gujranwal

اپوزیشن کا مشترکہ جلسہ : حکومت کیا کہتی ہے؟

EjazNews

پی ڈی ایم کی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان28 نکاتی معاہدہ طے پا گیا ہے۔ نوٹیفکشن کے مطابق حکومت نے پی ڈی ایم کو جناح اسٹیڈیم میں جلسے کی مشروط اجازت دی ہے۔

کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں کیا تو انتظامیہ کارروائی کرے گی۔ جلسے کے دوران کرونا ایس او پیز پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ بغیر ماسک اور سینیٹائزر کوئی کارکن جلسہ گاہ نہیں جاسکے گا۔

پی ڈی ایم کا کوئی رہنما سٹیڈیم کے علاوہ کسی جگہ تقریر نہیں کرے گا۔ پی ڈی ایم جی ٹی روڈ بند نہیں کرے گی۔ جلسے میں ملکی سلامتی کے اداروں اور خلاف آئین کوئی تقریر نہیں کی جائے گی۔
جلسہ دوپہر تین بجے شروع ہوگا اور رات بارہ بجے تک اسے ختم کرنا ہوگا۔ معاہدے کی خلاف ورزی پر جلسہ انتظامیہ کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے۔

جلسے کے دن شہر کے داخلی راستوں پر شرکاءکی سکیورٹی کے لیے کنٹینرز لگائے جائیں گے۔ صرف پیدل افراد کو جلسہ گاہ کی طرف جانے دیا جائے گا۔
وزیراطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا حکومت نے پی ڈی ایم کو جناح سٹیڈیم گوجرانوالہ میں جلسے کی اجازت دی ہے۔ احتجاج کسی بھی سیاسی جماعت کا جمہوی حق ہے لیکن سڑک یا لوگوں کے گزرنے کی جگہ پر جلسے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پی ڈی ایم کی قیادت سے کہا گیا ہے کہ وہ جلسے کے دوران ایس او پیز پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  بھارت نے کشمیریوں کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے کہ اب کشمیری آزادی کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں

گوجرانوالہ کی ضلعی انتظامیہ سے اجازت ملنے پر پی ڈی ایم نے جناح سٹیڈیم میں تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ جناح سٹیڈیم6 ایکڑ پر محیط ہے اور اس میں 35 ہزار افراد کی گنجائش ہے۔ سٹیڈیم میں لائٹس اور ساو¿نڈ سسٹم نصب کیے جا رہے ہیں۔

گوجرانوالہ بغیر اجازت کارنر میٹنگ اور کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزی پر 7 مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔مقدمات میں ٹینٹ سروس اور ساونڈ سسٹم لگانے والوں سمیت 100 سے زائد افراد نامزد ہیں۔ پولیس کے مقدمات ضلع کے مختلف تھانوں میں درج کئے گئے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے پہلا جلسہ16 اکتوبر کو گوجرانوالہ میں کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ حزب اختلاف کا کہنا ہے کہ پہلا جلسہ پی ڈی ایم کی تحریک کے رخ کا تعین کرے گا۔ن لیگی رہنماو¿ں کا کہنا ہے کہ بینرز اتارنے اور پکڑ دھکڑ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کیونکہ حکومت مخالف جلسے اور قافلے نہیں رکیں گے۔ پی ڈی ایم کے جلسے کو حکومت کیخلاف ریفرنڈم بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  نئے امریکی صدر جو بائیڈ ن دو بار پاکستان کا دورئہ بھی کر چکے ہیں