liaquat-ali-khan

نوابزادہ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد قیادت سرکاری اہلکاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے پاس چلی گئی

EjazNews

یکم اکتوبر 1890 کو کرنال کے متمول زمیں دار نواب، رستم علی خاں کے ہاں پیدا ہوئے۔ان کی والدہ محمودہ بیگم نے گھر پر ان کے لیےدینی تعلیم کا انتظام کیاتھا۔ 1918 میں انہوں نےایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ 1918 ہی میں ان کی جہانگیر بیگم سے شادی ہوئی۔ لیاقت علی خاں نے علی گڑھ اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ 1926 میں یوپی کی مجلس قانون سازکے رکن منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ہندوستان کی مرکزی سیاست میں نمایاں حیثیت برقرار رکھی۔ ان کی بنیادی شناخت مسلم اشرافیہ کی سیاست تھی۔وہ ابتدا ہی سے محمد علی جناحؒ کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ ہیکٹر بولیتھو کے مطابق قائد اعظم کو 1933 میں انگلستان سے واپس آ کر مسلم ہندوستان کی سیاست میں دوبارہ شریک ہونے پر لیاقت علی خان ہی نے آمادہ کیا تھا۔ 1940 کی قرار دادِ لاہورکے بعد سے لیاقت علی خان، مسلم لیگ میں قائداعظم کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔شخصی زندگی میں لیاقت علی خان روشن خیال اور مجلسی مزاج رکھتے تھے۔ وہ ہندوستان کی پہلی عبوری حکومت میں وزیر خزانہ بنے۔1932میں دوسری شادی کی، ان کی دوسری بیگم ، رعنا لیاقت علی ماہر تعلیم اور معیشت داں تھیں۔وہ لیاقت علی خان کی زندگی کی بہترین معاون ثابت ہوئیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کو ڈانٹنے اور جھڑکنے سے پرہیز کریں

بیگم رعنا لیاقت علی خان کے مطابق قائد ملت فرمایا کرتے تھے کہ میں جب بھی اپنے لیے کپڑا خریدنے لگتا ہوں تواپنے آپ سے سوال کرتا ہوںکہ کیا پاکستان کے سارے عوام کے پاس کپڑے ہیں۔میں جب اپنا مکان بنانے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا پاکستان کے تمام لوگوں کے پاس اپنے گھر ہیں۔جب میں اپنے بیوی بچوں کے لیے کچھ جمع کرنے کا سوچتا ہوں تو اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ کیا پاکستان میں سب لوگوں کے بیوی بچوں کے لیے کچھ ہے؟جب سب سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے تو میں اپنے آپ سے کہتاہوں کہ لیاقت علی خان ایک غریب ملک کے وزیر اعظم کو نئے کپڑے، لمبا چوڑا دسترخوان اور ذاتی مکان زیب نہیں دیتا۔

liaquat ali khan
عوام کو دیکھ کر مسکراتے چہروں سے ہاتھ ہلاتے ہوئے

1937ء میں جبکہ قائداعظم نے مسلم لیگ کی جدید تنظیم کی اور اسے مسلمانانِ ہند کی آخری سیاسی جدوجہد کے لئے تیار کرنے کا پروگرام بنایا تو نواب زادہ لیاقت علی خاں آل انڈیا مسلم لیگ کے سیکرٹری منتخب ہوگئے۔

1940ء میں نواب زادہ لیاقت علی خاں ہندوستان کی مرکزی مجلس قانون ساز کے ممبر منتخب ہوئے ۔ 1947-48ء کے ایک نہایت اعلیٰ درجے کا میزانیہ پیش کیا، جس کی تعریف سے مخالفین کے ایوان بھی گونج اُٹھے اور ملک بھر میں چرچا ہوگیا کہ یہ ’’غریبوں کا میزانیہ‘‘ ہے، کیونکہ اس میں محاصل کا بار غریبوں کے سر سے اُٹھا کر دولت مندوں پر ڈال دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  مقبوضہ کشمیر ماضی سے حال تک

جب حصول پاکستان کی جدوجہد ختم ہوئی۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت وجود میں آ گئی اور نوابزادہ لیاقت علی خاں کے سر پر اس کی وزارت عظمیٰ کا تاج رکھا گیا۔کامن ویلتھ اور روس کے سلسلے میں ان کے رویہ سے صاف ظاہر ہوتا تھا اور وہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کو آزاد رکھنا چاہتے ہیں۔
16 اکتوبر 1951ء کو جب نوابزادہ لیاقت علی خاں راولپنڈی میں اپنی زندگی کی اہم ترین تقریر کرنے والے تھے اور صرف برادران ملّت کے لفظ ہی ان کی زبان سے نکلنے پائے تھے کہ ایک سفاک بزدل انسان نے ان کو گولی کا نشانہ بنا دیا اور وہ چند لمحے کے بعد ’’لا الہ الا اللہ‘‘ اور خدا پاکستان کی حفاظت کرے‘‘ کہتے ہوئے اپنے پیدا کرنے والے کے دربار میں حاضر ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم نے صرف ستاون برس کی عمر پائی۔ کاش وہ چند سال اور زندہ رہتے اور پاکستان کو زیادہ مستحکم کر جاتے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اعلیٰ علیین میں جگہ دے ۔آمین

یہ بھی پڑھیں:  عالمی حدت میں اضافہ ایک حقیقت، انسان ہی ذمہ دار

نو سیکنڈ بعد 9 ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر یکے بعد دیگرے ویورلے ریوالور کے تین فائر سنائی دئیے۔ اگلے 15 سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اس کا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے یکے بعد دیگرے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ۃسپتال پہنچایا گیاجہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔ان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔