کیپٹن صفدر کو کس کے کہنے پر گرفتار کیا گیا ؟

EjazNews

میاں نواز شریف کے داماد کیپٹن صفدر کراچی جلسے میں اپنی بیگم اور مسلم لیگ ن کی قائد مریم نواز کے ہمراہ کراچی پہنچے۔ مریم نواز نے فیصلہ کیا کہ وہ کراچی میں پہلے مزار قائد جائیں گی اور اس کے بعد وہ جلسے میں شریک ہو ں گی۔

مریم نواز کارکنان کے ہمراہ مزار قائد پر پہنچیں جہاں انہو ں نے مزار قائد پر پھول چڑھائے۔ اسی دوران کیپٹن صفدر نے وہاں پر نعرے بازے شروع کر دی ۔ مزار قائد پر ایسا ماحول پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں ملا کہ کسی بھی جماعت کے کسی بھی رہنما نے قائد کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر نعرے اپنے لیڈر وں یا پھر مادر ملت کے لگائے ہوں لیکن بحر کیف انہوں نے نعرے بازی کی۔

اس نعرے بازی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر مقدمہ درج ہو گیا اور انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا۔

گرفتاری کے بعد کیا ہوا؟
جب کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا تو سب سے پہلے مریم نواز نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ان کے شوہر کو ہوٹل کا دروازہ توڑ کر گرفتار کیا گیا ہے ساتھ میں انہو ں نے ویڈیو بھی شیئر کی۔
اس ویڈیو کے بعد یہ سارا معاملہ پرنٹ ،الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہائی لائٹ ہوااور ایسا ہوا جیسے جنگل میں آگ لگ گئی ہو ۔ کیپٹن صفدر گرفتار ہوئے اور اس کے بعد رہا ہو گئے ۔

یہ بھی پڑھیں:  لاہور شہر قدیم اور جدید

گرفتاری کس کے کہنے پر عمل میں آئی؟
کیپٹن صفدر کی رہائی کے بعد معاملہ اٹھا کہ کیپٹن صفدر کی گرفتاری کیسے عمل میں آئی۔ پہلے ایک شخص کا نام سامنے آیا کہ اس کے کہنے پر پولیس نے درخواست دائر کی ہے اور گرفتاری عمل میں آئی۔
مریم نواز نے میڈیا کو بتایا کہ بلاول بھٹو زرداری نے ان کے ساتھ ٹیلی فونک اظہار کیا کہ وہ بہت شرمندہ ہیں کہ کراچی میں مریم نواز ان کی مہمان تھیں اور ان کے ساتھ ایسا ہوگیا۔ مریم نواز نے پی ڈی ایم کے رہنمائو ں کے ہمراہ پریس کانفرنس بھی کی جس میں نہ تو بلاول بھٹو زرداری شریک ہو ئے اور نہ ہی وزیراعلیٰ ۔

وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس:
وزیراعلیٰ سندھ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ایک رکن اسمبلی نے جب پولیس پر پریشر ڈالا تو انہوں نے بتایا کہ ایسی درخواست کا طریقہ کار یہ نہیں ہوتا۔ وزیراعلیٰ کے بقول پھر مزار قائدایڈمنسٹریٹوبورڈ کا ایک شخص درخواست لے کر آیا۔اسے بھی سمجھایا گیا کہ یہ پولیس کا دائر ہ اختیار نہیں یہ درخواست مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے۔لیکن وزیراعلیٰ سندھ نے یہ نہیں بتایا کہ گرفتاری کس کے کہنے پر عمل میں آئی ۔
وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس کے بعد یہ معاملہ اور الجھ گیا ہے۔آئی جی سندھ مشتاق مہر، ایڈیشنل آئی جی اور کراچی پولیس کے سربراہ غلام بنی میمن اور ایڈیشنل آئی جی عمران یعقوب منہاس نے طویل رخصت پر جانے کی درخواستیں دے دی ہیں۔
یہ گتھی سلجھانا کتنا مشکل کام ہے ؟ ۔ کیا آئی جی نے ابھی تک وزیراعلیٰ سندھ کو بتا نہیں دیا ہوگا کہ گرفتاری کس کے کہنے پر عمل میں لائی گئی۔ پرچہ کیسےدرج ہوا۔ شکوک و شبہات عجیب و غریب سوالیہ انداز پیدا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  نواز شریف نے جو وعدے نبھائے، آج اسی کی سزا آپ کا محبوب لیڈر نواز شریف بھگت رہا ہے:مریم نواز

اب حکومت ترجمان شہباز گل سوشل میڈیا پر کیا کہہ رہے ہیں؟
وزیراعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس سے ایک بات تو طے ہو گئی چند شر پسند لوگ جو اداروں کے خلاف ہرزاہ سرائے کر رہے تھے وہ جھوٹ تھا انہیں شرم آنی چاہئے۔ اب دوسری بات یہ ہے کہ یہ بھی مانا گیا کہ پولیس نے قانون کے مطابق کام کیا۔ مراد علی شاہ صاحب کی باتوں میں تضاد ہے۔خود کلیر نہیں کہنا کیا ہے۔
اگر یہ آپ کی مرضی سے ہوا تو مانیں۔ نہیں ہوا تو اپنی پولیس سے پوچھیں اور IG کوفارغ کر دیں۔ آپ دونوں طرف نہیں کھیل سکتے۔ آپ منافقت کرنا بند کریں۔ آپ نے خود بھی مانا اور سب کو پتہ ہے کہ جرم ہوا ۔ جب جرم ہوات و پھر کارروائی پر دہائی کس بات کی۔ کیا اشرافیہ کے خلاف کارروائی نہیں ہوسکتی۔