golgappe

گول گپے، نام کچھ بھی ہوں، ہیں بڑے تیکھے

EjazNews

حیدرآباد دکن کی یہ سوغات وہاں پانی پڑے ہی کہلاتی ہے۔ پاکستان میں ہم اسے گول گپے کہتے ہیں۔ جن کے تصورہی سے منہ میں پانی بھر آئے، جولذیذ ہوں تو اتنے کہ اپنا حصہ بھی کم پڑے۔ ہم انہیں پانی پری بھی کہتے ہیں۔ کچھ حیرت نہیں ہوتی کہ ہندوستانی اور پاکستانی دنیا کے جس علاقے میں جا بسیں گول گپے ہوں یا دہی بھلے، سموسے، چاٹ، جلیبیاں اور دوسری دیسی مٹھائیاں بنانے والے وہاں بھی مل جاتے ہیں یہ صرف خواتین ہی کی نہیں مردحضرات کی بھی پسندیدہ چاٹ ہے۔ گول گپوں کے ساتھ کرارے مصالے دار پانی، ابلا ہوا آلو، چنے کی چاٹ اور دہی ڈال کر بھی شوق سے کھایا جاتا ہے۔ گول گپوں کا پانی آلو بخارے،املی اور ٹاٹری سے مل کر بنتاہے۔ جسے جل زیرہ بھی کہا جا تا ہے۔

گول گپے کی کہانی:
تقسیم ہند سے پہلے اور بعد میں بھی دہلی کی پارلیمنٹ بلڈنگ کے قریب جنتر منتر ایک جگہ ہے۔ جہاں خوانچہ فروش پانی پوری کے ٹھیلے لگاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہاں آئے دن جلسے جلوس ہوتے ہیں اور طویل تر ریلیاں نکلتی ہیں۔ ہندسرکاران خوانچہ فروشوں کو یہاں کام کرنے کی اجازت دیتی ہے۔
پاکستان کے بھی جس شہر میں جائیں احمد رشدی کے گانے ”گول گپے والا آیا گول گپے لایا “کے ساتھ ریڑھیاں گلیوں محلوں میں نظر آتی ہیں۔ 1962 فلم مہتاب میں احمد رشدی مرحوم نے یہ گیت گا کر گویا گول گپوں ہی کوامر کردیا۔ آج لوگوں کو رشدی کا کوئی اور گانا یاد ہو یا نہ ہو گول گپے والا از بر ہوچکا ہے۔
کوئی ڈیڑھ صدی قبل دہلی کے خاندان کے ایک کاریگر نے پوریاں بنانے کے بعد آخر میں بچ جانے والے میدے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو اتفاقیہ طور پر گرم تیل میں ڈالا تو یہ ٹکڑا درمیان سے پھول کر گول گپے کی شکل اختیار کر گیا۔ گھر والوں کی متفقہ رائے سے اس ٹکڑے کو ابلے ہوئے چنے، پیاز اور چینی وغیرہ ڈال کر مہمانوں کو پیش کیا گیا تو انہیں یہ نئی چیز بہت اچھی گئی۔ بعدازاں چکی کے آٹے ،کوکنگ آئل اور پانی ملا کر گول گپے بنائے جانے لگے۔ اس ڈش کا نام گول گپے کیسے پڑا تاریخ میں اس ضمن میں خاطر خواہ معلومات نہیں ملتی بہر حال کاریگر آٹا گوندھ کر بیلنے سے اچھی طرح باریک کرتے ہیں، چھوٹی چھوٹی گولیاں بناتے ہیں۔ ان گولیوں کو اسٹیل کے برتن کی الٹی سائیڈ یاپلاسٹک کے پائپ کے ذریعے دبا کر ٹکیوں کی شکل دے دی جاتی ہے اور پھر انہیں ایک بڑے سے کپڑے پر ڈال کر کچھ دیر دھوپ میں رکھا جاتا ہے۔ ان نلکیوں کو پوریوں کی طرح کڑاہی میں تیل گرم کر کے تل لیا جاتا ہے۔ یوں گول گپے تیار ہو جاتے ہیں۔ اگر ایک ہزارٹکیاں تلی جائیں تو ان سے 600 کے قریب گول گپے تیار ہوتے ہیں جبکہ باقی 400 ٹکیاں یا پڑی کی شکل اختیار کرلیتی ہیں جنہیں دہی بڑے بنانے والے استعمال کر لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ایک دن میں 13ارب ڈالر کمانے والا شخص

احتیاطی تدابیر:
بازار کے چٹ پٹے اور تیکھے کھانوں کا انتخا ب کرتے وقت بنانے والے کی ساکھ اور حفظان صحت کے اصولوں کو مدنظر رکھا کیجئے۔