kashmir_protest

کشمیر میں کھیلے جانے والے کھیل کا ایک رخ

EjazNews

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت جس قسم کا کھیل کھیل رہی ہے اور جتنی دیر سے منصوبہ بندی کی جارہی ہے یہ اب سب پر آویزاں ہو چکا ہے۔

خوف و ہراس کیسے پیدا ہوا:
بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں یکم جولائی کو امر ناتھ یاترا کیلئے 3لاکھ یاتریوں کو تیار کیا۔ جن کو مقصد یاترا سے زیادہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنتا پارٹی کے موقف کوزندہ کرنا اور کشمیر میں جگہ جگہ ترنگا (بھارتی پرچم) لہرانا تھا۔ مذہب کی آڑ میں یہ گھنواﺅنی سیاست کرنا چاہتا تھا مگر بھارت کو منہ کی کھانی پڑی۔ کشمیری نوجوانوں کو اس کی بھنک پڑ گئی کہ امر ناتھ یاترا کے نام پر دو کام ہوں گے اول یہ کہ شاید یہ یاتری واپس نہ جائیں وہیں بس جائیں کیونکہ ان کی یاترا تقریباً تین ماہ جاری رہنا تھی اس مدت میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کشمیر کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 35-Aمیں ترمیم کر کے انہیں جائیدادیں خریدنے کا حق دے دیتے ۔ نوکریاں بھی مل جاتیں اور مکانات بھی خرید لیتے جس سے کشمیر کی ڈیمو گرافک پوزیشن تبدیل ہو جاتی ۔ بھارتی ماضی میں بھی ایسا کرتا رہا ہے اور ان پر اسی لیے ماضی میں بھی متعدد حملے ہوئے۔ درجنوں مارے گئے اور اس سے بھی کہیں زیادہ اس برفانی چوٹی تک پہنچنے میں وہی کہیں دفن ہو گئے۔ ان کی موت کی ذمہ داری بھی کشمیری نوجوانوں پر ڈال کر ان کا قتل عام کیا گیا ۔

اسی اسثناءمیں بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بم دھماکوں کی افواہ اڑا دی ۔ مقبوضہ کشمیر کے سیکرٹری داخلہ Shaleen Kabraنے یاتریوں کو فوری طور پر وادی سے نکلنے کا حکم دیا۔ ”جتنی جلدی ہو سکے یہاں سے نکل جاﺅ ، تازہ ترین خفیہ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں کے حملے ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ 45روزہ یاترا کو معطل کرتے ہوئے سبھی بوریا بستر سمیٹ کر کشمیر سے بھاگ نکلے اور ان کا منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ وادی میں خوف و ہراس پیدا کرنا دراصل مودی سرکاری کی دانستہ حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ کشمیری نوجوانوں کو خوف زدہ کر کے ان کے انخلاءکو یقینی بنانا اور مقبوضہ کشمیر میں ہندو توا پرعملددرآمد اسی صورت میں ممکن ہے کہ کشمیری وہاں سے نکل جائیں اور ان کی جگہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو آباد کر دیا جائے ۔ رام مندر کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔ ایودھیہ میں مسلمانوں کی عظیم الشان بابری مسجد کو شہید کرنے کیلئے بھی اسی طرح کی افواہیں پھیلائی گئی تھیں اور پھر رام مندر آرڈیننس کے اجراءسے پہلے بھی افواہوں کا بازار گرم کیا گیا تھا۔ ورنہ یہاں ماضی میں دوسری ریاستوں کے شہریوں ، سیاحوں اور مزدوروں کو اس طرح سے نکلنے کی کبھی ہدایت نہیں دی گئی تھی۔ مودی سرکاری کو یہا ں ووٹ بینک کی کوئی پرواہ نہیں کیونکہ ایک بھی کشمیری ان کے ساتھ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سائنسی علوم کی یورپ میں ابتدا

جموں و کشمیر کے پہلے گورنر کرن سنگھ ، ہری سنگھ اور بھارتی حکومت کے مابین ہونے والے معاہدے کے بارے میں بہت زیادہ جانتے ہیں۔ ہری سنگھ کی اولاد ہونے کے ناطے انسٹومنٹ آف ایکسیشن کے بارے میں ان سے زیادہ کوئی واقف نہیں۔

کرن سنگھ 30مارچ 1965ءکو جموں و کشمیر کے گورنر بنے اور تقریباً دوسال بعد 15مئی 1967کو فارغ کر دئیے گئے۔ ان کے بارے میں غیر ملکی میڈیا نے ایک تفصیلی مضمون میں زبردست انکشافات کیے۔ مضمون کا عنوان تھا ”کرن سنگھ ،وہ شخص جو کشمیر کے بارے میں بہت کچھ جانتا ہے“ ان کے والد ہری سنگھ انہیں ٹائیگر کے لقب سے پکارا کرتے تھے۔ وہ 20جون 1949ءسے جموں وکشمیر میں ویجنٹ کے عہدے پربھی تعینات تھے اور پھر 17نومبر 1952ءسے 30مارچ 1965ءتک جموں و کشمیر اسمبلی کے منتخب سربراہ تھے اور 30مارچ کو وہ گورنر بنے۔ کرن سنگھ فیوڈرل اور بھارتی نام نہاد جمہوریت کے مابین آخری نشانی تھے اور معاہدے کے بارے میں ایک ایک لفظ سے واقف ہیں حتیٰ کہ وہ اپنے باپ ہری سنگھ کے پلان کوبھی اچھی طرح جانتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہری سنگھ نے اپنی دستاویزات کے تحت مقبوضہ کشمیر کو کبھی بھی بھارت کے تسلط میں نہیں دیا تھا۔ کچھ معاملات کو فوری طور پر حل کرنا چاہیے تھا اس لیے انہوں نے الحاق کی دستاویزات پر دستخط کیے۔ تاہم اس کا مقصد سیاسی آئینی معاملات کا تحفظ کرنا تھا۔ کرن سنگھ کے مطابق ان کے باپ نے مقبوضہ کشمیر میں دفاع ، خارجہ امور اور مواصلات بھارت کے حوالے کیے تھے اور پھر اس بات کی یقین دہانی بھی حاصل کی تھی کہ اس کاحتمی فیصلہ مقبوضہ کشمیر کی اسمبلی ہی کر ے گی۔ اس بارے میں مقبوضہ کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کا اجلاس بھی بلایا گیا تھا ، پنڈت نہرو اور شائستری بھی جموں و کشمیر کے معاملات میں دلچسپی لے رہے تھے۔ میرے دستخطوں سے 26فروری 1957ءکو کچھ قوانین نافذ ہوئے۔ اور اب آرٹیکل 370اور 35Aکو جموں و کشمیر کی آئین ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ اسمبلی تو اب ہے نہیں اسی لیے یہ معاملہ ایسے ہی رہے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  صحت کبھی بھی ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں رہی

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے باپ مہاراجہ ہری سنگھ مقبوضہ کشمیر میں موروثی سلطنت کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔ دستاویزات الحاق میں ایسی شق بھی موجود تھی۔ جس کے تحت کشمیری نظام حکومت کا فیصلہ کشمیری عوام ہی کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ مقبوضہ کشمیر ایک منفرد ریاست ہے اور یہ قیام پاکستان کے وقت فرانس سے بھی بڑی ریاست تھی۔ اب جموں و کشمیر اور لداخ کے نام سے تین یونٹ قائم ہیں لیکن اختیارات کے حوالے سے تینوں میں ایک جیسی صورتحال نہیں ۔ کشمیری عوام کے غموں اور دکھوں کا ذمہ دار کون ہے؟اس سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نہرو کی موت کے بعد سیٹلمنٹ کے مندرجات سے کوئی بھارتی حکمران واقف نہ تھا۔ آنے والے حکمرانوں نے غلط معاہدے کیے۔ حتیٰ کہ انہوں نے اٹل بہاری واجپائی کو بھی غلط اقدامات کرنے کاذمہ داری ٹھہریا۔

خوبصورت وادی میں ظلم کی داستانیں:
بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے سر سبز و شاداب وادیوں میں جدید ترین ہتھیار ، کلسٹر بم، سنائپر رائفلیں، بارودی سرنگیں سارا کچھ بھجوا دیا ہے۔ بھارتی حکومت کے مطابق وادی میں امریکہ ساختہ جدید ترین ہتھیار بھی ملے ہیں یوں بھارتی ذرائع کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے حالات کی خرابی میں ان امریکی ساختہ ہتھیاروں کا بھی کر دار ہے جو پاکستان نے کبھی نہیں خریدے۔ اس اقدام سے بھارت بھر میں خوف و ہراس پیدا ہو گا۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں سابق مشرقی پاکستان جیسی تخریب کاری کرنا چاہتا ہے اس نے خوبصورت وادی کو خون سے سرخ کر دیا ، بہتے پانیوں اور چشموں میں سکیورٹی کے نام پر ناقہ بندیاں اور گرفتاریاں جاری ہیں ، گھر گھر تلاشی جاری ہے۔ متعدد گھروں کو نظر آتش کیا جا چکا ہے۔ صرف اس لیے کہ یہ کشمیری پاکستان کا نام لیتے ہیں۔ خوف زدہ بھارت وہاں اپنا جھنڈا لہرانے میں بھی ناکام رہا۔ ہمالیہ کی وادیوںمیں فوجی بوٹوں تلے ہونے والے ظلم کی داستانیں آہوں اور سسکیوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ زیادہ تر کشمیری بھارتی جبر کیخلاف ہیں اور وہ ہر قیمت پر بھارت سے علیحدگی اور پاکستان سے الحاق چاہتے ہیں۔ لیکن اقوام متحدہ ہو یا کوئی اور ادارہ ان کی سننے والا کوئی نہیں۔ اب وہاں 7لاکھ بھارتی فوجوں نے سری نگر کو ملانے والی ہر سڑک پر قبضہ کر لیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کے کئی حصوں میں مکمل کرفیو نافذ ہے۔ آئے روز مسلمان تاجروں کو گرفتار کیا جارہا ہے۔ ٹیرر فنانسنگ کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں کاروبار کو مفلوج کر دیا گیا ہے جبکہ دہشت گرد کا نام لے کر کسی کو بھی گولی مار دی جاتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں جھوٹ اور دھوکے کا کاروبا جاری ہے۔ بظاہر پاکستان پر الزام دھرا جارہا ہے لیکن بھارت اپنی کوتاہیوں پر کوئی نظر نہیں رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ امر ناتھ یاتریوں پر حملہ کرنے کی کوشش کرنے والے 4جوانوں کو قتل کر دیا گیا ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔کیونکہ بھارتی فوج نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی دراندازی نہیں ہو رہی جبکہ بھارت مسلسل پاکستان پر گولے برسا رہا ہے۔ 3اگست تک مودی سرکاری کے پیدا کردہ خوف و ہراس نے کشمیری عوام کو ذہنی مریض بنا دیا اور اب تو بھارت میں کلسٹر بم کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے ۔ بھارت دراصل یہ تاثر دینا چاہتا ہے کہ ہندو خطرے میں ہیں اور ہندوﺅں کی نسلوں کو بچانے کیلئے مودی اور امیت شاہ سامنے آئے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  ہراسانی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے