barg fog1

آخری تحفہ

EjazNews

ویلز کے بلند سر سبز پہاڑوں پر ایک کسان رہتا تھا۔ جس کا نام ولیم ہگز تھا اس کا چھوٹا سا پتھر کا بنا ہوا مکان بہت سنسان تھا اور عجیب ہیبت ناک منظر پیش کرتا تھا۔ اس کا بھیڑ بکریوں کا ریوڑ پہاڑوں پر گھاس چرتا رہتا تھا۔

ولیم ہگز کے کھیت سے کچھ ہی فاصلے پر ایک جھیل تھی جو پہاڑ کے اوپر والے حصے کے کنارے واقع تھی ۔اس جھیل کے نام کا مطلب ”داڑھی والی جھیل“ ہے جس کی وجہ جھیل میں چمکتے ہوئے کنول کے پھول ہیں۔ یہ پھول اس کے گہرے نیلے پانی میں بہت خوبصورت لگتے ہیں مگر یہ کنول ے پھول پہلے وہاں پر موجود نہیںتھے۔ آج میں آپ کو ان کنول کے پھولوں والی جھیل کا راز بتاتا ہوں۔
ولیم ہگز ایک ایسا آدمی تھا جس کادل اس کی چھوٹی مگر گھورتی ہوئی آنکھوں کی طرح تھا۔ وہ اپنے بیٹے ہیو کو ہرروز اپنے ریوڑکی حفاظت کے خیال سے ریوڑ کے ساتھ بھیج دیا کرتا تھا مگر جب بھی وہ اپنے باپ سے سکول جانے کی بات کرتا ولیم طنزیہ انداز میں کہتا۔یہاں کھانے پینے کے لالے پڑے ہیں، بھیڑ بکریوں کے دودھ پر گزر بسر ہو رہی ہے اور نواب صاحب سکول جانے کی ضد کر رہے ہیں۔
وہ اس قدر سنگ دل انسان تھا کہ وہ ہیو کو اس بات کی اجازت بھی نہ دیتا تھا کہ جب وہ ریوڑ کو لے کر چراگاہ کی طرف جائے تو اپنا ہارپ (موسیقی کا آلہ) ہی ساتھ لے جائے۔ وہ کہتاکیا تم یہ چاہتے ہو کہ تم سارا دن ہارپ بجاتے رہو اور گائے، بھیڑیں پہاڑوں پر ناچتی پھریں ؟ ہمیں گائے، بھیڑوں کے دودھ کی ضرورت ہے۔ تمہاری موسیقی کی نہیں۔

مگر پھر بھی ہیو کبھی کبھی اپنے باپ کی نظر بچا کر اپنا تنہائی کا اکلوتا ساتھی ”ہارپ “لے جانے میں کامیاب ہو ہی جاتا تھا۔ اس کی ماں اس کو ایسا کرتے ہوئے دیکھتی تو مسکرا دیتی اور اسے پیار کر کے گھر سے رخصت کرتی۔
ہیو پہاڑوں پر پہنچ کر کسی گھنے سایہ دار درخت کے نیچے بیٹھ جاتا اور اطمینان سے ہارپ بجاتا رہتا اور اس کا ریوڑ پہاڑ کی سرسبز گھاس چرتا رہتا۔ یونہی دن، مہینوں میں اور مہینے برسوں میں بدلتے رہے۔
ایک دن ہیو ہارپ سے اپنا دل بہلا رہا تھا کہ اس نے محسوس کیا کہ کوئی بہت دیر سے اسے گھور رہا ہے۔ اس نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو ایک اجنبی چمکدار گائے کو اپنے قریب پایا جو اپنی بڑی بڑی بادامی آنکھوں سے ہیو کو معصومیت سے تک رہی تھی۔ ہیو نے ایسی گائے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔ اس کا سنہرا رنگ دھوپ میں چمک چمک کر آنکھوں کو خیرہ کر رہا تھا۔ جب گائے نے ہیو کو اپنی طرف متوجہ پایا تو اس نے گھاس چرنا شروع کر دی۔

ہیو شام کو ریوڑ لے کر اپنے گھر پہنچا تو سنہری گائے نے بھی اس کا پیچھا کیا۔ پھر تمام گایوں کا دودھ دوہا گیا تو سنہری گائے بھی آگے آگئی۔ اس کا دودھ ایک عام گائے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ اور تین گنامزے دار بھی تھا۔ ہیو کے لالچی باپ ولیم ہگز کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگیں اور وہ خوشی سے ناچنے لگا۔ اس نے ہیو سے پوچھا۔
تم اسے کہاں سے لے آئے ہو؟

یہ بھی پڑھیں:  شہزادہ قمر الزماں

ہیو نے فوراً سمجھ گیا کہ یہ پر اسرار گائے کہاں سے آئی ہے۔ وہ بولا:
یہ گائے ”ٹلتھ ٹیگ“ کے لوگوں کی ہے، جو جھیل لائن بر فوگ میں رہتے ہیں !
ولیم بولا کیا بکواس ہے مگر اب تم اس کو واپس نہ جانے دینا۔ کاش میرے پاس ایسی چند گائیں ہوتی تو میں ۔۔۔
ہیو بات کاٹتے ہوئے بولا۔ تو کیا آپ مجھے سکول میں داخل کرادیتے ؟
ولیم مکاری سے ہنستے ہوئے بولا: تو میں گاﺅں کا امیر ترین آدمی ہوتا۔

دن تیزی سے گزرتے رہے۔ چند برسوں کے بعد اس سنہری گائے نے چند بچے دئیے جن میں سے ہر ایک گائے کی طرح چمک دار سنہرے جسم والا تھا۔ یہ اسی کی طرح لذیذ اور بھرپور دودھ دیتی تھیں۔ ولیم کی خو شی کا تو کوئی ٹھکانا نہ تھا۔ وہ اب گاﺅں میں گردن اکڑا اکڑا کر چلتا تھا۔ اب ولیم اپنے دودھ، مکھن اور پنیر کی وجہ سے ہر جگہ مشہور ہوگیا تھا۔ اور کچھ ہی عرصے میں وہ گاﺅں کاامیر ترین آدمی بن گیا۔ مگر واہ رے لالچ ! ولیم ویسا ہی کنجوس مکھی چوس رہا۔ وہ ہیو کو تب بھی ریوڑ چرانے کے لئے بھیج دیا کرتا حالانکہ اب وہ دس چرواہے ملازم رکھ سکتا تھا۔ اس نے اپنے لئے ایک بہترین سوٹ اور ایک خوبصورت ہیٹ خریدا اور اپنی تمام دولت کو ایک بڑے صندوق میں بند کر کے اسے تالا ڈال دیا۔

اب ولیم اکثر شہر بھی جایا کرتاتھا تاکہ دوسرے کسانوں کے سامنے اپنے سنہری ریوڑ کی شیخی بگھار سکے مگر اسے اتنی توفیق نہ ہوئی کہ اپنی بیوی کے لئے شہر سے کوئی اچھی چیز تحفے میں لا دیتا ۔ بہت دنوں کے بعد لایا بھی تو کیا ؟ بھدا سخت کپڑا۔ اس کی بیوی بے چاری نے اسی سے اپنے لئے کپڑے سی لئے۔
ایک بار جب وہ شہر سے اپنے گھر لوٹا تو بڑے فخر سے کہنے لگا۔

یہ دیکھو، میں تمہارے لئے کیا لایا ہوں ؟ یہ کہہ کر اس نے اپنی بیوی کو لوہے کا ایک انگشتا نہ دیا اس کی بیوی کی آنکھیں آنسوﺅں سے ڈبڈبا گئیں مگر ولیم غصے سے کمرے سے باہر نکل گیا۔ ہیو جو یہ سب کچھ سن اور دیکھ رہا تھا اندر آیا اور اپنی ماں کی طرف دیکھ کر غمگین انداز میں مسکرایا اور اس کو حوصلہ دیا۔

ادھر ایسا لگتا تھا سنہری گائے پر وقت بالکل بھی اثر انداز نہیں ہو رہا ہے۔ کیونکہ برسوں بعد بھی اس میں بڑھاپے کے کوئی آثار نظرنہیں آرہے تھے۔ صرف اتنا ہوا کہ وہ موٹی ہو گئی اور اس نے دودھ دینا تقریباً ختم کر دیا۔
ایک دن ولیم نے خود غرضی سے کہا : یہ اسے بیچنے کا بہترین وقت ہے اس کا گوشت بھی یقینا بہت لذیذ ہوگا۔ اب یہ دودھ بھی نہیں دیتی بس سارا دن پہاڑوں پر چرتی پھرتی ہے!۔

یہ بھی پڑھیں:  بلا عنوان

ہیو نے خوف زدہ ہو کر کہا۔
بابا ! آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ! کیا آپ کا ارادہ اسے ذبح کرنے کا ہے!۔
ولیم بولا میرے نزدیک جب کوئی چیز بے کار ہو جائے تو اسے پھینک دینا چاہئے۔
ہیو بولا مگر آپ کو ایسا کرنے کا کوئی حق نہیں ہے یہ آپ کی ملکیت نہیں یہ تو ٹلتھ ٹیگ کی ملکیت ہے۔
ولیم نے پوچھا تمہیں آخر کیسے معلوم ہوا کہ یہ ٹلتھ ٹیگ کی ملکیت ہے؟

ہیو کے منہ سے غلطی سے نکل گیا کہ جب میں ہارپ بجا رہا تھا تو میں نے جھیل کے پانی کو لرزتے ہوئے دیکھا تھا ۔ وہ ٹلتھ ٹیگ کے باشندے تھے۔ جو میری موسیقی سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔
ولیم اپنے لڑکے پر غصے میں چڑھ دوڑا اور بولا، جھوٹے ، نالائق لڑکے ! تمہیں جرات کیسے ہوئی کہ میری اجازت کے بغیر ہارپ بجاﺅ؟ یہ کہہ کر ا س نے ہیو کا ہار پ چھین لیا اور اسی صندوق میں بند کر دیا جس میں اس کی تمام دولت بند تھی۔

ایک ہفتے کے بعد جب ہیو سنہری گایوں کو چرا رہا تھا تو اس نے دور سے دیکھا کہ اس کا باپ ولیم قصائی اور چند لوگوں کے ساتھ چلا آرہا ہے۔ اس نے دور ہی سے قصائی کے ہاتھ میں موجودچھرے کی چمک دیکھ لی تھی۔ وہ اپنے بازو اپنی سنہری گائے کے گلے میں ڈالتے ہوئے بولا

اللہ حافظ میری پیاری گائے:ڈیڈی اپنے ساتھ قصائی کو لے کر آرہے ہیں۔ اب تم واپس ٹلتھ ٹیگ میں چلی جاﺅ۔ مگر گائے معصومیت سے اسے تکتی رہی۔ ہیو چیخا۔
جلدی کرو ! اللہ کے واسطے بھاگ جاﺅ ! بھاگ جاﺅ! مگر بد ستور گائے اسے تکتی رہی۔
ہیو نے بڑی بے بسی کے عالم میں آسمان کی طرف دیکھا اور پھر جھیل کے گہرے پانی کو دیکھ کر بے دکھ سے بولا۔
او ٹلتھ ٹیگ کے لوگو! میری مدد کرو۔ اللہ کے واسطے اپنی گایوں کو اپنے پاس بلالو۔ میرا باپ میری پیاری گاے کو مار ڈالے۔ مگر ٹلتھ ٹیگ کے لوگ اس کی آواز کیسے سنتے۔ کیونکہ ہیو کے پاس اپنا ہارپ ہی نہیں تھا وہ تو اسی کی زبان میں ان لوگوں سے بات کر سکتا تھا۔

آخر ولیم قصائی کے ساتھ گائے کے پاس پہنچ گیا جو بالکل خاموش اور بے حس و حرکت کھڑی تھی۔ ولیم نے نہایت بے پروائی سے گائے کے سینگوں کو پکڑا اور قصائی کو اسے ذبح کرنے کا اشارہ کیا۔ قصائی کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور پھر ایک جھٹکے کے ساتھ تیزی سے نیچے آیا۔ ہیو بد حواسی میں چیخااور قصائی کا ہاتھ پکڑنے کو دوڑا۔ مگر اسی وقت ایک عجیب بات ہوئی جھیل میں سے ایک پر اسرار اجنبی آواز آئی ۔
سنہری گایو! یہ تمہارے گھر لوٹ آنے کا وقت ہے۔ گھرآجاﺅ!گھر آجاﺅ ! جیسے ہی اس سرسراتی آواز کی گونج ختم ہوئی سب سے پہلی سنہری گائے اپنے سینگ ولیم سے چھڑا کر لوگوں کا گھیرا توڑتی ہوئی جھیل کی طرف بے تحاشا لپکی۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک ایک کر کے تمام سنہری گائیں جھیل میں اترتی چلی گئیں اور آخر غائب ہو گئیں۔ اس کے بعد ان کا کوئی پتہ نہ چلا۔ جھیل کی فضا پر خاموشی اور پر اسراریت طاری تھی۔ صرف ہوا کی سرسراہٹ سنی جاسکتی تھی۔ ولیم کی حالت دیکھنے کے قابل تھی اس کا منہ مارے حیرت کے کھلا کا کھلا رہ گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  طلسمی ٹوپی

ایک کسان نفرت سے ناک سکیڑ کر بولا۔
ولیم! تم نے ٹلتھ ٹیگ کے دئیے ہوئے تحفے کا ناجائز استعمال کرنا چاہا، اب اس کا انجام بھگتو!۔
ایک دوسرا کسان حقارت سے بولا۔
بے چارہ ولیم ہگز ! اب یہ کبھی ویسا دودھ اور مکھن حاصل نہیں کر پائے گا۔
تیسرا بولا ولیم ٹلتھ ٹیگ کے ساتھ چال چل رہا تھا۔ یہ بڑا لالچی اور مکار ہے !

سب لوگ ولیم پر فقرے کستے وہاں سے چلے گئے۔ ہیو یہ دیکھ کر تیز سے گھر کی طرف دوڑا۔ گھر میں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ اس کے با پ کا صندوق جس میں وہ اپنا خزانہ رکھا کرتا تھا کھلا پڑا ہے اور اس کا ہارپ زمین پر پڑا ہے۔ اس کی ماں بولی۔
تقریباً دس منٹ پہلے ایک پر اسرار آواز سنائی دی۔ پھر یہ صندوق ایک دھماکے سے کھلا اور اس میں سے تمام دولت نکل کر اڑ گئی۔

ہیو نے اپنا ہارپ لیا، اپنے کپڑے گٹھری میں باندھے، باورچی خانے سے کچھ کیک لیے اور بولا ! اللہ حافظ ماں ! میں بھی جارہا ہوں۔ میں اپنے لالچی با پ کے ساتھ ہرگز نہیں رہ سکتا۔ تم بھی میرے ساتھ چلو۔
ماں نے انکار میں سرہلاتے ہوئے بولی! نہیں بیٹا اب وہ پھر سے غریب ہو گیاہے۔ اسے یقینا میری ضرورت ہوگی۔ تمہاری جوانی اب آزادی مانگتی ہے اسی طرح جس طرح کہ تمہاری موسیقی جو ہوا کی لہروں پر آزادی سے بکھرتی چلی جاتی ہے۔

ہیو کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ وہ وہاں سے روانہ ہوا اور گاﺅں سے باہر جانے والی پگ ڈنڈی پر چل پڑا۔ راستے میں اس نے جھیل لائن پر فوگ کو دیکھا تو حیرت سے رک گیا۔ جھیل کا گہرا نیلا پانی کنول کے پھولوں سے بھرا ہوا تھا۔ ہر پھول اس گائے کے لیے تھا جو جھیل میں غائب ہو ئی تھی۔ ہیو دیر تک ساکت کھڑا جھیل میں تیرتے کنول کے پھولوں کو دیکھتا رہا۔ تکتا رہا۔ پھر وہ ہارپ بجاتے ہوئے چل پڑا۔ یہ وہ آخری تحفہ تھا جو وہ ٹلتھ ٹیگ کی سنہری گایوں کو دینا چاہتا تھا۔

کیٹاگری میں : بچے