Turky_pakistan

کیا پاکستان اور ترکی فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہے ہیں؟

EjazNews

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے پہلے تو فرانس کے صدر کی ذہنی کیفیت پر سوال اٹھاتے ہوئے دماغی معائنہ کرانے کا مشورہ دیا تھا اور اس کے بعد انہوں نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کی تھی۔ترکی کی قومی اسمبلی نے بھی فرانس کے صدر کو ملعون قرار دینے کا میمورینڈم منظور کیا ہے۔ترکی کی قومی اسمبلی کی جنرل کونسل نے منظور کردہ میمورینڈم میں فرانس کے صدر کو ملعون قرار دیا ہے۔ترکی نے فرانسیسی جریدے کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی اعلان کردیا ہے۔

فرانس کے جریدے چارلی ہیبڈو نے صدر رجب طیب ایردوان کا خاکہ سرورق پر شائع کیا ہے جس کی ترکی کی جانب سے مذمت کی گئی ہے۔ترکی کے صدر رجب طیب ایردگان کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر کا خاکہ شائع کرنے پر ضروری قانونی اور سفارتی کارروائی کریں گے۔بیان میں چارلی ہیبڈو کے اقدام کو محض اشتعال انگیزی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فرانسیسی جریدے کا مقصد صرف ترکی اور اسلام سے عداوت ہے۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے پہلے فیس بک کے سربراہ کو اس ضمن میں خط لکھا تھا اور اس کے بعد انہوں نے اسلامی ممالک کے سربراہان کو بھی خط لکھ کر ان کی توجہ اس جانب مبذول کرائی ہے۔پاکستان کی سینیٹ اور قومی اسمبلی نے بھی اسی حوالے سے علیحدہ علیحدہ مذمتی قراردادیں منظور کی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  رکن پنجاب اسمبلی شاہین رضا کرونا سے جاں بحق

ترکی اور پاکستان کی جانب سے فرانس کے صدر کی جتنی مذمت کی گئی ہے شاید ہی کسی اسلامی ملک کے کسی اور سربراہ کو اتنی توفیق ہوئی ہو۔

فرانسیسی حکومت اس سارے معاملے میں کیا کہتی ہے :

فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین کہتے ہیں ترکی اور پاکستان کو فرانس کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔

فرانسیسی صدر کا کہنا ہے ترکی کے صدر رجب طیب ایردگان کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔فرانس نے کہا ہے کہ وہ تمام تر تنقید کے باوجود اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

اب فرانسیسی صدر کے دماغ کا معائنہ ضرور ہونا چاہئے کیونکہ اگر وہ انبیاءکی شان میں گستاخی رکوانے والوں کو اسلامی انتہا پسند کہتے ہیں تو پھر اس کرئہ ارض پر ایک ارب سے زائد انتہا پسندموجود ہیں ۔

میں یہاں پر ایک مثال اور دینا چاہوں گا ۔ افغانستان میں بدھا کے مجسمے کو توڑنے کی کوشش کی گئی ۔ بدھا کاعیسائی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن فرانسیسی سفیر نے احتجاجاً مولانا فضل الرحمن سے یہ کہہ کر طے شدہ ملاقات کو منسوخ کر دیا تھا کہ آپ طالبان کی حمایت کرتے ہیں اور طالبان کے بدھا کے مجسمے کو توڑنے کے اقدام نے ہماری دل آزاری کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  میں کس طرح عید مبارک لکھوں جبکہ میری شہ رگ پر بندوق تنی ہے

اب بدھا کے مجسمے کوتوڑنے سے تو آپ کی دل آزاری ہوتی ہے لیکن آخری نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے سے کیا مسلمانوں کی دل آزاری نہیں ہوتی ۔ مسلمان تو اپنے نبی ﷺکی شان میں گستاخی کو قبول کر ہی نہیں سکتے۔مسلمانوں کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان میں بھی گستاخی قابل قبول نہیں ہے۔

فرانسیسی صدر کے ترجمان گیبرئیل اٹل کہتے ہیں کہ فرانس ترک صدر کی جانب سے دی جانے والی دھمکیوں کو نہیں مانے گا۔ فرانس اپنے اصولوں اور اقدار کو کبھی بھی فراموش نہیں کرے گا۔گیبریئل اٹل نے کہا کہ ٹیچر کے قتل کے بعد فرانس کے اسلامی تشدد کے خلاف موقف پرایک مضبوط یورپی اتحاد کی ضرورت ہے۔

فرانس کے صدرایمانوئیل نے ٹیچر کے قتل کے بعد کہا تھا کہ ملک کی سیکولر روایات کے تحفظ کے لیے اسلامی بنیاد پرستی کے خلاف کریک ڈاون کیا جائے گا۔

ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ فرانس کو اسلامی ملک بنا دیں ۔ آپ کا ملک ہے آپ اس کو جس طرح مرضی بنائیں ۔ آپ وہاں پر کپڑے پہننے پر پابندی عائد کر دیں ۔ آپ وہاں پر سکرٹ لازمی قرار دے دیں کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ لیکن اگر آپ ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہو ں گے تو پھر ہم فرانس کو آڑھے ہاتھوں لیں گے اور یہ اسلامی تقاضا بھی ہے ۔ یاد رکھیں کوئی بھی مسلمان چاہے وہ جتنا مرضی لیبرل ہو وہ آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی شان میں گستاخی کو قبول نہیں کر سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ کی بھارت کو ہارپون میزائل کی فروخت، خطے میں دفاع کی نئی دوڑ شروع ہوگی