Wilayah Mosque, Kuala Lumpur, Malaysia

اللہ تعالیٰ کا فضل ، فضل ربی(۲)

EjazNews

(سورة ابراہیم۴۱)
۱۱۔ ان کے پیغمبروں نے ان سے کہا کہ یہ تو سچ ہے کہ ہم تم جیسے ہی انسان ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس پر چا ہتا ہے اپنا فضل کرتا ہے۔ اللہ کے حکم کے بغیر ہماری مجال نہیں کہ ہم کوئی معجزہ تمہیں لاکر دکھائیں اور ایمان داروں کو صرف اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔

(سورة النحل ۶۱)
۴۱۔ اور دریا بھی اسی نے تمہارے بس میں کر دئیے ہیں کہ تم اس میں سے (نکلا ہوا) تازہ گوشت کھاﺅ اور اس میں سے اپنے پہننے کے زیورات نکال سکو اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں اس میں پانی چیرتی ہوئی (چلتی )ہیںاور اس لئے بھی کہ تم اس کا فضل تلاش کرو اور ہو سکتا ہے کہ تم شکر گزاری بھی کرو۔
۱۷۔اللہ تعالیٰ ہی نے تم میں سے ایک کو دوسرے پر روزی میں زیادتی دے رکھی ہے پس جنہیں زیادتی دی گئی ہے وہ اپنی روزی اپنے ماتحت غلاموں کو نہیں دیتے کہ وہ اور یہ اس میں برابر ہو جائیں تو کیا یہ لوگ اللہ کی نعمتوں کے منکر ہو رہے ہیں۔

(سورة بنی اسرائیل ۷۱)
۲۱۔ ہم نے رات اور دن کو اپنی قدرت کی نشانیاں بنائی ہیں، رات کی نشانی کو تو ہم نے بے نور کر دیا ہے اور دن کی نشانی کو روشن بنایا ہے تاکہ تم اپنے رب کافضل تلاش کر سکو اور اس لیے بھی کہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کر سکو اور ہر ہر چیز کو ہم نے خوب تفصیل سے بیان فرما دیا ہے۔
۶۶۔ تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لیے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔ وہ تمہارے اوپر بہت ہی مہربان ہے۔

(سورة النور ۴۲)
۲۳۔ تم میں سے جو مرد عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیک بخت غلام لونڈیوں کا بھی۔ اگر وہ مفلس بھی ہوں گے تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے غنی بنا دے گا۔ اللہ تعالیٰ کشادگی والا اور علم والا ہے۔
۸۳۔ اس ارادے سے کہ اللہ انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ دے بلکہ اپنے فضل سے اور کچھ زیادتی عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ جسے چاہے بے شمار روزیاں دیتا ہے۔

(سورة النمل ۷۳)
۶۱۔ اور داﺅد کے وارث سلیمان ہوئے ، اور کہنے لگے لوگو! ہمیں پرندوں کی بولی سکھائی گئی ہے اور ہم سب کچھ میں سے دئیے گئے ہیں۔ بیشک یہ بالکل کھلا ہوا فضل الٰہی ہے۔
۰۴۔ جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ بول اٹھا کہ آپ پلک جھپکائیں اس سے بھی پہلے میں اسے آپ کے پاس پہنچا سکتا ہوں۔ جب آ پ نے اسے اپنے پاس موجود پایا تو فرمانے لگے یہی میرے رب کا فضل ہے، تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر گزاری کرتا ہوں یا ناشکری، شکر گزار اپنے ہی نفع کے لیے شکر گزاری کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو میراپروردگار (بے پروا اور بزرگ) غنی اور کریم ہے۔
۳۷۔ یقینا آپ کا پروردگار تمام لوگوں پر بڑے ہی فضل والا ہے لیکن اکثر لوگ ناشکری کرتے ہیں۔

(سورة القصص۸۲)
۳۷۔ اسی نے تو تمہارے لیے اپنے فضل و کرم سے دن رات مقرر کر دئیے ہیں کہ تم رات میں آرام کرو اور دن میں اس کی بھیجی ہوئی روزی تلاش کرو، یہ اس لیے کہ تم شکر ادا کرو۔
۲۸۔ اور جو لوگ کل اس کے مرتبہ پر پہنچنے کی آرزو مندیاں کر رہے تھے وہ آج کہنے لگے کہ کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ ہی اپنے بندوں میں سے جس کے لےے چاہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور تنگ بھی؟ اگر اللہ تعالیٰ ہم پر فضل نہ کرتا تو ہمیں بھی دھنسا دیتا کیا دیکھتے نہیں ہو کہ ناشکروں کو کبھی کامیابی نہیں ہوتی؟ ۔ (جب قارون اپنے خزانوں سمیت زمین میں دھنس گیا تو لوگوں نے اس کے بارے میں کہا)

یہ بھی پڑھیں:  حسن اخلاق، صلہ رحمی اور نیکی کی فضیلت

(سورة الروم ۰۳)
۵۴۔ تاکہ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جزا دے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے وہ کافروں کو دوست نہیں رکھتا ہے۔ [یعنی محض نیکیاں دخول جنت کے لیے کافی نہیں ہوں گی، جب تک ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا فضل بھی شامل حال نہ ہوگا۔ پس وہ اپنے فضل سے ایک ایک نیکی کا اجر دس سے سات سو گنا تک بلکہ اس سے زیادہ بھی دے گا۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن) ]
۶۴۔ اس کی نشانیوں میں سے خوشخبریاں دینے والی ہواﺅں کو چلانا بھی ہے اس لیے کہ تمہیں اپنی رحمت سے لطف اندوز کرے، اور اس لیے کہ اس کے حکم سے کشتیاں چلیں اور اس لیے کہ اس کے فضل کو تم ڈھونڈو اور اس لیے کہ تم شکر گزاری کرو۔

(سورة الاحزاب ۳۳)
۷۱۔ پوچھئے ! تو کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی برائی پہنچانا چاہے یا تم پر کوئی فضل کرنا چاہے تو کون ہے جو تمہیں بچا سکے (یا تم سے روکے؟) اپنے لیے بجز اللہ تعالیٰ کے نہ کوئی حمایتی پائیں گے نہ مددگار۔
۷۴۔ آپ مومنوں کو خوشخبری سنا دیجئے! کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا فضل ہے۔

(سورة السبا ۴۳)
۰۱۔ اور ہم نے داﺅد پر اپنا فضل کیا ، اے پہاڑو! اس کے ساتھ رغبت سے تسبیح پڑھا کرو اور پرندوں کو بھی (یہی حکم ہے) اور ہم نے اس کے لیے لوہا نرم کر دیا۔

(سورة الفاطر ۵۳)
۲۱۔ اور برابر نہیں دو دریا یہ میٹھا ہے پیاس بجھاتاپینے میں خوشگوار اور یہ دوسرا کھاری ہے کڑوا، تم ان دونوں میں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور وہ زیورات نکالتے ہو جنہیں تم پہنتے ہو۔ اور آپ دیکھتے ہیں کہ بڑی بڑی کشتیاں پانی کو چیرنے پھاڑنے والی ان دریاﺅں میں ہیں تاکہ تم اس کا فضل ڈھونڈو اور تاکہ تم اس کا شکرو کرو۔
۲۳۔پھر ہم نے ان لوگوں کو (اس) کتاب کا وارث بنایا جن کو ہم نے اپنے بندوں میں سے پسند فرمایا۔ پھر بعضے تو ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعضے ان میں متوسط درجے کے ہیں اور بعضے ان میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے نیکیوں میں ترقی کیے چلے جاتے ہیں ۔ یہ بڑا فضل ہے۔
۳۳۔ وہ باغات میں ہمیشہ رہنے کے جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ اورپوشاک ان کی وہاں ریشم کی ہو گی۔
۴۳۔ اور کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے جس نے ہم سے غم دور کیا۔ بیشک ہمارا پروردگار بڑا بخشنے والا قدردان ہے۔
۵۳۔جس نے ہم کو اپنے فضل سے ہمیشہ رہنے کے مقام میں لا اتارا جہاں نہ ہم کو کوئی تکلیف پہنچے گی اور نہ ہم کو کوئی خستگی پہنچے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ کا فضل ، فضل ربی(۱)

(سورة المومن ۰۴)
۱۶۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے رات بنا دی کہ تم اس میں آرام حاصل کرو اور دن کو دیکھنے والا بنایا ، بیشک اللہ تعالیٰ لوگوں پر فضل و کرم والا ہے لیکن اکثر لوگ شکر گزاری نہیں کرتے۔

(سورة الشوریٰ ۲۴)
۲۲۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ ظالم اپنے اعمال سے ڈر رہے ہوں گے جن کے وبال ان پر واقع ہونے والے ہیں اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے وہ بہشتوں کے باغات میں ہوں گے وہ جو خواہش کریں اپنے ر ب کے پاس موجود پائیں گے یہی ہے بڑا فضل ۔
۶۴۔ایمان والو ں اورنیکو کار لوگوں کی سنتا ہے اور انہیں اپنے فضل سے اور بڑھا کر دیتا ہے اور کفار کے لیے سخت عذاب ہے۔ [یعنی ان کی دعائیں سنتا ہے اور ان کی خواہشیں اور آرزو ئیں پوری فرماتا ہے۔ بشرطیکہ دعا کے آداب و شرائط کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہو٭ ۔ اور حدیث میں آتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی سواری مع کھانے پینے کے سامان کے، صحرا ، بیابان میں گم ہو جائے اور وہ نا امید ہو کر کسی درخت کے نیچے لیٹ جائے کہ اچانک اسے اپنی سواری مل جائے اور فرط مسرت سے اس کے منہ سے نکل جائے اے اللہ تو میرا بندہ اور میں تیرا رب یعنی شدت فرح میں وہ غلطی کر جائے ۔ (صحیح مسلم ، کتاب التوبہ، باب فی الحض علی التوبہ والفرح بہا)٭(تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

(سورة الدخان ۴۴)
۱۵۔ بیشک (اللہ تعالیٰ سے) ڈرنے والے امن چین کی جگہ میں ہوں گے۔
۲۵۔ باغوں اور چشموں میں۔
۳۵۔ باریک اور دبیز ریشم کے لباس پہنے ہوئے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
۴۵۔ یہ اسی طرح ہے اور ہم بڑی بڑی آنکھوں والی حوروں سے ان کانکاح کر دیں گے۔
۵۵۔ دل جمعی کے ساتھ وہاں ہر طرح کے میوﺅں کی فرمائشیں کرتے ہوں گے۔
۶۵۔ وہاں وہ موت چکھنے کے نہیں ہاں پہلی موت ( وہ مرچکے)، انہیں اللہ تعالیٰ نے دوزخ کی سزا سے بچا دیا۔
۷۵۔ یہ صرف تیرے رب کا فضل ہے ، یہی ہے بڑی کامیابی۔ [جس طرح حدیث شریف میںبھی ہے۔ فرمایا دیہ بات جان لو! تم میں سے کسی شخص کو اس کا عمل جنت میں نہیں لے جائے گا، صحابہ نے عرض کیا۔ یارسو ل اللہ ﷺ! آپ کو بھی؟ فرمایا ”ہاںمجھے بھی، مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت اور فضل میں ڈھانپ لے گا۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

(سورة الفتح ۸۴)
۹۲۔ حضرت محمد (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں کافروں پر سخت ہیں آپس میں رحمدل ہیں ، آپ انہیں دیکھیں گے کہ رکوع اور سجدے کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں، ان کا نشان ان کے چہروں پر سجدوں کے اثر سے ہے، ان کی یہ مثال تورات میں ہے اور ان کی مثال انجیل میں ہے، مثل اس کھیتی کے جس نے اپنا انکھوا نکالا پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹا ہوگیا پھر اپنے تنے پر سیدھا کھڑا ہوگیا اور کسانوں کو خوش کرنے لگا تاکہ ان کی وجہ سے کافروں کو چڑائے،ان ایمان والوں اور نیک اعمال والوں سے اللہ تعالیٰ نے بخشش کا اور بہت بڑے ثواب کا وعدہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مزارعت اور مساقات کا بیان

(سورة الحجرات ۹۴)
۸۔ اللہ تعالیٰ کے احسان و انعام سے اور اللہ تعالیٰ دانا اور با حکمت ہے۔

(سورة الحدید ۷۵)
۱۲۔ (آﺅ) دوڑ واپنے رب کی مغفرت کی طرف اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین کی وسعت کے برابر ہے۔ یہ ان کے لیے بنائی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہے دے اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے۔[وہ جس پر چاہتا ہے، اپنا فضل فرماتا ہے، جس کو وہ کچھ دے ، کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لے، اسے کوئی دے نہیں سکتا، تمام خیر اسی کے ہاتھ میں ہے ، وہی کریم مطلق اور جواد حقیقی ہے جس کے ہاں بخل کا تصور نہیں ۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
۹۲۔یہ اس کے لیے کہ اہل کتاب جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے کسی حصے پر بھی انہیں اختیار نہیں اور یہ کہ (سارا) فضل اللہ تعالیٰ ہے کے ہاتھ ہے وہ جسے چاہے دے اور اللہ تعالیٰ ہی ہے بڑے فضل والا۔

(سورة الجمعة ۲۶)
۴۔ یہ اللہ کا فضل ہے [یہ اشارہ نبوت محمد (علی صاحبھا الصلوة والتحیة) کی طرف بھی ہو سکتا ہے اور اس پر ایمان لانے والوں کی طرف بھی۔ (تفسیر ازشاہ فہد قرآن)]جسے چاہے اپنا فضل دے اور اللہ بہت بڑے فضل کا مالک ہے۔
۵۔ جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہو۔ اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسے )ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔
۶۔ کہہ دیجئے کہ اے یہودیو! اگر تمہارا دعویٰ ہے کہ تم اللہ کے دوست ہو دوسرے لوگوں کے سواتو تم موت کی تمنا کرو اگر سچے ہو۔
۷۔ یہ کبھی بھی موت کی تمنا نہ کریں گے بوجہ ان اعمال کے جو اپنے آگے اپنے ہاتھوں بھیج رکھے ہیں اور اللہ ظالموں کو خوب جانتا ہے۔
۸۔ اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو ! جمعہ کے دن نماز کی اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خریدو فروخت چھوڑدو۔ یہ تمہارے حق میں بہت ہی بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔پھر جب نماز ہو چکے تو زمین میں پھیل جاﺅ اور اللہ کا فضل تلاش کرو اور بکثرت اللہ کا ذکر کیا کرو تاکہ تم فلاح پالو۔