American Election

امریکہ میں صدارتی انتخابات کیسے ہوتے ہیں ؟

EjazNews

صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کے 45ویں صدر ہیں۔اور اب امریکہ کے 46ویں صدر کے لیے انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے 3 نومبر2020ءکو ہونے والے عام انتخابات میں امریکی اپنے ووٹ کا بھرپور استعمال کریں گے۔

77 سالہ جو بائیڈن، جو اس سے قبل 2 مرتبہ بطور صدارتی امیدوار سامنے آچکے ہیں، اب ایک مقبول امریکی رہنما کے طور پر ابھرے ہیں۔ وہ ناصرف اس سے قبل 2 بار صدارتی امیدوار کے طور پر سامنے آچکے ہیں بلکہ انہوں نے صدر باراک اوباما کے ساتھ بھی 8 سال تک بطور نائب صدر فرائض انجام دیے ہیں۔ انہیں بطور ڈیموکریٹک امیدوار اسٹیٹ ٹائیکون ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک طاقتور مدمقابل سمجھا جارہا ہے۔

امریکا میں 150 سال سے 2 ہی پارٹیوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ رہا ہے۔ ان میں سے ایک ریپبلکن پارٹی ہے جسے گرینڈ اولڈ پارٹی یا جی او پی بھی کہا جاتا ہے۔ اس پارٹی کا حلقہ اثر زیادہ تر امیر لوگ ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کا نشان ہاتھی ہے جبکہ دوسری بڑی سیاسی جماعت ڈیموکریٹس ہے جس کا نشان گدھا ہے۔ اس کے علاوہ بھی چند چھوٹی پارٹیاں ہیں جن میں گرین پارٹی بھی شامل ہے لیکن انہیں کبھی بھی عوامی سطح پر مقبولیت حاصل نہیں ہوسکی۔

اس وقت پوری دنیا کی نگاہیں امریکہ کے صدارتی انتخابات پر لگی ہوئی ہیں۔ امریکہ کے صدارتی انتخابات کے حوالے سے باقی دنیا کی طرح پاکستان میں بھی گہری دلچسپی لی جارہی ہے، لیکن عمومی سطح پر ان انتخابات میں دلچسپی لینے والوں کی ایک بڑی تعداد ان انتخابات کے تکنیکی پہلووں اور ساخت سے آگاہی نہیں رکھتی اور اسے براہ راست صدارتی انتخابات کا ایک سادہ سا طریقہ تصور کرتی ہے، حالانکہ صورتحال مختلف ہے۔امریکی سیاست میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ان انتخابات کے تمام مراحل کو سمجھیں۔ ہم آپ کو امریکی انتخابات کے حوالے سے چند بنیادی نوعیت کے حقائق بتاتے ہیں۔

امریکی انتخابات ہر 4 سال بعد منعقد کیے جاتے ہیں۔صدارتی انتخابات سے 2 سال پہلے ہی اس کی تیاری شروع کردی جاتی ہے۔

امریکہ کے صدارتی امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ اس کی عمر کم از کم 35 سال ہو اور وہ امریکہ ہی میں پیدا ہوا ہو۔ اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ متواتر 14 سال سے امریکہ ہی میں رہتا ہو یعنی اس کی رہائش امریکہ سے باہر نہ ہو۔

امریکی ایوان کو کانگریس کہتے ہیں جس کے 2 ایوان ہوتے ہیں۔ ایک ایوانِ زیریں یعنی ایوانِ نمائندگان کہلاتا ہے اور دوسرا ایوانِ بالا جسے سینیٹ کہا جاتا ہے۔ ان دونوں ایوانوں کے کل اراکین کی تعداد 435 ہوتی ہے جن کو ووٹ دینے کا اختیار ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ 6 مزید اراکین بھی ہوتے ہیں جنہیں ووٹ دینے کا اختیار حاصل نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیں:  بینکنگ انڈسٹری میں ہونے والے کچھ ہو شربا فراڈ

ان 435 اراکین میں سینیٹ کے 100 ممبران بھی شامل ہیں جو ہر ریاست سے 2 ممبران کے طور پر امریکہ کی 50 ریاستوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ کانگریس کا الیکٹرول کالج کی گنتی کے علاوہ صدر کے انتخاب میں کوئی اور کردار نہیں ہوتا۔

صدارتی انتخابات میں عام ووٹر براہ راست صدر کو منتخب نہیں کرتا جبکہ انتخابی مہم شروع ہونے سے صدر بننے تک ایک طویل مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے جس کے 5 مراحل ہوتے ہیں۔

امریکی انتخابات ہر 4 سال بعد نومبر کے مہینے میں ہوتے ہیں۔ انتخابات جس سال ہوتے ہیں، اسی سال فروری اور مارچ میں پرائمریز اور کاکسیز کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو جون کے مہینے تک چلتا ہے۔
واضح رہے کہ پرائمریز اور کاکسیز 2 علیحدہ طریقے ہیں اور دونوں ہی رائج ہیں۔

پرائمری مرحلہ:
پرائمری مرحلے میں پارٹی ممبران اور عام ووٹر خفیہ رائے شماری سے ڈیلیگیٹس کا انتخاب کرتے ہیں۔ پرائمری کے تحت ابتدائی مرحلے میں مختلف جماعتوں کے 8 سے 10 وہ امیدوار ہوتے ہیں جو انتخابات میں حصہ لینا چاہتے ہیں اور پھر ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اس انتخاب میں کامیابی کے لیے امیدوار کو پارٹی کے دیگر ممبران کا اعتماد حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انتخابات میں عام افراد بھی ووٹ کاسٹ کرسکتے ہیں۔ ان کامیاب ہونے والے افراد کو ڈیلیگیٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ڈیلیگیٹس ہر ریاست کی آبادی کے تناسب سے 50 سے لے کر 700 تک بھی ہوسکتے ہیں جو آگے چل کر اپنی ریاست سے انتخابی امیدوار کو چنتے ہیں۔

کاکسس مرحلہ:
پرائمری کے برعکس کاکسس ایک غیر رسمی طریقہ انتخاب ہے، یعنی پارٹی ممبران ٹاون ہال میں سب کے سامنے ہاتھ اٹھا کر اپنے حمایت یافتہ امیدوار یا ڈیلیگیٹس کے لیے حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ اگر کسی امیدوار کو واضح اکثریت نہ ملے تو اکثریت کے حمایت یافتہ امیدوار کا ساتھ دے کر اس کی جیت کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ اس مرحلے میں کامیاب ہونے والے ڈیلیگیٹس اگلے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں، جسے نیشنل کنونشن کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  آواز کو دوام دینی والی شخصیت ۔۔۔۔لطف اللہ خان

یہ امریکی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ہوتا ہے۔ اس مرحلے میں ہر پارٹی کے تمام ڈیلیگیٹس جولائی کے مہینے میں ایک بڑے سٹیڈیم میں جمع ہوتے ہیں۔ اس اجتماع کا مقصد اپنی اپنی پارٹیوں کے صدارتی امیدواروں کا انتخاب ہوتا ہے۔ صدارتی امیدوار 3 سے 4 لوگ ہوتے ہیں جن میں سے ڈیلیگیٹس صدارتی امیدوار چنے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ کنونشن میں آنے والے ڈیلیگیٹس کو اس بات کا پہلے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی پارٹی کا مضبوط صدارتی امیدوار کون ہے اور عموماً انہی مضبوط امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
اس کنونشن کی ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ اسی میں صدارتی امیدوار اپنے نائب صدر کا انتخاب بھی کرتا ہے۔ اس طرح صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ یعنی نیشنل کنونشن بھی مکمل ہوجاتا ہے۔ جس کے بعد یہ انتخابات اپنے تیسرے مرحلے یعنی مباحثے کے دور میں داخل ہوجاتے ہیں۔

اس مرحلے میں ہر پارٹی کا صدارتی امیدوار مختلف ٹی وی چینلز پر اپنا پروگرام اور مستقبل کا خاکہ پیش کرتا ہے جسے پورے ملک میں موجود افراد کے ساتھ دنیا بھر میں موجود ہر وہ فرد دیکھتا ہے جو امریکی انتخابات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ان مباحثوں کے ناظرین کی تعداد 8 سے 10 کروڑ تک ہوتی ہے۔ یہ سلسلہ اگلے مرحلے یعنی نومبر کے عام انتخابات تک چلتا ہے۔

ان انتخابات میں 18 سال سے زائد عمر کے تمام امریکی شہری ووٹ دینے کے اہل تصور کیے جاتے ہیں۔ ان انتخابات کی کوئی حتمی تاریخ نہیں ہوتی بلکہ روایتی طور پر نومبر کے مہینے میں آنے والے پہلے پیر کے بعد آنے والا منگل جس تاریخ کو بھی ہو، اسی روز انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔

ان انتخابات میں براہِ راست صدر کے لیے ووٹ دینے کے بجائے الیکٹورلز کا انتخاب ہوتا ہے۔ یہ الیکٹورلز دراصل اپنی اپنی پارٹیوں کے نمائندے ہوتے ہیں جو اپنی پارٹیوں کی نمائندگی کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ یہاں یہ بات واضح رہے کہ ان الیکٹورل کو ووٹ دینے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ووٹر اسی پارٹی کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دے رہا ہے۔

پورے امریکہ میں الیکٹورل کی کل تعداد 538 ہوتی ہے اور تمام الیکٹورل کو ملاکر ایک الیکٹورل کالج بنتا ہے۔ ہر ریاست کے الیکٹورل کی تعداد اس ریاست کی آبادی کے مطابق کم یا زیادہ ہوسکتی ہے۔

امریکی انتخابی مرحلے میں ایک اور دلچسپ جزو winner takes all کا اصول ہوتا ہے۔ یہ اصول ایک مثال کے ذریعے اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کیلیفورنیا میں مختلف جماعتوں کے 55 الیکٹورل انتخاب لڑ رہے ہیں، اور ان میں سے ڈیموکریٹس کے 30 اور ریپبلکن کے 25 الیکٹورل کامیاب ہوتے ہیں تو ناصرف ڈیموکریٹس فاتح تصور ہوں گے بلکہ انہیں تمام 55 نشستوں پر کامیاب تصور کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان اور انڈیا کی ترقی کا راز

اسی winner takes all کے تحت ایک اور اصطلاح swing متعارف ہوئی۔ اسے سمجھنے کے لیے بھی ہم ایک مثال کا سہارا لیتے ہیں۔
امریکہ میں کیلیفورنیا کو ہمیشہ سے ڈیموکریٹس اور ٹیکساس کو ریپبلکن کا حامی تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن چند ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں دونوں پارٹیوں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک ریاست فلوریڈا بھی ہے جہاں کبھی تو ڈیموکریٹس کا پلہ بھاری ہوتا ہے تو کبھی ریپبلکنز کا۔ یہاں دونوں جماعتیں انتخاب جیتنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی ہیں۔ بعض مرتبہ تو یہ بھی ہوتا ہے کہ کل 20 نشستوں میں سے ایک جماعت 11 اور دوسری 9 حاصل کرلے۔ ایسی صورت میں 50 فیصد کے تناسب سے صرف ایک نشست زیادہ حاصل کرنے والی جماعت کو تمام نشستوں پر کامیاب تصور کیا جاتا ہے اور یہ swing ریاست کہلاتی ہیں۔ عام انتخابات کے بعد صدارتی انتخابات اگلے مرحلے میں داخل ہوجاتے ہیں جسے الیکٹورل کالج کا انتخاب کہا جاتا ہے۔

یہ انتخابات 8 نومبر کو منعقد ہوتے ہیں اور اسی روز یہ پتہ چل جاتا ہے کہ فاتح کون ہوگا۔ ہر الیکٹورل 2 ووٹ ڈالتا ہے، یعنی ایک صدر اور دوسرا نائب صدر کے لیے۔ ان ووٹوں کی گنتی کانگریس کے ذریعے جنوری میں کی جاتی ہے۔ سادہ اکثریت یعنی 538 میں سے 270 ووٹ لینے والا امیدوار کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد 20 جنوری کو inauguration کی تقریب کا انعقاد ہوتا ہے جس میں نئے صدر اور نائب صدر حلف اٹھاتے ہیں اور سابق صدر اپنا استعفیٰ پیش کرتا ہے اور یوں امریکی صدارتی انتخاب کا یہ مرحلہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے۔

امریکہ میں انتخابات کا یہ طریقہ 16ویں صدی سے رائج ہے۔ اس دور میں اتنے لمبے دورانیے کی وجہ ذرائع نقل و حمل کا دشوار ہونا اور سفر کی دقتیں بتائی جاتی ہیں تاہم اب جدید دور کی سہولیات ہونے کے باوجود ان تمام مراحل سے گزرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ امریکی اب بھی روایات کو اہمیت دیتے ہیں۔