saeed ghani

سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں بنی کمیٹی ہمارے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے:سعید غنی

EjazNews

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ میری اور ناصر حسین شاہ کی جب مولانا ڈاکٹر عادل خان سے بات ہوئی تھی تو انہوں نے خود ہمیں نہیں کہا تھا کہ انہیں سکیورٹی درکار ہے لیکن ان کے بیٹے نے یہ ذکر ضرور کیا تھا اور ہم نے ان کو سکیورٹی کی فراہمی پر کام شروع بھی کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ قبل وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس میں بھی وہ شریک تھے اور وہاں بھی یہی بات ہوئی کہ انہیں سکیورٹی نہیں ملی ہے، ہم نے آئی جی سندھ کی موجودگی میں انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان سمیت دیگر مایہ ناز علمائے کرام کو سکیورٹی دی جائے گی۔

سعید غنی نے کہا کہ جب مولانا عادل کی شہادت کا واقعہ ہوا تو میں نے چیک کیا کہ ان کو سکیورٹی ملی یا نہیں، تو پتا چلا کہ ان کے نام پر دو پولیس اہلکار الاٹ ہوئے تھے لیکن وہ دونوں اہلکار شاہ فیصل کالونی میں ان کے مدرسے پر ڈیوٹی کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  معیشت حکومت کو مضبوط کرنے کیلئے کی جاتی ہے یاعوام کو

ان کا کہنا تھا کہ تفصیل بتانے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کو یاد ہو گا کہ جب چیف جسٹس ثاقب نثار تھے تو ایک فیصلہ کر کے گئے جس کے ذریعے انہوں نے مصیبت ہمارے گلے میں ڈالی ہوئی ہے کہ آپ خطرے کی جانچ کی کمیٹی (تھریٹ اسسمنٹ کمیٹی) بنائیں اور کسی کو سکیورٹی کی ضرورت ہے تو پہلے یہ کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ کس کو سکیورٹی ملنی چاہیے یا نہیں ملنی چاہیے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے نتیجے میں بنی یہ کمیٹی ہمارے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے، حکومت یا وزیر اعلیٰ کے پاس یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ حکم دے کہ اس فرد کو سکیورٹی دے دی جائے، ہم مجبور ہیں نہیں دے سکتے جس کے نتیجے میں اس قسم کے واقعات ہو جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس یہ اختیار ہونا چاہیے کہ اگر ہم محسوس کریں کہ سیاسی، مذہبی یا کسی اور شخص کو خطرات لاحق ہیں تو ہم فوری طور پر سکیورٹی فراہم کریں تاکہ اس طرح کے واقعات سے بچ سکیں۔

یہ بھی پڑھیں:  کرپٹ لوگوں کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے تمام ادارے حکومت کی مدد کریں

سعید غنی نے کہا کہ اگر یہ کمیٹی نہ ہوتی تو ڈاکٹر عادل خان کو ہم ایک گھنٹے میں پولیس فراہم کر سکتے تھے جس کی ان کو ضرورت تھی لیکن اس کمیٹی کی وجہ سے صرف ڈاکٹر محمد عادل نہیں بلکہ کئی ایسے لوگ ہیں جنہیں ہم سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر سکیورٹی دینی چاہیے لیکن ہم نہیں دے پا رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے انکشاف کیا کہ ایک اور مایہ ناز مفتی صاحب کو سکیورٹی کی فراہمی کے لیے میں، ناصر حسین شاہ اور وزیر اعلیٰ کوششوں میں لگے رہے اور ابھی کچھ دن پہلے ہم دو سپاہی انہیں دینے میں کامیاب رہے ہیں، مسئلہ وہی کمیٹی ہے جس کے کئی اراکین اور ادارے حصہ ہیں، ایک ادارہ کہتا ہے کہ سکیورٹی ملنی چاہیے، دوسرا کہتا ہے کہ نہیں ملنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اسی چکر میں معاملات نکل جاتے ہیں اور ہم ان افراد کو آٹھ، 9 مہینے تک وہ سکیورٹی نہیں دے پاتے، جس کی ان کو ضرورت ہے، سپریم کورٹ کی نیت ٹھیک ہو گی لیکن بعض اوقات وہ ایسے فیصلے کر دیتا ہے کہ جس سے عملی طور پر حکومتوں کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں اور اب یہ اتنا بڑا واقعہ ہو گیا جس کا الزام حکومت سندھ پر لگ رہا ہے کہ ہم نے سکیورٹی نہیں دی۔
سعید غنی نے مزید کہا کہ میں گواہ ہوں کہ مولانا عادل نے مجھ سے سکیورٹی مانگی، ناصر حسین شاہ سے مانگی لیکن اگر ہم کہنے کے باوجود شدید خطرات سے دوچار ہدف کو دو چار پولیس کے جوان بھی فراہم نہیں کر سکتے تو کس طرح سکیورٹی فراہم کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  سورج گرہن اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ہر قسم کی توہمات سے بچیں