sanaullah zehri_abdu qadir baloch

عبدالقادر بلوچ اور ثناءاللہ زہری ن لیگ سے باقاعدہ علیحدہ ہو گئے

EjazNews

میڈیا رپورٹس کے مطابق عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسے کے بعد (ن) لیگ سے راستے جدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم 2010 میں مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوئے اور پارٹی کو 2013 کے انتخابات میں قربانیاں دے کر 22 اراکین کی اکثریت دلائی، لیکن شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان بلوچستان آتے ہیں اور ایک کمرے میں ملاقاتیں کرکے فیصلہ کرتے ہیں کہ ثنااللہ زہری بلوچستان اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر نہیں ہوں گے اور جہاز میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے بڑا ظلم کیا ہوگا کہ ہم نے 3 جوانوں کی شہادت پیش کی اس کے باوجود ثنااللہ زہری سے ان کا حق چھینا جاتا ہے اور کوئی وجہ بھی نہیں بتائی جاتی لیکن ہم نے یہ زیادتی بھی برداشت کی۔

انہوں نے کہا کہ آئین کی تشریح تو سپریم کورٹ کرتی ہے جو 20 سال میں پرویز مشرف کے مارشل لا کا فیصلہ نہیں کرسکی، ایسا کرنا فوج میں بغاوت کا بیج بونا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اسی فوج کی وجہ سے بلوچستان میں امن آیا ہے، فوج کے بغیر ملک کچھ نہیں ہے، میں جو کچھ بھی ہوں پاکستانی فوج کی وجہ سے ہوں، میں کبھی سوچ نہیں سکتا کہ پاک فوج کے خلاف باتیں کرنے والے گروہ کے ساتھ رہوں، میں آرمی چیف کی بے عزتی برداشت نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  شمالی وزیرستان میں شہادت پانے والےسرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب ثنااللہ زہری نے بھی جلسے سے خطاب میں پارٹی چھوڑنے اور مسلم لیگ (ن) کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی بےوفائی کی وجہ سے سب انہیں چھوڑ کر چلے گئے، میر حاصل خان مرحوم ہمارے ساتھ تھے لیکن بعد میں وہ نیشنل پارٹی میں چلے گئے، میں نے اس وقت کہا کہ نواز شریف بلوچستان میں اپنی جماعت کی حکومت نہیں بنائیں گے۔ثنااللہ زہری نے کہا کہ نواز شریف آپ نے ہم سے بےوفائی کی، آپ نے باعزت آدمیوں کو بے عزت کرانے کی کوشش کی، لیڈر ایسے نہیں ہوتے جو بھگوڑے بن کر باہر بیٹھ جائیں۔