children_cat

بلی کی کہانی

EjazNews

جی رو میرا دوسرا بیٹا ہے اور اب دوسری جماعت میں پڑھ رہا ہے۔ ہم اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے تھے کہ جی رو کی جیب سے کیا نکلے گا۔ مثلاً ایک زنگ آلودہ ٹیڑھی کیل۔
یہ کیا چیز ہے؟۔
یہ پنسل کا کام کرتی ہے۔
کیا؟
ابو! میں اس سے لکڑی اور دیوار پر بھی بڑی آسانی سے لکھ سکتا ہوں !
اچھا تو تم تھے جس نے برآمدے پر عجیب سا نشان لگایا تھا۔
یہ سوچ کر میں تلخی سے مسکرایا اور جی رو کو گھورا، مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔
یہ کیل بڑے کام کی ہے اگر سکہ فرش کے شگاف میں گر جائے تو اس سکے کو اس کیل کی مدد سے نکالا جاسکتاہے۔ یہ بلوط کے پھل پر سوراخ بنانے کے کام بھی آتی ہے۔
جی رو کے کہنے کے مطابق بے کار چیزیں بھی کام کرتی ہیں۔ اسی طرح بوتل کا ٹوٹا ہوا شیشہ سورج کو دیکھنے کے لئے آلہ بن جاتا ہے۔ ٹوٹا ہوا قلم بندوق کی گولی کی طرح خوش کر دینے والی چیز ہوتی ہے اور گھوڑے کی دم کا بال تو لال کیکڑے کو پکڑنے کا آلہ ہے جو عجیب چیزیں جی رو کی جیب سے نکل آتی ہیں۔ وہ سب ان کا انوکھا سرمایہ ہوتی ہیں۔

ہمارے گھر میں ایک لفظ جی رو کی جیب استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب کبھی عجیب بات اور کبھی بے کار چیز ہوتا ہے۔ مثلاً
ارے ! وہ کہانی تو بالکل جی رو کی جیب لگ رہ ہے۔ مجھے یقین نہیں آتا
یا یہ کپڑے اب جی رو کی جیب ہو گئے ہیں۔ میں انہیں بھنگی کو دے دو گی۔
ایک دن کیا ہوا جب سب مل کے رات کا کھانا کھا رہے تھے تو میاﺅں میاﺅں کی سی ہلکی آواز آنے لگی پتا نہیں چل رہا تھا کہ یہ قریب سے آرہی ہے یادور سے۔ عجیب سی آواز تھی۔یہ آواز کیسی ہے ؟یہ آواز کہاں سے آرہی ہے ؟۔

سب چہ مہ گوئیاں کرنے لگے۔ مگر صرف جی رو اطمینان سے مسلسل چاول کھائے جارہا تھا۔ اچھا ، تو یہ پھر اس لڑکے کی کارروائی ہوگی۔
پھر سب کو پتہ چل گیا ہمیشہ کی طرح جی رو کی جیب کا جائزہ لیا گیا تو اس کی جیب سے بالکل جی رو کی جیب نکل آئی۔ وہ ایک بلی کابچہ تھا جو نومولود تھا۔ اس کے جسم پر سفید اور کالے رنگ کے دھبے تھے مگر اس کے وہ دھبے دوسری بلیوں کے مقابلے میں کچھ مختلف تھے۔ اس کے چہرے پر ناک سے منہ تک دیگچی کی طرح جو نیچے سے کالی ہوتی ہے۔ بالکل ایسے کالے رنگ کے دھبے تھے اور وہ شکل سے چور لگ رہا تھا۔ ان کالے دھبوں کی وجہ سے وہ بلی کا بچہ دوسری بلیوں سے الگ دکھائی دے رہا تھا۔

ابو اتنی بد صورت بلی پانے سے کیا فائدہ ؟ بڑے بھائی تارو نے سب سے پہلے کہا۔ یہ سنتے ہی جی رو نہیں، نہیں کہتے ہوئے بلی کو گلی لگا کر رونے لگا۔
ہم نے اس بچے کے بارے میں باتیں کیں اور آخر ہم نے اسے گھر میں رکھنے کا فیصلہ کر لیا کیونکہ اب اسے نکالنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ پھر یہ بچہ بہت ہی چھوٹا تھا اور خود کھانا نہیں کھاسکتا تھا، اس لئے رومال میں دودھ سے گیلے کیے ہوئے روٹی کے ٹکڑے کو رکھ کر اس کو مال کے دودھ کی طرح بنا دیتے اور پھر اس کو بچے کے منہ میں ڈال دیتے تو وہ شوق سے دودھ پیتا تھا۔
اس کو دودھ پلانا جی رو کا کام تھا۔ دودھ پلانے کے بعد جی رو اپنی جیب میں بلی کو ڈال دیتا تھا۔ جی رو کی جیب بلی کی خواب گاہ بھی تھی۔

بچہ جی رو کی دیکھ بھال کی وجہ سے آہستہ آہستہ بڑھتا رہا اور پھر اتنا بڑا ہوگیا کہ وہ بڑی بلی نظر آنے لگا۔ اب جی رو اس کو جیب میں نہیں ڈال سکتا تھا ۔ وہ بلی ادھر ادھر بڑی آزادی سے گومنے لگی اب بلی جی رو کو اپنی ماں سمجھنے لگی اور ہر وقت جی رو کے آگے پیچھے گھومتی پھرتی تھی۔ بلی کو پتا تھا کہ کس وقت جی رو سکول سے واپس آئے گا اور پھر وہ اس گھر جی روکا انتظار کرتی۔
اپنے تھیلے کو کندھے سے لٹکائے ہوئے جی رو کی شکل راستے کے کونے پر نظر آنے لگی تو وہ میاﺅں میاﺅں کر کے بڑی پیاری آواز سے جی رو کو بلانے لگی۔ اس لئے ہمیں اس بلی کی آواز سے پتا چل جاتا تھا کہ اب جی رو واپس آگیا ہے جب جی رو گیٹ کے پاس آتا تو بلی اچھل کر اس کے کندھے پر بیٹھ جاتی اور وہ دونوں اطمینان اور خوشی سے گھر کے اندر آجاتے۔

یہ بھی پڑھیں:  مختصر اسلامی عقائد

ہر رات کو وہ بلی ضرور جی رو کے بستر میں گھس جاتی ۔ اگرچہ گھر کے دوسرے لوگ اسے اپنے بستر میں لے آتے۔ لیکن وہ وہاں سے نکل کر جی رو کے پاس بھاگ جاتی۔ وہ انسانوں کی طرح جی رو کے بازو کو تکیہ بنا کر اس پر سر رکھتی اور جی رو کے سر کے برابر اپنے سر کو رکھے ہوئے بڑی خوشی سے سوتی تھی۔
یہ سرگرمیوں کے ایک موسم کی بات ہے نانی جو ٹوکیوں میں رہتی تھیں ان کا خط آیا کہ وہ اپنے نواسوں سے ملنا چاہتی ہیں۔ اس لئے ہم گرمیوں کی چھٹی میں ضرور ٹوکیو آئیں۔
جی رو نے ضد کی کہ بلی کو بھی ساتھ لےکر جاﺅں گامگر میں نے سوچا کہ کا گو شی ما سے ٹوکیو خاصا دور ہے۔ اس لئے بلی کو ساتھ لے جانا بہت مشکل ہوگا۔ مجھے جی رو کو سمجھانے میں پورے دو دن لگے کہ بلی کو پڑوسی کے پاس چھوڑ جاتے ہیں۔

نانی کے پاس ہم تقریباً ایک مہینے ٹھہرے۔ دن کو ہم اپنے رشتے داروں سے ملنے میں مصروف رہتے اور بلی کے متعلق بھول جاتے تھے۔ مگر رات کو جی رو پریشان ہو جاتاتھا کہ معلوم نہیں پے رو (بلی کا نام) کا کیا حال ہوگا۔
گھر واپس جاتے وقت پے رو کے لئے تحفے کے طور پر نانی نے اسے سوکھی مچھلی دی اور جی رو اسے اپنے تھیلے میں ڈال کر احتیاط سے لے آیا۔
جی رو کا گوشی ما پہنچتے ہی پے رو سے ملنے کے لئے پڑوسی کے پاس گیا مگر تھوڑی دیر بعد وہ روتے ہوئے واپس آیا۔
میں نے پوچھا کیا ہوا؟

ہمارے ٹوکیو جانے کے دس گیارہ دن بعد بلی نے پڑوسی کے گھر کھانا کھانے کے لئے جانا چھوڑ دیا تھا اس کے بعد وہ نظر نہیں آئی۔ پڑوسن کا خیال ہے کہ مرے ہوئے چوہے کے زہر کو کھانے کی وجہ سے وہ مر گئی ہو گی۔ جی کہہ کر آنسو بہانے لگا۔
کسی نے اس کی لاش نہیں دیکھی ہو گی گھر والے سب چلے گئے تھے اس لئے اس نے سوچا ہوگا کہ اس کو چھوڑ دیا گیا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ جنگلی بلیوں کی ساتھی بن گئی ہو۔ میرا خیال ہے کہ وہ تین دن بعد واپس آجائے گی۔ اگر واپس نہ آئی تو پھر میں تمہارے لئے اور زیادہ خوبصورت بلی لے آﺅں گا۔
میں نے جی رو کو تسلی دی اور اس رات کو اسے بستر پر سلادیا مگر اس دن کے بعد جی رو بہت ادا س ہو گیا اور سوچوں میں گم رہنے لگا۔ اس لیے میں بھی پریشان ہو کر ادھر ادھر بلی کو تلاش کرنے گیا، مگر کچھ پتا نہ چلا۔

اتفاق سے جی رو کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ ا س لئے میں خود وہاں گیا۔ وہاں جی رو کی وہی بلی تھی جس کی ناک سے منہ تک کالے دھبے تھے۔
پے رو ! پے رو! میں نے اسے بلایا مگر پے رو نے میری طرف کوئی توجہ نہ کی اور کاکی کے درخت سے نیچے نہ آئی۔
مجبوراً میں اس کو پکڑنے کے لئے درخت کے اوپر چڑھنے لگا مگر جب میں پے رو سے صرف دو تین میٹر کے فاصلے پر تھا تو وہ بالکل جنگلی بلیوں کی طرح خوف ناک چہرہ بنا کے ”شا شا“ کر کے غرانے لگی۔ پھر اچانک درخت سے اچھل کر غائب ہو گئی۔

پے رو ایک مہینے میں بالکل جنگلی بلی بن گئی تھی۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ آخر مجھے شک ہوا کہ وہ پے رو سے ملتی جلتی تو ہے مگر وہ کوئی دوسری بلی ہوگی۔
اگلے دن ایک صاحب نے اطلاع دی کہ تو فو(دال سے بنی ہوئی کھانے کی ایک چیز) بیچنے والے کے گھر کے کھیت پر پے رو سے ملتی جلتی ایک بلی ہے۔
اس وقت جی رونا شتا کررہا تھا۔ وہ زندہ باد چلاتے ہی ناشتا چھوڑ کر وہاں بھاگا میں بھی اس کے پیچھے چلا۔ بلی تو کھیت کے کونے پر لیٹی ہوئی تھی مگر کئی لوگ شور مچاتے ہوئے اس کی طرف گئے جس کی وجہ سے وہ فوراً اٹھ کر دیوار کے پیچھے ایک صنوبر کے درخت پر چڑھ گئی۔

یہ بھی پڑھیں:  سندباد کا پانچواں سفر

مت آﺅ! مت آﺅ! جی رو نے سنجیدگی سے ہم سے کہا اور اکیلا صنوبر کے درخت کی طرف جانے لگا۔
پے رو !پے رو!
صنوبر کے درخت کے نیچے کھڑے ہو کر جی رو نے اونچی آواز میں بلایا۔
پے رو ! پے رو !
جی رو اسے بلانے کی بہت کوشش کر ہا تھا۔ مجھے پریشانی تھی کہ جیسا کل میرے ساتھ ہوا اگر آج بھی ہوا اور پے رو جنگلی بلیوں کی طرح بھا گ گئی تو جی رو اور زیادہ دکھی ہو جائے گا۔ میں پریشانی کے ساتھ دیکھ رہا تھا
پے رو ! پے روے ! پے رو!

جی رو اسے مسلسل بلانے لگا تو پے رو نے اس کے جوا ب میں پہلی دفعہ میاﺅں کی آواز نکالی ۔ جی رو مسلسل ہلکی سی آوا ز میں پے رو پے رو کہتے ہوئے صنوبر کے درخت پر چڑھا، پے رو بھاگے بغیر شاخ پر چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی جب جی رو پے رو کے قریب پہنچا تو اس نے پے رو کی طرف اپنا سیدھا ہاتھ بڑھایا۔ پے رو اپنی پیٹھ موڑ کر اٹھ گئی۔
میں پریشانی میں دیکھ رہا تھا کہ اب کیا ہوگا؟ اچانک پے رو اچھل کر جی رو کے کندھے پر بیٹھی اور پہلے کی طرح پیار سے میاﺅں میاﺅں کرنے لگی۔
جی رو نے بلی کو اپنے گلے سے لگا لیا اورصنوبرکے درخت پر زور زور سے رونے لگا۔ اتنی زور سے کہ پورے گاﺅں میں اس کی آواز گونجنے لگی۔
جی رو اور بلی کی دوستی اس دن کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی۔
اس واقعہ کو ایک سال گزر گیا۔

دو تین دن ایسے لگ رہا تھا جیسے بلی بیمار ہو اورگھر کی کسی اندھیری جگہ کو ڈھونڈ رہی ہو ۔
پے رو ! پے رو!
گھر والے آوازیں دیتے ہوئے بلی کو گلے لگاتے وہ بے تاب ہو جاتی اور ہمیں گھورتے ہوئے بھاگنے کی کوشش کرتی، مگر جب جی رو بلی کے قریب جاتا تو وہ پیار سے منمناتی اور جی رو کے بازو سے اپنے سر کورگڑتی۔ مگر پھر بے چین ہو کر بازو سے کودتی اور چلی جاتی پھر بھی جس وقت جی رو سکول سے واپس آتا اس وقت وہ ضرور گیٹ کی چھت پر اس کا انتظار کرتی۔
مگر ایک دن جی رو سکول سے واپس آیا تو وہ اداس ہو گیا۔ امی کو جی رو کی اداسی کا پتا چلا تو انہو ں نے پوچھا : تمہیں کیا ہوا؟
امی ! آپ کو معلوم نہیں کہ پے رو کہاں چلی گئی؟

ہاں ! آج تو جی رو کے کندھے پر بلی نہیں بیٹھی ہے۔ اس ایک سال میں پہلی مرتبہ ایسی بات ہوئی جہاں جی رو ہوتا وہاں پے رو بھی ضرورہوتی تھی گویا وہ جی رو کا سایہ ہو۔
مجھے نہیں معلوم کہاں چلی گئی؟۔
میری بیگم نے یہ کہتے دیکھا تو بلی چولہے میں پڑی ہوئی لکڑی پر جھیٹ رہی تھی اور پا گلوں کی طرح بڑے شوق سے اس کو دانتوں سے کاٹ رہی تھی۔
پے رو!اس آواز سے بلی نے منہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ دانتوں کے درمیان سے پیلے رنگ کا پانی ٹپک رہا تھا۔ یقینا بلی بیمار ہو گئی تھی۔
ارے پے رو ! جی رو اس کی طرف جانے لگا۔ بلی جی رو کی آواز سن کر منمنائی۔ مگر فوراً بے پروا ہو کر واپس جانے لگی۔
جی رو نے کہا کیا ہوا تجھے ؟۔

جی رو نے بلی کی طرف اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تو بلی اچھل کر بھاگنے لگی۔ نہیں چھوڑوں گا جی رو بلی کے پیچھے بھاگ کر شوجی (کاغذ سے بنے ہوئے دروازے) تک پہنچا اور بلی کو پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو اس وقت پے رو جی کو دیکھ کر ”شا“ کر کے غرانے لگی۔ یہ یہ بالکل عجیب با ت تھی۔
یقینا تم بیمار ہو ! ادھر آجاﺅ ! یہ کہہ کر جی رونے پھر اپنا ہاتھ بلی کی طرف بڑھایا تو پے رو اچانک شو جی میں بنے ہوئے سوراخ سے باہر بھا گ گئی۔ پھر صحن میں ”اومے “ پھول کے درخت پر چڑھ کر کچر کچر اس شاخ کو دانتوں سے کاٹنے لگی۔
اس شام گھر والوں نے مل کر یہ مشکل پے رو کو پکڑ لیا۔ جانوروں کے ڈاکٹر کو دکھانے کے لئے میں جی رو کے ساتھ بلی کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گیا۔ بلی جی رو کی بانہوں میں خوں خود غرا رہی تھی جیسے غصے کا اظہار کر رہی ہو۔ مگر جب جی رو پے رو کہہ کر آواز دیتا تو وہ ہچکچاتے ہوئے منہ بنا کر جی رو کے ہاتھ پر اپنی زبان پھیرنے لگتی۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادہ بدر الدجی

شہر کے میدان کے آگے پہاڑ ی کے دامن میں جانوروں کے ڈاکٹر کا گھر تھا۔ میدان کے پیچھے اتفاق سے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات ہوئی جو اپنی سائیکل پر سوار اپنے گھر کی طرف واپس جارہے تھے۔
ڈاکٹر صاحب ! اچھا ہوا کہ آپ سے یہاں ملاقات ہو گئی ۔ ہماری بلی بیمار ہو گئی ہے۔ ابھی ہم آپ کے پاس جارہے تھے۔
ڈاکٹر صاحب مہربان آدمی تھے۔

ذرا مجھے دکھائیے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے چاندی کے رنگ کی اپنی سائیکل میدان کی نیل گھاس پر ڈال دی اور ہمارے قریب آنے لگے۔
جی رو نے ڈاکٹر کے سامنے پے رو کو پیش کیا تو اس وقت جی رو کے ہاتھ سے نکل کر میدان کی طرف بھاگنے لگی۔
ارے پے رو! جی رو نے اونچی آواز میں ڈانٹا۔ بلی نے جی رو کی ڈانٹ سنی تو وہ رک گئی اور ہماری طرف چہرے کو پھیر کر دیکھنے لگی۔ اس وقت بھی اس کے دانتوں کے درمیان پیلا پانی ٹپک رہا تھا۔
ارے خطرناک ہے ! یہ تو پاگل پن ہے ، یقینا پاگل پن ہے۔ جانوروں کے ڈاکٹر صاحب بہت اونچی آواز سے چیخے۔

بے رو اس آواز سے حیران ہوئی اور اچانک منہ سیدھا کر کے بھاگ گئی۔ ایک دو مرتبہ گھاس کے درمیان میں سے پے رو کی جھلک نظر آئی مگر اس کے بعد پے رو نہ جانے کہاں چلی گئی۔
ہم تینوں نے میدان میں پے رو کو تلاش کیا مگر اس کے بعد دوبارہ ہم پے رو کی صورت نہ دیکھ سکے۔
اگر پاگل کتا کسی کو کاٹ لے تو کتے اور بلیاں بھی اس بیماری کا شکار ہو جاتے ہیں اور پھر وہ بھی دوسروں کو اپنے دانتوں سے کاٹتے ہیں۔ پے رو جب بیمار ہوتی تو اس کا دل بھی بہت چاہا ہوگا کہ وہ دوسروں کو کاٹے۔ مگر پے رو اس کو برداشت کر تی رہی۔

اب ہمیں سوچ کر یقین آیا کہ پے رو کو پریشانی ہوئی ہوگی کہ وہ کیسے اپنے آپ کو سنبھالے اور اپنے پیارے اور چھوٹے مالک کو کاٹے۔ وہ اس پریشانی کی وجہ سے جی رو سے دو رہنا چاہتی تھی۔
جب ہم جانوروں کے ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے ۔ تو اس وقت اس کے منہ کے سامنے جی رو کی با نہیں تھیں۔ پے رونے بہت چاہا ہوگا کہ ان کو کاٹے۔ اس کو برداشت کرنا کتنا مشکل ہوا ہوگا۔ آخر وہ برداشت نہ کر سکی تو جی رو کی بانہوں سے نکل کر ہمارے سامنے غائب ہو گئی۔ پے رو کو محض جانور کہنا مناسب نہیں۔ اس سے کہیں زیادہ وہ وفادار اور عقل مند تھی۔

اس کے بعد جی رو نے ایک بوڑھے شکاری سے یہ کہانی سنی۔
کتے اور بلیاں جب پاگل ہو جاتے ہیں تو وہ کبھی کبھی پہاڑوں میں چلے جاتے ہیں اور ہزاروں میں سے ایک آدھ خود ہی اپنی بیماری ٹھیک ہو کر واپس آجاتا ہے۔
جی رو اور میں اپنے دل میں دعا کر رہے ہیں کہ اس بوڑھے کی کہانی سچ ہو اور پے رو بھی ان ہزاروں میں سے ایک خوش قسمت بلی ہو اور واپس آجائے۔

ترجمہ : جاپانی کہانی

کیٹاگری میں : بچے