Dog

فرفر اور رنگو

EjazNews

شفرفر کا نام تو کچھ اور تھا لیکن وہ کہلاتا فرفر تھا۔ اس کے نام کی وجہ ایک ہی تھی کہ اس سے جو کچھ پڑھنے کے لئے کہا جاتاتھا اسے فرفر پڑھتا چلا جاتا تھا۔ نہ خود رکتا نہ غلط پڑھنے پر ماسٹر صاحب کو اسے ٹوکنا پڑھتا تھا۔ بعض دفعہ اسے کوئی فراٹے خاں بھی کہہ دیتا تھا جیسے:وہا ں تو فراٹے خاں ! تم کیا لکھ کر لائے ہو، سنائو اور کوئی کوئی اسے فراٹے شاہ بھی کہتا تھا جیسے اس کی ماں۔

اسے کلاس میں مار کھاتے کسی نے نہیں دیکھاتھا یہاں تک کہ اس وقت بھی نہیں جب ناخن چیک کئے جارہے ہوتے تھے ،کسی نے نہیں دیکھا تھا یہاں تک کہ اس وقت بھی نہیں جب ناخن چیک کئے جارہے ہوتے تھے جو اکثر لڑکوں کے بڑھے ہوئے ہوتے تھے کیونکہ ان میں میل بھرا ہوتا تھا۔ بعض لڑکے چیکنگ شروع ہونے سے پہلے اپنے سر ڈیسک کے نیچے لے جاتے تھے۔ جیسے کوئی گری ہوئی چیز اٹھا رہے ہوں اور وہیں پھرتی سے دانتوں سے بڑھے ہوئے ناخن کاٹنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن تم جانتے ہو کہ ہاتھ کے ناخن دس ہوتے ہیں۔ اتنی جلدی انہیں کاٹ کر برابر کرنا آسان کام نہیں ہے اور پیر کے ناخنوں کا تو معاملہ ہی دوسرا ہے۔ انہیں تو صرف قینچی یا نیل کٹر سے کاٹا جاسکتا ہے۔ چنانچہ ہائی جین کی کلاس میں بڑھے ہوئے ناخن بہت سول کو پٹواتے تھے۔ البتہ فراٹے شاہ کبھی نہیں پٹے۔ نہ ان کے ہاتھ روشنائی سے رنگے ہوتے تھے کہ اس پر مار پڑے۔

تو جناب! صاف کپڑے ، جوتوں پر پالش، کٹے ہوئے بال، ترشے ہوئے ناخن ، یہ تھے فراٹے شاہ یا فراٹے خاں یا مسٹر فرفر۔
ایک شام فرفر کو اس کی ماں نے دہی لانے کو بھیجا۔ ایسے کاموں سے اس کی پڑھائی میں خلل تو پڑتا تھا۔ لیکن فر فر کو یہ کام پسند تھے ایک طرح سے اسی بہانے اس کی سیر ہو جاتی تھی اور تھوڑی بہت ورزش بھی، کیونکہ جاتا وہ بھاگتا ہوا تھا اور لوٹتا آہستہ آہستہ تھا۔ ادھر ادھر کو دلچسپی کی چیزیں دیکھتا ہوا۔

اس دن دودھ دہی والے کی دکان کو جاتے ہوئے ایک جگہ وہ ٹھٹک کر رہ گیا ۔ اس نے دیکھا کہ کچھ شریر لڑکوں نے ایک خوبصورت کتے کو جو اونچائی میں بمشکل بکرے کے بچے جتنا ہو گا گھیر رکھا ہے۔ اور باری باری اسے پتھر مار رہے ہیں۔ کتا جب ایک طرف اسے ڈرانے کو دوڑتا ہے تو دوسرا لڑکا پیچھے سے اس پر پتھر پھینکتا ہے اور جب اس پر لپکتا ہے تو کوئی اورلڑکا دوسری طرف سے اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ کتا زخمی ہو چکا تھا ۔ اس کے ایک کان سے خون بہہ رہا تھا اور اس میں قوت مدافعت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔
فرفر کو یہ کھیل بالکل نہ بھایا۔ اول تو وہ جانوروں کو ستانے کے خلاف تھا جو اس نے چڑیا گھر میں اکثر ہوتے دیکھاتھا کہ سلاخوں کے پیچھے سے جانوروں کو نئے نئے طریقوں سے ستایا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ بھی کوئی بہادری ہوئی کہ آٹھ دس لڑکے مل کر ایک اکیلے کتے سے جنگ کر رہے تھے، وہ نہتا ہے اوران سب کے ہاتھوں میں پتھر ہیں۔
بے سوچے سمجھے اس کے منہ سے نکلا۔ کیوں مار رہے ہو اسے ؟۔
سب لڑکے اس کی طرف پلٹے جیسے کھیل میں یہ مداخلت انہیں پسند ہو۔ فرفر کو ڈر سا محسوس ہوا اور اس نے اپنے پیروں میں کپکپاہٹ سی محسوس کی۔ اگر یہ سب اسے گھیر لیں تو وہ کیا کرے گا اور پھر یہ ٹھہرے سڑک کے لڑکے، جب ایک دوسرے کو ڈھاتے ہیں تو یہ نہیں دیکھتے کہ زمین صاف ہے یا گندی اور منہ سے کیا الفاظ نکل رہے ہیں۔ ایک دوسرے پر پل پڑتے ہیں۔ ایک کی قمیض کا آگا پھٹتا ہے اور دوسرے کا پچھایا۔ لمحے بھر میں سڑک پر پڑے ہوتے ہیں۔اب چاہے ہاتھ نالی میں جائے یا منہ۔ نہ باپ کی عزت کا پاس ہوتا ہے نہ ماں کی۔
یہ سب باتیں فرفر کے دماغ میں آتی گئیں۔ لیکن اس نے محسوس کیا کہ اب پیچھے ہٹنے کا وقت نہیں تھا اور یوں بھی وہ سچ بات پر ان سے بولا تھا، اس لئے کیوں ڈرے۔

ایک لڑکے نے کہا تم کون ہو بیچ میں بولنے والے ؟۔
دوسرے نے کہا تمہارا کتا ہے ؟۔
فرفر نے دیکھا کہ کتے پر پتھر برسنے سے رک گئے تھے اور وہ زبان سے اپنے ایک اگلے پیر کو چاٹ رہا تھا۔ باقی لڑکےہاتھ میں پتھر اور روڑے اٹھائے منتظر تھے کہ کب کھیل دوبارہ شروع ہو ۔
فرفر نے ہمت سے کام لیتے ہوئے جی کڑا کر کہا: ہاں یہ میرا کتا ہے۔
ایک نے کہا ،اگر تمہارا ہے تو اسے چھو کر دکھائو۔
سب نے کہا : ہاں چھو کر دکھائو۔
ایک راہ گیر نے رک کر فرفر سے پوچھا۔ تمہارا کتا ہے ؟۔
فرفر نے پہلے کی نسبت زیادہ اعتما د سے کہا: جی ! میرا کتاہے۔
ایک لڑکے نے کہا: اس کا نہیں ہے۔ یہ جھوٹ بولتا ہے ہم نے تو اسے یہاں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے دیکھا تھا۔
فرفر نے کہا گم گیا تھا۔
اس آدمی نے کہا: جائو لے جائو اور اپنی راہ پر چلا گیا۔
لڑکے ایک ساتھ چلائے:چھو کر دکھائو۔

فرفر کو معلوم تھا کہ ایک لمحے میں کتے کی قسمت کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اگر وہ رک گیا اور آگے نہ بڑھا تو بے رحمانہ کھیل پہلے سے ہی زیادہ بے رحمی سے دوبارہ شروع ہو جائے گا اور آس پاس کے دکاندار یا راہ گیر تک بے چارے سہمے ہوئے کتے کو بچانے نہ آئیں گے بلکہ الٹا اس کھیل کا مزہ لیں گے۔

اس نے آہستہ آہستہ کتے کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ کتا اسے پر کھنے والی نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے پوچھ رہا ہو، تم دوست ہو یا دشمن؟ فرفر آہستہ آہستہ کتے کی طرف بڑھ رہا تھا اور جب فرفر کتے کے بالکل قریب پہنچ گیا تو ایک لڑکے نے جوان سب کا سردار معلوم ہوتا تھا کتے کو ’’شش‘‘ کیا کہ فرفر پر لپکے، لیکن کتا اپنی جگہ خاموش بیٹھا رہا۔ ڈرتے ڈرتے فرفر نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اورپھر کانوں کے بیچ کی جگہ پر اپنی انگلی ٹکا دی، کتے نے سر اٹھاکر اس کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنی تھوتھی اس کے پیروں کے بالکل قریب زمین پر رکھ دی۔ فرفر جھک کر اس کو تھپ تھپانے لگا ۔ کبھی سر پر، کبھی پیٹھ پر اور کبھی رانوں پر۔ اب اسے حقیقت میں کتے پر پیار آنے لگا تھا۔ لڑکوں کو ایسا لگا۔ جیسے سارا مزہ کر کرا ہو گیا ہو اور وہ ادھرا دھر ہونے لگے۔ اکثر نے اپنے ہاتھوں کے پتھروں میں سڑک پر پھینک دئیے۔ سڑک کے لڑکوں کے سردار نے فرفر سے کہا۔

یہ بھی پڑھیں:  درزی اور کبڑا

لے جائو میاں جی! اپنا کتا اور گھر میں باندھ کر رکھو ۔ ادھر کے لڑکے شریف ہیں تمہارے کہنے پر چھوڑ دیا۔ اگراور کسی محلے میں نکل جاتا تو اس کی لاش تمہیں ملتی۔

فرفر نے نظریں اٹھا کر اس لڑکے کی طرف دیکھا۔یہ وہی لڑکا تھا جو سب سے زیادہ تاک کر پتھر مار رہا تھا۔ پھر اس لڑکے نے جیب میں سے نکال کر سگریٹ کا ایک ٹکڑا ہو نٹوں میں دبایا اور پان والے کی دکان کی طرف چلا گیا جہاں ایک جلتی ہوئی رسی ہر آنے جانے والے کے لئے لٹکی ہوئی تھی جس سے وہ اپنی بیڑی یا سگریٹ سلگا کر آگے بڑھ جاتے تھے۔

لڑکوں کے ادھر ادھرہو جانے کے بعد فرفر کو خیا ل آیا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ اگر کتا واقعی اس کا تھا، جیسا کہ وہ کہہ چکا تھا۔ تو پھر وہ کتے کو یہاں چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا اور اگر نہیں تھا تو پھر وہ فرفر کے ساتھ کیوں آنے لگا۔

آگے کا پروگرام اسے معلوم نہیں تھا لیکن اس نے کتے کو ساتھ آنے کے لئے چمکا را ۔ کتا اس کےپیچھے پیچھے چل پڑا ۔ وہاں سے دودھ دہی والے کی دکان تک میدان صاف تھا۔ لیکن واپسی پر دو ایک جگہیں ایسی تھیں جہاں محلے کے کتے اس کتے پر جس کا نام معلوم نہیں تھا جھپٹیں گے ۔

جتنی دیر اسے دہی لینے میں لگی کتا اس کے پاس کھڑا رہا وہ خود کو فرفر کے پاس محفوظ سمجھ رہا تھا اور اس کا ساتھ چھوڑنے کو تیار نہیں تھا۔

واپسی پر فرفر نے وہ راستہ لیا جدھر سڑک کے کتوں کے ہونے کا خطرہ نہیں تھا ۔ پھر بھی ایک آدھ جگہ کوئی کتا اس پر بھونکتا ہوا لپکا، لیکن فرفر کا دوست بڑی سنجیدگی سے اس کی ٹانگوں کے نزدیک چلتا رہا۔ نہ اس نے جوا ب میں دانت نکالے کہ دوسرے کتے کو جنگ پر آمادہ نظر آتا نہ اپنی زبان میں اس نے دوسرے کتے کی بات کا جواب دیا۔

گھر پہنچ کر فرفر نے کتے کو باہر چھوڑناچاہا لیکن کتا اس کاساتھ نہیں چھوڑر ہا تھا۔ وہ دروازہ کھول کر اندر داخل ہونا چاہتا تھا۔ لیکن بے نام کتا اس سے پہلے ہی ذرا سی جگہ میں ہو کر اندر پہنچ جاتا۔ناچار فرفر دروازہ کھول کر اسے باہر بلاتا تھا اور جب کتا باہر آجاتا تو پھر خود تیزی سے اندر جانے کی کوشش کرتاتھا۔ لیکن پھر اسے شکست دے جاتا تھا۔

توبہ! تم تو جان کو آگئے ہو۔ فرفر نے جھنجلا کر کہا۔
اندر سے اس کے ابا کی آواز آئی ۔ کس کو بول رہے ہو؟۔
اس سے
کس سے؟
اس کتے سے۔
کس کا کتا ہے ؟ ابا نے کہا۔
اندر سے اماں کی آواز آئی۔ فرفر کس کے کتے کو ساتھ لے آئے ہو؟۔
پتا نہیں کس کا ہے ۔ فرفر نے کہا۔

فوراً ہی ہلچل مچ گئی۔ سب یہ دیکھنے کو لپکے کہ کس کا کتا فرفر لے آیا ہے۔ ابا نے دروازے والی گیلری میں آتے ہوئے پوچھا۔ کسکا ہے ؟۔
کسی کا نہیں۔ فرفرنے پسینا پونچھتے ہوئے بے دھیانی سے کہا۔ پھر اپنے بیان کو درست کرنے کی غرض سے بولا ۔ پتا نہیں کس کا ہے۔ مجھے تو سڑک پر ملا تھا۔

اور تم بغیر اس کے مالک کی ا جازت کے گھر لے آئے ! اس کی اماں نے کہا۔
اس کا کوئی مالک نہیں ہے۔
مالک تو ہوگا۔ ورنہ اس کے گلے میں پٹا کہاں سے آتا۔اس کے ابا نے کہا۔
فرفر کے بھائی بہنیں اب تک دور سے کتے کو دیکھ رہے تھے۔ ایک بہن نے کہا۔
فرفر ! اب تمہیں کتے سے ڈر نہیں لگ رہا۔ ویسے تو تم رات کو گھر سے باہر نکلتے ہوئے ڈرتے ہو۔

فرفر نے کتے کے گلے میں ایک ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔ واہ ! ڈر کیوں لگے، یہ تو میرا دوست ہے ۔ میں نے اس کی جان بچائی ہے۔
جتنی دیر میں فرفر نے اپنی کہانی سنائی اس کے ابا ٹنکچر آیو ڈین کی شیشی اور روئی لے آئے۔ ان کے کان بھی کہانی پر تھے۔ کتے نے سکون سے اپنا سرزمین پر ٹیک دیا اور سوائے ایک کمزور سی۔ ’’کوں‘‘ کے جواس نے پہلی بار ٹنکچر کے زخم پر لگنے پر کی وہ خاموشی سے اپنی مرہم پٹی کراتا رہا۔ لگتا ہے ان سب باتوں کا وہ عادی ہے۔ یہی رائے ابا کی بھی تھی کہ کسی ایسے گھرانے کا کتا ہے جہاں جانوروں کو پیار سے رکھا جاتا ہے۔ ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔

پہلے سب کی صلاح ہوئی کہ اخبار میں دیا جائے کہ جس کا کتا ہو آکر لے جائے۔ پھررائے بدل گئی کہ یہ کام اس کے مالک کو کرنا چاہئے کہ کسی کو اگر اس طرح کا کتا ملا ہے۔ تو وہ اس پتے پر پہنچا دے۔

اور انعام میں اتنے روپے لے۔ فرفر کی بڑی بہن نے کہا۔ گھر کے لوگ اسے بے وجہ عاقلہ نہیں کہتے تھے۔

لیکن دن گزرتے رہے۔ نہ فرفر کے گھروالوں نے اشتہار دیا نہ اخباروں میں تلاش گم شدہ کے عنوان سے کوئی اشتہار چھپا ۔ سوال یہ تھا کہ اس کا نام کیا ہے۔ کیوں کہ اصل مالک کی ایک پہچان یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے کتے کو اس کے اصلی نام سے پکارے اور کتا اس آواز پر جواب میں بھونکے اور پکارنے والے کی طرف دوڑے جو اس سے پوشیدہ رکھا جاتا۔ مثلاً دروازے کی آڑ میں یا اندر کے کسی کمرے میں۔
فرفر کے ابا نے پہلے دن جن ناموں سے اسے پکارا تھا وہ تھے جو عام کتوں کے ہوا کرتے ہیں۔ٹومی ، ٹائیگر ، جیک، شیرا، موتی، ہیرا، لیکن ان میں سے ایک بھی نام پر کتے نے پلٹ کر دیکھا تھا نہ اپنے کان کھڑے کئے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  شہزادی بدور

پھر اتفاقاً ایک دن جب گھر میں فرفر کی پکار پڑ رہی تھی جو نہ جانے کہاں چھپ گیا تھا تو کتے نے پہلے تو اپنے کان اٹھائے پھر جتنی بار فرفر کو پکارا گیا اتنی بار وہ بھونکا۔

جب ابا گھر آئے تو یہ تجربہ ان کے سامنے دہرایا گیا ۔ اس دفعہ فرفر وہیں سامنے تھا، لیکن جب اس کا نام پکارا گیا تو کتے نے پیار بھری مہین سی ’’بھوں‘‘ کی جیسے کہہ رہا ہو ہاں بولو، کیا کہتے ہو سن تو رہا ہوں۔

سب کو اس کا نام بہت پسند آیا سوائے فرفر کے۔
اس نے کہا واہ! یہ کوئی نام ہوا، آدمی کے نام پہ۔
اس کے بڑے بھائی نے کہا:اچھا چلو، تم فرفر اول ہو، یہ فرفر دوم۔ تم پڑھنے میں فرفر ، یہ دوڑنے میں فرفر۔ خوب چوہے اور چھنچوندریں پکڑے گا۔

لیکن اس لڑکے نے جسے عاقلہ کہتے ہیں بڑے پتے کی بات کہی: اگر باہر والوں یا سکول کے لڑکوں کو پتا چل گیا تو سب فرفر کو دیکھ کر سیٹی بجائیں گے۔

اماں نے کہا : اور کوئی کہے گا ، فرفر شش۔ مطلب یہ کہ فرفر لپکو۔ بے چارے کا باہر نکلنا مشکل ہو جائے گا۔
چنانچہ نام کی یہ تجویز سب نے رد کر دی اور کتا بے نام ہی رہا۔

کتا بڑا سمجھدار تھا وہ گھر میں سب جگہ پھرتا ، لیکن اس جگہ نہیں جاتا تھا جہاں جائے نماز بچھی ہوئی تھی۔ نہ باورچی خانے کا رخ کرتا تھا۔ نہ کھانے کے برتنوں کو سونگھتا تھا ۔ یہاں تک کہ اماں کے کپڑوں کو بھی نہیں سونگھتا تھا جو اسے پیار تو کرتی تھیں، لیکن دور دور سے۔

اس کی انہی باتوں کی وجہ سے اماں کہتی تھیںکہ اس میں کسی آدمی کی روح ہے اور اس بات پر سب ہنستے تھے اور فرفر اس کے دونوں کان پکڑ کر اپنا منہ اس کے منہ کے پاس لے جا کر پوچھتا تھا۔ اے آدمی! تمہارا نام کیا ہے ؟ بولو۔ کان زیادہ کھنچ جانے پر وہ آہستہ سے ایک بے ساختہ ’’کوں‘‘ نکالتا تھا اور فرفر اسے رہا کر دیتا تھا۔

سب کو کتے کی کی ایک اور ادا بھی بھائی تھی۔ اس کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ ابا کے ساتھ باہر جائے اور ابا جب بھی باہر جانے کو تیار ہوتے تھے وہ ان کے کمرے سے ان کی چھڑی اٹھا کر لاتا تھا اور خود ان کے ساتھ ہو لیتا تھا۔ سڑک پر پہنچ کر ابا اس کے منہ سے چھڑی لے لیتے تھے۔ اور اسے واپس جانے کو کہتے تھے۔ گوان بوئز۔ اور وہ بے دلی سے دوبارہ گھر میں چلا آتا۔

تعجب کی بات تھی کہ جب فرفر باہر جاتا تھا تو کتا اس کے لئے چھڑی اٹھا کر نہیں لاتا تھا۔ اور نہ کسی اور کے لئے۔ جیسے اسے معلوم ہو کہ کس عمر کے لوگ چھڑی لے کر باہر نکلتے ہیں اور اماں کے ساتھ تو وہ باہر نکلتے ہیں اور اماں کے ساتھ تو وہ باہربھی نہیں نکلتا تھا۔

ئی دفعہ چھڑی کو چھپا دیا گیا یا کسی اونچی جگہ پر رکھ دیا گیا اور جوں ہی ابا باہر نکلنے کو تیار ہوئے اس سے کہا گیا: چھڑی کہاں ہے ؟ ۔
اور وہ بے چارہ ادھر ادھر ڈھونڈتا پھرتا تھایا اونچی جگہ پر رکھی دیکھ کر اس کی طرف منہ کر کے بے چارگی سے بیٹھ جاتا تھا اس پر سب کو اس پر بے تحاشا ترس آتا تھا اور چھڑی اتار کر اس کے حوالے کر دی جاتی تھی۔

ایک شام گھر کے پاس کے پارک میں فرفر اپنی نوٹ بک سنبھالے ٹہل ٹہل کر کچھ یاد کر رہا تھا۔ کتا اس کے ساتھ ساتھ بے مقصد چل رہا تھا بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ فرفر کے قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا۔ بیچ بیچ میں وہ مختصر سی ایک بھونک بھی نکال دیتا تھا جیسے گن رہا ہو کہ کتنے چکر پارک کے ادھر اور ادھر سے ادھر ہو رہے ہیں۔

پھر اچانک ایک طرف سے ایک آواز آئی! ’’رنگو‘‘۔
اور کتا بغیر فرفر کی اجازت کے ایک ہی جست میں باغ کی جھاڑیوں کی باڑھ پھلانگ کر نظروں سے غائب ہو گیا۔
فرفر نے گھبراہٹ میں اسے دو ایک آوازیں دیں۔ کم ان بوئے دھیر آیو۔ لیکن کتا واپس نہیں آیا۔

دھیر آر یو بوئے۔ کہتا ہوا فرفر اپنی نوٹ بک سنبھالے اس کے پیچھے پیچھے جھاڑیوں کی باڑھ تک گیا اور وہاں سے اس نے دیکھا کہ کتا ایک بوڑھے آدمی کی ٹانگوں میں لوٹ رہا ہے۔ جو جھک کر اسے تھپ تھپا رہا ہے۔ پھر بوڑھے نے اسے دونوں ہاتھوں سے اٹھا لیا اور اس کی سفید رنگ کی ایک چھڑی سڑک پر گر گئی۔ کتے نے بوڑھے آدمی کے بازوئوں میں کوں کوں کی اور کلبلایا۔ بوڑھے آدمی نے اسے چھوڑ دیا اور نیچے اترتے ہی کتے نے سفیدی چھڑی اپنے منہ سے اٹھائی جو لڑھک کر ذرا دور جا پڑی تھی اور بوڑھے کے حوالے کر دی۔

فرفر کو یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ معاملہ کیا ہے۔ وہ بوڑھے کے نزدیک پہنچا اور بجائے یہ کہنے کے کہ کتااس کا ہے اس نے بوڑھے سے پوچھا: یہ کتا آپ کو جانتا ہے ؟۔

بوڑھے نے بلغم سے کھڑ کھڑاتی ہوئی آواز میں ہنس کر کہا: ارے بھئی ، یہ کتامیرا ہے۔ تم اسے کب سے جانتے ہو؟۔ پھر اس نے کتے کی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:
یہ وہی پٹا ہے جو اس کی پہلی سالگرہ کے دن میں نے اسے پہنایا تھا۔
فرفر کو احساس ہوا کہ بوڑھا اندھا ہے۔ کتا دوبارہ بوڑھے آدمی کے بازوئوں میں تھا جو مسلسل اس سے انگریزی میں باتیں کیے جارہا تھا اور کبھی کبھی اپنی زبان میں کہتا تھا: کیم ڈکرا؟(کیسے ہو بیٹا؟)۔

یہ بھی پڑھیں:  دکھ بھری داستان

جس پر کتا اس کے منہ پر پانی زبان پھیرنے کی کوشش کرتاتھا اور بوڑھا ادھر ادھر کو اپنا منہ بچانے لگتا تھا۔
فرفر کو معلوم تھا کہ کتا اس سے چھن چکا ہے۔ بس اتنے ہی دنوں کا دونوں کا ساتھ تھا۔اس کے حلق میں جیسے آنسو اٹک رہے تھے اور بولنا اس کے لئے دوبھر تھا۔ پھربھی اس نے کتے کے سر پر ہا تھ پھیرتے ہوئے کہا : یہ آپ کا کتا ہے تو آپ اسے چھوڑ کر کہاں چلے گئے تھے ؟ آپ کا نام کیا ہے ؟۔

بوڑھے نے کہا: میرا نام ساوک ہے، ساوک فرامر زجی تارا پور والا اور میں اسے چھوڑ کر نہیں چلا گیا تھا۔ یہ تو میرا دوست ہے، مجھے سڑک پار کراتا ہے، ٹوپی ڈھونڈ کے دیتا ہے ، چھڑی لا کر دیتا ہے اور بہت سے کام کرتا ہے۔ ہوں ڈکرا؟۔ (کیوں بیٹا؟)۔

اس پر کتے نے آہستہ سے ’’کوں کوں‘ ‘ کی جیسے اپنے بوڑھے دوست کی بات سے متفق ہو۔ میں اسے چھوڑ کر کہاں جاتا ، یہ نالائق ایک بلی کے پیچھے بھاگا تھا اور مجھے سڑک کے بیچ میں کھڑا چھوڑ گیا۔ بلی کو دیکھ کر یہ ہر بات بھول جاتا ہے۔ اپنے بڈھے بابا کوبھی بھول جاتا ہے۔ ہوں ڈکرا؟۔ بوڑھے اپنا بات کی تائید رنگو سے چاہی اور جواب میں رنگو نے پھر کوں کوں کی۔

پھر کیا ہوا؟ فرفر نے پوچھا۔
پھر پتا نہیں کیا ہوا۔ مجھے ایک زور کا دھکا لگا اور مجھے لگا کہ میں ہوا میں اڑا جارہا ہو ں جیسے مجھے نہیں کیلے کے ہلکے پھلکے درخت کو لوگ ہاتھوں ہاتھ لئے جارہے ہیں۔ پھر شام کو مجھے پتا چلا کہ میں ہسپتال میں ہوں اور اپنے ڈکرا کو آوازیں دے رہا ہوں۔ اتنے دن تم نے اسے رکھا؟۔

جی باواجی۔ فرفر نے کہا۔
ڈونٹ کال می باواجی۔ آئی ایم نو باوا۔ آئی ایم مسٹر ساوک پلین مسٹرساوک تارا پور والا۔
مسٹر ساوک فرامز تارا پور والا۔ فرفر نے فرفر کہا۔
بوڑھے نے کہا: تھینک یو۔ تم تو ہ شیار ڈکرا ہو۔ ہاں تو اتنے دن تم نے اسے رکھا؟ تمہیں یہ کہاں سے ملا؟ تم کتنے بڑے ہو؟۔ پھر اس نے فرفر کے سر کو ٹٹول کر دیکھتے ہوئے کہا۔
میراخیال ہے کہ تم دس یا گیارہ سال کے ہو؟۔
جی۔
سکستھ کلاس میں ہوں؟۔
جی

اس نے کتے کو بازوئوں میں دباتے ہوئے کہا۔ یہ نالائق تمہیں کہاں سے ملا؟ پا جی کہیں کا۔ رنگو نے پھر پیار بھری کوں کوں کی جیسے دونو ں کو ایک دوسرے سے باتیں کرنے اور ایک دوسرے کی باتیں سمجھنے کی عادت ہو۔

فرفر نے اس دن کا واقعہ سنایا جب وہ گھر سے دہی لینے نکلا تھا اور سڑک پر اس نے رنگوں کو لڑکوں میں گھرا دیکھا تھا جو اسے بری طرح مار رہے تھے۔ جس طرح چڑیا گھر میں بندروں اور لومڑیوں اور گیدڑوں کو تنگ کرتے ہیں۔

مسٹر ساوک نے کہا: تھینک یو، ینگ مین! تھینک یو۔ اب تم مجھے اپنے گھر لے چلو۔ تمہارے ڈیڈی کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ جنہوں نے اسے اتنے دن پناہ دی اور کھلا کھلا کے موٹا کر دیا۔ کیوں ڈکرا ، ٹھیک ہے ؟۔

کتے نے بوڑھے کی ناک کو زبان سے چھوکر ’’کوں‘‘ کی آواز نکالی، لیکن صرف ایک بار۔
گھر پہنچ کر ایک عجیب بات ہوئی۔ مسٹر ساوک ساوک کو مردانے کمرے میں بٹھا کر اور ابا کو ان کے پاس بھیج کر فرفر خود اس کو ٹھڑی میں جا کر رونے لگا جس میں کپڑوں کے صندوق تھے اور لحاف اور رضائیاں۔

تھوڑی دیر کے بعد اس کی ڈھونڈائی ہوئی۔ فرفر کہاں گیا۔ مسٹر ساوک جارہے تھے اور جانے سے پہلے اس کا شکریہ ایک بار پھر ادا کرنا چاہتے تھے۔ بالآخر اس کی عاقلہ بہن نے اسے رضائی میں منہ دے کر روتے ڈھونڈ نکالا اور بولی : اف تم نے تو رزائیاں تر کر دیں!۔
اور جب ابا جان نے آکر اس سے پوچھا تو فرفر نے کہا: کیا وہ اسے لے جائیں گے؟۔

ابا نے کہا: ہاں کتا ان کا ہے۔
اور اگر اس دن میں اسے نہ بچاتا اور لڑکے اسے جان سے مار دیتے تو ؟۔
ایسا تم ہونے نہیں دیتے۔
پھر میں نے اسے اتنے دن رکھا ہے۔
یہ تمہارا فرض تھا۔

یہ سب باتیں فرفر کی سمجھ میں آرہی تھیں اور وہ یہ بھی جانتا تھا کہ جس کی چیز ہے اس کو واپس ملنی چاہئے۔ لیکن کتے سے علیحدہ ہونے کو اس کا دل تیار نہیں ہوا تھا۔ جیسے حلق میں ایک کڑوی گولی رکھی ہے جسے نیچے اتارنے کی اس میں ہمت نہیں ہے۔ بڑی مشکل سے اس کا رونا تھما اور وہ آنسو پونچھ کر مسٹر ساوک اور رنگو کو گڈ بائی کرنے گیا ۔

چلتے وقت مسٹر ساوک نے کہا ’’ڈکرا‘‘۔
کتا بولا ’’کوں ‘‘۔

مسٹر ساوک نے اس کے سر پر چپت لگاتے ہوئے کہا : تجھ سے نہیں نالائق۔ تیرے دوسرے مالک فرفر کو بولتا ہوں ۔ ہاں تو ڈکرا فکر مت کرو۔ میری آنکھیں پھر سے لگ گئی ہیں۔ یہ آنکھیں جب میں چاہوں گا تمہارے گھر مجھے لے کر آئیں گی۔

رخصتی کے وقت رنگو نے خوشی کے عالم میں پورےگھر کا ایک چکر لگایا۔ اس کمرے سے اس کمرے میں، اس میں سے اس میں ، گیلری میں، زینے پر، گھر بھر کے پیروں اور ہاتھوں کو چاٹتے ہوئے ۔ پھر اس نے مسٹرک ساوک کی سفید چھڑی اٹھائی اور بھڑے ہوئے دروازے کو کھول کر باہر نکل گیا۔

اس کے چلے جانے کے بعد گھر خاموشی میں ڈوب گیا۔
اور اس خاموشی کو توڑنے کے لئے اماں نے کہا: کم بخت میں آدمی کی روح ہے۔ چلتے وقت بھی میرے پیروں پر نہیں لوٹا، نہ میرے ہاتھ چاٹے۔

کیٹاگری میں : بچے