trum_biden

دنیا کے سب سے طاقتور وائٹ ہاﺅس کا نیا مکین کون؟

EjazNews

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں یوں تو دنیا کو دلچسپی نہیں ہونی چاہئے کیونکہ انتخابات امریکہ کے ہیں لیکن صدر ٹرمپ دنیا بھر میں برے یا اچھے تعلقات کی وجہ سے مشہور ہیں اور غیر معمولی طور پر مشہور ہیں۔ وہ گوروں کی سپر میسی کے بھی قائل نظر آتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ اپنے پورے صدارتی دور میں ایسی عجیب و غریب حرکتیں کرتے پائے گئے جس نے پوری دنیا کو حیران و پریشان کر دیا۔ شمالی کوریا کے ساتھ وہ جس طرح جھک کر تعلقات بنانا چاہتے تھے اس کے باوجود شمالی کوریا نے احتیاطی تدابیر اپنائیں ۔ ا س کے برعکس ان کا ایران کے ساتھ رویہ سخت اور نہایت سخت رہا۔ ان کی اسرائیل نوازی کی انتہا یہ تھی کہ پہلے امریکی صدر ہوں گے جنہوں نے عربوں اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات بھی قائم کروا دئیے بلکہ یہ بات راہ و رسم سے بھی آگے بڑھ گئی۔

کہا جاتا ہے کہ امریکہ میں یہودی پالیسی سازی سے لے کر صدارتی انتخابات تک کی ایک اہم کڑی ہیں حالانکہ ان کی تعداد بہت کم ہے۔ لیکن اس کے باوجود ان کا اثرو رسوخ امریکہ میں دنیا کے کسی ملک سے بھی زیادہ ہے۔ وہ جو چاہتے ہیں اپنے مفاد کے مطابق امریکہ سے کروا لیتے ہیں اور صدر ٹرمپ نے تو یہودنوازی کی تمام تر کامیاب کوششیں کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  طالبان اور امریکا میں مذاکرات شروع

یہودیوں کے لیے پہلا انتخاب جوبائیڈن نہیں بلکہ ٹرمپ ہی ہوں گے۔ اس کے بعد دوسری بڑی اثرورسوخ رکھنے والی کمیونٹی انڈین ہے ۔ ان کو اپنی طرف کرنے کیلئے امریکی صدر ٹرمپ نے بہت پہلے سے کوششیں شروع کر دی تھیں اپنی الیکشن کمپین نریندرا مودی سے انہوں نے شروع کروائی۔

آئیے اب ایک نظر امریکہ میں ہونے والی ووٹنگ کی جانب بھی ڈالتے ہیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخاب میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن کے درمیان کانٹے دار مقابلہ ہو رہا ہے۔امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق بیشتر ریاستوں میں پولنگ کا وقت ختم ہو چکا ہے جبکہ ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔فلوریڈا میں نمایاں برتری کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ، جوبائیڈن سے آگے ہیں۔ فلوریڈا میں اب تک 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔

فلوریڈا کو نمایاں سوئنگ سٹیٹ کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ٹرمپ کو دوبارہ امریکی صدر منتخب ہونے کے لیے یہاں کامیاب ہونا ضروری ہے۔

امریکی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے۔ ٹرمپ الباما، میسی سیپی اور اوکلاہوما جب کہ بائیڈنگ میساچوسٹس، اپنی ہوم سٹیٹ ڈیلاویئر اور ورجینیا میں فاتح رہے ہیں۔
اب تک جن ریاستوں کے نتائج آئے ہیں ان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 13 جبکہ جو بائیڈن کی 11 ریاستوں میں کامیابی ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مودی سرکار کو بے نقاب کیا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی

امریکی میڈیا کے مطابق کہ ریپبلکن امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان 13 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے جہاں انہوں نے 2016 میں انتخابات جیتے۔بائیڈن نے نیویارک سمیت 11 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق جو بائیڈن نے 126 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ صدر ٹرمپ نے 89 جبکہ صدارتی انتخاب کے لیے امیدوار کو 270 ووٹ درکار ہوتے ہیں۔

ابتدائی نتائج کے مطابق کے ریاست کینٹکی، میسیپی، ساوتھ کیرولاوئنا، نارتھ اور ساوتھ ڈکوٹا ،ایلاباما، اوکلوہوما، ٹیناسی اور ویسٹ ورجینا میں ٹرمپ کی کامیابی متوقع ہے۔
نیو یارک، ورمونٹ، ڈیلاویئر، ورجینا، میری لینڈ، ڈسٹرکٹ آف کولمبیا،میسا چیوسٹسِ، کینٹیکٹ، نیو جرسی اور روڈ آئی لینڈ میں جوبائیڈن کی جیت نظر آرہی ہے۔ریاست انڈیانا ،جارجیا، فلوریڈا اورنارتھ کیرولاوئنا میں ٹرمپ لیڈ لیے ہوئے ہیں۔ اوہائیو اور نیو ہمشائرمیں جو بائیڈن کی سبقت ہے۔

فلوریڈا میں تقریبا نوے فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد ٹرمپ سبقت بنائے ہوئے ہیں۔ اس ریاست کو اہم سوئنگ ریاست کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ دوبارہ منتخب ہونے کے لیے صدر ٹرمپ کی اس ریاست میں جیت لازمی ہے۔
اگرچہ منگل باضابطہ طور پر امریکی صدر کے الیکشن کا دن تھا، لیکن درحقیقت امریکی کئی ہفتوں سے ووٹ ڈال رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  دورے کا مقصد اعتماد بحال کرنا، روابط بڑھانا اور اس بات کا یقین دلانا کہ ہم آپ کی توقعات سے بڑھ کر مدد کریں گے:وزیراعظم

کرونا وائرس سے بچاو اور حفاظت کے پیش نظر تقریباً 10 کروڑ ووٹرز ووٹنگ کے دن سے قبل ہی اپنا حق رائے دہی استعمال کر چکے تھے۔
اس الیکشن کو صدر ٹرمپ کی چار سالہ دور صدارت کے حوالے سے ایک ریفرنڈم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ کہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن کو ری پبلکن امیدوار صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر برتری حاصل ہے، تاہم صدر ٹرمپ نے پیر کے روز چار ریاستوں میں پرہجوم ریلیوں کے ساتھ جارحانہ انداز سے اپنی انتخابی مہم چلائی اور امریکی صدر کے لیے اپنے بے مثال دعووں کو دہرایا کہ ان کے خلاف الیکشن میں دھاندلی کا خدشہ ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنی الیکشن مہم کے اختتام پر کہا کہ وہ ایک اور خوبصورت فتح حاصل کرنے جا رہے ہیں جبکہ جو بائیڈن کا ووٹرز سے کہنا تھا کہ وہ جمہوریت کو بچائیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کو ریاست مشی گن سے کامیابی نہیں ملتی لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے چار برس قبل 2016 کے الیکشن میں اس ریاست میں حیران کن اپ سیٹ کیا تھا۔