shibli faraz

لینڈکروزر سے اتر کر جلسوں میں بات غریبوں کی کرتے ہیں :شبلی فراز

EjazNews

وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ میڈیا بریفنگ میں کہا ہے کہ مریم نواز بھی وراثت کی پیداوار ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو بینظیر سمجھ لیا ہے، بینظیر بڑی پڑھی لکھی عورت تھی آپ کی طرح صرف جوتے، کپڑے اور میک اپ تو نہیں تھا، اگر آپ عوام کی بات کرتی ہیں پھر آپ کو انہی کی طرح رہنا ہوگا۔بزدلوں کی طرح باہر بیٹھ کر تقریریں کرتے ہیں، یہاں پارٹی کی کوئی قیادت نہیں ہے تتر بتر ہوئے ہیں اور پنجاب میں لوگ ہم سے مل رہے ہیں۔ ان کی سیاست بنیادی طور پر ذاتی مفادات کا مجموعہ ہے، اپنے آپ کو کرپشن کے کیسز سے نجات دلانا چاہتے ہیں لیکن اگر پاکستان کو آگے جانا ہے اور ہمارے بچوں کے مستقبل کو بچانا ہے تو پھر ان کو منطقی انجام تک پہنچانا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا اس وقت ملک میں دو قوتیں ہیں جو برسر پیکار ہیں، ایک مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں اپوزیشن ہے اور دوسری عمران خان کی قیادت میں خیر کی قوت ہے۔

یہ وہ لوگ جنہوں نے ملک کو بظاہر ایک طرح سے رکھا لیکن ملک کو بتدریج اندر سے کھوکھلا کیا اور یہی وہ لوگ جو آج پاکستان کے عوام کو یہ بتانا چاہ رہے ہیں ان کا ہمدرد ان سے زیادہ کوئی نہیں ہے۔ہم نے دیکھا ہے کہ اپوزیشن نے جو ایک تحریک شروع کی ہے، جب یہ سٹیج میں بیٹھے ہوتے ہیں تو دیکھ کر یاد آجاتی ہے کہ بنارسی ٹھگ کون ہوتے تھے۔ بنارسی ٹھگ اچھا لباس پہن کر آتے تھے اور لوگوں کو دھوکا دے کر فرار ہوجاتے تھے، یہ لوگ جمع ہو کر عوام کو کہہ رہے کہ وہ ٹھیک کریں گے لیکن عوام کو معلوم نہیں کہ پچھلے 40 سال سے انہی کی حکومتیں تھیں اور کس طرح سے موٹر سائیکل پر آنے والے آج لینڈ کروزر پر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  میزبان ٹیم نےتیسرا ون ڈےجیت لیا

لینڈکروزر سے اتر کر جلسوں میں بات غریبوں کی کرتے ہیں اور ہمیں بھاشن دیتے ہیں کہ انہیں عوام کا دکھ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کا مذاق اڑ رہا ہے اورخاص کر ان لوگوں کو جن کو وہ خوش کرنا چاہتے ہیں، بھارت کی ٹی وی میں کن کی تصاویر آرہی ہیں، انہی رہنماؤں کی تصاویر آرہی ہیں جو گاہے بگاہے ٹی وی پر نظر آتے ہیں۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ یہ بہروپیے، جنہوں نے اس ملک، اداروں اور معیشت کی اینٹ سے اینٹ بجادی، آج عوام کے ہمدرد بن کر نمودار ہوئے ہیں، جس کی وجہ سیاسی ناٹک ہے جو یہ کھیل رہے ہیں۔انہوں نے کسی کو گالی دے کر اس بیانیے کو منتقل کرنے کی ناکام کوشش کی ہے تاکہ اس کے پیچھے ان کے مکروہ اور کرپشن زدہ چہرے چھپ جائیں اور اپنے کرپشن کے کیسز پر بات سے رخ موڑنے کے لیے یہ جنگ اداروں کی طرف جھونک دی ہے۔

ان کا کہنا تھا بلاول بھٹو تقریریں کررہے ہیں کہ عوام ان کا ساتھ دیں، عوام نے آپ کے والد اور آپ کے بڑوں کا بھی بہت ساتھ دیا تھا، آج جن سے آپ بغل گیر ہورہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے آپ کی والدہ بینظیر بھٹو شہید کی تصاویر ہیلی کاپٹر سے پھینکی تھی اور آپ کے بڑوں کو برا کہا اور جمہوریت کی پیٹھ پر چھرا گھونپا۔آج یہ اکٹھے اس لیے ہوئے ہیں کیونکہ ابھی ان کے مفادات ایک ہیں اور خوف نے اکٹھا کیا ہے، جو احتساب ان کا ہونا ہے اس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے اپنے دور میں کیا کچھ نہیں کیا خاص کر بلاول بھٹو، شہباز شریف اور نوازشریف کی اولاد نے ہماری خواتین پر ایسی باتیں کیں جو شرمناک ہیں، ہماری خاتون اول کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں لیکن ان کو بھی گھسیٹا گیا، انہیں پتہ نہیں کس آگ سے کھیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  موٹروے ریپ کیس کا مرکزی ملزم تاحال گرفتار نہ ہو سکا

انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو کی حیثیت کیا ہے، ایک وراثت کی وجہ سے ایک پارٹی کی قیادت ملی ہے اور اپنے قد سے بڑی بات کرتے ہیں، عوام کو دکھانے کے لیے آپ کے پاس کیا ہے، کراچی اور سندھ میں کتنے عرصے حکومت جاری ہے اور وہاں کیا حالت ہے، وہاں لوگ بھوک، افلاس اور غربت میں رہ رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر ادارے اور پولیس کو بھی سیاست میں ملوث کردیا، آپ نے پولیس میں جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کیا اور سندھ میں ایک ناٹک رچایا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ مزار قائد پر صفدر اعوان نے ہلڑ بازی کی، اس جرم کی مذمت کے بجائے اس کو پورا سیاسی واقعہ بنادیا حالانکہ اس کا اعتراف آپ نے پریس کانفرنس میں کیا تھا اور کہا تھا غلط ہوا اور کیس بھی آپ کی پولیس نے درج کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ آپ اداروں کے خلاف بات کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے، آپ سمجھتے ہیں کہ سندھ آپ کی ذاتی جائیداد ہے، 18 ویں ترمیم کا ہمیں معلوم ہے کیوں کی گئی کیونکہ پاکستان کے عوام نے آپ کو رد کردیا تھا اور آپ کی پارٹی کو قومی سے علاقائی جماعت بنا دیا تھا، اتنا برا تو اے این پی کے ساتھ بھی نہیں ہو وہ بھی اپنے حجرے تک محدود ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:  آصف زرداری اور بلاول بھٹو کی پیشی پر نیب اعلامیہ جاری

وفاقی وزیراطلاعات کا کہنا تھا کہ ان حالات کو مزید گھمبیر بنانے چاہتے ہیں، خود جمہوریت کا دوست کہتے ہیں، جمہوریت یہ ہوتی ہے کہ آپ لوگوں کو جھانسہ دے کر اقتدار میں آئیں اور پھر لوٹ مار شروع کریں۔ آج اگر ادارے نیچے ہیں تو اس کا ذمہ دار آپ ہیں، یہ کوئی دو سال میں نہیں ہوا یہ ان 30 سے 40 سال کی نااہل اور کرپٹ قیادت کا شاخسانہ ہے جو جلسوں میں ٹی وی پر نظر آتے ہیں، انہوں نے میرے ملک اور پاکستان کے نوجوانوں کے مستقبل کو داؤ پر لگایا۔یہ وہ لوگ ہیں جو کسی ہمدردی کے مستحق نہیں ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جب انہیں موقع ملتا ہے تو عوام کا خون چوستے ہیں لیکن آج عوام کے ہمدرد بن بیٹھے ہیں۔