mother_with_son

تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا

EjazNews

معاشرے کی فلاح اور ترقّی ماں کے بلند خوابوں میں مضمر ہے۔یہ گہرائی سےبیان کی گئی ایک ایسی سچائی ہے، اسی بات کو دانشوران وقت یہ کہہ کر بھی واضح کرتے ہیں کہ تم مجھے اچھی مائیں دو ، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا یا پھر یہ کہ جو ہاتھ گہوارے کو جھلاتے ہیں، وہی ہاتھ دنیا ہلا سکتے ہیں۔ یہ سب اقوال جہاں ماں کی عظمت بیان کرتے ہیں، وہیں اس کے کردار کی ذمہ داری بھی اجاگر کرتے ہیں۔

ماں کی گود میں آنے والی تہذیب جنم لے رہی ہوتی ہے۔ خالق کائنات نے حضرت آدمؑ کی پسلی سے بی بی حوا ؑکو پیدا کر کے رہتی دنیا تک آنے والے انسانوں کی تخلیق کے لیے صنف عورت کو ذریعہ بنایا اور ا نسان سے اپنی محبّت کےاظہار کے لیے ماں کی محبّت کا استعارہ استعمال کیا۔ ماں کے دل میں اس کی کوکھ سے جنم لینے والے ننھے منے وجود کے لیے محبّت کا جذبہ رکھ دیا، اور اس جذبے نے اُسے قربانی و ایثار ، محنت و شفقت، دِل سوزی و سپردگی کا عنوان بنا دیا۔

رب کائنات ماں کی اس محنت و مشقت و قربانی کا اجر اس طرح دیتا ہے کہ اس کے قدموں تلے جنت کی خوش خبری سناتا ہے اور اس کے اجر کو باپ کے مقابلے میں تین گنا زائد قرار دیتا ہے۔ غور طلب یہ ہے کہ جنّت جسے سُکون، مسرتوں، نعمتوں کی ابدی قیام گاہ قرار دیا گیا۔ اگر ابدی مسرتوں کا وہ خزانہ ماں کے قدموں تلے ہے، تو اس کے دل اور دماغ میں کتنی ابدی صفات جگمگا رہی ہوں گی؟۔

ماں بننے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ عورت کو صبرو شُکر، تحمل، برداشت، ایثار و قربانی کی صفات عطا کرتا ہے۔اگر ان صفات کو ماں پورے شعور کے ساتھ اپنی گود میں پلنےوالے بچّوں کے کردار کی تعمیر میں سمو دے، تو معاشرہ سُکون و فلاح کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ مامتا کا یہ قدرتی جذبہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں میں بھی رکھا ہے، لیکن انسان جو اشرف المخلوقات ہے، اسےرب کائنات نے دنیا سنوارنے کے لیے اپنا نائب بنا کر بھیجا اور اسی مقصد کے لیے انسان کو عقل و شعور اور علم عطا کیا۔پھر وحی کے ذریعے ہدایت دی، تاکہ وہ عقل و علم کا درست استعمال کرسکے۔ اب مسلمان باشعور ماؤں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کو ایسا انسان بنائیں، جو خود آگاہ،خود شناس ، اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار اور خلق ِخدا کو نفع پہنچانے والا بھی ہو۔ وہ اپنی اولاد کو صداقت، لیاقت، عدالت اور شجاعت کے اسباق اس طرح ذہن نشین کروائے کہ دنیا بھر میں انصاف، رحم، امانت اور احساس کا بول بالا ہو۔ اگر ایک ماں اپنی اولاد کی صرف جسمانی ضروریات کاخیال رکھے اور انہیںہی احسن انداز میں پورا کرنے کے لیےدن رات ایک کردے، تو اس میں اور ایک حیوان کی ماں میں کیا فرق رہ جائے گا؟ باپ کے مقابلے میں ماں کے تین گنا اجر کی خوش خبری اور گھر بیٹھے اس کے تمام معاشی حقوق کا تحفظ اسی لیے ہے کہ وہ صبر وشُکر کے ساتھ جسمانی و روحانی مشقّت کے ان مراحل سے گزرتے ہوئے ان خاک کے پتلوں کو اپنے بُلند خوابوں کی کوزہ گری کے ذریعے ایک مثالی سانچے میں ڈھال سکے۔

یہ بھی پڑھیں:  جب ننھے منے اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگیں تو کیا کیا جائے؟

ہمارے اسلاف میں خواتین کے بلند خوابوں کی روشن تعبیریں موجود ہیں۔ حق و باطل کا معرکہ گرم ہوا، تو حضرت خنساء ؓ ماں کی فطری محبّت کے باوجود اپنے چار بیٹوں کو ہتھیار لگا کر جنگ میں شرکت کے لیے اس نصیحت کے ساتھ بھیجتی ہیں کہ ’’تیر سینے پر کھانا، پیٹھ پر نہیں۔‘‘ حضورِ پاکﷺ کے پاس ایک صحابیہؓ اپنے نومولود بچّے کو لے کر آتی ہیں،’’یا رسول اللہﷺ! اسے قبول کرلیں۔ دشمن کے تیروں کو روکنے کے لیے اسے ڈھال بنالیں۔‘‘اورتاریخ کے اوراق میںکہیں بچّوں کو بھوکا سلا کر مہمان داری کی روایت قائم کی جاتی ہے،تو کہیںامام بخاریؒ کی والدہ تمام مال اسباب بیٹے کی تعلیم پر خرچ کر دیتی ہیں۔ حضرت عبد القادر جیلانیؒ کی والدہ بیٹے کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے اس نصیحت کے ساتھ بھیجتی ہیں کہ ’’بیٹا! کبھی جھوٹ نہ بولنا۔‘‘ اور بیٹے کا سچ ڈاکوئوں کے سردار کو گناہوں سے توبہ پر مجبور کر دیتا ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ پھرایسی ہی مائوں کی گودوں میں پلنے والے بچّوں نے دنیا کو امن و سُکون، انصاف، احسان اور بھلائی کا گہوارہ بنا یا۔

یہ بھی پڑھیں:  دو چار منٹ از دواجی تعلقات کا فیصلہ کر دیتے ہیں

ایک وہ دور تھا،جب ہماری مائیں روکھی سوکھی کھا کر بچّوں کو حلال و حرام کا سبق سمجھاتی تھیں، بھرے کنبے میں بزرگوں، بیماروں، چھوٹے بڑوں سمیت سب کی ذمہ داری نبھاتی تھیں۔ سویرے اُٹھ کر عبادت سے ابتدا کر کے گھر داری کا آغاز کرتیں، ماتھے پر بَل ڈالے بغیر مہمان داری، مساکین کی ضروریات کا خیال رکھتیں،بچّوں کے منہ میں نوالہ ڈالتے ہوئے انہیں سچ بولنے، در گزر اور محنت کرنے اور بزرگوں کے ادب کا سبق اورلوری سنانے کی عُمر ہی سے انہیں اللہ اور رسول ﷺ سے محبّت کا درس دیتیں، تو معاشرےمیں اخلاقی اقدار کا چلن عام تھا۔یہ چلن آج بھی عام ہو سکتا ہے، بشرطیکہ آج کی ماں اپنے کردار کی عظمت سمجھ لے۔ اپنے اندر اس یقین کوراسخ کرلے کہ کوئی متبادل اس کی جگہ نہیں لے سکتا۔ آج جب کہ تعلیم سے تربیت کا عنصر غائب ہوچکا ہے، تو صرف ماں ہی کی گودایک ایسی جگہ ہے، جہاں سے جہانبانی و جہانگیری کے ولولے دلوں میں ڈالے جاسکتے ہیں، لیکن اس کے لیے پہلے ماؤں کو جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  انمول رشتوں کی حفاظت کیجئے

یاد رکھیے، ہماری اولاد ہمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ہے، اگر ہم خود یقین اور عمل سے تہی داماں ہوں گے، توبھلا اپنے بچّوں کو کیا دے پائیںگے۔ آج کی ماں کو پہلے خود یاد کرنا اور پھر اپنے بچّوں کو یاد کروانا ہوگا۔ بچّوں کو مادی لحاظ سے بڑا آدمی بنانے کی بجائے کردار کے حوالے سے بڑا آدمی بنانے کا عزم کرنا ہوگا۔حقوق مانگنے سے پہلے فرائض ادا کر نے کی تعلیم دینی ہوگی ۔مادی چکاچوند سے متاثر ہوئے بغیر اخلاق کی روشنی پھیلانے کا سبق ذہن نشین کروانا ہوگا۔ انسانیت کا درد اس کے دل میں پیدا کرکے اسے لوگوں کے لیے نفع بخش بننے کا درس دینا ہوگا۔ ماؤں سےبس یہی عرض ہے کہ اے دورحاضر کی ماں!یہ سسکتی دُنیا، تیرے بُلند خوابوں کی متمنّی ہے، تو اپنے دل کو بلند آرزئوں کا مسکن بنا اورانہیں اپنی اولاد کے سینے میں اتار دے، تاکہ اس دنیا کے غم کم ہوسکیں اور معاشرہ خوشی، امن و آشتی کا گہوارہ بن جائے۔

ماں ہی وہ ہستی ہے جو اولاد کو پروان چڑھاتی ہے ۔ اولاد سب سے زیادہ اپنی ماں کے ساتھ ہی رہتی ہے اور اولاد کی تربیت میںماں کلیدی کردار کی حامل ہوتی ہے۔ماں وہ ہستی ہے جس کو دیکھ کر بچے سیکھتے ہیں بلکہ دنیا داری بچوں کو ماں ہی سکھاتی ہے۔