molana adil

مولانا عادل کی شہادت فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کی بھارتی کوشش ہے

EjazNews

کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں جامعیہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل خان ڈرائیور سمیت جاں بحق ہو گئے۔کراچی پولیس چیف کے مطابق مولانا عادل پرفائرنگ دارالعلوم کراچی سے واپسی پر ہوئی۔ترجمان لیاقت نیشنل ہسپتال کے مطابق مولانا عادل خان کو دو گولیاں لگی تھیں۔ ہسپتال پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ چکے تھے۔

اطلاعات کے مطابق مولانا عادل کے ایک ساتھی کچھ خریدنے کے لیے گاڑی سے اترے تھے، اسی دوران موٹر سائیکل سوار ملزمان نے پانچ گولیاں چلائیں۔ فائرنگ سے مولانا عادل ڈرائیور سمیت جاں بحق ہو گئے۔

کراچی پولیس چیف کے مطابق شام ساڑھے 7 بجے فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ حملہ آوروں کی تعداد تین تھی۔ حملہ آور ایک ہی موٹر سائیکل پرسوار تھے۔

مولانا عادل خان ملائیشیا کی اسلامی یونیورسٹی میں استاد رہے ہیں اور کچھ عرصہ قبل پاکستان لوٹے تھے۔ گزشتہ ہفتہ ہی تاریخ پاکستان سے متعلق انکی کتاب منظر عام پہ آئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  بینکوں کے باہر لگی لمبی قطاریں اور بڑھتے کرونا کے مریض

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹوئٹ میں کراچی میں مولانا عادل کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ علما ملک کو غیر مستحکم بنانے کی بھارتی سازش کو ناکام بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند ماہ کےد وران ایسی کئی کوششوں کا ناکام بنایا گیا، خفیہ ایجنسیاں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ذمہ داران کو انجام تک پہنچائیں گے۔

ان کی نماز جنازہ جامعہ فاروقیہ حب میں ادا کی گئی جس میں شرکت کے لیے شہر بھرسے لوگ قافلوں کی صورت میں پہنچے تھے۔مولاناعادل خان کی نمازجنازہ ان کے بڑے بھائی مولانا عبیداللہ خالد نے پڑھائی۔ نمازجنازہ میں سیاسی ومذہبی جماعت کے رہنماؤں نے شرکت کی۔نمازے جنازہ کے لیے سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ جامع کے اندر طلبہ اور اطراف میں پولیس کی سکیورٹی تعینات کی تھی۔

کراچی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں گزشتہ روز نامعلوم موٹرسواروں کی گاڑی پر فائرنگ کے نتیجے میں جامعیہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل خان ڈرائیور سمیت جاں بحق ہو گئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  اٹک میں دوگاڑیوں کے تصادم میں چارافراد جاں بحق

رپورٹ کے مطابق مولانا عادل کا ایک ساتھی خریداری کیلئے گاڑی سے اترا اور اسی دوران موٹر سائیکل سوار ملزموں نے فائرنگ کر دی۔
نامعلوم دہشت گرد مولانا عادل پر دائیں جانب سے حملہ آور ہوئے۔ دہشت گردوں کے آتشی اسلحہ سے نکلنے والی پانچ گولیاں مولانا عادل کو لگیں۔

پانچ میں سے چار گولیاں مولانا عادل کے سر اور چہرے پر لگیں اور ایک بازو میں لگی۔ مولانا عادل کے سر اور چہرے پر لگنے والی گولیاں موت کا سبب بنیں۔

مولانا کے ڈرائیور مقصود کو صرف ایک گولی لگی۔ حملہ آوروں نے ڈرائیور کے سر پر وار کیا۔ مقصود احمد کے سر میں لگنے والی واحد گولی جان لیوا ثابت ہوئی۔

وزیراعظم عمران خان نے مولانا عادل خان کی موت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان میں علما کی ٹارگٹ کلنگ سے فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اپنی ٹوئٹ میں انہوں نے کراچی میں مولانا عادل کی ٹارگٹ کلنگ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ تنازعات پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ علما ملک کو غیر مستحکم بنانے کی بھارتی سازش کو ناکام بنائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈین جاسوس کو پاکستان نے عالمی عدالت کے فیصلے کے مطابق قونصلر رسائی دے دی

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق جنرل قمرجاوید باجوہ نےمولانا عادل کی ٹارگٹ کلنگ کی شدید مذمت کی اور کہا کہ واقعہ پاکستان میں ملک دشمنوں کی انتشار پھیلانے کی سازش ہے۔آرمی چیف نے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے سول انتظامیہ کو مکمل مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔