alhan

امریکہ انتخابات اب تک کیا ہوا؟

EjazNews

امریکہ میں صدارتی انتخاب صدر ٹرمپ اور ڈیموکیٹ امیدوار جو بائیڈن کے درمیان کانٹے کا مقابلہ جاری ہے اور تاحال کسی امیدوار کو واضح برتری حاصل نہیں ہو سکی۔ دونوں جانب سے جیت کے دعوے کیے جارہے ہیں ۔

امریکی صدارتی الیکشن میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن مشی گن اور وسکانسن ریاستوں میں کامیابی کے بعد وائٹ ہاوس کے اگلے مکین بننے کے قریب پہنچ چکے ہیں تاہم صدر ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے بعض ریاستوں میں ووٹوں کی گنتی روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکہ کے قومی ٹیلی ویژن پر ایک مختصر خطاب میں جو بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے تاحال اپنی جیت کا اعلان نہیں کیا لیکن جیسے ہی ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگی، ہمیں یقین ہے کہ ہم ہی کامیاب ہوں گے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ہمارے وکلا نے بامعنی رسائی کے لیے کہا ہے لیکن اس سے اب کیا فائدہ ہوگا؟ جتنا نقصان ہمارے نظام کی ساکھ اور صدارتی الیکشن کو پہنچنا تھا وہ ہو چکا۔ بحث اس بات پر ہونی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایران میں پاکستانی زائرین کی بس کو حادثہ

سی این این کے مطابق کہ جو بائیڈن مطلوبہ 270 الیکٹرول کالج ووٹوں کے قریب پہنچ گئے ہیں اگر وہ نواڈا اور ایریزونا میں کامیابی حاصل کرلیتے ہیں تو انہیں برتری حاصل ہوجائے گی۔

دوسری جانب مسلمان خواتین الہان عمر اور رشیدہ طالب سمیت الیگزینڈریا اوکاسیو اور ایانا پریسلی ایک مرتبہ پھر امریکی ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہو گئی ہیں۔دی ا سکواڈ کے نام سے جانی جانے والی چار ترقی پسند خواتین نے ایک مرتبہ پھر قدامت پسند مخالفین کو شکست دے کر اپنی نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ان چاروں خواتین کا تعلق ڈیموکریٹ جماعت سے ہے۔ الیگزینڈریا اوکاسیو کو ریاست نیو یارک سے فتح حاصل ہوئی ہے، الہان عمر کو مینیسوٹا، ایانا پریسلی کو میساچوسٹس جبکہ رشیدہ طالب مشی گن سے الیکشن جیت کر ایوان نمائندگان کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔

کانگریس کی مسلم خاتون رکن الہان عمر نے سکواڈ کے ممبران کی تصاویر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ہمارا بہن چارہ مضبوط ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چین ہی ہے جو اس کرونا وائرس کو کنٹرول کر سکا

ان ترقی پسند خواتین کے سکواڈ کو ریپبلکن جماعت کی جانب سے شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے ممبران انہیں جہاد سکواڈ کا لقب بھی دے چکے ہیں۔یہ چاروں خواتین نومبر 2018 میں امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں پہلی مرتبہ ایوان نمائندگان کا رکن بنی تھیں۔ الہان عمر اور رشیدہ طالب کو پہلی مسلمان خواتین ہونے کا اعزاز حاصل ہوا تھا جو امریکی ایوان میں منتخب ہوئی تھیں۔

فلسطینی تارک وطن کی بیٹی اور سماجی کارکن رشیدہ طالب مشی گن کے تیرہویں کانگریشنل ضلع ڈیٹرائٹ سے ڈیموکریٹ امیدوار تھیں جبکہ الہان عمر کے والدین کا تعلق صومالیہ سے ہے اور سول جنگ کے دوران 4 سال تک وہ کینیا کے پناہ گزین کیمپ میں مقیم رہیں۔

الیگزینڈریا اوکاسیو بھی 2018 کے وسط مدتی انتخابات کے نتیجے میں کانگریس میں منتخب ہوئی تھیں۔ ان کے والدین کا تعلق پیورٹو ریکو سے ہی جبکہ الیگزینڈریا کی پیدائش نیویارک میں ہوئی تھی۔ایانا پریسلی کی پیدائش اوہایو میں ہوئی تھی۔ 2009 میں وہ بوسٹن سٹی کونسل کی 100 سالہ تاریخ میں منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:  عالمی وبا کا اختتام تب ہو گا جب ہم اس کے ساتھ جینا سیکھ لیں گے:ڈبلیو ایچ او