islam_allaha_4

اللہ تعالیٰ سے زمین و آسمان میں ایک ذرہ بھی پوشیدہ نہیں

EjazNews

(سورۃ لقمان۳۱)
۱۶۔ پیارے بیٹے ! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ (بھی)خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں ہو اسے اللہ تعالیٰ ضرور لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔

(سورۃ سبا۳۴)
۳۔ کفار کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت نہیں آئیگی۔ آپ کہہ دیجئی! کہ مجھے میرے رب کی قسم! جو عالم الغیب ہے کہ وہ یقیناً تم پر آئے گی اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر کی چیز بھی پوشیدہ نہیں نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں بلکہ اس سے بھی چھوٹی اور بڑی ہر چیز کھلی کتاب میں موجود ہے۔

(سورۃ الحجرات ۴۹)
۱۶۔ فرما دیجئے ! کہ کیا تم اللہ تعالیٰ کو اپنی دینداری سے آگاہ کر رہے ہو، اللہ تعالیٰ ہر اس چیز سے جو آسمانوں میں اور زمین میں ہے بخوبی آگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔ [تو کیا تمہارے دلوں کی کیفیت پر یا تمہارے ایمان کی حقیقت سے وہ آگاہ نہیں؟ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]
۱۸۔ یقین مانو کہ آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ باتیں اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور جو کچھ تم کر رہے ہو اسے اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہاہے۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا کی وبا اور عیدالاضحی پر قربانی کا حکم

(سورۃ الحدید۵۷)
۴۔ وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر مستوی ہوگیا۔ وہ (خوب) جانتا ہے اس چیز کو جو زمین میں جائے اور جو اس سے نکلے اور جو آسمان سے نیچے آئے اور جو کچھ چڑھ کر اس میں جائے ، اور جہاں کہیں تم ہو وہ تمہارے ساتھ ہے اور جو تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

(سورۃ المجالۃ ۵۸)
۷۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے۔ تین آدمیوں کی سرگرشی نہیں ہوتی مگر اللہ تعالیٰ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وہ ہوتا ہے اور نہ اس سے کم کی اور نہ زیادہ کی مگر وہ ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وہ ہوں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ فرمائے گا بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ، توکل علی اللہ

اللہ تعالیٰ کا رنگ

(سورۃ البقرۃ ۲)
۱۳۸۔ اللہ تعالیٰ کا رنگ (اختیار کرو) اور کس کا رنگ اچھا ہے اللہ کے رنگ سے اور ہم اسی کی عبادت کرنے والے ہیں۔ [عیسائیوں نے ایک زرد رنگ کا پانی مقرر کر رکھا ہے جو عیسائی بچے کو بھی اور ہر اس شخص کوبھی دیا جاتا ہے جس کو عیسائی بنانا مقصود ہوتا ہے۔ اس رسم کا نام ان کے ہاں ’’بپتسمہ‘‘ ہے۔ یہ ان کے نزدیک بہت ضروری ہے، اس کے بغیر وہ کسی کو پاک تصور نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید فرمائی اور کہا کہ اصل رنگ تو اللہ تعالیٰ کا رنگ ہے، اس سے بہتر کوئی رنگ نہیں اور اللہ تعالیٰ کے رنگ سے مراد و ہ دین فطرت یعنی دین اسلام ہے، جس کی طرف ہر نبی نے اپنے اپنے دور میں اپنی اپنی امتوں کو دعوت دی۔ یعنی دعوت توحید۔ (تفسیر از شاہ فہد قرآن)]

یہ بھی پڑھیں:  اسلام بدکاری کو سخت ناپسند کرتا ہے