Islam_Quran

اللہ تعالیٰ کی پنا ہ ، اعوذ باللہ(۲)

EjazNews

(سورۃ الفلق۱۱۳)
۴۔ اوران کے شر سے جو پھونکے مارتی ہیں گرہوں میں [جادوگر، جب جادو کرتے ہیں ،تو منتر اورطلسم پڑھ کر ایک دھاگے میں گرہ ڈالتے ہیں اور اس پر پھونک مارتے ہیں جس طرح پاک کلام کے پاکیزہ اثرات ہوتے ہیں اسی طرح ابلیسی منتروں اور شیطانی طلسموں کے تکلیف دہ نتائج ہوتے ہیں ۔ سحر سے کسی چیز کی حقیقت بدلتی ہے یا نہیں ؟ یہ الگ موضوع ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے انسانی نفسیاتی طور پر ضرور متاثر ہوتا ہے۔ ہاروت و ماروت کے واقعہ میں بھی یہ بتایا گیا ہے کہ شیاطین لوگوں کی باہمی محبت و پیار، نفرت و عداوت سے بدل جاتی ۔ ساحران فرعون کے متعلق بھی قرآن کریم مذکور ہے کہ جب انہوں نے اپنے منتر پڑھ کر رسیوں پر پھونک ماری تو ہزار ہا لوگ جو وہاں دربار میں موجود تھے ان سب کو یہی نظر آیا کہ وہ رسیاں سانپ بن گئی ہیں اور سانپ کی طرح لہرا رہی ہیں۔ کسی کو کیا خبر کہ کوئی خبث الفطرت انسان اس کے لئے کیسا کیسا جادوکر رہا ہے اور چند ٹکوں کے عوض کس طرح اس کے در پئے آزار ہے ،ا س لئے اس چیز کو بھی خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا کہ الٰہی جو بدکیش مجھے دکھ پہنچانے، میرے گھر کا سکون برباد کرنے، میری صحت کوبگاڑنے کے لئے ان ذلیل حرکتوں میں لگے ہوئے ہیں، میں خود ان کے شر سے پانی حفاظت نہیں کر سکتا۔ اے میر مولا ! اے میرے نگہبان! مجھے اپنی پنا ہ میں لے لے اور ان کے شر سے مجھے بچا لے۔ (از تفسیر۴ ضیاء القرآن )]

۵۔ اور (میں پناہ مانگتا ہوں) حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے ۔ [یہ جذبہ انسان کی کمینگی اور خست طبع پر دلالت کرتا ہے،لیکن بات یہاں تک محدود نہیں رہتی، بسا اوقات یہ بڑے بڑے جو روستم کا سبب بن جاتا ہے جو انسان حسد کی آگ میں جل رہا ہوتا ہے، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھا نہیں رہتا بلکہ ایسی تدبیریں سوچتا ہے، ایسی سازشیں کرتا ہے، اس قسم کے گٹھ جو ڑکرتا ہے جس سے وہ اپنی ناپاک آرزو کو پورا کر سکے۔ اس سے ایسی ایسی مذموم حرکتیں سرزد ہوتی ہیں جو شرف انسانی سے کوئی مناسبت نہیں رکھتیں ۔ قابیل نے ہابیل کو حسد کی وجہ سے ہی قتل کیا تھاابوجہل اور دیگر اکابر قریش یہ جانتے ہوئے بھی کہ حضورﷺ سچے نبی ہیں، محض حسد کی وجہ سے دین اسلام کو قبول نہیں کرتے تھے۔ جس انسان پر اللہ تعالیٰ کا کوئی خصوصی کرم ہوتا ہے، اس کے بد خواہ اکثر پیدا ہوجاتے ہیں، وہ ان کی عزت کرتا ہے، ان کی دلجوئی کرتا ہے، جہاں تک بن پڑے ان کی خدمت سے بھی گریز نہیں کرتا، اس کے باوجود حاسدوں کے سینوں میں حسد کی آگ بھڑکتی رہتی ہے وہ بلاوجہ جلتے رہتے ہیں، انسان نہ تو خود ہر حاسد کو پہچان سکتا ہے اور نہ حاسدوں کے منصوبوں سے آگاہ ہو سکتا ہے اور اگر آگاہ ہو بھی جائے تو بسا اوقات ان کا تدارک کرنے سے قاصر ہوتا ہے اس لئے حکم دیا جارہا ہے کہ تم اپنے رب کریم کے دامن عاطفت میں پناہ لے لو بے شک اس حاسدوں کی شر انگیزوں سے وہی بچ سکتا ہے جسے اس کی پناہ حاصل ہو جائے۔ الٰہی! تیرا یہ زرو ناتواں ، ضعیف و بے نوابندہ تیرے دامن لطیف و کرم میں پناہ طلب کرتا ہے تیری پناہ کے بغیر اس کا کوئی ٹھکانا نہیں۔ (از تفسیر ۵ضیاء القرآن)]

یہ بھی پڑھیں:  صدقة الفطر کے فضائل

(سورۃ الناس ۱۱۴)
۱۔ (اے حبیب!) عرض کیجئے میں پناہ لیتا ہوں سب انسانوں کے پروردگار کی۔ [رب (پروردگار) کا مطلب ہے جو ابتدا سے ہی، جب کہ انسان ابھی ماں پیٹ میں ہی ہوتا ہے ، اس کے تدبیر و اصلاح کرتا ہے، حتیٰ کہ وہ بالغ عاقل ہو جاتا ہے، پھر وہ یہ تدبیر چند مخصوص افراد کے لئے نہیں ، بلکہ تمام انسانوں کے لئے کرتا ہے اور تمام انسانوں کے لئے ہی نہیں، بلکہ اپنی تمام مخلوقات کے لئے کرتا ہے، یہاں صرف انسانوں کا ذکر انسان کے اس شرف و فضل کے لئے ہے جو تمام مخلوقات پر اس کو حاصل ہے۔ (از تفسیر ۲شا فہد قرآن پرنٹنگ) ]
۲۔ سب انسانوں کے بادشاہ کی۔ [جو ذات ،تمام انسانوں کی پرورش اور نگہداشت کرنے والی ہے ، وہی اس لائق ہے کہ کائنات کی حکمرانی اور بادشاہی بھی اس کے پاس ہو (از تفسیر۳شاہ فہد قرآن پرنٹنگ)]

یہ بھی پڑھیں:  نفاق اور اس کی اقسام

۳۔ سب انسانوں کے معبود کی۔ [اور جو تمام کائنات کا پروردگار ہو، پوری کائنات پر اسی کی بادشاہی ہو، وہی ذات اس بات کی مستحق ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور وہی تمام لوگو ں کا معبود ہو، چنانچہ میں اسی عظیم و برتر ہستی کی پناہ حاصل کرتا ہوں۔ (از تفسیر ۴شاہ فہد قرآن پرنٹنگ)]

۴۔ بار بار وسوسہ ڈالنے والے ، بار بار پسپا ہونے والے کے شر سے۔ [وسوسہ، مخفی آواز کو کہتے ہیں، شیطان بھی نہایت غیر محسوس طریقوں سے انسان کے دل میں بری باتیں ڈال دیتا ہے، اسی کو وسوسہ کہا جاتا ہے، الخناس (کھسک جانے والا یہ شیطان کی صفت ہے۔ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو یہ کھسک جاتا ہے اور اللہ کی یاد سے غفلت برتی جائے تو دل پر چھا جاتا ہے۔(از تفسیر ۵شاہ فہد قرآن پرنٹنگ)]
۵۔ جو وسوسہ ڈالتا رہتا ہے لوگوں کے دلوں میں۔[یہ وسوسہ ڈالنے والوں کی دوقسمیں ہیں، شیاطین الجن کو تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو گمراہ کرنے کی قدرت دی ہے، علاوہ ازیں ہر انسان کے ساتھ ایک شیطان اس کا ساتھی ہوتا ہے جو اس کو گمراہ کرتا رہتاہے۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب نبی ﷺ نے یہ بات فرمائی تو صحابہؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ! کیا وہ آپ کے ساتھ بھی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا، ہاں! میرے ساتھ بھی ہے، لیکن اللہ نے اس پر میری مدد فرمائی ہے، اور وہ میرا مطیع ہو گیا ہے ۔ مجھے خیر کے علاوہ کسی با ت کا حکم نہیں دیتا۔(صحیح مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ، باب تحریش الشیطن و بعثہ سرایاہ لفتنۃ الناس۔۔۔۔۔)اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف فرما تھے کہ آپﷺ کی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہؓ آپ ﷺ سے ملنے کے لئے آئیں۔رات کا وقت تھا، آپﷺ انہیں چھوڑنے کے لئے ان کے ساتھ گئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی وہاں سے گزرے، تو آپﷺ نے انہیں بلاکر فرمایا کہ یہ میری اہلیہ، صفیہ بنت حیی ہیں۔ انہوں نے عرض کیا ،یارسول اللہ ! آپ ﷺکی بابت ہمیں کیا بدگمانی ہو سکتی تھی؟آپﷺ نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے، لیکن شیطان انسان کی رگوں میں خون کی طرح دوڑتا ہے مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دلوں میں کچھ شبہ نہ ڈال دے۔(صحیح بخاری ، کتاب الاحکام، والشھادۃ تکون عند الحاکم فی ولایۃ القضاء) دوسرے شیطان، انسانوں میں سے ہوتے ہیں جو ناصح، مشفق کے روپ میں انسانوں کی گمراہی کی ترغیب دیتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ شیطان جن کو گمراہ کرتا ہے یہ ان کی دو قسمیں ہیں، یعنی شیطان انسانوں کو بھی گمراہ کرتا ہے اور جنات کو بھی۔ صرف انسانوں کاذکر تغلیب کے طور پر ہے، ورنہ جنات بھی شیطان کے وسوسوں سے گمراہ ہونے والوں میں شامل ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جنوں پر بھی قرآن ہیں ’’رجال‘‘ کا لفظ بولا گیا ہے۔ (سورۃ الجن۶)اس لئے وہ بھی ناس کا مصداق ہیں۔ (از تفسیر ۱شاہ فہد قرآن پرنٹنگ)]

یہ بھی پڑھیں:  ریاست مدینہ کے سنہری اصول