Children_Children

اصل روپ

EjazNews

دیکھو سلیم!تمہیں اپنے بڑے بھائی سے ملنا ہوگا۔ سلیم کی بیوی ناہید نے کہا۔
مگر ندیم بھائی کو میری غلطیاں نکالنے کے سوا آتا ہی کیا ہے۔ سلیم نے کہا۔
غلطیوں کی طرف اشارہ کرنے والے اپنے ہوتے ہیں غیر نہیں۔ ناہید نے کہا۔
اوتھ! بڑے آئے میری غلطیاں نکالنے والے۔ سلیم نے غصے سے کہا۔

ندیم اور سلیم دونوں بھائی تھے ۔ ندیم سلیم سے بڑا تھا۔ سلیم کا شمار شہر کے امیر آدمیوں میں ہوتا تھا اور ندیم بہت غریب تھا۔ وہ ایک چھوٹےسے مکان میں اپنی بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ سلیم کے کچھ خوشامدی دوست بھی تھے جو دن رات سلیم کی جھوٹی تعریفیں کرتے نہ تھکتے تھے۔ ناہید کو سلیم کے یہ خوشامدی دوست بالکل پسند نہ تھے۔ سلیم ان دوستوں کی آئے دن دعوتیں کرتا رہتا تھا اوران دعوتوں میں روپیہ پانی کی طرح بہاتا تھا۔ جب بڑا بھائی ندیم اسے سمجھانے کی کوشش کرتا تو وہ الٹا ندیم پر برس پڑتا ۔ناہید بھی سلیم کو سمجھانے کی کوشش کرتی تھی مگر وہ کسی طرح نہ مانتا تھا آج بھی ناہید اسے سمجھا رہی تھی۔

دیکھوسلیم! ندیم بھائی تمہارے ان خوشامدی دوستوں سے بہتر ہیں۔
ارے کیا خاک بہتر ہیں۔ وہ تو جلتے ہیں میری کامیابیوں سے۔ اگر چھ مہینے سے ان سے نہیں ملا تو میرا کیا نقصان ہو گیا۔ سلیم نے غصے سے کہا۔
پچھتائو گے سلیم! تم ایک نہ ایک دن ضرور پچھتائو گے ۔ ناہید نے کہا۔
خیر چھوڑو ان باتوں کو میں میں ذرا اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے جارہا ہوں۔ شام تک واپس آجائوں گا۔ یہ کہہ کر سلیم چلاگیا۔ سلیم کے جانے کے بعد ناہید بڑی دیر تک ایسی ترکیبیں سوچتی رہی جس سے چھوٹے بھائی کے دل میں بڑے بھائی کی محبت پیدا ہو سکے اور سلیم کے دوستوں کا اصل روپ بھی سامنے آسکے۔
شام ہو گئی۔ دن بھر کی سیرو تفریح کے بعد جب سلیم گھر واپس آیا تو گھر کا حال دیکھ کر وہ پریشان ہوگیا۔
ناہید بھئی کہاں ہو؟ یہ ہر طر ف اندھیرا کیوں ہے؟ کیا ہوا ہے ؟ گھر کی بتیاں کیوں نہیں جلائیں؟۔سلیم نے ایک ساتھ کئی سوال پوچھ ڈالے۔
مت پوچھو سلیم، غضب ہو گیا۔ ناہید نے خوف زدہ لہجے میں بتایا۔
بھئی ہوا کیا ہے ؟ کچھ معلوم تو ہو۔ سلیم نے پریشان ہوتے ہوئے کہا۔

قتل ہوگیا ۔ناہید نے بتایا۔
قتل کس کا؟ کیسے ؟ سلیم نے حیرت سے پوچھا۔
میرے ہاتھو ںایک غریب لڑکے کا۔ ناہید ڈرتے ڈرتے کہا۔
اوہ بھئی پہیلیاں کیوں بجھوا رہی ہو؟ صحیح بات بتائو ہوا کیا ہے ؟سلیم نے پوچھا۔

تمہارے جانے کے بعد میں اپنے کمرے میں آرام کر رہی تھی کہ دروازے کی گھنٹی بجی۔ ملازموں کو میں نے پہلے ہی چھٹی دے دی تھی۔ لہٰذا میں خود ہی باہر آئی ۔ دروازے پر پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک لڑکا کھانا مانگ رہا تھا۔ میں نے اسے صحن میں بیٹھنے کو کہا اور باورچی خانے میں کھانا لینے چلی گئی۔

کھانا دینے کے بعد میں جیسے ہی مڑی اس لڑکے نے گھر میں گھسنے کی کوشش کی ۔ میں ڈر کے مارے کانپ گئی اور پانی کا بھرا ہوا جگ اس کے سر پر دے مارا۔ ناہید نے آہستہ آہستہ بتایا۔
پھر ، پھر کیاہوا؟ سلیم نے پوچھا۔
ہونا کیا تھا، سر پر چوٹ لگتے ہی وہ لڑکا زمین پر گر پڑا اور تڑپ تڑ پ کر جان دے دی۔
پھر! سلیم نے بے چینی سے پوچھا۔
پھر میں نے بڑی مشکل سے اسے ایک تھیلے میں بند کر کے تمہارے تاش کھیلنے والے کمرے میں چھپا دیا۔ ناہید نے کہا۔
کسی نے دیکھا تو نہیں ؟ سلیم نے گھبرا کر پوچھا۔

یہ بھی پڑھیں:  آزاد فضا

نہیں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔
اچھا خیر ! جو ہوا سو ہوا۔ اب کیا کریں؟ سلیم نے ناہید کو تسلی دی۔
تم ایسا کرو کہ اپنے دوستوں کو ساری بات بتائو اور ان سے کہو کہ وہ رات ہی رات اس لاش کو دفن کر دیں، ورنہ اگر کسی کو خبر ہوگئی تو پولیس کو پتا چل جائے گا تو ہم برباد ہو جائیں گے ۔ مجھے پھانسی ہو جائے گی۔ یہ کہہ کر ناہید نے رونا شرو ع کر دیا۔
نہیں۔ نہیں تم فکر نہ کرو۔ میں ابھی دوستوں کے پاس جاتا ہوں۔ صبح تک سب صحیح ہو جائے گا۔ سلیم نے کہا اور فوراً اپنے دوستوں کی طرف روانہ ہو گیا۔

پہلے وہ اپنے دوست احمد کے پاس گیا اور اسے ساری بات بتائی اور اپنے ساتھ چلنے کو کا مگر احمد نے انکار کر دیا۔اور کہا۔
مانا کہ یہ سب کچھ اتفاق سے ہو گیا مگر جرم کو چھپانا بھی تو جرم ہے۔ میں تمہاری مدد کیسے کر سکتا ہو؟۔
ارشد اور واحدبھی اس کام میں تمہاری مدد ہرگز نہیں کریں گے۔

اپنے دوست احمد کا یہ جواب سن کر سلیم کو بہت غصہ آیا، مگر وہ خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے ایک ایک کر کے اپنے سارے دوستوں سے کہا مگر کوئی بھی اس کی مدد کو تیار نہ ہوا۔
آدھی رات گزر چکی ہے اور اب تک آپ کا کوئی دوست نہیں آیا؟۔ناہید نے پریشانی سے پوچھا۔
وہ نہیں آئیں گے! سلیم نے شرمندہ ہو تے ہوئے کہا۔
میں تو پہلے ہی کہتی تھی کہ وہ سب مطلبی ہیں ناہید نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
اوہ! اب طنز کیے جائو گی یا کوئی راستہ بھی بتائو گی؟ سلیم نے کہا۔
بتانا کیا ہے ، تم ندیم بھائی کے گھر جائو اور ان سے مدد مانگو۔ ناہید نے کہا۔

وہ تمہارے بڑے بھائی ہیں۔ مشکل وقت میں کبھی تمہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے ۔ یہی تو بھائیوں کی پہچان ہے۔ ناہید نے اطمینان سے کہا۔
ٹھیک ہے، تم کہتی ہو تو چلا جاتا ہوں، ورنہ میری ہمت نہیں پڑتی۔ سلیم نے کہا اور پھر اپنے بڑے بھائی کے گھر روانہ ہوگیا۔
سلیم کو اپنے گھر دیکھ کر ندیم نے حیرت سے پوچھا اتنی رات گئے ! خیریت تو ہے؟۔

میں آپ سے شرمندہ ہوں بھائی جان! سلیم نے شرمندگی سے کہا۔
کوئی بات نہیں، چھوٹوں سے بھول ہو ہی جاتی ہے۔ آئو اندر آئو۔ ندیم نے کہا۔
پھر سلیم نے اسے ساری بات بتا دی۔ ندیم اپنے بھائی کی کہانی سن کر پریشان ہو گیا اور فوراً اس کے ساتھ روانہ ہو گیا۔
دونوں بھائیوں نے مل کر صبح ہونے سے پہلے لاش کو دفن کر دیا۔ ناہید کی بات سچ نکلی۔ ندیم نے ایسے آڑے وقت میں یہ ثابت کر دیا تھا کہ خون کا رشتہ آخر خون کا رشتہ ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بچوں کا خاص خیال رکھیں کہ جدید ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کریں

سلیم نے ندیم سے اپنے سلوک کی معافی مانگی اور ناہید سے وعدہ کیا کہ وہ آئندہ اپنے بڑے بھائی کا ہر طرح سے خیال رکھے گا۔
سلیم نے اپنے مطلبی دوستوں سے ملنا بالکل ختم کر دیا۔ مگر انہوں نے اس کے خلاف سازش شروع کر دی تھی۔ ایک دن سب سلیم کے گھر پہنچے ۔ سلیم نے ان سب کو ایک ساتھ دیکھ کر غصے سے پوچھا: اب تم یہاں کیا لینے آئے ہو؟۔

سلیم ! ہم سب ایک مصیبت میں پھنس گئے ہیں۔ واحد بولا۔
جب میں مصیبت میں تھا تو کوئی مدد کو تیار نہیں ، سلیم نے غصے سے کہا۔
ہماری اور تمہاری مصیبتوں میں بڑا فرق ہے سلیم۔ احمد نے کہا۔
تم جو چاہتے تھے وہ ہمارے بس میں نہیں تھا مگر جو ہم چاہتے ہیں وہ تم کر سکتے ہو۔ ارشد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
کیا مطلب؟ سلیم نے حیرت سے پوچھا؟

تمہارے پاس روپے کی کمی نہیں ۔ صرف پچاس ہزار میں ہمارا کام ہو جائے گا۔
کیا!پچاس ہزار! تم لوگوں کا دما غ تو خراب نہیں ہوگیا۔ سلیم کو غصہ آگیا۔
اب آپ ہی سلیم کو سمجھائیں بھابی۔ سجاد نے ناہید سے کہا۔
سلیم آپ سب کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔ اب ان کو سمجھانے کی ضرورت نہیں۔ ناہید نے بے زاری سے جواب دیا۔
اتنے بڑے جرم کو راز میں رکھنے کی یہ قیمت زیادہ تو نہیں ہے۔ احمد نے کہا۔
اچا! تو تم لوگ میری کمزوری سے فائدہ اٹھا نا چاہتے ہو۔ سلیم نے کہا۔

اس میں تمہارا ہی فائدہ ہے۔ میرے دوست۔ اگر تم ہماری بات نہیں مانو گے تو ہم یہ راز دوسروں کو بتا دیں گے اور پھر یہ بات قانون تک پہنچ جائے گی۔ ارشد نے مکاری سے کہا۔
تم لوگ تو میری سوچ سے بھی زیادہ کمینے نکل۔ سلیم نے نفرت سے کہا۔

ذرا ٹھنڈے دل سے سوچو سلیم! جلدی فیصلہ کر و کہ روپیہ دینا ہے یا جیل کی روٹی توڑنی ہے۔ سجاد نے ہنستے ہوئے کہا۔
ٹھیک ہے تم لوگ صبح آجانا۔ رقم تمہیں مل جائے گی ۔ سلیم نے بے بسی سے کہا۔
نہیں سلیم ان لوگوں کو کچھ نہیں ملے گا۔ ناہید نے سخت لہجے میں کہا۔
میری عزت اور ندیم بھائی کے بچوں کے مستقبل کا سوال ہے ۔ سلیم بولا۔
کچھ بھی ہو روپیہ ان لوگوں کو نہیں ملے گا۔ ناہید نے کہا۔

سوچ لیجئے بھابی جان، آپ کو یہ ضد کہیں مہنگی نہ پڑ جائے ! احمد پھر بولا۔
نکل جائو میرے گھر سے۔ تمہارا جس سے دل چاہے کہہ دو۔ میں کسی سے نہیں ڈرتی۔ نکل جائو یہاں سے ناہید آپے سے باہو گئی۔
یہ سن کر سلیم کے دوست وہاں سے چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد سلیم نے ناہید سے کہا۔ یہ کیا کیا تم نے ؟ یہ لوگ پولیس کو نہ بتا دیں۔
میں نے جو کچھ ہے خوب سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ ناہید نے جواب دیا۔

سلیم کا خیال صحیح نکلا۔ ان لوگوں کے جانے کے آدھے گھنٹے بعد ہی تھانے سے چار سپاہی آئے اور سلیم اور ناہید کو پکڑ کر لے گئے اور دونوں کو حوالات میں بند کر دیا۔ ارشد، احمد، سجاد ، واحد اور ندیم کو تھانے بلایا گیا اور پھر تھانیدار نے پوچھ گچھ شروع کی۔
اچھا تو آپ لوگوں نے لاش اپنی آنکھوں سے دیکھی تھی! تھانیدارنے چاروں دوستو ں سے پوچھا۔
جی ہاں تھانیدار صاحب احمد، واحد ، سجاد اور ارشد نے ایک ساتھ کہا۔

یہ بھی پڑھیں:  گاجر کا حلوہ

لاش دیکھ کر آپ لوگوں نے کیا کیا؟ تھانیدار نے دوسرا سوال کیا۔
ہم لوگوں نے لڑکے کی لاش کو دفن کرنے سے انکار کردیا۔ ارشد نے بتایا۔
اور پھرہم آپ کے پاس آگئے، قتل کی اطلاع دینے۔واحد نے بیج میں دخل دیا۔
پھر تھانے دار نے ندیم کی طرف مڑ کر کہا۔

لاش کو دفن کرنے میں آپ نے اپنے چھوٹے بھائی کی مدد کی تھی؟۔
جی ہاں! تھانے دار ہم دونوں نے مل کر زمین کھودی اور لاش کو دفن کر دیا۔ ندیم نے سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔۔
آپ کو معلوم تھا کہ تھیلے میں کیا ہے ؟ تھانے دار نے پوچھا؟
جی ہاں، جی نہیں ، میں نے تھیلا کھول کر نہیں دیکھا تھا۔ ندیم نے کہا
آپ نے لڑکے کو قتل کر کے تھیلے میں بند کیا؟ تھانیدار نے ناہید سے پوچھا۔
میں بے قصور ہوں تھانیدار صاحب۔ میں نے کسی بچے کا قتل نہیں کیا۔ ناہید نے بے خوف ہو کر کہا۔
یہ جھوٹ بولتی ہے تھانیدار صاحب۔ ہم نے لاش اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔
ارشد نے تیزی سےبیچ میں دخل دیا۔

خاموش! تھانے دار نے کہا۔
اس عورت نے قتل کیا ہے اور ان دونوںآدمیوں کے ساتھ مل کر لاش کو دفن کیا ہے ان تینوں کو سزا ملنی چاہئے۔سجاد نے کہا۔
آپ لوگوں کے بیانات تو ریکارڈ پر موجود ہیں۔ لہٰذا آپ لوگ خاموش رہیں۔ میں ان خاتون کا جواب سننا چاہتا ہوں۔ تھانے دار نے ان سب کو چپ کراتے ہوئے کہا۔
ارے یہ کیا جواب دیں گی تھانے دار صاحب ۔ آپ زمین سے لاش نکلوا کر خود دیکھ لیں۔ابھی پتا چل جائے گا کہ کون بے قصور ہے ۔واحد نے مشورہ دیا۔

یہ بات آپ کو منظور ہے ؟ تھانیدار نے ناہید سے پوچھا۔
مجھے منظور ہے۔ ناہید نے بے پروائی سے کہا۔
ٹھیک ہے، میں مجسٹریٹ صاحب کو بلواتا ہوں ان کی موجودگی میں زمین سے لاش نکلوائی جائے گی۔ تھانیدار نے کہا۔
پھر مجسٹریٹ صاحب کی موجودگی میں زمین کی کھدائی شروع ہوئی۔

وہ دیکھیں تھانے دار صاحب ، تھیلا نظر آیا۔ احمد نے کہا اور سب نے ادھر دیکھا۔ واقعی ایک تھیلا نظر آرہا تھا۔ سپاہیوں نے زمین میں سے تھیلا باہر نکال لیا اور جب اس کا منہ کھولا گیا تو مجسٹریٹ تھانیدار اور وہاں موجود سب لوگ حیرت زدہ رہ گئے۔ اس تھیلے میں کوئی انسانی لاش نہیں تھی بلکہ پلاسٹک کا کتا تھا۔ ناہید نے مسکراتے ہوئے کہا۔

میں نے پہلے ہی کہا تھا، تھانے دار صاحب کہ میں نے کسی لڑکے کو قتل نہیں کیا۔ پھر تھانیدار کے پوچھنے پر ناہید نے بتایا کہ میں نے اپنے شوہر کو ان خوشامدی دوستوں کا اصل روپ دکھانے کے لئے یہ فرضی کہانی گھڑی تھی۔ ساری کہانی سن کر مجسٹریٹ اور تھانیدار کے علاوہ ندیم اور سلیم نے بھی ناہید کی ذہانت کی تعریف کی جس ک وجہ سے سلیم کو اپنے دوستو ں کے اصل روپ کا پتا چل گیا۔

کیٹاگری میں : بچے