imran khan_plant

10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ اور شہروں کو صاف کرنا ہمارے اہم اہداف ہیں:وزیراعظم

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں کلین گرین انڈیکس ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کیا جس میں ان کا کہنا تھا ماحولیاتی آلودگی کا شکار کراچی، لاہور، پشاور، فیصل آباد سمیت دیگر شہروں میں موسم سرما میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ابھی سے کیسز میں بتدریج اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے شہروں میں آلودگی اور موسم سرما میں دیگر وائرس کے خطرات کے باعث کرونا وبا پھیلنے کا عندیہ دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ لاہور، کراچی، فیصل آباد، پشاور سمیت دیگر شہروں میں آلودگی زیادہ ہے اور موسم سرما میں پہلے ہی دیگر وائرس کا حملہ زیادہ ہوتا ہے، ایسے میں کرونا وبا پھیل سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ کی نعمتوں کی قدر نہ کرکے ہم ماحولیاتی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت نے تسلیم کیا کہ پاکستان ان 4 ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں کووڈ 19 سے نمٹنے کے لیے بہترین فیصلے کیے گئے۔کرونا کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہمارے فیصلوں کو دنیا نے تسلیم کیا۔

یہ بھی پڑھیں:  موبائل صارفین کو 100روپے کا بیلنس ڈلوانے پر اب 88روپے90پیسے ملیں گے

وزیراعظم نے کہا کہ ‘حکومتی فیصلوں سے معاشی تباہی سے بچے رہے جبکہ بھارت میں کرونا سے متعلق غلط فیصلوں کے باعث بدترین معاشی اور انسانی بحران پیدا ہوا۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ10 ارب درخت لگانے کا منصوبہ اور شہروں کو صاف کرنا ہمارے اہداف میں کلیدی ہیں۔
انہوں نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا جس معاشرے میں جزا اور سزا کا تصور ناپید ہوجائے وہ معاشرے ترقی نہیں کرتے، اس لیے جن اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز نے کام کیا ان کے لیے مراعات و انعامات ہوں گے۔ جن اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز صفائی ستھرائی اور دیگر اہم امور انجام نہیں دیتے انہیں سزا ملنی چاہیے۔ٹائیگر فورس اور انتظامیہ کے درمیان سازگار ماحول پیدا کیا جائے گا تاکہ وہ مل کر کام کرسکیں۔

ان کا کہنا تھامجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا کہ پاکستانی عوام خیرات دینے کا کتنا جذبہ رکھتے ہیں۔ نوجوانوں میں رضاکارانہ خدمات کا بہت جذبہ ہے اور اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب میں شوکت خانم ہسپتال کی تعمیرات کے سلسلے میں عوام میں نکلا۔

یہ بھی پڑھیں:  10سال بعد بعد ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس کا فیصلہ آگیا

وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں عوام کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے اور عوام کی طاقت استعمال نہ کرنے کی بڑی وجہ حکومت اور عوام کے مابین گہری خلیج ہے۔ دنیا بھر میں صفائی کا بہتر نظام ہے لیکن پاکستان میں ایسی مثال نہیں ملتی کیونکہ ہم نے اپنے سامنے اداروں کو تباہ ہوتے دیکھا ہے۔ لاہور میں 70 فیصد درخت ختم کردئیے گئے، شہر میں آلودگی کا تناسب غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔کراچی شہر کا سارا کچرا سمندر میں ڈال دیا جاتا ہے، ہر شاہراہ پر کچرا موجود ہے اور صفائی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔سمندر میں ڈالے جانے والے کچرے کی وجہ سے مچھلیاں بھی نہیں رہتیں جس وجہ سے مچھیروں کو بھی گہرے سمندر میں جا کر مچھلیاں پکڑنا پڑتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ انتظامیہ اور عوام مل کر شجرکاری پر توجہ دیں تاکہ آنے والی نسلوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جاسکے۔
حیرت انگیز طور پر وزیراعظم نے اپنی تقریر میں پی ڈی ایم یا پھر کراچی کے جلسے یا ایسی کسی بات کا ذکر تک نہیں کیا حالانکہ اس سے ایک روز قبل وزیراعظم نے ٹائیگر فورس سے بات کرتے ہوئے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  میچ فکسنگ کے معاملہ پر راشد لطیف میدان میں آگئے