں اور کتب سماویہ نے بھی سابقہ ادوار میں ان کی شہادت دی۔ اسی طرح سے قرآن حکیم میں بھی ان واقعات کا اختصار کے ساتھ تذکرہ موجود ہے۔ جبکہ دوسری قسم میں وہ تاریخی حقائق ہیں جو قید اور تجزیہ کے محتاج ہیں۔ پہلی قسم کے تاریخی حقائق تو بہت واضح اور مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں۔ جبکہ دوسری قسم کے حقائق بہم ہیں۔ ثابت شدہ حقائق مبہم حقائق کے لئے کوئی اور معیار کا درجہ رکھتے ہیں۔ دوسری قسم کے حقائق کے ابہام کو دور کرنے کے لئے ان سے متعلق تمام مقامات، مراکز ، دور افتادہ علاقوں اور دور دراز ساحلوں کی تحقیق کی ضرورت ہے جومختلف مادی نظریاتی، سیاسی نسلی اور گروہی اغراض کی بناءپر نظروں سے اوجھل رہے یا جنہیں دیگر حقائق کے ساتھ ملاکر پیش کیا گیا جس کی وجہ سے ان کی تاریخی حیثیت ابہام کا شکار ہوگئی۔
بلوچوں کی تاریخ بھی ایک ایسا ہی اہم تاریخی مسئلہ ہے جسے مختلف زاویوں سے پیش کیا گیا۔ اس وجہ سے میں نے اس اہم تاریخی مسئلے پر اس کی اساسی بنیادوں سے تحقیق کا ارادہ کیا ہے اور اس مسئلے سے تعلق ان تمام ذیلی مباحث پر بھی تحقیق کا عزم کیا ہے جن کے شواہد نہ صرف مکران اور عمان کے ساحلوں سے لے کریمن اور جزیرة العرب کے تاریخی علاقوں میں پائے جاتے ہیں بلکہ ہمدان و خراسان کے دور و دراز سرحدی علاقوں سے فارس و کرمان کے علاقوں میں بھی بھرے ہوئے ہیں۔ یہ وہ علاقے ہیں جہاں بلوچ قوم اور اس کے قبائل نے نشوونما پائی اور انہیں مختلف سلطنتوں کے عروج و زوال کی وجہ سے ہجرت کرنا پڑی۔ اسی طرح ایران اور عرب کے ان علاقوں میں بھی اس مسئلے سے متعلق مواد ملتا ہے جہاں بلوچ قوم کی نقل و حرکت اور استقامت کے نشانات ملتے ہیں۔ یہ دراصل ایک دقیقی تاریخی اور علمی تحقیق ہے کہ جو کہ منطقی استدلال پڑتی ہے۔

لہٰذا بلوچ قوم کی اصل سے متعلق کسی منطقی نتیجے پر پہنچنے کے لئے اس موضوع سے صحیح رغبت اور مناسبت ضروری ہے۔ جہاں تک میں نے عرب قبائل سے متعلق تحقیق کی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ کیانی سلطنت سے تعلق رکھنے والے عرب متحد تھے اور ان ہی میں ایک گروہ مکر ان کے ساحلوں پر آبادرہا مگر انہوں نے اپنی اصل قومیت، زبان اور روایات سے اپنے تعلق کو برقرار رکھا۔ جبکہ ان میں سے ایک گروہ نے فارسی زبان اور ایرانی قوم سے اپنا تعلق استوار کر لیا حالانکہ تاریخی حقائق کے مطابق وہ عرب قوم کا حصہ ہیں۔

بہرحال عرب اور ایران کے مختلف خطوں اور ساحلوں پرمکرانی، ما کیانی اور گدروشی قوم سے تعلق رکھنے والے افراد بھرے ہوئے ہیں۔ قوم ایک اعلیٰ روایات، رسم و رواج، خوبیوں اور اخلاق حمیدہ کی حامل ہے جو حضرت نوح، حضرت ھود، حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علی نبینا وعلیہم افضل الصلوٰة والسلام کی الہامی تعلیمات کا نتیجہ ہیں۔ جن کی پاکیزہ ذریت سے ہر دور میں صالح عناصر پیدا ہوتے رہے جو تقریباً نصف سامی نسل کے قابل فخر وارث ہیں اور آپس میں بھائی چارے پر مبنی ایسی مشترک اعلیٰ روایات کی بناءپر متحد ہیں جس میں دین اسلام اور قرآن کی زبان عربی کو بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ مجھے اس اہم تاریخی ذمہ داری کی ادائیگی کی توفیق دے اور ہر اس شخص پر سلامتی نازل فرمائے جوحق کی اتباع کرے اور سیدھے راستے پر چلے۔ آمین
ڈاکٹر محمد اسماعیل دشتی الہوشہری