کیا ایک مرتبہ پھر جموں و کشمیر برائے فروخت ہے

EjazNews

عمر عبد اللہ اور محبوبہ مفتی دوایسے رہنما ہیں جن کا جھکائو بھارت کی جانب تھا۔ لیکن بی جے پی کی حکومت نے ان کے ساتھ جیسا سلوک کیا ہے ایسا تو غلاموں کے ساتھ بھی نہیں کیا جاتا۔ کشمیر بک رہا ہے اور کشمیری اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے آپ کو بکتا ہوا دیکھ کر بھی کچھ نہ کرنے کی حالت میں ہیں۔اور چاہے نہ چاہے اس میں ان سب رہنمائوں کا قصور ہے جن کو ہمیشہ سے سمجھا نے کی کوشش کی جاتی تھی کہ بھارتی حکومت کبھی ان کی دوست نہیں ہو سکتی۔ لیکن جب سر پر ڈنڈا پڑا تو ہوش ٹھکانے آئے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے بھارتی حکومت کی جانب سے جموں و کشمیر اراضی مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کی اراضی کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ جموں و کشمیر کی اراضی کے مالکانہ حقوق قوانین میں ترمیم ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت کا یوم آزادی، دنیا بھر میں مقیم کشمیری یوم سیاہ منا رہے ہیں

نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ غیر زرعی اراضی اور زرعی اراضی کی منتقلی کو آسان بنا کر ڈومیسائل کو بھی ختم کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر برائے فروخت ہے۔ وہ غریب لوگ جن کے پاس تھوڑی بہت زمین ہے وہ زیادہ متاثر ہوں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت نواز گردانے جانے والے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے ایک اور ٹوئٹ پیغام میں کہا ہے کہ مرکزی حکومت نے اس حکم نامے کو جاری کرنے کے لئے لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے انتخابات کے ختم ہونےکا انتظارکیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی( بی جے پی) نے بیشتر نشستیں جیت کر لداخ کو فروخت کے لیے رکھ دیا۔انہوںنے طنزاً اپنے پیغام میں لکھا ہے کہ یہ لداخی عوام کو بی جے پی پر بھروسہ کرنے کا صلہ ملا ہے۔

مقبوضہ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر میں زمینوں سے متعلق جاری کردہ نوٹیفکیشن حکومت ہند کی طرف سے جموں و کشمیر کے لوگوں کے اختیارات ختم کرنے، جمہوری حقوق سے محروم رکھنے اور وسائل پر قبضہ کرنے کے سلسلے کی ایک اور مذموم کوشش ہے۔ اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا ہے کہ دفعہ 370 کو منسوخ کرنے اور وسائل کی لوٹ مار کے بعد اب زمینوں کی کھلے عام فروخت کے لئے راہ ہموار کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دوسری مرتبہ افغان صدر بننے والے اشرف غنی کون ہیں؟

لیکن اب بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اب بھی خواب خرگوش میں مگن ہیں ان کو بھی جگانے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے اگر میں یہ کہوں تو بے جا نہ ہو گا کہ یہ فلسطین ہی کی طرز کا کھیل ہے بس جدید طریقہ کار کے تحت۔

جب کشمیری اپنی ہی سرزمین میں بے یارو مددگار ہو گئے تو پھر ان کی حیثیت کیا رہے گی؟۔ انگریز سرکار نے کشمیر کو فروخت کیا تھا کشمیریوں سمیت ۔ اس مرتبہ کشمیریوں کی زمین فروخت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اپنے تئیں اور ان کو اس وقت انگریز سرکار کی پیدا کی ہوئی صورتحال سے بھی زیادہ خطرناک صورتحال کا سامنا ہے۔