old people

کچھ توجہ اور منصوبہ بندی سے کام لیا جائے، تو بڑھاپاپرسکون بھی بنایا جا سکتا ہے

EjazNews

جب کھچا کھچ بھری بس یا ٹرین میں بیٹھا کوئی شخص آپ کو دیکھ کر اٹھ کھڑا ہو اور اپنی سیٹ پر آپ کو بٹھا دے، تو سمجھ لیجئے کہ آپ بڑھاپے کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں۔ بڑھاپا بتا کر تو نہیں آتا، مگر کچھ ایسی نشانیاں ضرور ہیں کہ جن سے اس کی آمد کا اعلان ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ایک نشانی کا ذکر تو ہم کرچکے، دوسری بڑی نشانی یہ ہے کہ جب بیوی کا رویّہ بدلنے لگے اور وہ’’ اجی سُنتے ہیں‘‘ کی جگہ’’ سُنو، ارے سٹھیا گئے ہو کیا۔ کان تو پہلے ہی بند تھے، اب تو دماغ بھی جاتا رہا تمہارا‘‘ جیسا اندازِ گفتگو اپنا لے، تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑھاپا اور بیگم، دونوں ہی آپ پہ نازل ہو چکے ہیں اور دونوں نے آپ کو دبوچ لیا ہے۔

کہتے ہیں کہ کسی شریر بچّے نے لاٹھی کے سہارے جُھک کر چلنے والے ایک بوڑھے سے ازراہِ مذاق پوچھا’’بابا جی! یہ تیر کمان کتنے کا لیا ہے،‘‘ بڑے میاں نے اِک آہ سی بَھری اور بولے’’ تھوڑی دیر انتظار کر لو بیٹے، بالکل مفت مل جائے گا تمہیں۔‘‘ حقیقت بھی یہی ہے کہ ہم ابھی بڑھاپے کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتے کہ یہ چُپکے سے ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ صبح اٹھے، تو پتا چلا کہ ٹانگ میں کچھ درد ہے، کچھ اٹھانے کے لیے جُھکے، تو کمر ہی پکڑ کر بیٹھ گئے، سیڑھیاں اُترتے یا چڑھتے بے خیالی ہی میں سہی، لیکن گُھٹنے پر ہاتھ آنے لگا، کوئی بات کر رہا ہو تو اُسے سُننے کے لیے کچھ زیادہ ہی توجّہ دینا پڑی، تو یہ سب بڑھاپے ہی کی علامات ہیں، مگر ہم ان سے آنکھیں چُرانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بڑھاپے کو صعوبتوں اور تکالیف کا دَور تصوّر کیا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ہم اس سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں۔ اس بات سے تو انکار ممکن نہیں کہ ڈھلتی عُمر کے ساتھ جسم میں وہ طاقت اور توانائی نہیں رہتی ، جو جوانی میں ہوا کرتی تھی اور یہی جسمانی کمزوری طرح طرح کے عوارض میں مبتلا ہونے کا بھی ایک بڑا سبب ہے۔ پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان سمیت کم ترقّی یافتہ ممالک میں بوڑھوں کی ریاستی سطح پر دیکھ بھال کا کوئی نظام نہیں، جس کی وجہ سے گھریلو مسائل سے دوچار بوڑھوں کا بڑھاپا خراب ہو جاتا ہے۔ نیز، ہماری بدلتی اقدار نے بھی بوڑھوں کے لیے مسائل میں اضافہ ہی کیا ہے۔ شاید یہ وہ پس منظر ہے کہ جس کی وجہ سے ہم بڑھاپے سے ڈرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  جنوبی افریقہ کو گورے اور کالے کیلئے یکساں رہنے والا ملک بنانے والے نیلسن منڈیلا

’’زندگی 40سال کے بعد شروع ہوتی ہے‘‘ یہ مقولہ بچپن ہی سے سُنتے چلے آ رہے ہیں، لیکن اب کچھ عرصے سے کہا جا رہا ہے کہ’’ اصل زندگی تو 60سال کے بعد شروع ہوتی ہے‘‘، یہ 20سال کی چھلانگ نہ جانے کیا سوچ کر لگائی گئی ہے، شاید اس کی ایک وجہ ترقّی یافتہ ممالک میں اوسط زندگی میں ہونے والا اضافہ ہو۔ پسماندہ مُمالک میں اعداد و شمار رکھے جانے کا رواج ذرا کم ہی ہے، لیکن عین ممکن ہے کہ پاکستان کے دُور دراز دیہات میں لوگ 100سال سے زائد بھی جی لیتے ہوں، البتہ جاپان، امریکہ اور یورپ میں 100سال کے لگ بھگ زندہ رہنا ایک عام سی بات ہے۔ اصل زندگی 40 سال کے بعد شروع ہوتی ہے یا 60 کے بعد، اس بحث سے قطع نظر قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ ہم میں سے کتنے لوگ زندگی جی رہے ہیں اور کتنے محض زندگی کاٹنے پر مجبور ہیں۔ ہمارے ہاں تو عام شخص کی’’ زندگی‘‘ پیدائش سے مرگ تک شروع ہی نہیں ہوتی۔ پھر یہ بھی کہ سماجی اور معاشی نا ہمواری کے سبب لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے، جو جوانی ہی میں بڑھاپے کو دستک دینے لگتی ہے۔ کم خوارک، ناقص اور ملاوٹ زدہ اشیاء، علاج معالجے کی ناکافی سہولتیں، آلودہ فضائیں، روزگار کے مسائل یہ سب جوانی ہی میں بڑھاپے کی طرف دھکیلنے کے ذرائع ہیں، جو ہمارے ہاں وافر تعداد اور مقدار میں دستیاب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بنیادی انسانی حقوق اور حق خودارادیت

بڑھاپا کئی لحاظ سے کٹھن اور ایک آزمائش ہی ہے، لیکن اگر کچھ توجّہ اور منصوبہ بندی سے کام لیا جائے، تو اسے پُرسکون بھی بنایا جا سکتا ہے۔ ہم نے اس طرح کی کئی مثالیں دیکھی ہیں کہ جوانی میں پُر آسائش زندگی گزارنے والے بڑھاپے میں پائی، پائی کے محتاج ہو گئے۔ یہ قسمت کا کھیل بھی ہوتا ہے، لیکن عموماً دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ اس طرح کے لوگوں نے بڑھاپے کے لیے کوئی مالی منصوبہ بندی نہیں کی تھی، جس کا اُنھیں خمیازہ بھگتنا پڑا۔ اسی طرح بڑی عُمر میں صحت کے مسائل پیش آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، مگر اپنے ڈاکٹر کی مشاورت سے ڈھلتی عُمر کے ساتھ ہی مناسب شیڈول ترتیب دے لیا جائے، تو بہت سی طبّی پیچیدگیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ ’’ اے اللہ کسی کا محتاج نہ کیجیو۔ چلتے پھرتے لے جائیو‘‘ ہم بچپن ہی سے بڑے بوڑھوں کی زبانی یہ دُعا سُنتے چلے آرہے ہیں۔ دراصل یہ دُعا، پورا فلسفۂ زندگی ہے۔ اس لیے کہ محض سانس کا اندر جانا اور باہر نکلنا زندگی نہیں۔ عقل مندی اور دانائی کا تقاضا یہ کہ بڑھتی عُمر کے ساتھ اپنے رویّے، روزمرّہ کے معمولات اور طریقِ زندگی میں تبدیلی لاکر حالات کے ساتھ دوستی اور سمجھوتا کرکے، بڑھاپے کو باوقار اور قابلِ احترام بنانے کی کوشش کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:  عالم یوم منانا ہی کافی نہیں دل سے حق و مقام تسلیم کریں