pakistan_children

ہمارے بڑھتے ہوئے مسائل وجہ کیا ہے؟

EjazNews

بڑھتی ہوئی مہنگائی ،بےروزگاری اور ہماری جھوٹی انا ہمارے لیے ایک بہت بڑے عفریت کا روپ دھار چکی ہے۔ ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ہمارے مسائل کی جڑ کیا ہے اور ا نہیں کیسے حل کرنا ہے۔ سرکار ہر مسئلہ حل نہیں کرسکتی ۔

گزشتہ دو دہائیوں میں ارتکاز کے زر میں امارت کو جنم دیا ہے اور مڈل کلاس پاکستان سے تقریباً ختم ہو تی جارہی ہے۔ سفید پوشی اب ایک المیہ ہے۔ مڈل کلاس کے خاتمے مڈل کلاس کا کلچر بھی دم توڑتا جارہا ہے۔ مذہب اور روایت پسند ہمیشہ سے ہی مڈل کلاس رہی ہے۔ اسی لیے روایات بھی کمزور پڑتی جارہی ہیں۔ مڈل کلاس کے کمزور ہونے سے سماجی ڈھانچہ اور اس کی بنیادیں ہلتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔

ہمارے ہاں کچھ اضافی مسائل بھی ہیں۔ جن پر حکومت نے کبھی بھی نظر کرم نہیں کیا۔ یہ دیکھنا بہت ضروری ہے کہ ہمارے کسی شعبے میں حکومت عوام کا بازو پکڑنے پر آمادہ نہیں نہ ہی اسے سہارا دینا چاہتی ہے۔ دنیا کے کسی مہذب ملک میں چلے جائیں آپ کو حکومت ہر جگہ عوام کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر کسی سہارے کی مانند دکھائی دے گی۔ مگر ہمارے ہاں کسی بھی سرکاری کارندے کو دیکھ کر خوف کی لہر جنم لیتی ہے۔ سرکاری کارندہ غریب اور ان پڑھ سے لے کر پڑھے لکھے اور امیر ہر شخص کے لیے خوف کی علامت ہے۔ حکومت کو اسے ختم کرنے کےلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ورنہ عوام کے مسائل حل نہیں ہو سکتے ۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان کے ایٹمی پاکستان بننے کا دن28مئی 1998

ماضی میں بھی بہت زیادہ مہنگائی اور بے روزگاری رہی۔ مگر یہ ہمیں کئی حوالوںسے محسوس نہیں ہوئی۔ دولت کی ریل پیل تھی آج سے چند برس قبل بیرون ملک سے پیسہ غریب اور متوسط طبقے کے اکاﺅنٹس میں آرہا تھا ۔بیرون ملک سے لاکھوں لوگ اپنے لاکھوں پاکستانیوں کو سرمایہ بھجوا رہے تھے۔ اب ترسیلا ت زر تقریباً انتہا کو چھو رہی ہیں مگر یہ پیسہ متوسط طبقے سے اوپر کے طبقات کے اکاﺅنٹس میں آرہا ہے۔ اسی طرح لاکھوں لوگ بیرون ملک سے پاکستان واپس آگئے۔ ان کی اکثریت اب تک روزگار کی تلاش میں بھٹک رہی ہے، ان کا کوئی والی وارث نہیں۔ عمر گزرجانے کے باعث یہ جاب مارکیٹ کے بھی اہل نہیں رہے۔ اب اپنی جمع پونجی کھا رہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں مہنگائی اگر کم بھی ہو تو محسوس زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لیے موجودہ دورمیں مہنگائی بہت زیادہ محسوس ہو رہی ہے۔

ہماری حکومتیں ماضی میں آبادی میں اضافہ کی رفتارپر قابو پانے میں ناکام رہی۔ اربوں ڈالر بیرون ملک سے آئے مگر ہمیں اس کا کوئی قابل ذکر بہتر استعمال نہ کرسکے۔ ہر دور میں آبادی میں اضافہ کا تناسب 1.8فیصد بتایا گیا مگر اضافہ کا تناسب اس سے کہیں زیادہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمارے تمام وسائل آبادی کی نظر ہو چکے ہیں۔ ہمارے قومی مسائل ہماری بڑھتی ہوئی آبادی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر ترقیاتی سکیم ،خواہ کتنی اچھی کیوں نہ ہو آبادی میں اضافہ کی نظر ہو جاتی ہے۔

حکومت نے ایک سروے میں بتایا ہے کہ ملک میں دو افراد(مرد یا عورت)پر مشتمل گھرانوں کی تعداد سوا پانچ فیصد ، 1.3فیصد گھرانے ایک رکن اور 5فیصد گھرانے دو افراد پر مشتمل ہیں۔ جبکہ 3افراد پرمشتمل گھرانوں کا تناسب 9فیصد اور 4افراد پرمشتمل گھرانوں کی تعداد سوا چودہ فیصد سے کم ہے۔پاکستان میں اس وقت بھی 5افراد پر مشتمل گھرانوں کا تناسب 18فیصد، 6افراد پر مشتمل گھرانوںکاتناسب 17.3فیصد اور 7افراد پر مشتمل گھرانوں کا تناسب 13فیصد ہے جبکہ مزید 7.8فیصد گھرانے 8 ، 5.3 فیصد گھرانے 9 اور 9.3فیصد گھرانے 10یا اس سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ ملک میں مجموعی طور پر 6اورا س سے زائد افراد پر مشتمل گھرانوں کی تعداد تمام گھرانوں کا ایک تہائی ہے۔ جو ملک میں مسائل کی ایک بڑی وجہ بھی ہے۔سب سے پہلے ہمیں آبادی کے مسائل پر قابو پانا ہوگا۔ یہاں یقینا بہت سے لوگ کہیں گے کہ ہر انسان اپنا روزگار اور رزق ساتھ لے کر آتا ہے۔ چین نے یہ بات صحیح ثابت کی ہے۔ کسی نے چو این لائی سے پوچھا تھا کہ چین کی آبادی بہت بڑھ گئی ہے آپ مسائل پر کیسے قابو پائیںگے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے ہاں پیدا ہونے والا ہر بچہ ایک منہ اور دوہاتھوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں انہوں نے یہ کہا تھا کہ ہر شخص جتنے وسائل استعمال کرتا ہے اس سے دگنے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے چین نے یہ بات اپنے نظام میں بالکل سچ ثابت کردی ہے۔ آج چین امریکہ امیپرازم اور روسی کمیونی ازم کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ لیکن ہم اپنے ہاںاب تک اپنے خاندانی نظام میں ٹوٹ پھوٹ اور آبادی کے پھیلاﺅ کو منفی ہونے سے بچانے میں ناکام رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سندھ میں اولیاء اللہ کے مزارات (۲)

دوسری طر ف عورت مردوں کے شانہ بشانہ آنے کے چکر میں مردوں سے ان کا روزگار اورتعلیم کے وسائل چھین رہی ہے۔ میڈیکل کالجوں میں 60فیصد سے زیادہ لڑکیاں ہیں جبکہ پی ایم ڈی سی کے ریکارڈ کے مطابق لڑکیوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس پروفیشن میں موجود نہیں یعنی وہ تمام وسائل استعمال کرنے کے بعد منظر سے غائب ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال پر قابو پا کر قومی مسائل کو کچھ حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔

ہمارے ہاں ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کام کرنے کی عمر میں کام نہیں ملتا ۔ برسر روزگار افراد میں سے تقریباً سوا تین فیصد بچے اور 11فیصد ٹین ایجر جاب کر رہے ہیں۔ 20سے 24سال کے 30.5 اور 25سے 29سال کے 13.45 فیصد نوجوان برسر روزگار ہیں۔ اس کے بعد کی عمروں میں روزگار کے تناسب میں کمی آتی جاتی ہے۔ یعنی نوجوانوں کا بہت بڑا حصہ روزگار سے محروم ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ حکومت نے نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی کے لیے کوئی جامع پالیسی نہیں بنائی۔ منصوبوں کے مالی حجم کو مد نظر رکھتے ہ وئے کہہ دیا جاتا ہے کہ اس سے اتنے ہزار روزگار کے وسائل پیدا ہوں گے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا، ہمارے ہاں کسی حکومت نے ٹیکنالوجی کے اثرات کو سٹڈی نہیںکیا۔ اسی لیے روزگارکی فراہمی کے تخمینے بھی یکسر غلط ثابت ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:  بے فکری کی صبح