home garden

گھر میں سبزیاں اگائیں

EjazNews

سبزیاں اور پھل ہماری زندگی کی اہم ترین ضرورت ہیں۔ ان کے بغیر باورچی خانے اور ایک صحت مند اور متوازن غذا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ سبزیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور ایک عام آدمی کے لئے پودینے کی ایک گٹھی یا چھٹانک بھری ہری مرچ خریدنا بھی مشکل ہو تا جارہا ہے ۔ روز مرہ استعمال کی یہ معمولی چیزیں مثلاً دھنیا ، پودینا اور ہری مرچ وغیرہ کھانے کے ذائقے بڑھانے میں مددگار ہوتی ہیںلیکن مہنگائی ہونے کے علاوہ یہ تازہ بھی نہیں ملتی ہیں، لہٰذا ان سے کھانوں میں وہ ذائقے نہیں آتے ہیں جو کہ ان کے تازہ ہونے کی وجہ سے کھانے میں آسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کولڈ سٹوریج یا سرد خانہ میں رکھے جانے کے باعث باسی سبزیوں کی غذائیت بھی بڑی حد تک ختم ہو جاتی ہے۔ دیہات میں تقریباً ہر گھر میں کوئی نہ کوئی سبزی اگائی جاتی ہے لیکن شہر میں جگہ کی کمی اور چھوٹے چھوٹے مکانات و فلیٹوں کی وجہ سے گھر میں باغیچہ بنانا نہایت مشکل ہے ، لیکن بڑھتی ہوئی گرانی نے اب شہر والوں کے لئے بھی یہ ضروری کر دیا ہے گھریلو باغبانی کی طرف توجہ دی جائے تاکہ گھر کے ماہانہ بجٹ میں بچت کے ساتھ ساتھ تازہ چیزیں بھی آپ کی زبان کو اپنی لذت سے آشنا کر سکیں ۔

چھوٹے گھروں اور فلیٹوں میں رہنے والے بہت سے لوگ گھریلو باغبانی کو ناممکن تصور کرتے ہیں جبکہ یہ خیال غلط ہے اگر آپ چھوٹے گھر میں رہتے ہیں تو اپنے گھر کے عقبی حصے میں اور اگر فلیٹ میں رہتے ہیں تو پھر گملوں اور لکڑی کے کریٹوں میں موسم کی مناسبت سے چند سبزیاں ضرور اگا سکتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف گھر کا ماحول ہرا بھرا اور صحت مند رہتا ہے بلکہ ہمیں روزانہ تازہ سبزیاں بھی ملتی رہیں گی اور مزے کی بات یہ کہ ان سبزیوں کے لئے ہمیں کسی سبزی والے کو روپے بھی نہیں دینے پڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں کلبھوشن یادیو سے پہلے بھی بھارتی جاسوس گرفتار ہوئے ہیں

ٹماٹر، ہری مرچ، پودینہ ، دھنیا ، کدو، توری اور بھنڈی وغیرہ ایسی سبزیاں ہیں جو با آسانی گھروں میں اگائی جاسکتی ہیں۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے ذیل میں نہ صرف گملوں اور کریٹوں میں سبزیاں اگانے کے طریقے بتائے جارہے ہیں بلکہ یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ کس موسم میں کون سی سبزی کاشت کی جائے۔

گملوں میں سبزیاں:
آج کے مہنگائی کے زمانے میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ سبزیاں گھر پر ہی اگائی جائیں۔ جن گھروں میں آنگن ہے یا گھر کے عقب میں خالی زمین کا ٹکڑا پایا جاتا ہے تو پھر وہاں تو سبزیاں اگانا مسئلہ نہیں تاہم جن گھروں میں کھلی ہوئی کچی زمین نہ ہو وہاں مٹی کےبڑے بڑے گملوں یا لکڑی کے کریٹوں میں بھی سبزیاں بوئی جاسکتی ہیں۔

اس کا طریقہ یہ ہے کہ گملے میں زر خیز مٹی ، گوبر کی کھاد، تھڑوی سی سپر فاسفیٹ اور تھوڑی سی ایمونیم سلفیٹ ڈالیں۔ کھاد اور مٹی کو کھر پی سے اچھی طرح ملا لیں اورپانی کے فوارے سے مٹی کو گیلا کر لیں۔ مٹی اچھی طرح گیلی ہو جائے تو اسے کھر پی سے اچھی طرح نرم کر کے اس میں سبزیوں کےبیچ بو دیں۔ لکڑی کے کریٹ میں سبزیاں اگانے کے لئے پہلے کریٹ کے اندر ٹاٹ کا بھیگا ہوا ٹکڑا بچھا دیں پھر اس پر مٹی اور کھاد ڈالیں۔ تھوڑی سی سپر فاسفیٹ اور امونیم سلفیٹ اس مٹی اور کھاد میں اچھی طرح ملا دیں، پھر مٹی کو فوارے گیلا کر کے اس میں سبزی کے بیج بوئیں۔

لکڑی کے کریٹ یا مٹی کے گملوں میں بینگن ، مولی، پھول گوبھی، پالک ، میتھی، ٹماٹر ، ککڑی ، دھنیا ، پودینہ، ہری مرچ، پیاز، لہسن اور ادرک بوئی جاسکتی ہے۔

گھریلو کھاد:
اگر آپ سبزیاں کیاری میں لگا رہی ہیں تو کیوں نہ گھر ہی میں قدرتی کھاد بنانے کا انتظام کیا جائے۔ کھاد کے لئے آپ کو زیادہ تر سامان اپنے باورچی خانہ میں ہی سے مل جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  اچھا وی لاگر کیسے بنا جائے؟

باورچی خانے کا کوڑا مثلاً سبزیوں کے چھلکے، چائے کی استعمال شدہ پتی، گلی سڑی چیزیں، ان سب میں قدرتی معدنیا ت وافر مقدار میں موجود ہیں جو پودوں کے لئے انتہائی مفید ہوتی ہیں۔ اگر آپ گڑھا کھود کر عام طریقے سے کھاد بنائیں گی تو آپ کو تین سے پانچ ماہ انتظار کرنا پڑے گا۔

فلپائن کے رہنے والے ایک آسان طریقے سے کھاد بناتے ہیں جو جلدی تیار ہو جاتی ہے۔ اس طریقے کا نام ٹوکری کھاد (Basket composting) رکھا گیا ہے۔ آئیے! یہ طریقہ آزماتے ہیں۔

ٹوکری کھاد بنانے کیلئے درکار اشیاء:
لکڑی کے ساتھ ٹکڑے، ہر ٹکڑا 12انچ لمبا اور ایک انچ چوڑا ہے۔
بید کا ٹکڑا یارسی۔
باورچی خانے سے نکلا ہوا کوڑا کرکٹ، باغ یا کیاری کا کچرا، کھاد ، سوکھے پتے، گھاس پھونس۔
کیاری کے بیچ میں لکڑی کے ٹکڑوں کو دائرے کی شکل میں چھ انچ زمین کے اندر گاڑ دیں ۔ دائرے کا قطر 12انچ رکھیں۔ لکڑیوں کے چاروں طرف بیدیارسی پھنسا کر ایسے لپیٹیں جیسے ٹوکری بنی جاتی ہے۔ یہ بنائی زمین کی سطح سے شروع کریں اور لکڑی کے اوپری سرے تک بن لیں۔ یوں دائرے کی شکل میں ایک باڑھ بن جائے گی۔

اس باڑھ کے اندر کی مٹی کو پانچ انچ تک کھود کر نکال لیں۔ پھر اس گڑھے کے پیندے میں باورچی خانہ کی گلی سڑی چیزیں پہلے ڈالیں، پھر چھلکے ٹکڑے وغیرہ۔ جب گڑھا زمین کی سطح تک بھر جائے تو اس کے اوپر کیاری کی پتیاں اور گھاس پھونس ڈال کر ڈھک دیں۔ لیجئے! آپ کی ایک کھاد ٹوکری تیار ہو گئی ۔ اس ٹوکری کے دائیں بائیں ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کی جگہ چھوڑ کر دو ٹکریاں اسی طرح اوربنائیں۔ اگر کیاری چھوٹی ہے تو پانچ سات انچ کے فاصلے پر بھی یہ ٹوکریاں بنائی جاسکتی ہیں۔

کیاری میں پنیر ی یا بیچ ٹوکری سے دو تین انچ کے فاصلے پر لگائیں۔ شروع میں بیج یا پنیری پر پانی ڈالیں۔ جب پودا بڑھے گا تو اس کی جڑیں کھاد کی ٹوکری کی طرف بڑھنے لگیں گی۔ تب آپ صرف ٹوکری پر پانی ڈالیں ۔ پودا نمی اور غذا جڑوں کے ذریعے ٹوکری سے از خود حاصل کر لے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  خواجہ سرا بھی انسان ہیں

لکڑی کے کریٹوں میں سبزی اگانے کا طریقہ:
لکڑی کے کریٹوں کے پیندے میں بڑے سوراخ والا ٹاٹ بھگو کر نرم کرنے کے بعد بچھا دیں ۔ مٹی، گوبر کی کھاد تھوڑی سی سپر فاسفیٹ اور تھوڑی سی امونیم سلفیٹ اس میں ڈالیں۔ یہ چیزیں زرعی دوائیں اور کھاد فروخت کرنے والی دوکانوں سے با آسانی مل سکتی ہیں۔ کھاد اور مٹی کو کھرپے سے اچھی طرح ملا کر اس پر فوارے سے پانی چھڑکیں۔ جب مٹی تر ہو جائے تو کھرپے سے زمین نرم کر کے بیج ڈالیں اور پھر ان بیجوں کو مٹی سے اچھی طرح ڈھک دیں۔

بیج محفوظ کرنے کا طریقہ:
اگر آپ خود کسی سبزی سے اس کے بیج نکالتے ہیں تو پھر انہیں محفوظ کرنے سے قبل دھوپ میں سکھا کر خشک کر لیں۔
جس شیشی یا ڈبے میں یہ بیج رکھنے ہوں، اسے بھی اچھی طرح خشک کرلیں۔ یاد رکھئے کہ ذرا سی بھی نمی بیج کو خراب کر سکتی ہے۔
شیشی میں بیج محفوظ کرنے کے لئے اس کے پیندے میں پہلے تھوڑے سے خشک چاول یا گیہوں کے دانے ڈال دیں اور پھر بیج ڈالیں۔
شیشی کے منہ پر صاف کپڑا لپیٹ کر ڈھکن اچھی طرح بند کردیں۔

سبزیوں کے بیج الگ الگ رکھیں ایک سبزی کے بیج دوسرے میں نہ ملائیں۔
گملوں اور کیاریوں میں سبزیاں اگانے کا عمل دنیا بھر میں فروغ پارہا ہے، لہٰذا پھر ہم کیوں جگہ کی تنگی کا رونا روئیں بلکہ اپنے گھر میں کیاری اور گملوں میں ہی سبزیاں اگا کر اپنے گھر والوں کو تازہ سبزیاں کھلانے کے لئے ’’باورچی خانہ باغبانی‘‘ کیوں نہ کریں ۔ ہے نا درست بات!
یاسمین مقبول